خواتین کے حقوق کا عالمی دن اور مغربی فلسفہ

   
تاریخ : 
۱۷ مارچ ۲۰۰۰ء

گزشتہ روز خواتین کے حقوق کا عالمی دن منایا گیا۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں اس سلسلہ میں تقریبات کا اہتمام کیا گیا، سیمینارز منعقد ہوئے، اخبارات و جرائد نے خصوصی اشاعتوں کا اہتمام کیا، اداروں نے رپورٹیں جاری کیں اور خواتین کے حقوق اور ان کی مبینہ مظلومیت اور کسمپرسی کے حوالے سے تجزیے پیش کیے گئے۔

یہ دن ہر سال منایا جاتا ہے اور خواتین کی حمایت میں بیانات، تقاریر، رپورٹوں اور قراردادوں کی روایت پورے اہتمام کے ساتھ دہرائی جاتی ہے، مگر عورت کی مظلومیت بدستور جاری ہے اور اس کے حقوق کی پامالی کا سلسلہ کسی رکاوٹ اور تعطل کے بغیر چل رہا ہے۔ عورتوں پر ایک دور وہ بھی گزرا ہے کہ اسے انسان شمار کرنے میں بھی کچھ قوموں کو تامل تھا اور اس کی پیدائش باعثِ عار سمجھی جاتی تھی۔ قرآن کریم نے جاہلی معاشرے کی اس روایت کا بطور خاص تذکرہ کیا ہے کہ جب کسی شخص کو اس کے گھر میں بچی کی ولادت کی خبر دی جاتی تھی تو وہ شرم اور غصہ کے مارے منہ چھپاتا پھرتا تھا، اور اس کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا تھا کہ سوسائٹی میں ذلت اور توہین کو برداشت کرتے ہوئے اس بچی کو زندہ رہنے دیا جائے یا اسے مٹی میں دبا کر معاشرتی ذلت اور سوسائٹی کے طعنوں سے نجات حاصل کر لے۔

اسلام نے عورت کی تحقیر کے اس رویہ کو جاہلیت سے تعبیر کیا اور قرآن کریم نے بتایا کہ عورت اگر اپنی عفت و عصمت اور ذمہ داریوں کے حوالے سے تعلیماتِ خداوندی کی پیروی کا اہتمام کرے تو وہ حضرت مریمؓ، حضرت سارہؓ، حضرت آسیہؓ، حضرت ہاجرہؓ اور امہات المومنینؓ کی طرح قرآن کریم میں تذکرہ کے لیے جگہ پا لیتی ہے۔ اور عورت اگر اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے پیغمبر آخر الزمانؐ کے ساتھ گفتگو میں تکرار کی مرتکب ہوتی ہے تو اس کا یہ مکالمہ اور تکرار قرآن کریم میں ’’مجادلہ‘‘ کے عنوان سے ہمیشہ کے لیے تاریخ کا ریکارڈ بن جاتا ہے۔

اسلام نے عورت کو اس کے حقیقی مقام سے روشناس کرایا ہے اور اسے بتایا ہے کہ وہ ایمان اور اعمالِ صالحہ میں اللہ تعالیٰ کے تقرب اور جنت کے درجات میں اور دین اور علم کی فضیلت کے مقامات میں مرد سے کسی طرح پیچھے نہیں۔ البتہ اس کے ساتھ یہ فطری تعلیم بھی دی کہ اس کے فرائض اور حقوق کا تعین اس کی فطری صلاحیتوں اور تخلیقی امتیاز کے دائرہ میں ہو گا۔ اور اس کی جسمانی ساخت اور صلاحیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے جہاں اس کے فرائض مرد سے قدرے مختلف ہوں گے وہاں اس کے حقوق کا معیار بھی مرد سے جداگانہ ہو گا۔

یہ ایک فطری بات ہے جس کی بنیاد مرد اور عورت کی فطری صلاحیتوں، جسمانی ساخت اور ذہنی استعداد پر ہے۔ اور یہ تینوں حقائق ایسے ہیں جن سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن مغرب نے مرد اور عورت کی مساوات اور ہر معاملہ میں برابری کا نعرہ لگا کر مرد اور عورت کے باہمی تعلقات کار کے فطری نظام کو درہم برہم کر دیا ہے۔ اب مغرب یہ صلاحیت تو حاصل نہیں کر سکا کہ مرد اور عورت کی جسمانی ساخت میں تبدیلی کر دے، اور ابھی تک یہی چلا آ رہا ہے کہ بچہ ہر حال میں عورت نے ہی جننا ہے اور اس کی پرورش بھی عورت نے ہی کرنی ہے، جبکہ محنت اور مشقت کے کام مرد نے ہی کرنے ہیں۔ اور مغرب تمام تر کوششوں کے باوجود محنت، مشقت اور بوجھ کے کاموں میں عورت کو مرد کے برابر لانے میں پانچ فی صد حد تک بھی کامیاب نہیں ہو سکا۔ لیکن جسمانی ساخت اور صلاحیتوں کے فطری نظام میں کوئی تبدیلی پیدا کیے بغیر اس کی بنیاد پر تعلقات کار کا جو نظام تھا اسے مغرب نے بدل دیا ہے۔ یہ قطعی طور پر غیر فطری بات تھی اور غیر منطقی طریقہ کار تھا، جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ آج مغرب کا خاندانی نظام تباہی اور خلفشار کے آخری دہانے پر پہنچ چکا ہے اور اسے بچانے کی کوئی تجویز کارگر نہیں ہو رہی۔

مغرب کہتا ہے کہ اس نے عورت کو کارخانے، دفتر اور دکان پر بٹھا کر حقوق میں مرد کے برابر کر دیا ہے، حالانکہ یہ محض مغالطہ ہے اور اصل قصہ یہ ہے کہ مغرب نے بچے کی پیدائش، مرد کا دل بہلانے، بچہ کی پرورش کرنے، اور گھر کے اندرونی نظام کو چلانے کے حوالے سے عورت کی فطری ذمہ داریوں میں کوئی کمی کیے بغیر محنت و مشقت کرنے اور کرانے کی اضافی ڈیوٹی بھی اس غریب عورت پر ڈال دی ہے، اور ڈیوٹی میں اضافے کو حقوق میں برابری کا دلفریب عنوان دے کر اس نظام کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مغرب کے اس فریب کا پردہ پاک کیا جائے اور غریب عورت کو مغرب کے اس ظلم اور دھاندلی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا جائے کہ اس کی فلاح و بہبود فطری نظام سے بغاوت میں نہیں، بلکہ اس کی پابندی میں ہے۔ اور عورت کا مقام یہ نہیں ہے کہ وہ فیکٹری یا دفتر اور دکان میں شوپیس کے طور پر لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ بنے، بلکہ اس کی فطری جگہ یہ ہے کہ وہ اپنے خاوند کا اعتماد حاصل کر کے اس کے حوصلہ، اعتماد اور صلاحیت کار میں اضافہ کرے، بچوں کی تربیت کرے، اور گھر کے داخلی نظام کو کنٹرول کر کے ایک اچھی بیوی، اچھی ماں، اچھی استانی، اور باصلاحیت منتظم کا کردار ادا کرے۔ اس لیے کہ فطرت و قدرت نے اس کے لیے یہی مقام طے کیا ہے اور یہی اس کے لیے عزت، سکون اور اطمینان کی حامل جگہ ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter