’’یہ موقف تو بدلنا ہی پڑے گا‘‘

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۵ مئی ۱۹۹۸ء

راقم الحروف نے مندرجہ بالا عنوان کے تحت چند روز قبل قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے ایک بیان پر گرفت کی تھی جس میں انہوں نے حالیہ مردم شماری میں قادیانی جماعت کے بعض افراد کے اندراج کے حوالہ سے کچھ علماء کرام کے اس بیان کو جھٹلایا تھا کہ مردم شماری میں اپنے نام درج کرانے والے قادیانیوں نے خود کو غیر مسلم تسلیم کر لیا ہے۔

اس کے جواب میں طاہر احمد بھٹی صاحب کا ایک مضمون ’’مولانا! آپ کی دعوت سر آنکھوں پر مگر……’’ کے عنوان سے روزنامہ اوصاف میں شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے مرزا طاہر احمد کے بیان کا دفاع کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن بات کو مزید الجھانے کے سوا اپنے امام کی کوئی خدمت سرانجام نہیں دے پائے۔ انہوں نے اپنے مضمون میں بنیادی طور پر تین باتیں کہی ہیں جن کا ترتیب وار جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بھٹی صاحب نے کہا ہے کہ:

’’احمدی حکومت پاکستان کی بیان کردہ مسلمان کی اس تعریف سے اتفاق نہیں کرتے جس میں مسلمان کہلانے والے کو حلفاً یہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اب امت مسلمہ میں کوئی مصلح پیدا نہیں ہو سکتا، اور اگر کوئی شخص یہ یقین رکھتا ہو کہ اس امت کی موجودہ حالت کو بہتر بنانے کے لیے کوئی مصلح آ سکتا ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے، مسلمان کی اس تعریف پر احمدی تو دستخط کر ہی نہیں سکتے۔‘‘

یہ سراسر بہتان ہے کیونکہ پاکستان کی کسی حکومت نے آج تک کسی مصلح کے آنے کی نفی نہیں کی، نہ آئین میں ایسی کوئی بات مذکور ہے، اور نہ ہی ملک کے کسی قانون میں یہ کہا گیا ہے۔ مصلحین تو امت مسلمہ کے ہر دور میں آتے رہے ہیں اور حضرت عمر بن عبد العزیزؒ، امام ابن تیمیہؒ، مجدد الف ثانیؒ، شاہ ولی اللہ دہلویؒ، الشیخ محمد بن عبد الوہاب نجدیؒ اور مفتی محمد عبدہ مصریؒ جیسے بیسیوں مصلحین آئے ہیں جن کی اصلاحی خدمات کا امت کے ہر طبقہ نے اعتراف کیا ہے اور آئندہ بھی ایسے مصلحین ہر دور میں آتے رہیں گے۔ البتہ دستور پاکستان کی جس دفعہ کا بھٹی صاحب حوالہ دے رہے ہیں اس میں ’’مصلح‘‘ کی نہیں بلکہ ’’نبی‘‘ کے آنے کی نفی ہے اور یہ امت مسلمہ کا چودہ سو سالہ اجتماعی عقیدہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی کے آخری نبی ہیں اور ان کے بعد قیامت تک کسی شخص کو نبوت نہیں مل سکتی اور نہ ہی وحی نازل ہو گی۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی نے چونکہ نبوت کا دعوی کیا ہے اور نئی وحی پیش کی ہے، اس لیے پوری امت مسلمہ کسی استثنا کے بغیر مرزا قادیانی اور ان کے پیروکاروں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتی ہے۔ اور یہ صرف حکومت پاکستان کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ چودہ سو سالہ اجماعی تعامل کے ساتھ ساتھ موجودہ دور کے دنیا بھر کے تمام مسلم دینی و علمی اداروں کا بھی متفقہ موقف ہے، جس سے انحراف کا کوئی مسلمان تصور بھی نہیں کر سکتا۔

بھٹی صاحب نے دوسری بات یہ کہی کہ یہ بات قادیانیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے مسلمانوں سے علیحدگی کا راستہ اختیار کیا ہے، اس ضمن میں گزارش ہے کہ:

  • مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت اور وحی کا دعوٰی کیا اور واضح طور پر اعلان کیا کہ ان کی نبوت اور وحی کو تسلیم نہ کرنے والوں کا مذہب ان سے الگ ہے۔
  • مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے جانشینوں نے مسلمانوں کے ساتھ نکاح اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کی نفی کی، اور عبادت و معاشرت دونوں میں خود کو مسلمانوں سے الگ کر لیا۔
  • قادیانی اکابر نے بار بار اعلان کیا کہ وہ دنیا بھر کے ان مسلمانوں کو اپنا ہم مذہب نہیں سمجھتے جو مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی نبوت کا اقرار نہیں کرتے۔

