خانہ جنگی کی سازش؟

   
۲۲ اپریل ۱۹۷۷ء

پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب ذوالفقار علی بھٹو نے ۱۴ اپریل کو لاہور گورنر ہاؤس میں پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ان سے جو کچھ کہا اس کا نتیجہ سامنے آنے میں کچھ زیادہ دیر نہیں لگی۔ اسی روز گورنر ہاؤس سے نکل کر پی پی پی ورکرز نے جلوس نکالا، مختلف بازاروں میں گھوم کر دوکانیں بند کرانے کی ناکام کوشش کی اور پھر داتا دربار کا رخ کیا جہاں سے قومی اتحاد کا عظیم الشان جلوس مارچ کرنے والا تھا۔ لیکن عوام کے بے پناہ ہجوم کے نمودار ہوتے ہی مٹھی بھر افراد پر مشتمل پی پی پی ورکرز کے جلوس کا کچھ پتہ نہ چلا کہ انہیں آسمان نے اچک لیا یا زمین نے نگل لیا۔ اس طرح پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے اپنے چیئرمین کی ہدایات پر عملدرآمد کا آغاز کیا۔

۱۵ اپریل کو قومی اتحاد کے چھ عظیم الشان جلوس مسجد شہداء پر اختتام پذیر ہوئے اور اس کے بعد نوجوانوں کا ایک ہجوم میکلوڈ روڈ کی طرف روانہ ہوا تو پی پی پی ورکرز اسٹین گنوں اور رائفلوں سے مسلح ہو کر رتن سینما اور پارٹی کے دفتر میں مورچہ بند بیٹھے تھے۔ نوجوان جب قریب آئے تو ان پر بے تحاشا فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیا گیا، چار نوجوان شہید اور سینکڑوں زخمی ہوگئے لیکن اسٹین گنوں کے مقابلہ میں نوجوانوں کے جذبات اور حوصلوں نے زیادہ کام دکھایا۔ سینما اور دفتر دونوں نذر آتش کر دیے گئے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق دونوں عمارتوں کی آگ میں پیپلز پارٹی کے کم از کم نصف درجن افراد بھی بھسم ہوگئے۔ اسی روز مکھن پورہ مصری شاہ میں پی پی کے ورکرز نے ایک مسجد کو جہاں سے جلوس نکلنا تھا گھیر لیا، قومی اتحاد کے صوبائی سیکرٹری جنرل پیر محمد اشرف کو شدید زدوکوب کیا، مولانا احمد علی قصوری کی دوکان لوٹ لی اور سرعام غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا۔

۱۶ اپریل کو عوامی جلوس کے مسجد شہداء پر اختتام پذیر ہونے کے بعد نوجوانوں کے مشتعل ہجوم نے مصری شاہ کا رخ کیا اور طارق وحید بٹ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ گزشتہ روز کی غنڈہ گردی کا اہتمام اس نے کیا تھا اس کے مکان کو گھیرے میں لے لیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ صاحب مکان اس سے پہلے ہی راہ فرار اختیار کر چکا ہے اور مکان کے اندر کچھ بھی باقی نہیں ہے۔ چنانچہ نوجوانوں کا مشتعل ہجوم پولیس کی طرف سے آنسو گیس کے اندھادھند استعمال کے بعد منتشر ہوگیا۔ اور اس طرح لاہور کی حد تک اس ڈرامہ کا ڈراپ سین ہوگیا جسے اسٹیج کرنے کے لیے مسٹر بھٹو پانچ روز تک گورنر ہاؤس میں بیٹھے پلاننگ کرتے رہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسٹر بھٹو جو خود کو ایشیا کا ذہین ترین سیاستدان سمجھتے ہیں اس ڈرامہ کی پلاننگ کرتے ہوئے یہ بات کیسے بھول گئے تھے کہ پوری قوم جب ایک طرف ہو جائے تو وہاں مٹھی بھر افراد اور چند اسٹین گنیں کچھ نہیں کر سکتیں۔ اسلحہ ہمیشہ اسلحہ کا مقابلہ کرتا ہے، جذبے کا مقابلہ کرنا دنیا میں کسی اسلحہ کے بس کی بات نہیں اور اس وقت پاکستانی قوم کے جذبات کا جو عالم ہے اسے سامنے رکھتے ہوئے مسٹر بھٹو کا پی پی ورکرز کو عوامی مظاہروں کے سامنے لانا خود پارٹی کارکنوں کو عوامی غیظ و غضب کا نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔ مسٹر بھٹو کی پلاننگ کا جو نتیجہ لاہور میں سامنے آیا ہے اس کے پیش نظر خود پی پی ورکرز کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ انہیں اس مرحلہ میں عوامی جلوسوں کے مقابل لانا کیا واقعی ان کے ساتھ ہمدردی اور وفاداری کا مظہر ہے؟ قطع نظر اس سے کہ اس محاذ پر پیپلز پارٹی کی مزید پیش قدمی کا ملی و قومی نقطۂ نظر سے کیا نقصان ہوگا۔ خود پی پی ورکرز کا مفاد اس میں ہے کہ وہ مسٹر بھٹو کے اس اقدام کو مسترد کر دیں اور عوامی مظاہروں کے مقابل آکر ملک و قوم کا نقصان کرنے کے ساتھ ساتھ خود بھی عوامی غیض و غضب کا نشانہ نہ بنیں۔

پی پی ورکرز نے اسی ملک میں اسی قوم کے درمیان رہنا ہے۔ مسٹر بھٹو یا ان کے چند حواری اگر کسی اور ملک میں پناہ حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوگئے تو وہ پی پی ورکرز کو اپنے ساتھ نہیں لے جائیں گے۔ اس لیے ہم پورے ملک میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو اس مسئلہ پر سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کی دعوت دینا اپنا ملی فریضہ سمجھتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ پی پی ورکرز ملک و قوم اور خود اپنا مفاد سامنے رکھتے ہوئے مسٹر بھٹو کے احمقانہ منصوبہ کو آگے بڑھانے سے گریز کریں گے۔

   
2016ء سے
Flag Counter