زندہ باد مولانا محمد زکریا!

   
۱۵ اپریل ۱۹۷۷ء

کراچی کے مردِ حر مولانا محمد زکریا نے، جو جمعیۃ علماء اسلام کراچی سنٹر کے امیر ہیں، حالیہ الیکشن اور اس کے بعد تحریک میں جرأت و استقامت کی جو شاندار روایات قائم کی ہیں ان پر بے ساختہ داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ مولانا محمد زکریا نے قومی اسمبلی کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے عبد الحفیظ پیرزادہ کا مقابلہ کیا اور پیرزادہ غنڈہ گردی اور دھاندلیوں کی انتہا کو چھونے کے باوجود الیکشن میں مولانا محمد زکریا کو شکست نہ دے سکے اور انہیں نام نہاد قومی اسمبلی میں بیٹھنے کے لیے نتائج میں گڑبڑ کے نئے ہتھکنڈے کا سہارا لینا پڑا۔ حتیٰ کہ مولانا محمد زکریا کو الیکشن کے دن اتنا زدوکوب کیا گیا کہ وہ کئی دنوں تک جناح ہسپتال کراچی میں صاحب فراش رہے اور جب ہسپتال سے فارغ ہوئے تو قومی اتحاد کی احتجاجی تحریک کی جرأت مندانہ قیادت کرتے ہوئے گرفتار ہوگئے۔

مولانا زکریا کی گرفتاری کا منظر بھی انتہائی ایمان افروز ہے، مولانا موصوف اور ان کے رفقاء جلوس کی قیادت کرتے ہوئے جب مقررہ جگہ سے روانہ ہوئے تو فوج نے ان کا راستہ روکا اور ان کے آگے سرخ پٹی بچھا کر خبردار کیا کہ اس پٹی کو عبور کیا تو گولی مار دی جائے گی۔ فوجی جوان پوزیشن سنبھالے ہوئے تھے لیکن مولانا محمد زکریا اور ان کے ساتھ کلمہ طیبہ کا ذکر کرتے ہوئے سرخ پٹی کو عبور کر گئے۔ فوجی افسر نے سرخ پٹی کو وہاں سے اٹھا کر اور آگے بچھا دیا کہ اگر اب اس کو عبور کیا تو گولی مار دی جائے گی۔ مولانا زکریا اور ان کے ساتھیوں نے کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے اس کو بھی عبور کر لیا۔ پھر یہ سرخ پٹی اور آگے رکھ کر گولی کی دھمکی دہرائی گئی لیکن ان مردانِ حر نے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے اس بار بھی سرخ پٹی کو پاؤں تلے روند ڈالا، اس کے بعد انہیں گھیرے میں لے کر گرفتار کر لیا گیا۔ اللہ تعالیٰ خوش رکھیں مولانا زکریا کو کہ انہوں نے اپنے عظیم اسلاف کی جرأت مندانہ روایات کو ایک بار تازہ کر دیا اور نئی نسل کو جرأت و ہمت کی ایک بار پھر راہ دکھائی۔

   
2016ء سے
Flag Counter