بخاری شریف کے چند امتیازات

   
مقام / زیر اہتمام: 
تاریخ بیان: 
جنوری ۲۰۰۴ء

(جامعہ کے شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی نے ۳۱ دسمبر ۲۰۰۳ء سے ۱۰ جنوری ۲۰۰۴ء تک بنگلہ دیش کا دورہ کیا اور ڈھاکہ، چاٹگام، سلہٹ، سونام گنج، درگاپور، مدھوپور، ھاٹ ہزاری، ٹپیا، دیرائی اور مختلف مقامات پر درجنوں دینی اجتماعات سے خطاب کیا، اس دوران انہوں نے جامعہ محمودیہ سلہٹ میں دورہ حدیث کے طلبہ کو بخاری شریف کا پہلا سبق پڑھایا اور مدینۃ العلم دارالسلام سلہٹ اور دارالرشاد میر پور ڈھاکہ کے اساتذہ و طلبہ کی فرمائش پر انہیں بخاری شریف کی ایک حدیث کا درس دیا، بخاری شریف کے سبق کے سلسلہ میں منعقد ہونے والی مجالس میں ان کے خطاب کا خلاصہ درج ذیل ہے۔ ادارہ نصرۃ العلوم)

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ سب سے پہلے میں بخاری شریف کی تعلیم کا آغاز کرنے والے طلبہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس مقام تک پہنچایا کہ آج وہ حدیث نبویؐ کی سب سے مستند کتاب کی تعلیم کا آغاز کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں اس کی تکمیل کی توفیق دیں اور علم حدیث کی برکات سے مالامال فرمائیں، آمین یارب العالمین۔

بخاری شریف علم حدیث کی سب سے مستند کتاب ہے جسے ’’اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کہا جاتا ہے، حدیث نبویؐ کا علم بہت مہتم بالشان علم ہے، جسے حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ نے تمام علوم دینیہ کی اصل اور اساس کہا ہے، اس لیے کہ تمام علوم دینیہ کے چشمے اسی سے پھوٹتے ہیں حتٰی کہ قرآن کریم بھی ہمیں حدیث نبویؐ کے ذریعے ملا ہے۔ قرآن کریم کا معنٰی و مفہوم تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں مگر ہمیں تو قرآن کریم کے الفاظ بھی آنحضرتؐ کے ارشادات کے ذریعے حاصل ہوئے ہیں، اور جناب رسول اللہ کے ارشادات و فرمودات پر ایمان لائے بغیر ہمارا قرآن کریم کے الفاظ تک پہنچنا ہی ممکن نہیں ہے۔ اس لیے حدیث نبویؐ تمام علوم دینیہ کی اساس اور سرچشمہ ہے اور اسے پورے اہتمام توجہ اور دلجمعی کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔

اس کے بعد بخاری شریف کے بارے میں چند باتوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ بخاری شریف کی وہ خصوصیات اور امتیازات کیا ہیں جنہوں نے اسے حدیث کی تمام کتابوں سے ممتاز کر دیا ہے اور اسے علمی حلقوں میں اس قدر قبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اس کے بارے میں اساتذہ اور طلبہ سے میری گزارش ہوتی ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے بخاری شریف کے تراجم ابواب پر مستقل رسالہ لکھا ہے جو ہمارے ہاں بخاری شریف کے متداول نسخوں میں موجود ہے۔ اس کی ابتدا میں حضرت شاہ صاحبؒ کا ایک صفحہ کا مقدمہ ہے جس کے بارے میں ان کا ارشاد ہے کہ بخاری شریف کو جو لوگ سمجھ کر پڑھنا چاہتے ہیں انہیں یہ مقدمہ حفظ کر لینا چاہیے۔ چنانچہ اساتذہ سے میری گزارش ہے کہ اگر حفظ نہ بھی ہو سکے تو کم از کم یہ مقدمہ بخاری شریف کے طلبہ کو سبقًا سبقًا ضرور پڑھا دینا چاہیے، اس میں حضرت شاہ صاحبؒ نے بخاری شریف کے بہت سے امتیازات کا ذکر کیا ہے جن میں سے تین چار کا تذکرہ میں اس وقت مناسب سمجھتا ہوں۔

