برمی مسلمانوں پر مظالم

   
۱۸ جولائی ۲۰۱۲ء

میں گزشتہ دو روز سے شارجہ میں ہوں اور اپنے ایک پرانے دوست محمد فاروق شیخ کے ہاں چند روز آرام کے ارادے سے قیام پذیر ہوں، جمعرات تک یہاں رہوں گا اور پھر اگلی منزل کی طرف روانہ ہو جاؤں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

گزشتہ کالم میں مولانا فضل الرحمان صاحب سے ملاقات کے حوالے سے میں نے برما کے صوبہ اراکان کے مسلمانوں کی مظلومیت اور کسمپرسی کا ذکر کیا تھا، اس سلسلہ میں دوبئی سے شائع ہونے والے اردو اخبار ہفت روزہ ’’سمندر پار‘‘ کے ۶ تا ۱۲ جولائی ۲۰۱۲ء کے شمارہ میں ایک رپورٹ نظر سے گزری ہے وہ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔

’’برما میں بوزی قبائل کے دہشت گرد گروپ ’’ماگ‘‘ کی جانب سے مسلمان آبادی پر مسلط کی گئی جارحیت میں اب تک کم سے کم ۲۵۰ مسلمان شہید، ۵۰۰ زخمی اور لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہوگئے ہیں۔ انسانی حقوق کے ایک برمی مندوب محمد نصر نے عرب ٹی وی کو فون پر بتایا کہ مسلمانوں پر مسلط کی گئی جارحیت میں ۳۰۰ افراد تاحال لاپتہ ہیں جبکہ پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پناہ حاصل کرنے والے ہزاروں افراد کو خوراک اور بنیادی اشیاء کی قلت کے باعث سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ محمد نصر نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ’’ماگ ملیشیا‘‘ کے دہشت گردوں نے برما میں مسلمانوں کے ۲۰ دیہات اور ۱۶۰۰ مکانات نقشے سے مٹا دیے ہیں جس کے باعث لاکھوں کی تعداد میں شہری نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں، مسلمانوں کی جائیدادوں کو کھلے عام پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماگ ملیشیا کے حملوں میں مسلمان اکثریتی صوبہ اراکان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں مسلمانوں کے اجتماعی قتل عام کے بعد ہزاروں کی تعداد میں شہری سرحد پار کر کے بنگلہ دیش میں پناہ گزین کیمپوں میں جانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔‘‘

اراکان مسلم اکثریت کا علاقہ ہے جو ایک دور میں آزاد مسلم ریاست کے طور پر اس خطہ کے نقشہ میں دیکھا جاتا تھا، اب میانمار (برما) کا ایک صوبہ ہے جو بودھ اکثریت کا ملک ہے اور اکثریت کے مذہبی تعصب کے ساتھ ساتھ زیادتی و جبر کا بھی ایک عرصہ سے سامنا کر رہا ہے۔ اس کی جھلک بنگلہ دیش، پاکستان، سعودی عرب اور دیگر ممالک میں پناہ گزین کے طور پر مقیم لاکھوں اراکانی مسلمانوں کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ محمد نصر کی پیش کردہ مذکورہ بالا رپورٹ بھی اس تسلسل کا ایک حصہ ہے اور یہ مظلوم اراکانی سب مسلمانوں کی توجہ اور مدد کے مستحق ہیں اور ان اراکانی مسلمانوں کی حمایت میں تین طرح سے کام کیا جا سکتا ہے:

  • ان کی مظلومیت کے خلاف اور ان کے انسانی و شہری حقوق کے حق میں عالمی سطح پر آواز اٹھائی جائے، میڈیا اور لابنگ کے ذرائع استعمال کر کے انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو اس طرف متوجہ کیا جائے اور عالمی رائے عامہ کو توجہ دلانے کی کوشش کی جائے۔
  • اردگرد کے ممالک بالخصوص بنگلہ دیش اور اس کے ساتھ دیگر حکومتوں کا احساس بیدار کرنے کی خاص طور پر محنت کی جائے۔
  • جبر و تشدد کا شکار ہونے والے مسلمانوں اور ان کے خاندانوں کی مدد کی جائے، ان کی گھروں میں واپسی اور بحالی کے لیے مالی تعاون کیا جائے اور وہ جہاں بھی مہاجر کے طور پر مقیم ہیں ان کی کفالت کا اہتمام کیا جائے۔

ہفت روزہ سمندر پار کے اسی شمارے میں شائع ہونے والی ایک اور خبر پر بھی نظر ڈال لیں:

’’امریکی شہر نیویارک میں ایک معروف نیلام گھر کے تحت امریکی صدر کا دستخط شدہ امریکہ میں غلاموں کی آزادی کے قانون کا نایاب و تاریخی مسودہ ۲۰ لاکھ ڈالر سے زائد رقم میں نیلام ہوگیا ہے۔ ۱۸۶۴ء میں پیش کیے جانے والے اس قانونی مسودہ کو اس وقت کے امریکی صدر ابراہام لنکن نے منظور کیا تھا اور ان کی ۴۸ کاپیوں پر دستخط کیے تھے۔ اس قانون کے تحت ۴۰ سے ۵۰ ہزار غلاموں کو اپنے آقاؤں کی جبری غلامی سے آزادی ملی تھی۔ یہ تاریخی مسودہ ۱۲ لاکھ ڈالر کی ابتدائی بولی کے ساتھ فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا جو کچھ ہی دیر میں ۲۰ لاکھ ۵۰ ہزار ڈالر کی قیمت پر نیلام ہوگیا۔‘‘

