زائد از ضرورت مکانات اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش

   
ستمبر ۲۰۰۳ء

اسلامی نظریاتی کونسل کی ایک سفارش حال ہی میں قومی اخبارات کے ذریعہ منظر عام پر آئی ہے جس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ مکانات کی تعمیر میں ضروریات کے حوالہ سے درجہ بندی کی جائے اور زائد از ضرورت مکان کی تعمیر پر پابندی عائد کی جائے۔

اس سفارش کی ضرورت غالباً اس لیے پیش آئی ہے کہ ملک میں جس طرح بلند و بالا بلڈنگیں اور تعیش و نمائش کے رجحانات قیمتی سرمائے کے ضیاع کا باعث بن رہے ہیں انہیں کنٹرول کیا جائے اور سرمائے کے ضیاع کے ساتھ ساتھ تعیش اور نمود و نمائش کے بڑھتے ہوئے رجحانات کو بھی روکا جائے۔ یہ سوچ قابل قدر ہے کیونکہ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور نمود و نمائش کے بے جا اظہار نے انتہائی تکلیف دہ صورت اختیار کر لی ہے جس سے ملکی دولت کا ایک بڑا حصہ ترقیاتی اور رفاہی کاموں پر خرچ ہونے کی بجائے بے مقصد بلڈنگوں پر لگ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی غریب اور امیر کا فرق بڑھتا جا رہا ہے، دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز ہو رہا ہے اور عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوتی جا رہی ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے فرمایا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کی ضروریات تک محدود رہنا چاہیے اور اس میں سہولت کا راستہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جب معاملہ ضرورت اور سہولت سے بڑھ کر تعیش اور نمود و نمائش تک جا پہنچے تو وہ معاشرہ کی تباہی کا ذریعہ ہوتا ہے، اس لیے اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ:

  • دولت کے ارتکاز، حرام و حلال کی پروا کیے بغیر ہر حال میں دولت کمانے، اور اسے تعیش اور نمود و نمائش کا ذریعہ بنانے کے رجحانات کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
  • اور سادگی، قناعت اور ایثار کی روایات کو زندہ کرنے کی جدوجہد کی جائے کہ ہمارے مسائل کا اصل حل یہی ہے۔
   
2016ء سے
Flag Counter