  1. ایک یہ کہ بخاری شریف سے قبل محدثین کا طریق کار عام طور پر یہ تھا کہ وہ کسی ایک شعبہ کے بارے میں احادیث جمع کرتے تھے، مثلاً حضرت امام مالکؒ نے احکام کے حوالہ سے احادیث جمع کی ہیں، محمد بن اسحاقؒ نے سیرت و مغازی کی روایات کو مرتب کیا ہے، حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ نے زہد و رقائق کے بارے میں روایات منضبط فرمائی ہیں اور ابن جریجؒ نے تفسیری روایات اکٹھی کی ہیں۔ مگر امام بخاریؒ نے تمام فنون کی روایات کو یکجا کر دیا ہے اور اسی وجہ سے اسے ’’الجامع‘‘ کہا جاتا ہے کہ اس میں تفسیر، سیرت، عقائد، مغازی، احکام، تاریخ، اخلاق، معاملات اور دیگر تمام شعبوں کے بارے میں روایات انہوں نے مرتب کر دی ہیں جس سے زندگی کے کم و بیش ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والی روایات بخاری شریف میں مل جاتی ہیں۔
  2. بخاری شریف کا دوسرا امتیاز یہ ہے کہ اس سے قبل پیشتر محدثین روایات بیان کرنے میں صحت کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے تھے اور سند کے بیان کے ساتھ ہر طرح کی روایات بیان کر دیتے تھے، جس سے روایت کی جانچ پڑتال کی ذمہ داری قاری پر آ جاتی تھی کہ وہ سند کو دیکھ کر روایات کا درجہ خود طے کر لے۔ یہ بات اہل علم کے حلقہ میں تو ٹھیک ہے مگر عوام کے لیے موزوں نہیں ہے، اس لیے امام بخاریؒ نے روایت کی صحت کا کڑا معیار اور اس کے لیے مضبوط اصول طے کر کے اس بات کی ذمہ داری قبول کی ہے کہ وہ جو روایت اس کتاب میں نقل کریں گے وہ ان کے بیان کردہ اصول کے مطابق بالکل صحیح ہو گی اور اسے بلا تامل قبول کیا جا سکتا ہے۔
  3. تیسرا امتیاز اس کتاب کا یہ ہے کہ اس سے قبل عام محدثین کا اسلوب یہ رہا ہے کہ وہ اپنی کتابوں میں مرفوع، موقوف، مسند، منقطع ہر قسم کی روایات اور ان کے ساتھ آثار صحابہؓ و تابعینؒ کو یکجا بیان کر دیتے تھے، مگر امام بخاریؒ نے ان میں سے مسند اور مرفوع روایات کو چھانٹ کر الگ پیش کر دیا ہے اور ان کے ساتھ اگر کسی جگہ موقوف روایات یا آثار کا ذکر کیا ہے تو شاہد اور تابع کے طور پر اسے نقل کیا ہے، اصل روایات مسند اور مرفوع ہی پیش کی ہیں۔ اور اسی مناسبت سے اس کا نام الجامع المسند الصحیح رکھا گیا ہے۔
  4. بخاری شریف کا چوتھا اور سب سے اہم امتیاز حضرت امام بخاریؒ کا اجتہاد و استنباط ہے جو ان کے تراجم ابواب کی صورت میں ہے اور ان سے امام بخاریؒ کی اجتہادی شان جھلکتی ہے۔ امام بخاریؒ کے فقہی مذہب کے بارے میں زیادہ قرین قیاس قول یہ ہے کہ وہ خود مجتہد مطلق تھے، اگرچہ دیگر بہت سے مجتہدین مطلق کی طرح ان کی فقہ کی ترویج نہیں ہوئی مگر ان کا اجتہادی مرتبہ و مقام یہی ہے، اور انہوں نے ایک ایک حدیث سے کئی کئی مسائل مستنبط کر کے ان پر جو عنوانات قائم کیے ہیں ان سے ان کے اجتہادی مقام کی بلندی معلوم ہوتی ہے۔ بخاری شریف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں پڑھنے اور سمجھنے کی اصل بات حدیث سے ترجمۃ الباب کی مناسبت ہے کیونکہ یہ مناسبت بعض اوقات اتنی دور کی ہوتی ہے کہ اس کے لیے اچھی خاصی ذہنی ورزش کرنا پڑ جاتی ہے۔ ہمارے استاذ محترم اور والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے جو شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد ہیں، ایک بار حضرت مدنیؒ کے حوالہ سے ذکر فرمایا کہ بعض اوقات امام بخاریؒ کے بیان کردہ ترجمۃ الباب اور اس کے تحت لائی گئی حدیث میں مناسبت اس طرز کی ہوتی ہے جیسا کہ ایک شاعر نے کہا ہے کہ ؎
    مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو
    کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا

