اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور سرکاری طرز عمل

   
۲۵ فروری ۲۰۱۸ء

ملی یکجہتی کونسل پاکستان ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو قابو میں لانے اور قومی مسائل پر تمام مکاتب فکر کے متفقہ موقف اور کردار کے اہتمام کے لیے قائم ہوئی تھی اور اس میں مولانا شاہ احمد نورانیؒ اور قاضی حسین احمدؒ کے ساتھ ساتھ مختلف اوقات میں مولانا سمیع الحق، مولانا فضل الرحمان، پروفیسر ساجد میر، مولانا ضیاء القاسمیؒ، علامہ ساجد نقوی اور دیگر زعما کا متحرک کردار کونسل کی تاریخ کا حصہ ہے۔ اب یہ فورم اپنے دورِ ثانی میں صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر اور جناب لیاقت بلوچ کی قیادت میں سرگرم عمل ہے اور ان کے ساتھ مختلف دینی حلقوں کے سرکردہ حضرات شریک کار ہیں۔

گزشتہ سال ملی یکجہتی کونسل نے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیشن قائم کیا جس کی مسئولیت راقم الحروف کو سونپی گئی اور جناب حافظ عاکف سعید، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر اور علامہ عارف حسین واحدی اس کا حصہ ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل دستور پاکستان کے تحت قائم ایک ریاستی ادارہ ہے جو شریعت اسلامیہ اور عصری قانون کے ممتاز ماہرین پر مشتمل ہوتا ہے اور اس میں تمام مکاتب فکر کی نمائندگی کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ اس ادارے کی دستوری ذمہ داری یہ ہے کہ ملک میں مروجہ قوانین کا جائزہ لے کر اسلامی نقطۂ نظر سے ان میں ترامیم اور اصلاح تجویز کرے۔ اور اگر اس سے کوئی ریاستی ادارہ کسی مسئلہ یا قانون کے بارے میں شرعی رائے طلب کرے تو وہ باہمی مشاورت کے ساتھ یہ راہنمائی فراہم کرے۔

دستور کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پیش کر کے ان کے مطابق قوانین میں ترامیم و اصلاح کے لیے قانون سازی کا اہتمام حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے۔ جبکہ عملی صورتحال یہ ہے کہ مروجہ قوانین کے بارے میں مکمل رپورٹ کے ساتھ ساتھ نئے پیش آمدہ مسائل کے حوالہ سے بیسیوں سفارشات اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے گزشتہ چار عشروں کے دوران مختلف وفاقی حکومتوں کو بھجوائی جا چکی ہیں مگر انہیں متعلقہ ایوانوں میں پیش کر کے ان کے مطابق قانون سازی کا کوئی معاملہ اس دوران سامنے نہیں آیا۔ حالانکہ دستوری طور پر حکومت اس بات کی پابند ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے کوئی سفارش موصول ہونے پر چھ ماہ کے اندر اسے متعلقہ اسمبلی میں پیش کرے اور پھر ایوان کی ذمہ داری ہے کہ وہ دو سال کے اندر قانون سازی کا مرحلہ مکمل کرے۔ اس کے ساتھ یہ مسئلہ بھی درپیش رہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات ایک عرصہ تک صیغۂ راز میں رہی ہیں اور ان کی اشاعت پر پابندی کی وجہ سے عوام تو کجا علمی و دینی حلقوں کو بھی ان تک رسائی میسر نہیں تھی۔ البتہ اب چند سالوں سے یہ پابندی ڈھیلی پڑی ہے تو ان سفارشات کا کچھ نہ کچھ علم لوگوں کو ہونے لگا ہے۔

دوسری طرف قومی سیاست میں نفاذ شریعت کا پروگرام رکھنے والے کم و بیش سبھی طبقے ایک عرصہ سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو دستور کے مطابق متعلقہ اسمبلیوں میں پیش کر کے ان کے مطابق قانون سازی کی جائے اور اس طرح ان سفارشات پر تمام مذہبی مکاتب فکر کی قیادتوں کا اتفاق بھی موجود ہے۔

