پشاور اور مردان کا تعلیمی سہ روزہ

   
۱۸ نومبر ۲۰۱۲ء

عید الاضحٰی کے بعد ایک سہ روزہ تبلیغی جماعت کے ساتھ فیصل آباد میں لگا کر مجلس صوت الاسلام کلفٹن کراچی کی دعوت پر تین دن پشاور اور مردان میں گزارنے کا موقع ملا۔ مجلس صوت الاسلام کراچی کا ایک مرکز پشاور میں بھی ہے جہاں فارغ التحصیل علمائے کرام کے لیے ایک سالہ تربیتی کورس کا اہتمام ہوتا ہے، اس سے قبل بھی ایک بار مجھے وہاں حاضری کا موقع مل چکا ہے۔ مولانا محمد حلیم صدیقی اس مرکز کے نگران ہیں اور مختلف دینی اداروں اور جامعات کے سینئر اساتذہ متنوع موضوعات پر اپنی تحقیقات سے دینی مدارس کے فضلاء کو آگاہ کرتے ہیں۔ میں نے حسب معمول انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات کے تقابلی مطالعہ پر گفتگو کی جو تین چار نشستوں میں چلتی رہی۔ اس موقع پر بعض دوستوں نے سوال کیا کہ انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات کے حوالہ سے اس نوعیت کے پروگراموں میں جو کچھ میں عام طور پر عرض کیا کرتا ہوں کیا وہ تحریری صورت میں بھی مرتب ہے؟ میں نے عرض کیا کہ چند سال قبل جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن کراچی میں اس موضوع پر پیش کیے گئے محاضرات کتابی شکل میں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی طرف سے شائع ہو چکے ہیں جن کے حصول کے لیے مکتبہ امام اہل سنت (جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ) سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ ان دنوں اس موضوع پر ایک تفصیلی کتابچہ مرتب کرنے میں مصروف ہوں جو امید ہے کہ ربیع الاول تک ان شاء اللہ العزیز شائع ہو جائے گا۔

پشاور حاضری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے پرانی یادیں تازہ کرنے کے لیے چند بزرگوں کی خدمت میں حاضری اور ملاقات کا پروگرام بنا لیا۔ ایک دور میں پشاور میری جماعتی و تحریکی سرگرمیوں کی اہم جولانگاہ ہوا کرتا تھا۔ حضرت مولانا سید محمد ایوب جان بنوریؒ کا گھر اور دارالعلوم، اس کے بعد نشتر آباد میں مولانا میاں عصمت شاہ کاکاخیلؒ کا گھر میرا ٹھکانہ ہوتا تھا۔ بھانہ ماڑی میں ڈاکٹر فدا حسین مرحوم کا کلینک اور حضرت مولانا محمد امیر بجلی گھر کا حیدریہ میڈیکل اسٹور ہماری دینی اور جماعتی سرگرمیوں کے مراکز میں سے تھے۔ اب ان بزرگوں میں سے مولانا محمد امیر بجلی گھر پرانے اکابر کی نشانی کے طور پر موجود ہیں، ان کی خدمت میں حاضری ہوئی تو بہت خوش ہوئے، اگرچہ صاحب فراش ہیں اور جسمانی طور پر بہت کمزور ہیں لیکن ذہنی طور پر ما شاء اللہ صحت مند ہیں۔ مختصر سی مجلس میں ماضی کی یادوں کو تازہ کیا اور خاص طور پر خطباء کرام کا تذکرہ فرماتے رہے، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی بہت سی باتوں کا تذکرہ کیا، گوجرانوالہ کے معروف خطیب مولانا عبد الرحمان جامیؒ کا بہت محبت کے ساتھ ذکر کیا اور ان کے بعض واقعات سنائے۔ مولانا جامیؒ بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب رہے ہیں اور ان کے ساتھ میرا بھی قریبی تعلق رہا ہے، میں ان کی بہت سی خوبیاں دوستوں کے سامنے بیان کرتا رہتا ہوں لیکن مولانا محمد امیر بجلی گھر مدظلہ سے ان کی باتیں سن کر جہاں جامی صاحبؒ کے خطیبانہ کمالات کی یاد تازہ ہوئی وہاں مولانا محمد امیر بجلی گھر کی بڑائی اور عظمت بھی اجاگر ہوئی کہ وہ اپنے ایک معاصر کا بھرپور محبت اور احترام کے ساتھ تذکرہ کر رہے تھے۔