    شاعر کا مطلب یہ ہے کہ شہد کی مکھی باغ میں جائے گی، پھولوں کا رس چوسے گی، اس سے شہد بنائے گی، پھر چھتہ بنا کر شہد اس میں نکالے گی، چھتے سے موم نکلے گی، اس سے موم بتی بنے گی، یہ موم بتی جلے گی تو پروانے آئیں گے اور اس کی آگ میں جل جائیں گے۔ اس لیے پروانے کو جلنے سے بچانے کے لیے بہتر ہے کہ مکھی کو باغ میں جانے ہی نہ دو تاکہ نہ وہ پھولوں کا رس چوسے، نہ شہد بنائے، نہ چھتہ بنے، نہ موم نکلے، نہ موم بتی بنے، نہ جلے اور نہ پروانے کی موت ہو۔

    حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ امام بخاریؒ بسا اوقات امتحان اور آزمائش کے لیے بھی دور دراز کی مناسبت والا عنوان کسی روایت پر قائم فرما دیتے ہیں تاکہ پڑھنے والوں کی ذہانت اور قابلیت کا اندازہ ہو جائے۔ اس کے ساتھ ہی چونکہ امام بخاریؒ کا ذوق ہے کہ وہ ایک ایک حدیث سے کئی کئی مسائل مستنبط کرتے ہیں اور پھر مختلف ابواب میں ان کی مناسبت والے جملے نقل کرتے ہیں، اس لیے بسا اوقات بخاری شریف کی بعض روایات کو یکجا تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور ایک روایت کو جمع کرنے کے لیے کئی ابواب کی ورق گردانی کرنا پڑتی ہے۔ بہرحال یہی بخاری شریف کا کمال اور اس کا حسن ہے اور اس عظیم کتاب کے پڑھنے پڑھانے والوں کو اس کے امتیازات اور خصوصیات کو ہر وقت ذہن میں رکھنا چاہیے۔

اس کے بعد اب آتے ہیں بخاری شریف کے سبق کے آغاز کی طرف جس کا عام طور پر طریقہ یہ ہے کہ اس کی ابتدائی حدیث پڑھی جاتی ہے اور اس کے بارے میں دو چار ضروری باتوں کے بعد دعا ہوتی ہے۔ میں اس کے مطابق آپ طلبہ میں سے کسی سے یہ روایت سنوں گا لیکن اس سے قبل یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حدیث کی روایت کے دو طریقے محدثین کے ہاں مروج چلے آرہے ہیں، (۱) ایک یہ کہ شاگرد حدیث پڑھتا ہے اور استاذ سنتا ہے، ہمارے ہاں عام طور پر یہی طریقہ رائج ہے، (۲) لیکن دوسرا طریقہ یہ ہے کہ استاذ حدیث پڑھتا ہے اور شاگرد سنتے ہیں، یہ طریقہ بھی محدثین میں رائج رہا ہے۔