اس پس منظر میں جب ہم چند دوستوں کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے اور اس کے لیے کوئی عملی طریق کار تجویز کیا جائے تو ہم نے اس کے لیے سب سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل کے سیکرٹریٹ سے رابطہ ضروری سمجھا تاکہ ان سفارشات اور رپورٹوں تک رسائی ہو اور ہم یہ جائزہ لے سکیں کہ اس کام کو کیسے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس دوران اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیلِ نو ہوئی، جو دستوری طور پر ہر تین سال کے بعد ہوتی ہے، اور ملک کے معروف دانشور پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز کی سربراہی میں اگلے تین سال کے لیے نئے ارکان نے کونسل کی ذمہ داری سنبھالی تو ہم نے ان سے رابطہ کیا اور طے پایا کہ وہ ملی یکجہتی کونسل کے ایک سیمینار میں تشریف لائیں گے اور شرکا کو اس سلسلہ میں ضروری بریفنگ دیں گے۔ یہ سیمینار ۲۱ فروری کو اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے راہنما جناب میاں محمد اسلم کی میزبانی میں منعقد ہوا جس میں مختلف مکاتب فکر اور طبقات کے سرکردہ حضرات نے شرکت کی جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز کے ہمراہ کونسل کے فاضل سیکرٹری ڈاکٹر حافظ اکرم الحق یاسین بھی تشریف لائے اور انہوں نے اسلامی نظریاتی کونسل کی اب تک کی سرگرمیوں اور سفارشات کے بارے میں شرکائے سیمینار کو تفصیلی بریفنگ دی۔

ڈاکٹر حافظ اکرام الحق نے اس موقع پر بتایا کہ اسلامی نظریاتی کونسل بلکہ اس سے قبل اس سلسلہ میں سرکاری طور پر قائم کیے جانے والے اداروں، تعلیمات اسلامیہ بورڈ، اسلامی مشاورتی کونسل اور ادارہ تحقیقاتِ اسلامی کے حوالہ سے ایک تفصیلی رپورٹ دو جلدوں میں اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے شائع کی گئی ہے جس میں ان سفارشات کا تعارف کرا دیا گیا ہے جو کونسل نے اب تک حکومتوں کو پیش کی ہیں مگر قانون سازی کے مراحل سے نہیں گزر سکیں۔

سیمینار کی صدارت راقم الحروف نے کی اور اس سے پروفیسر محمد ابراہیم، حافظ عاکف سعید، قاضی محمد ظفر الحق، علامہ عارف حسین واحدی، جناب ثاقب اکبر اور دیگر زعما نے خطاب کیا۔ اس موقع پر ملی یکجہتی کونسل کی طرف سے سیمینار کی رپورٹ میں جن خصوصی نکات کا اظہار کیا گیا وہ درج ذیل ہیں:

  • ملک میں نفاذ اسلام کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی کارکردگی قابل تحسین ہے اور اسے مجموعی طور پر ملک کے تمام دینی حلقوں کا اعتماد حاصل ہے۔
  • کونسل کی سفارشات کو دستور کے مطابق متعلقہ اسمبلیوں میں پیش نہ کرنا افسوسناک ہے اور حکومت کو اس سلسلہ میں اپنے طرز عمل پر نظرثانی کرتے ہوئے سفارشات کو قانون سازی کے لیے ایوانوں میں بلاتاخیر پیش کرنا چاہیے۔
  • عدالت عظمیٰ کی ذمہ داری ہے کہ وہ دستور کے احکام اور تقاضوں پر عملدرآمد کی نگرانی کرے مگر اسلامائزیشن کے حوالہ سے عدالت عظمیٰ کا اب تک کا طرزعمل تسلی بخش نہیں ہے۔ اس لیے ہمارا عدالتِ عظمیٰ سے مطالبہ ہے کہ وہ اس حوالہ سے اپنی دستوری ذمہ داری ادا کرنے کے لیے عملی پیش رفت کرے۔
  • ملک کے تمام دینی و علمی حلقوں بالخصوص اسمبلیوں میں دینی جدوجہد کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں سے گزارش ہے کہ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق قانون سازی کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔
  • ملی یکجہتی کونسل اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق قانون سازی کے معاملہ میں متعلقہ ریاستی اداروں کی بے توجہی اور غفلت کے خلاف رائے عامہ کو بیدار کرنے کے لیے عوامی تحریک کا اہتمام کیا جائے اور ان سفارشات کو قانون سازی کے لیے متعلقہ ایوانوں میں پیش کرنے کے لیے متبادل صورت اختیار کی جائے۔
   
2016ء سے
Flag Counter