اس کے بعد علیحدگی کے اعلان کی کون سی بات باقی رہ جاتی ہے، چنانچہ انہی وجوہ کی بنا پر مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ نے قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک نئی امت قرار دینے کی تجویز پیش کی تھی جسے ۱۹۷۴ء میں ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے دستور پاکستان کا حصہ بنا دیا۔ پھر بھٹی صاحب سے گزارش ہے کہ نبی اپنی امت کا باپ ہوتا ہے اور باپ ایک ایسا رشتہ ہے جسے نہ تو تبدیل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس میں کسی اور کو شریک ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ باپ ایک ہی ہوتا ہے اور جب کوئی شخص اپنا باپ بدل لے تو اسے پہلے خاندان سے الگ ہونے کے لیے کسی اعلان کی ضرورت نہیں پڑتی وہ خودبخود ہی اس خاندان سے الگ ہو جاتا ہے۔ اس لیے بھٹی صاحب کو اس پر سیخ پا ہونے کی بجائے حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ مرزا قادیانی کی وحی اور نبوت ماننے والوں کا حضرت محمد رسول اللہ کے روحانی خاندان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا۔

طاہر احمد بھٹی صاحب نے تیسری بات یہ کہی کہ مرزا طاہر احمد نے اپنی جماعت کے افراد کو مردم شماری میں بھرپور حصہ لینے کی ہدایت کی ہے اور انہوں نے مردم شماری کا بائیکاٹ نہیں کیا، لیکن ساتھ ہی بھٹی صاحب نے اسی مضمون میں اعتراف کیا ہے کہ قادیانیوں کے صرف چند سو ووٹ درج ہیں جو ایک ہی خاندان نے سیاسی مفادات کی خاطر درج کرائے ہیں۔ بھٹی صاحب کے علم میں شاید یہ بات نہیں کہ ووٹ ہمیشہ مردم شماری کی بنیاد پر بنتے ہیں اور ووٹ بنوانے کے لیے الگ سے کوئی درخواست نہیں دینا پڑتی۔

  • اس لیے سوال یہ ہے کہ اگر قادیانیوں نے گزشتہ مردم شماری کا بائیکاٹ نہیں کیا تھا اور مرزا طاہر احمد نے مردم شماری میں بھرپور حصہ لینے کی ہدایت کی تھی تو اس مردم شماری کے نتیجے میں بننے والے ووٹوں میں قادیانی ووٹوں کی تعداد چند سو کیوں ہے؟ اور کیا مرزا طاہر احمد کی ہدایت کے باوجود قادیانیوں کی بڑی تعداد کا باہر رہ جانا اپنے امام سے بغاوت نہیں ہے؟
  • اس ضمن میں بھٹی صاحب سے دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر موجودہ مردم شماری میں ان کے بقول مرزا طاہر احمد کی ہدایت کے مطابق قادیانی جماعت نے بھرپور حصہ لیا ہے تو انہوں نے اپنا شمار کس خانے میں کرایا ہے؟ اگر غیر مسلموں کے خانے میں کرایا ہے تو ان علماء کا یہ کہنا کس طرح غلط ہوا کہ قادیانیوں نے خود کو مردم شماری میں غیر مسلم تسلیم کر لیا ہے۔ اور اگر حلف نامہ جعلی طور پر پرُ کر کے مسلمانوں کے خانے میں اندراج کرایا گیا ہے تو یہ منافقت کے ساتھ ساتھ دستور پاکستان کی خلاف ورزی اور دھوکہ دہی بھی ہے، اس کا جواز قادیانیوں کے پاس کیا ہے؟

الغرض طاہر احمد بھٹی صاحب نے اپنے مضمون میں مسئلہ کے الجھاؤ میں مزید اضافہ کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا اور شاید ان کا مقصد بھی یہی تھا اس لیے کہ قادیانی جماعت کی تکنیک شروع سے یہ ہی رہی ہے کہ کسی بھی مسئلہ کو غیر متعلقہ باتوں میں اس قدر الجھا دو کہ کسی کے پلے کچھ نہ پڑے اور اس فضا میں سادہ لوح بے خبر لوگوں کو دام ہمرنگ زمین کا شکار بناتے چلے جاؤ۔

اس لیے میں اپنی گزارش پھر دہراتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نئی وحی اور نئی نبوت کا اقرار کرنے ہوئے ملت اسلامیہ میں شامل رہنے کی ضد عقل، قانون، اخلاق اور بین الاقوامی مسلمات میں سے کسی معیار پر بھی پوری طرح نہیں اترتی۔ اس لیے عقل و دانش کی راہ یہی ہے کہ قادیانی حضرات یا تو نئی نبوت اور نئی وحی سے دستبردار ہو کر امت مسلمہ میں واپس آ جائیں اور یا پھر اپنے لیے الگ نام اور تشخص تجویز کریں، اس کے سوا کوئی راستہ ان کے لیے باقی نہیں رہا۔