اس سلسلہ میں ایک دلچسپ واقعہ کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام مالکؒ کا طریقہ یہ تھا کہ ان کے سامنے سینکڑوں تلامذہ کی مجلس میں ایک شاگرد روایت پڑھتا تھا اور امام صاحبؒ کے ساتھ دیگر تلامذہ بھی سنتے تھے مگر قاضی عیاضؒ نے ’’ترتیب المدارک‘‘ میں لکھا ہے کہ امام مالکؒ کے ایک شاگرد ہشام بن عمارؒ کو ایک دن شوق ہوا کہ حضرت استاذ سے احادیث سنیں جس کی انہوں نے استاد محترم سے فرمائش کر دی، امام صاحبؒ نے انکار کیا تو اس نے پھر فرمائش کی جس پر امام مالکؒ نے ہشام بن عمارؒ کو دوسرے شاگرد سے سزا کے طور پر پندرہ چھڑیاں لگوا دیں۔ بعد میں امام صاحبؒ کو خیال آیا کہ چھڑیوں کی یہ سزا نہیں دینی چاہیے تھی تو ہشام بن عمارؒ سے معذرت خواہی کی مگر ہشامؒ نے معذرت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ امام مالکؒ نے دوبارہ بات کی تو ہشام بن عمارؒ نے شرط لگا دی کہ اگر آپ پندرہ چھڑیوں کے عوض مجھے پندرہ احادیث سنا دیں تو میں آپ کو پندرہ چھڑیوں کی یہ سزا معاف کر دوں گا۔ چنانچہ امام مالکؒ نے ہشام بن عمارؒ کو پندرہ حدیثیں سنائیں، اس پر ہشام بن عمارؒ نے گزارش کی کہ میں نے یہ طریق کار آپ سے حدیثیں سننے کے لیے اختیار کیا ہے، اس لیے میں اس بات کے لیے تیار ہوں کہ آپ مجھے چھڑیاں مارتے جائیں اور ہر چھڑی کے عوض ایک حدیث سناتے جائیں۔

قاضی عیاضؒ نے ایک اور دلچسپ واقعہ بھی لکھا ہے کہ امام مالکؒ جب اپنی مجلس میں تشریف فرما ہوتے تھے تو آپ کے پہلو میں پردے کے پیچھے ایک خاتون محدثہ بیٹھتی تھی جس کا کام یہ ہوتا تھا کہ اگر سبق کے دوران حدیث پڑھنے والے نے کوئی غلطی کر دی ہے اور امام مالکؒ کی اس طرف توجہ نہیں ہوئی تو وہ خاتون محدثہ تپائی پر ہاتھ مار کر خبردار کرتی تھی کہ غلطی ہو گئی ہے۔ اس پر امام مالکؒ شاگرد سے وہ حدیث دوبارہ پڑھواتے اور غلطی چیک ہو جاتی۔ یہ خاتون محدثہ جو استاذ اور شاگرد دنوں کو چیک کرنے کے لیے پردے کے پیچھے بیٹھا کرتی تھی امام مالکؒ کی اپنی بیٹی تھیں، جو اس درجہ کی محدثہ تھیں کہ استاذ اور شاگرد دونوں کو چیک کیا کرتی تھیں۔ قاضی عیاضؒ لکھتے ہیں کہ امام مالکؒ کا بیٹا پڑھ نہیں سکا تھا اس لیے جب کبھی ان کا بیٹا مجلس کے سامنے سے گزرتا تو امام مالکؒ اس کی طرف اشارہ کر کے حسرت سے کہا کرتے تھے کہ دیکھو وہ میرا بیٹا ہے اور یہ میری بیٹی ہے۔

