معاشی بدحالی سے نکلنے کا صحیح راستہ

   
اپریل ۲۰۲۳ء

روزنامہ جنگ لاہور ۲۶ مارچ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچیس ہزار روپے ماہانہ میں ایک فیملی کا گزارہ موجودہ حالات میں ممکن نہیں ہے، اس لیے محنت کش کی اجرت کم از کم پینتیس ہزار روپے ماہوار مقرر کی جانی چاہیے۔

وطنِ عزیز میں اجرتوں کا مسئلہ قیامِ پاکستان کے بعد سے ہی بحث و مباحثہ کا موضوع چلا آرہا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جو ناہموار معاشی سسٹم ہمیں نوآبادیاتی حکمرانوں سے ورثہ میں ملا تھا ہم نے اس میں کوئی ردوبدل کیے بغیر نہ صرف جاری رکھا بلکہ اس کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے بیرونی قرضوں کے جال میں خود کو جکڑتے چلے گئے۔ جس کے نتیجے میں پوری قوم بیرونی قرضوں کے شکنجے میں ہے اور ایڈہاک ازم پر مبنی معاشی پالیسیوں نے ملک کو معاشی بدحالی کی انتہا پر لا کھڑا کیا ہے۔ حالانکہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر ہی کہہ دیا تھا کہ وہ ملک کے نظامِ معیشت کو مغربی اصولوں پر نہیں بلکہ اسلامی اصولوں پر استوار دیکھنا چاہتے ہیں اور اقتصادی ماہرین سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں ملک کے معاشی نظام کو استوار کرنے کی طرف قوم کی راہنمائی کریں گے۔ مگر قائد اعظمؒ کے وفات پاتے ہی ان کے سب ارشادات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے نوآبادیاتی نظام کے تسلسل کو جاری رکھنے اور اس کے لیے مغربی قوتوں کی پشت پناہی ہر صورت میں قائم رکھنے کی پالیسی اختیار کر لی گئی، جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ اس سارے معاملہ کا حل کیا ہے؟ ہمارا خیال ہے کہ جزوی اور وقتی نوعیت کے اقدامات مسائل کو مزید الجھاتے جا رہے ہیں اور ہمارے گرد قرضوں اور بیرونی دباؤ کا شکنجہ مزید سخت ہوتا جا رہا ہے، اس کے لیے قائد اعظم مرحوم کے اس ارشاد کی طرف واپس جائے بغیر ہمارے لیے اور کوئی راستہ باقی نہیں رہ گیا کہ ہم اپنی معیشت کی اساس مغربی اصولوں کی بجائے اسلامی تعلیمات اور اصولوں کو بنائیں اور ان کی روشنی میں معاشی ڈھانچہ کی ازسرنو تشکیل کر کے اس کی بنیاد پر اصلاحات کا آغاز کریں۔ یہ کام آسان نہیں ہے، اس سے مشکلات وقتی طور پر ضرور بڑھیں گی اور بین الاقوامی دباؤ اور مداخلت بھی اپنا آخری حربہ اختیار کرنے میں کسی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لے گی، مگر جب اس کے سوا ہمارے پاس اور کوئی آپشن موجود ہی نہیں ہے اور کسی نہ کسی وقت ہم نے اسے بہرحال اختیار کرنا ہی ہے تو اسے ٹالتے چلے جانے کی بجائے جتنی جلد ہو سکے اسے اختیار کر لینا چاہیے۔

جہاں تک کم از کم اجرت اور تنخواہ کا تعلق ہے، ہمیں نصف صدی قبل کا وہ ماحول یاد ہے جب جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے ۱۹۷۰ء کے انتخابی منشور میں یہ حل پیش کیا تھا کہ تنخواہوں کے تناسب کو ایک اور دس پر لا کر بتدریج ایک اور پانچ کے تناسب تک لایا جائے تاکہ باہمی تفاوت کو کم سے کم کیا جا سکے، اسی طرح اس وقت کی محنت کشوں کی ایک جماعت ’’پاکستان لیبر پارٹی‘‘ نے یہ تجویز دی تھی کہ کم از کم تنخواہ ایک تولہ سونا طے کی جائے تاکہ کرنسی کا اتار چڑھاؤ عام آدمی کی معاشی ضروریات اور مشکلات پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ اسی تناظر میں راقم الحروف نے گذشتہ دنوں ’’رفاہی ریاست: قرآن و سنت کی روشنی میں‘‘ کے عنوان پر ایک لیکچر کے دوران گزارش کی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے قبیلہ کے اس طرزِ عمل کی تحسین فرمائی تھی کہ وہ جب کسی معاشی بحران کا شکار ہوتے ہیں تو سب لوگ اپنے اثاثے ایک جگہ جمع کر کے آپس میں برابر تقسیم کر لیتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ کہ پورے معاشی نظام کی ازسرنو تشکیل اور وسائل کی نئے سرے سے باہمی تقسیم بھی معاشی بدحالی کا ایک ایسا حل ہے جس کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تحسین فرمائی ہے اور بوقتِ ضرورت اسے اختیار کیا جا سکتا ہے۔ اس سے ہماری اس گزارش کی تائید ہوتی ہے کہ قومی معیشت کو سنگین ترین بحران اور قوم کو معاشی تباہ حالی کی دلدل سے نکالنے کے لیے جزوی اور وقتی اقدامات کی بجائے قومی معیشت کی مکمل تشکیلِ نو کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور بانی پاکستان کے ارشاد کے مطابق اسلامی تعلیمات کی روشنی میں انقلابی اور ہمہ گیر اقدامات کا آغاز کرنا چاہیے۔

اس سلسلہ میں دینی و معاشی ماہرین اور مفکرین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قوم کی راہنمائی کریں اور مکالمہ و مباحثہ کے ذریعے مسائل کے حقیقی اور باوقار حل کا راستہ نکالیں، بالخصوص بڑے دینی مدارس اور یونیورسٹیوں کو یہ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس وسیع تر مباحثہ و مکالمہ کا اہتمام کرنا چاہیے جو اس حوالے سے کسی حتمی نتیجہ تک پہنچنے کے لیے انتہائی ضروری ہے، خدا کرے ہم اس ذمہ داری سے صحیح طور پر عہدہ برآ ہو سکیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter