آزادکشمیر سازشوں کی زد میں

   
۲۸ مئی ۱۹۷۱ء

آزاد کشمیر کے صدارتی انتخابات میں عوام دوست اور دیندار شخصیت سردار محمد عبد القیوم خان کی کامیابی سے ملک بھر کے دینی حلقوں میں مسرت و انبساط کی لہر دوڑ گئی تھی اور اب ان کی اسلامی اصلاحات بہتر مستقبل کی طرف غمازی کر رہی ہیں۔ لیکن دینی حلقوں کی مسرت کے ساتھ ہی ساتھ دین دشمن عناصر نے بھی آزادکشمیر کے نیک دل صدر کے اقدامات کو ناکام بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ بزعم خویش انتہائی کامیابی سے سازشوں کے جال بن رہے ہیں۔

سب سے پہلے آزادکشمیر کے ناظم تعلیمات نے مظفر آباد کالج میں ملحدانہ نظریات کا اظہار کر کے دینی فضا کو مکدر کرنا چاہا۔ پھر یہ خبر منظر عام پر آئی کہ سردار محمد عبدا القیوم کی کابینہ کے دو وزیر ڈاکٹر سلام الدین نیاز اور شیخ بشارت احمد اور اسمبلی کے اسپیکر منظر مسعود مرزائی ہیں۔ اب معلوم ہوا ہے کہ آزادکشمیر کے ایڈووکیٹ جنرل نے اسمبلی کے اجلاس میں تلاوت کی جانے والی قرآن کریم کی آیت کریمہ ’’ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاؤلئک ھم الکافرون‘‘ کے بارے میں یہ گمراہ کن ریمارکس دیے ہیں کہ یہ آیت فرسودہ تصورات کی حامل ہے اور اس سے اسمبلی کی توہین ہوئی ہے اس لیے اسے اسمبلی کے ریکارڈ میں درج نہیں ہونا چاہیے (العیاذ باللہ العلی العظیم)۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ آزادکشمیر میں دین دشمن عناصر پوری طرح منظم اور اپنی ملحدانہ تحریک میں پوری طرح سرگرم عمل ہیں اور انہوں نے طے کر لیا ہے کہ اسلامی نظام کے سلسلہ میں سردار عبد القیوم صاحب کے پروگرام کو پوری طرح سبوتاژ کر دیا جائے۔ یہ صورتحال خاصی پریشان کن ہے اور آزادکشمیر کے غیور علماء کو گہرے غور و فکر اور سنجیدہ اقدامات کی دعوت دے رہی ہے۔

ہم علماء آزادکشمیر سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ دین دشمن عناصر کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے سردار عبد القیوم صاحب کی اسلامی اصلاحات کو پوری طرح کامیاب بنائیں اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے اپنی خدمات منظم اور متحد ہو کر سردار صاحب کے سپرد کر دیں تاکہ دین دشمن عناصر سردار صاحب جیسے نیک دل سربراہ ریاست کو گھیرے میں لینے کی گھناؤنی سازش میں ناکام و نامراد ہوں۔

   
2016ء سے
Flag Counter