علم حدیث میں عورتوں نے بھی بہت کمال حاصل کیا ہے اور بے شمار خواتین نے علم حدیث کی خدمت کی ہے، آکسفورڈ میں ہمارے ایک فاضل دوست مولانا ڈاکٹر محمد اکرم ندوی امت کی محدثات کے حالات جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ گزشتہ سال انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ اب تک چھ ہزار کے لگ بھگ محدثات کے حالات جمع کر چکے ہیں جو متعدد ضخیم جلدوں کی صورت میں شائع ہوں گے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حدیث کی روایت کے دونوں طریقے ہیں اور میں آج دونوں طریقوں پر عمل کرنا چاہتا ہوں۔ ایک روایت آپ کو سناؤں گا اور ایک روایت آپ سے سنوں گا تاکہ دونوں طریقوں پر ہمارا عمل ہو جائے۔ سنانے کے لیے میں نے جس حدیث کا انتخاب کیا ہے وہ ’’مسلسل بالأولیۃ‘‘ کے عنوان سے معروف ہے مگر اس سے قبل اپنی حدیث کی سند کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں، بحمد اللہ تعالیٰ مجھے مختلف شیوخ سے روایت حدیث کی اجازت حاصل ہے۔

میرے حدیث کے سب سے بڑے استاذ میرے والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم ہیں جن سے میں نے بخاری شریف پڑھی ہے، وہ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد ہیں۔ دوسرے بڑے استاذ عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم ہیں جن سے میں نے مسلم شریف پڑھی ہے، وہ حضرت مدنیؒ اور حضرت مولانا ابراہیم بلیاویؒ کے شاگرد ہیں۔ تیسرے استاذ حضرت مولانا عبد القیوم ہزاری دامت برکاتہم ہیں جن سے میں نے ابوداؤد شریف پڑھی ہے۔ چوتھے استاذ حضرت مولانا جمال احمد بنوی دامت برکاتہم ہیں جو شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒ کے شاگرد ہیں۔ صحاح ستہ کی ساری کتابیں میں نے انہی اساتذہ سے پڑھی ہیں اور ان کی وساطت سے مجھے ہندوستان کے تین بڑے مراکز علماء فرنگی محل، دار العلوم دیوبند اور مظاہر العلوم سہارنپور سے بالواسطہ تلمذ کا شرف حاصل ہے۔

جبکہ ان کے علاوہ میرے حدیث کے شیوخ میں درج ذیل اکابر بھی شامل ہیں۔ (۱) مکہ مکرمہ میں انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے شافعی المذہب محدث گزرے ہیں جو اپنے دور کے مسند العصر تھے الشیخ المحدث محمد یاسین الفادانیؒ ان کی خدمت میں مولانا منظور احمد چنیوٹی اور مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے استاذ مولانا سیف الرحمن مکی کے ہمراہ مجھے حاضری کی سعادت حاصل ہوئی۔ حضرت شیخؒ نے ہمیں متعدد سلسلات سنائیں جن میں وہ مسلسل بالأولیۃ بھی ہے جو ابھی میں آپ کے سامنے پڑھوں گا، حضرت شیخؒ نے ہمیں زبانی اور تحریری طور پر اپنی اسناد کے ساتھ روایت حدیث کی اجازت دی۔ (۲) شام کے معروف محقق اور حنفی محدث الشیخ المحدث عبد الفتاح ابو غدۃؒ کی خدمت میں مجھے لندن میں مولانا عیسٰی منصوری اور مولانا محمد اکرم ندوی کے ہمراہ حاضری کا شرف حاصل ہوا،۔ انہوں نے امام بخاریؒ کی ’’الأدب المفرد‘‘ کی ابتدائی چند روایات مجھ سے سنیں اور اپنی تمام اسناد کے ساتھ روایت حدیث کی اجازت مرحمت فرمائی۔ (۳) جبکہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے مجھے تحریری طور پر اپنی اسناد کے ساتھ روایت حدیث کی اجازت مرحمت فرمائی ہے، اس کے بعد میں آپ کے سامنے مسلسل بالأولیۃ روایت پڑھتا ہوں جس میں مجھ سے لے کر حضرت سفیان بن عیینہؒ تک یہ تسلسل موجود ہے کہ ہر شاگرد نے اپنے استاذ سے پہلی روایت یہی سنی ہے، یہ روایت حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ سے ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’الراحمون یرحمھم الرحمٰن تبارک و تعالیٰ ارحموا من فی الارض یرحمکم من فی السماء‘‘ رحم کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ تبارک و تعالیٰ رحم فرماتے ہیں، تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔

یہ روایت پڑھے جانے کے بعد ایک طالب علم نے بخاری شریف کی پہلی روایت پڑھی جس پر کہا کہ آپ نے بخاری شریف کی پہلی روایت پڑھی ہے اس پر بہت سی باتیں تو آپ کے استاذ محترم آپ کو بتائیں گے اور یہ انہی کا حق ہے البتہ دو باتیں بطور اشارہ میں بھی آپ سے عرض کر دیتا ہوں۔

  1. ایک یہ کہ امام بخاریؒ نے ’’بدء الوحی‘‘ سے کتاب کا آغاز کیا ہے، یہ بتانے کے لیے کہ ہمارے تمام معاملات کی بنیاد وحی الٰہی پر ہے، اس کے بعد کتاب الایمان ہو گی، پھر کتاب العلم ہو گی، پھر عبادات، معاملات، اخلاق اور دیگر امور کے ابواب ہوں گے۔ امام بخاریؒ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایمان و عقیدہ سے لے کر اخلاق و عادات تک ہمارے سارے معاملات وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کی روشنی میں طے ہوتے ہیں۔ آج کے عالمی ماحول میں یہ بات بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے اس لیے کہ آج کی دنیا میں سب سے بڑا جھگڑا ہی یہ ہے کہ کیا انسانی سوسائٹی اپنے فیصلے خود کرنے میں آزاد ہے یا اس کے لیے آسمانی تعلیمات کی پابندی ضروری ہے؟ اس تنازعہ میں دنیا کی اکثر قومیں ایک طرف ہیں جنہوں نے آسمانی تعلیمات کو عملی اور اجتماعی زندگی سے بے دخل کر دیا ہے، جبکہ ہم مسلمان دوسری طرف ہیں جن کا موقف یہ ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی زندگی دونوں میں آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کے پابند ہیں۔ اس پس منظر میں امام بخاریؒ کا یہ اشارہ بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے کہ انہوں نے ایمان، علم اور عبادت و معاملات کے ابواب سے پہلے بدء الوحی کا باب قائم کر کے بتا دیا ہے کہ ہم مسلمان عقیدہ و علم سمیت ہر معاملہ میں وحی الٰہی سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور اسی کو پوری نسل انسانی کے لیے راہِ نجات سمجھتے ہیں۔
  2. دوسرا اشارہ امام بخاریؒ نے ’’انما الاعمال بالنیات‘‘ کو پہلی روایت کے طور پر بیان کر کے کیا ہے کہ ایمان و عمل کے ہر معاملہ میں اصل دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ انسان کی نیت کے مطابق مرتب ہوگا۔ نیت کی مثال یوں سمجھ لیجئے جیسے بیج ہوتا ہے، جس چیز کا بیج آپ زمین میں ڈالیں گے پھل بھی اسی کا حاصل کریں گے اور جیسا بیج ہوگا پھل بھی ویسا ہی ہوگا۔ اس طرح امام بخاریؒ ہمیں یہ بات سمجھا رہے ہیں کہ بخاری شریف کے سبق کے آغاز سے قبل اپنی نیتوں کو ٹٹول لو اور ان کی اصلاح کر لو کیونکہ نیت صحیح ہو گی اور اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب ہو گی تو ثمرہ اس کے مطابق حاصل ہوگا اور اگر خدانخواستہ نیت میں کوئی خرابی ہے تو اچھے سے اچھا عمل بھی بیکار ہو جائے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں خلوص نیت، توجہ اور دلجمعی کے ساتھ حدیث نبویؐ کا علم حاصل کرنے اور اس کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین یا رب العالمین۔