قرآن کریم، انسانی سماج کی ناگزیر ضرورت

   
۲۵ جنوری ۲۰۲۰ء

(دیوان اکبر مارکی پسرور میں اقرأ روضۃ الأطفال ٹرسٹ کی تقریب سے خطاب)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اقرأ روضۃ الاطفال ٹرسٹ پسرور کے اس پروگرام میں حاضری میرے لیے کئی حوالوں سے باعث سعادت ہے اس لیے بھی کہ اس ادارہ سے گزشتہ تین سال کے دوران ۱۳۵ طلبہ و طالبات نے حفظ قرآن کریم مکمل کیا ہے، اور آج ان کی اجتماعی دعا اور انہیں ’’نشان اقرأ‘‘ دینے کے لیے اس تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں شرکت ہم سب کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ ہے۔ اس لیے کہ اقرأ روضۃ الاطفال ٹرسٹ ہمارے بزرگوں کی یادگار ادارہ ہے جس کے سرپرستوں میں حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، حضرت مولانا سید نفیس الحسینیؒ اور دوسرے بزرگوں کے علاوہ ہمارے والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ بھی شامل رہے ہیں اور میں ان کی معیت میں بہت سے پروگراموں میں شریک ہوتا رہا ہوں۔

یہ تقریب چونکہ قرآن کریم کے حوالہ سے ہے اس لیے قرآن کریم کے بارے میں ایک پہلو کی طرف خود کو اور شرکائے محفل کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کہ قرآن کریم پوری نسلِ انسانی کی ضرورت ہے اور انسانی معاشرہ میں اس کی ضرورت کا احساس دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، مگر ہمیں اس کا صحیح طور پر ادراک نہیں ہے اور ہم اس سلسلہ میں اپنے کردار کی طرف متوجہ نہیں ہیں۔

میں آج جب اس پروگرام کے لیے حاضر ہوا تو اقرأ کے بچے اسٹیج پر ایک مکالمہ پیش کر رہے تھے کہ ایک استاد نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ آپ کے گھروں میں کوئی کتاب ایسی موجود ہے جو پڑھی نہ جاتی ہو وہ ہمیں لاکر دے دیں۔ دوسرے دن وہ سب ایک ایک کتاب لے کر آئے اور سب کے ہاتھ میں قرآن کریم تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کے قرآن کریم ہم میں سے ہر ایک کے گھر میں موجود تو ہے مگر پڑھا نہیں جاتا۔

اس پر مجھے ایک اور کہاوت یاد آ گئی کہ کسی گھر میں ایک بچی سے کہا گیا کہ یہ ایک ہزار روپے کا نوٹ ہے اگر تم اسے کمرہ کے اندر ایسی جگہ چھپا دو جہاں سے ہم تلاش نہ کر سکیں تو یہ تمہارا ہے۔ اس بچی نے نوٹ لے لیا اور کسی وقت اسے چھپا کر گھر والوں سے کہا کہ وہ اسے تلاش کر لیں۔ گھر کے افراد نے پورا زور لگا لیا اور جہاں جہاں اس کا امکان تھا اسے تلاش کیا مگر وہ اسے نہ ڈھونڈ سکے۔ بالآخر تھک ہار کر اس بچی سے کہا کہ اب تم اس کو نکالو تو اس نے سامنے الماری کے اوپر کے خانے میں پڑا ہوا قرآن کریم اٹھایا اور اس میں سے نوٹ نکال کر دے دیا۔ پھر پوچھنے پر بتایا کہ میں قرآن کریم کو شروع سے اس جگہ پڑا دیکھتی آرہی ہوں مگر کسی کو آج تک ہاتھ لگاتے نہیں دیکھا، اس لیے مجھے پورا یقین تھا کہ اسے کوئی نہیں دیکھے گا، اس لیے میں نے اطمینان کے ساتھ اس میں رکھ دیا اور آپ میں سے کوئی اسے تلاش نہیں کر سکا۔

یہ دونوں باتیں قرآن کریم کے بارے میں ہمارے عمومی رویہ کی عکاسی کرتی ہیں اور ہمیں آئینہ دکھاتی ہیں کہ قرآن کریم کے ساتھ ہمارا سلوک یہ ہے۔ جبکہ دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ قرآن کریم صرف ہمارے لیے نہیں بلکہ پوری نسلِ انسانی کے لیے ہے اور نسلِ انسانی کو اس کی ضرورت ہے جو دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ اس وقت انسانی سوسائٹی کا مجموعی طور پر جائزہ لیں تو میں تین حوالوں سے اس ضرورت کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا:

  1. ایک اس لیے کہ انسانی سوسائٹی آسمانی تعلیمات سے بے رخی اور بے گانگی کی دو صدیاں گزاری لی ہیں اور اس کے تلخ نتائج بھگت کر اب انسانی سماج آسمانی تعلیمات کی طرف واپسی کے راستے تلاش کر رہا ہے۔ یہ آج کی ایک معاشرتی حقیقت ہے جس کے لیے بہت سے شواہد پیش کیے جا سکتے ہیں کہ دنیا میں ہر طرف معاشرہ میں مذہب کی واپسی اور آسمانی تعلیمات کی طرف رجوع کے آثار نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔

    اور اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی ذہنوں میں ابھر رہا ہے کہ آسمانی تعلیمات محفوظ اور مستند حالت میں موجود کہاں ہیں مسیحیت اور یہودیت سمیت بہت سے مذاہب آسمانی تعلیمات کی بات کرتے ہیں اور انبیاء کرام علیہم السلام کا حوالہ دیتے ہیں، مگر کسی کے پاس نہ تو آسمانی وحی محفوظ حالت میں موجود ہے اور نہ ہی وحی والے پیغمبر کی تعلیمات ان کے ہاں محفوظ حالت میں پائی جاتی ہیں، یہ صرف اسلام اور مسلمان ہیں جن کے پاس قرآن کریم اور اس کے ساتھ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سنت مستند و محفوظ حالت میں موجود ہے۔ اس لیے آسمانی تعلیمات کی طرف انسانی سماج کی واپسی کی صورت میں قرآن و سنت ہی ان کی یہ ضرورت پوری کر سکتے ہیں۔

  2. دوسری بات یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ انسانی سوسائٹی میں روحانیات اور وجدانیات کے خلا نے برکت و رحمت کا ماحول ختم کر کے رکھ دیا ہے اور ہر طرف سکون و اطمینان کی تلاش بڑھتی جا رہی ہے۔ آج دنیا نے سکون کی تلاش میں روحانیات اور وجدانیات کے متبادل کے طور پر نفسیات کو فروغ دینے کی کوشش کی اور بہت سے لوگوں نے نشے کا سہارا لیا، مگر یہ مصنوعی حربے ناکام ہوگئے ہیں اور سائیکالوجی خود کو وجدانیات کا متبادل ثابت نہیں کر سکی۔ جس کا نتیجہ ہے کہ وجدانیات کی ضرورت کا احساس اجاگر ہو رہا ہے اور بہت سے عالمی دانشور جن میں برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس بھی شامل ہیں وجدانیات کی طرف واپسی کی آواز لگا رہے ہیں۔ جبکہ وجدانیات و روحانیات کا نظام فرشتوں سے وابستہ ہے اور اللہ تعالی کی اس غیبی مخلوق سے متعلق ہے جس کا ایک پورا سسٹم اور نیٹ ورک ہے جس کا منبع و مرکز قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے، اس کے بغیر آج کے دور میں دنیا کے پاس وجدانیات اور روحانیات کے ساتھ وابستگی کا کوئی اور ذریعہ موجود نہیں ہے۔
  3. جبکہ تیسری بات ہے عرض کروں گا کہ معاشرتی نظام اور سسٹم کے حوالہ سے اب تک کے تجربے ناکام دکھائی دے رہے ہیں اور اعلیٰ سطح کی عالمی دانش موجودہ نظاموں کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے متبادل نظام کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ جبکہ بہت سے معاشرتی مسائل اور مشکلات کے حل کے بارے میں قرآن کریم کے حوالے ازسرنو سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں جس کے متعدد شواہد پیش کیے جا سکتے ہیں۔ یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ قرآن کریم کو ایک بار پھر انسانی سماج کی عملی رہنمائی کرنی ہے۔

    میں اس سلسلہ میں شہزادہ چارلس ہی کے ایک لیکچر کا حوالہ دوں گا جس میں انہوں نے دانشوروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ متبادل نظام تلاش کریں اور اس کے لیے اسلام کو اسٹڈی کریں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ اسلام کو اسٹڈی کرتے ہوئے وہ دو باتیں بھول جائیں: ایک یہ کہ ہمیں ہمارے بڑے اسلام کے بارے میں کیا بتاتے آرہے ہیں، اور دوسری یہ کہ اس وقت مسلمان کیا دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کی بجائے اسلام کو اوریجنل سورسز یعنی اس کے اصل مآخذ سے سمجھنے کی کوشش کریں۔ مگر دوسری طرف ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اسلام کے اوریجنل سورسز بالخصوص قرآن کریم کا اس طرح حصار کیے بیٹھے ہیں کہ کوئی اس کو ہاتھ نہ لگا سکے، اور خود بھی اسے سمجھنے اور اس سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کر رہے۔

قرآن کریم کے عنوان سے آج کی اس تقریب کے حوالے سے میں خود کو اور آپ سب حضرات کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہمیں قرآن کریم کے بارے میں اپنے عمل پر نظرثانی کرنی چاہیے اور اگر خود ہم یہ نہیں کر سکے تو اپنی آئندہ نسلوں کو اس کے لیے ضرور تیار کرنا چاہیے یہ نہ صرف ہماری بلکہ پوری نسل انسانی کی ضرورت ہے۔

مجھے اقرأ روضۃ الاطفال اور اس جیسے دیگر اداروں کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ان میں ہمارے مستقبل کی قیادت تربیت پا رہی ہے۔ میں نے آج جب یہاں بچوں کی سرگرمیاں دیکھیں اور ان کی باتیں سنیں تو دل کو تسلی ہوئی کہ مایوسی کی بات نہیں ہے، اور اگر یہ ہمارے مستقبل کی قیادت ہے تو وہ یقیناً محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالی ان اداروں اور بچوں کی حفاظت فرمائیں اور ان کے عزائم میں کامیابی عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

(ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ ۔ فروری ۲۰۲۰ء)
2016ء سے
Flag Counter