امریکہ میں غلاموں کا پس منظر یہ ہے کہ یہ سب کے سب سیاہ فام تھے جو کسی جنگ میں نہیں پکڑے گئے تھے بلکہ انہیں افریقہ سے مزدوری کے لیے امریکہ میں لایا جاتا تھا اور غلام بنا لیا جاتا تھا۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق انہیں غلامی سے نجات ۱۸۶۴ء میں صدر ابراہام لنکن کے دستخطوں سے ملی۔ جبکہ شہری حقوق جن میں ووٹ کا حق بھی شامل ہے انہیں مارٹن لوتھر کنگ کی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں ۱۹۶۴ء میں صدر جان ایف کینیڈی کے دستخط سے میسر آئے۔ غلامی کی اس صورت کو بردہ فروشی کہا جاتا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’بیع الحر‘‘ کے عنوان سے اب سے چودہ سو سال پہلے اسے ممنوع اور حرام قرار دے دیا تھا۔

یہ ہفتہ چونکہ میں نے چھٹی اور آرام کے لیے رکھا ہوا ہے اس لیے محض اخباری رپورٹوں پر گزارہ کر رہا ہوں۔ قارئین سے گزارش ہے کہ وہ بھی ’’سمندر پار‘‘ کے اسی شمارہ کی ایک اور رپورٹ کا خلاصہ ملاحظہ فرما کر گزارہ کر لیں۔ اس رپورٹ میں مختلف ممالک کے حکمرانوں کی تنخواہوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور عربی اخبار ’’البیان‘‘ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس وقت دنیا کے حکمرانوں میں سب سے زیادہ تنخواہ پانے والی ملکہ برطانیہ ہیں جنہیں سرکاری خزانے سے ۳۶ ملین پاؤنڈ سالانہ تنخواہ ملتی ہے۔ دوسرے نمبر پر سنگاپور کے وزیراعظم ہیں جو ۲.۱۸ ملین ڈالر سالانہ تنخواہ لیتے ہیں۔ جبکہ سب سے کم تنخواہ مصر کے نئے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو ملے گی جو ۲۴ ہزار مصری پاؤنڈ مقرر کی گئی ہے، یہ چار ہزار امریکی ڈالر بنتی ہے۔ امریکی صدر براک اوباما کی تنخواہ ۴۸ ہزار ڈالر، جرمن چانسلر انجیلا مرکل کی تنخواہ ۲۳ ہزار ڈالر، اٹلی کے صدر کی تنخواہ ۱۹ ہزار یورو، ترکی کے صدر عبد اللہ گل کی تنخواہ ۱۳ ہزار ڈالراور وزیراعظم طیب اردگان کی تنخواہ ۷ ہزار ڈالر، چین کے صدر کی تنخواہ ۲۷ ہزار چینی ین ہے جو ۳۲۶۲ امریکی ڈالر کے برابر ہے، اسرائیل کے وزیراعظم نے اپنی تنخواہ ۴۲۰۰ امریکی ڈالر بتائی ہے، موریطانیہ کے صدر محمد ولد عبد اللہ ۳۰ ہزار امریکی ڈالر ماہانہ وصول کرتے ہیں، الجزائر کے صدر عبد العزیز بوطفلیقہ ۱۴ ہزار امریکی ڈالر کے برابر ماہانہ تنخواہ پاتے ہیں جبکہ لبنان کے صدر ۱۰ ہزار ڈالر ماہانہ کے لگ بھگ تنخواہ وصول کرتے ہیں۔

اس رپورٹ میں پاکستان کا ذکر نہیں ہے لیکن اس کی شاید ضرورت بھی نہیں ہے اس لیے کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کے حکمرانوں کا گزارہ تنخواہ پر نہیں ہوتا اور وہ صرف جیب خرچ یا ٹوکن منی کے طور پر ہوتی ہے، اصل تو ان کے ہمہ نوع اخراجات ہوتے ہیں جن کا تعین وہ خود، ان کی فیملیاں اور یاردوست کرتے ہیں اور ادائیگی سرکاری خزانے کے ذمہ ہوتی ہے۔

روزنامہ اسلام (۱۷ جولائی ۲۰۱۲ء) میں شائع ہونے والے کالم میں اضافہ:

۔ ۔ ۔ البتہ ایک چھوٹی سی یاد ذہن میں ’’مداخلت‘‘ کر رہی ہے جسے سادگی اور بھولپن سے تعبیر کیا جائے گا کہ مولانا مفتی محمودؒ جب صوبہ سرحد کے وزیر اعلٰی بنے تو وہ قومی اسمبلی کے ممبر بھی تھے۔ انہیں قائد حزب اختلاف خان عبد الولی خان مرحوم کی گرفتاری پر قائم مقام قائد حزب اختلاف مقرر کیا گیا، مفتی صاحب بعد میں اس عہدے پر ملنے والی مراعات کی رقم لے کر سیدھے عبد الولی خان کے گھر پہنچے اور کہا کہ یہ رقم خان صاحب کے حساب میں آئی ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter