دینی تعلیم کے فروغ کے نئے رجحانات

   
تاریخ اشاعت: 
۱۱ مارچ ۲۰۲۰ء

بعض ضروری اسفار کے لیے اسباق کو جلدی سے سمیٹ کر ایک ہفتہ فارغ کرنا پڑا اور متعدد دینی مدارس کی سالانہ تقریبات میں شرکت کی سعادت حاصل ہو گئی۔ ۶ مارچ کو جمعۃ المبارک کے موقع پر جامعہ انوار العلوم مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ختم بخاری شریف کی تقریب تھی جس میں حضرت مولانا انوار الحق حقانی اکوڑہ خٹک سے تشریف لائے اور بخاری شریف کا آخری سبق پڑھایا۔ ۷ مارچ کو صبح دس بجے جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن کراچی میں بخاری شریف کے آخری سبق کا پروگرام تھا، حضرت مولانا فضل الرحمان درخواستی اور دیگر سرکردہ علماء کرام کے ہمراہ شرکت ہوئی اور آخری حدیث کا درس دینے کی سعادت حاصل کی۔ اس کے بعد دو روز میں جامعہ صدیقیہ، جامعہ السعید، مرکز ختم نبوت، جامعہ باب الرحمت اور ہدایہ اکیڈمی کے پروگراموں میں شریک ہوا۔

مدارس کی سالانہ تقریبات ان کی سرگرمیوں کے عوامی تعارف کے ساتھ ساتھ معاشرہ میں دینی تعلیمات کے فروغ کے متنوع رجحانات کا اظہار ہوتی ہیں اور ان سے دینی تعلیم اور دینی مدارس کے ساتھ عوام کے جذباتی تعلق اور وابستگی کا بھی پتہ چلتا ہے جو بعض حلقوں کے لیے یقیناً پریشانی کا باعث بنتی ہیں کہ ان کی تمام تر منفی کوششوں کے باوجود نہ مدارس کی سرگرمیوں کا دائرہ تنگ ہو رہا ہے اور نہ ہی ان کے ساتھ عام مسلمانوں کے تعلق اور عقیدت میں کمی آ رہی ہے، فالحمد للہ علٰی ذٰلک۔

درمیان میں دو روز کے لیے اسلام آباد آنا پڑا کہ ۸ مارچ کے ’’یوم خواتین‘‘ کے مظاہروں سے پیدا شدہ صورتحال پر غور کے لیے اسلام آباد کے سرکردہ علماء کرام نے ایک اہم مشاورتی اجلاس رکھا ہوا تھا جس کی رپورٹ درج ذیل ہے۔

’’اسلام آباد (۹ مارچ ۲۰۲۰ء) پاکستان شریعت کونسل کے جنرل سیکرٹری مولانا زاہد الراشدی کی زیر صدارت اسلام آباد کے جید علمائے کرام کا اجلاس ہوا جس میں مولانا عمران جاوید سندھو، مولانا مفتی امیر زیب، مولانا عبد الرؤف محمدی ،مولانا یعقوب طارق، مولانا خلیق الرحمن چشتی، مولانا عبد الوحید، مفتی عبد النور، مفتی ابوبکر، مولانا عبد الرشید، مفتی محمد سعد سعدی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مولانا محمد معاویہ، مولانا غلام یحییٰ توحیدی اور دیگر علمائے کرام نے شرکت کی۔ اجلاس میں عالمی یوم خواتین کے حوالے سے عورتوں کو ان کے بنیادی حقوق دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ خواتین کو اسلام نے جو حقوق دیے وہ ان کو ہر صورت ملنے چاہئیں، میراث کے حق سے عورتوں کو محروم کرنا، شادی بیاہ میں ان کی رائے کو نظر انداز کرنا، ونی کی رسم، بچیوں کی قرآن سے شادی جیسے مسائل خلاف اسلام ہیں۔ علمائے کرام پہلے بھی ان زیادتیوں اور خواتین کے حقوق غصب کرنے کے خلاف آواز بلند کرتے رہے اور آئندہ بھی آواز بلند کرتے رہیں گے، علمائے کرام نے کہا کہ منبر و محراب سے کبھی خواتین کے حقوق سے متعلق موضوع کو نظر انداز نہیں کیا گیا، لیکن چٹکی بھر این جی اوز کی نمائندہ خواتین مغربی فنڈز کے بل بوتے پر جس طرح کی مادر پدر آزادی کا مطالبہ کر رہی ہیں اس کی نہ تو اسلام اجازت دیتا اور نہ ہمارا کلچر اور روایات۔