مولانا محمد امیر بجلی گھر کی خطابت کا طوطی ایک زمانے میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے وسیع و عریض علاقے میں بولتا تھا کہ وہ پشتو زبان کے صاحب طرز عوامی خطیب ہیں اور ان کے تیز جملوں کی کاٹ دینی فتنوں اور معاشرتی خرابیوں کے لیے نشتر کا کام کیا کرتی تھی۔ ذہانت اور یادداشت تو اب بھی پورے جوبن پر دکھائی دیتی ہے مگر بڑھاپے، جسمانی معذوری اور ضعف نے انہیں بستر سے لگا رکھا ہے۔ اللہ تعالٰی انہیں صحت و عافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھیں اور ان کے فرزند مولانا مفتی محمد قاسم بجلی گھر اور ان کے خاندان کو اپنے عظیم بزرگ کی حسنات کو جاری رکھنے کا ذریعہ بنائیں، آمین یا رب العالمین۔

جمعیۃ علماء اسلام صوبہ خیبر پختونخوا کے امیر شیخ الحدیث مولانا امان اللہ خان کے ساتھ میرا پرانا رابطہ ہے۔ ۱۹۶۹ء کے دوران جب میں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کے نائب کی حیثیت سے آیا تو ان کے زیر اہتمام مدرسہ انوار العلوم میں مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ کے علاوہ مولانا امان اللہ صاحب بھی مدرس کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے تھے، اس لیے کچھ عرصہ ہماری رفاقت رہی۔ ان کے فرزند مولانا قاری اشرف علی کی دعوت پر حیات آباد کی جامع مسجد امیر معاویہؓ میں مغرب کے بعد نفاذ شریعت کی اہمیت کے حوالہ سے کچھ گفتگو کا موقع ملا اور حضرت مولانا امان اللہ خان اور دیگر علماء و احباب کے ساتھ عشاء کے کھانے میں ملاقات ہوئی، مختلف موضوعات پر گفتگو رہی اور مسائل پر تبادلۂ خیالات ہوا۔

۷ نومبر کو پشاور یونیورسٹی میں شعبہ اسلامیات کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد کی دعوت پر شیخ زاید اسلامک سنٹر میں حاضری ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب محترم اصحابِ فکر و دانش رفقاء کی ٹیم کے ساتھ نئی نسل بالخصوص دینی مدارس کے فضلاء میں تحقیق و ریسرچ کا ذوق ابھارنے میں مسلسل مصروف ہیں اور یونیورسٹی میں ان کی توجہ سے بہت سے فضلاء اور ارباب ذوق ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر علمی و فکری موضوعات پر تحقیقی سرگرمیوں میں مگن ہیں۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے شعبوں میں مقالہ نویسی میں مصروف حضرات کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کر کے انہوں نے مجھ سے تقاضا کیا کہ تحقیق و مطالعہ کے محاذ پر درپیش چیلنجوں کے سلسلہ میں ان سے گفتگو کروں۔

میں نے فضلاء سے عرض کیا کہ تحقیق و مطالعہ کے حوالہ سے موضوعات و عنوانات کا ایک دائرہ تو وہ ہے جو اس وقت عالم اسلام اور مغربی دنیا کے درمیان جاری فکری، علمی اور تہذیبی کشمکش کے تناظر میں ہے اور اس پر دنیا بھر کے مختلف جامعات و مراکز میں کام ہو رہا ہے۔ لیکن میں اصحاب فکر و دانش کو اس سے آگے ایک اور دائرے کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ مغرب کا فلسفہ و ثقافت انتہا کو پہنچنے کے بعد اور اپنے منفی نتائج کا کھلی آنکھوں مشاہدہ کرنے کے بعد اب واپسی کے لیے راستے کی تلاش میں ہیں۔ مغرب کی دانشگاہوں میں جہاں ایک سطح پر اسلام پر اعتراضات اور مسلمانوں کی کردارکشی کو ہدف بنایا جا رہا ہے وہاں اس سے اگلی ایک اور سطح بھی ہے جہاں قرآن کریم اور شریعت اسلامیہ پر اس پہلو سے ریسرچ ہو رہی ہے کہ کیا آج بھی انسانی سوسائٹی کو معاشرتی انصاف، ذہنی سکون اور تہذیبی تقدس کا ماحول فراہم کرنے کے لیے اسلامی شریعت کوئی کردار ادا کر سکتی ہے؟ میں نے فضلاء کو متعدد ایسی واقعاتی مثالوں سے آگاہ کیا جن سے معلوم ہوتا ہے کہ خود مغرب کے دانشوروں کی تحقیق اور ریسرچ انہیں اس سوال کے مثبت جواب کی طرف لے جا رہی ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ہمارے علمی و دینی مراکز، جامعات، محققین اور تجزیہ نگاروں کو اب ایسے موضوعات کو اپنی تحقیقات کا موضوع بنانا ہوگا جس سے ہم آج کے دور میں انسانی سوسائٹی کو اس کے گلوبل مستقبل کے متوقع ماحول میں اسلامی احکام و قوانین کی ضرورت و افادیت سے روشناس کرا سکیں۔ مغربی دانش کی ایک سطح قرآن کریم اور شریعت اسلامیہ کو مستقبل کے راہنما کے طور پر دیکھ رہی ہے اور دانش کی اس سطح کی صحیح سمت راہنمائی ہماری ذمہ داری بنتی ہے جس سے ہمیں بے توجہی نہیں برتنی چاہیے۔

پشاور یونیورسٹی کے بعد دلہ زاک روڈ یوسف آباد پر ایک تعلیمی ادارہ جامعہ تبلیغ القرآن میں حاضری ہوئی اور یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ مولانا مفتی محمد ایاز کی سربراہی میں تعلیمی اور رفاہی شعبہ میں بہت سلیقے کے ساتھ کام ہو رہا ہے اور عصر حاضر کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے نوجوان علماء و فضلاء کی ٹیم مسلسل مصروف عمل ہے۔

آخری روز یعنی ۸ نومبر کو مردان کی عبد الولی خان یونیورسٹی میں حاضری کا اچانک پروگرام بن گیا جہاں شعبہ اسلامیات کے سربراہ مولانا صالح الدین حقانی نے پی ایچ ڈی اور ایم فل کے شرکاء کی اسی نوعیت کی نشست کا اہتمام کر رکھا تھا جس کا سامنا پشاور یونیورسٹی میں گزشتہ روز کر چکا تھا۔ مولانا حقانی اور ان کے ساتھ مولانا سراج الاسلام حنیف اور دیگر فضلاء کی ایک ٹیم شعبہ اسلامیات میں تحقیق و مطالعہ کا ماحول پیدا کرنے میں سرگرم عمل ہے، وہاں بھی وہی گزارشات پیش کیں اور طلبہ و طالبات کو انہی امور کی طرف توجہ دلائی جن کا جامعہ پشاور کے حوالہ سے سطور بالا میں تذکرہ ہو چکا ہے۔

بہرحال فیصل آباد کے تبلیغی سہ روزہ کے بعد پشاور اور مردان کا تعلیمی سہ روزہ بھی عید الاضحٰی کی تعطیلات کا اچھا مصرف رہا، فالحمد للہ علٰی ذٰلک۔

   
2016ء سے
Flag Counter