علمائے کرام نے اسلام آباد میں ’’عورت مارچ‘‘ کے شرکاء کی طرف سے پرامن حیا مارچ کے شرکاء پر آوازیں کسنے، لاٹھیاں اور پتھر پھینکنے کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس تصادم کی ذمہ دار عورت مارچ کی انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی ہوتی، الٹا علمائے کرام پر پرچہ دے دیا گیا جو کسی طور پر بھی انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔ علمائے کرام نے کہا کہ عجیب منطق ہے کہ سڑک کی ایک جانب دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ جبکہ دوسری جانب کھلی چھوٹ، ایک جانب ایمپلی فائر ایکٹ دوسری جانب ہر طرح کی آزادی، اس جانبداری سے واضح ہو گیا کہ عورت مارچ کس کے ایجنڈے پر اور کس کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا۔ علمائے کرام نے مطالبہ کیا کہ فی الفور علماء پر قائم کئے گئے مقدمات واپس لیے جائیں اور عورت مارچ میں بے ہودہ اور خلاف اسلام نعرے لگانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے، اس موقع پر علمائے کرام نے لال مسجد کے حوالے سے اپنا موقف دہراتے ہوئے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ معاملے کو جلد از جلد باہمی مذاکرات اور افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔ حکومت طاقت کے استعمال سے ہر صورت گریز کرے اور اسلام آباد راولپنڈی کے جید علمائے کرام کے مشترکہ موقف پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے۔‘‘

حسن اتفاق سے جامعہ محمدیہ اسلام آباد کی تقریب ختم بخاری شریف بھی اسی روز تھی جس میں پیر طریقت حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مہمان خصوصی تھے، اس پر ہم نے ’’چھاپہ‘‘ مارا اور مختلف بزرگوں سے ملاقات کے ساتھ ساتھ جامعہ محمدیہ کے مہتمم مولانا ظہور احمد علوی اور دیگر علماء کرام سے گفتگو کا موقع مل گیا۔ وہاں سے فارغ ہو کر جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ناظم اعلٰی مولانا محمد ریاض خان سواتی اور برادر عزیز مولانا قاری عزیز الرحمان خان شاہد کے ہمراہ کرک روانہ ہوگئے جہاں آج دس مارچ کو جامعہ شمس المدارس میں حفاظ قرآن کریم کی دستار بندی کا پروگرام ہے۔

کل ۱۱ مارچ کو اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں نصاب تعلیم کی یکسانیت کے عنوان پر ایک اہم سیمینار میں شریک ہو کر ایک رات کے لیے پھر کراچی جانا ہے، ان شاء اللہ تعالٰی، جہاں جامعہ اسلامیہ کلفٹن کے ختم بخاری شریف کے پروگرام میں حاضری ہو گی جس میں خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کے سجادہ نشین حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد مہمان خصوصی ہوں گے۔ جبکہ اس کے اگلے روز جمعرات کو حضرت خواجہ صاحب محترم کے ہمراہ جامعہ امدادیہ چنیوٹ کی سالانہ تقریب میں شمولیت کے بعد گوجرانوالہ کا رخ کر سکوں گا، ان شاء اللہ تعالٰی۔

اس سفر میں دینی تعلیمات کے فروغ کے دو نئے رجحانات سامنے آئے جو بے حد خوشی کا باعث بنے۔

  1. ایک جامعہ باب الرحمت کراچی کی مختلف النوع سرگرمیاں ہیں جو محترم جناب حاجی حسن خان اور ان کے رفقاء کے حسن ذوق کا خوبصورت اظہار ہیں کہ اس جامعہ میں دعوت و تبلیغ کا کام اس سطح پر ہے کہ وہ علاقہ میں اس محنت کا بڑا مرکز ہے، جس کے تحت ملک کے اندر اور باہر جماعتیں جامعہ کے نظم کے تحت مسلسل جاتی رہتی ہیں اور اس وقت بھی ایک جماعت انڈونیشیا کے سفر پر ہے۔ اس کے ساتھ تعلیم بالغاں کا منظم کام ہے جس میں علاقہ کے بوڑھے اور جوان مختلف درجات میں باقاعدہ دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں، جبکہ درس نظامی کا مکمل نظام و نصاب جامعہ کے پروگرام کا حصہ ہے اور حفظ قرآن کریم کا بھی بھرپور نظام کام کر رہا ہے۔
  2. دوسرا کام کراچی ہدایہ اکیڈمی کا دیکھ کر خوشی ہوئی کہ حضرت مولانا شیخ ظفر اقبال اور ان کے رفقاء کی ٹیم نے جدید تعلیم یافتہ، تاجر حضرات اور سرکاری ملازمین کے لیے درس نظامی کے مکمل نصاب کی وفاق المدارس کے تحت تعلیم و تدریس کا سلسلہ قائم کر رکھا ہے جو جامعۃ الرشید کی نگرانی میں سالہا سال سے سرگرم عمل ہے۔ اس کے علاوہ درس نظامی کے مختلف درجات کی آن لائن تعلیم کا منظم نیٹ ورک موجود ہے اور انگلش میں درس قرآن کریم اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروس کا سلسلہ جاری ہے۔ سچی بات ہے کہ مجھے اس ماحول میں بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیتے ہوئے بہت خوشی اور سکون محسوس ہوا، اللہ تعالٰی ان سب تعلیمی پروگراموں کو مسلسل ترقیات سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
   
2016ء سے
Flag Counter