دینی مدارس کے اساتذہ کیا سوچتے ہیں؟

   
جنوری ۲۰۰۴ء

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ۳ ۔۴ دسمبر ۲۰۰۳ء کو دینی مدارس کے اساتذہ کی دو روزہ باہمی مشاورت اور نصاب وتربیت کے حوالے سے مختلف امور پر مذاکرہ ومباحثہ کا اہتمام کیا گیا۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، مدرسہ اشرف العلوم گوجرانوالہ، جامعہ حقانیہ گوجرانوالہ، جامعہ فتاح العلوم گوجرانوالہ، دار العلوم مدنیہ رسول پارک لاہور، جامعہ قاسمیہ گوجرانوالہ، جامعہ عربیہ چنیوٹ، جامعہ حنفیہ قادریہ باغ بان پورہ لاہور، جامعہ اسلامیہ کامونکی، جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم، جامعہ فاروقیہ سیالکوٹ اور الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے تیس کے لگ بھگ اساتذہ نے اس مشاورت ومذاکرہ میں حصہ لیا۔ پہلی نشست کی صدارت پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے سینئر ایڈیٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے کی اور شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے ’’درس نظامی کی اہمیت وافادیت‘‘ پر مقالہ پڑھا۔ دوسری نشست کی صدارت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے کی اور پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے ’’طلبہ کی دینی واخلاقی تربیت‘‘ کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔ تیسری نشست کی صدارت جامعہ اسلامیہ کامونکی کے مہتمم مولانا عبد الرؤف فاروقی نے کی اور اس میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نصاب میں کی جانے والی حالیہ ترامیم کے بارے میں شرکاء مذاکرہ نے باری باری اظہار خیال کیا جبکہ چوتھی اور آخری نشست راقم الحروف کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں معہد اللغۃ العربیۃ اسلام آباد کے مولانا محمد بشیر سیالکوٹی نے ’’دینی مدارس میں عربی کی تعلیم کا منہج اور ضروری اصلاحات‘‘ کے عنوان پر اظہار خیال کیا اور راقم الحروف نے ’’فکری اور مسلکی تربیت کے چند اہم پہلو‘‘ کے عنوان پر گفتگو کی۔

پروگرام کے آغاز پر راقم الحروف نے اس کا مقصد بیان کرتے ہوئے گزارش کی کہ اس مشاورت اور مذاکرہ ومباحثہ کے اہتمام میں ہمارے سامنے دو اہم مقصد ہیں۔ ایک یہ کہ دینی مدارس کے اساتذہ میں تعلیم وتربیت کے مسائل پر باہمی تبادلہ خیالات، غور وخوض اور بحث ومباحثہ کا ذوق پیدا ہو اور اس کا ماحول بنے اور دوسرا یہ کہ دینی مدارس کے نصاب ونظام اور تعلیم وتربیت کے حوالے سے اس وقت جو امور قومی بلکہ عالمی سطح پر موضوع بحث ہیں اور جن کے بارے میں ہر طرف سے آرا وتجاویز سامنے آ رہی ہیں، ان پر دینی مدارس کے اساتذہ کی آرا اور موقف بھی سامنے آئے اور جو لوگ دینی مدارس میں طلبہ کی تعلیم اور تربیت کی ذمہ داری براہ راست سرانجام دے رہے ہیں، ان کے رجحانات اور سوچ سے بھی لوگوں کو واقفیت حاصل ہو۔

اس مذاکرہ ومباحثہ کے ساتھ ہم اس کا آغاز کر رہے ہیں اور آئندہ بھی الشریعہ اکادمی متعلقہ مسائل وامور پر دینی مدارس کے اساتذہ کی باہمی مشاورت ومباحثہ کا وقتاً فوقتاً اہتمام کرتی رہے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

مذاکرہ ومشاورت کی مختلف نشستوں میں طلبہ کی تعلیم وتربیت اور وفاق المدارس کے ترمیم شدہ نصاب کے بارے میں اساتذہ نے جن خیالات کا اظہار کیا، ان کا خلاصہ قارئین کی معلومات کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

  • وفاق المدارس کے نصاب میں جو ترامیم اور تبدیلیاں کی گئی ہیں، وہ خوش آئند ہیں اور ان کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی تھی لیکن یہ ناکافی اور وقتی ہیں۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ آئندہ کم از کم نصف صدی تک کی ممکنہ صورت حال اور ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک جامع پالیسی طے کی جائے اور بجائے اس کے کہ ہر تین چار سال کے بعد جزوی تبدیلیاں کی جاتی رہیں، پچاس سال کے لیے ایک اصولی لائحہ عمل کا تعین کیا جائے۔ مثلاً ہم نے کچھ عرصہ قبل مڈل کی سطح کی تعلیم کو نصاب میں شامل کیا اور اب میٹرک کی عصری تعلیم کو ضروری کہتے ہوئے نصاب کا لازمی حصہ بنا لیا ہے۔ اگر ہم نے چار سال کے بعد ایف اے اور پھر چار پانچ سال کے بعد بی اے کو بھی شامل کرنا ہے تو اس کے بجائے بہتر ہے کہ یہ فیصلہ ابھی سے کر لیا جائے تاکہ مدارس کے منتظمین، اساتذہ اور طلبہ اس کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوں۔ اور اگر اس سے آگے کے عصری نصاب کو شامل کرنا ضروری نہیں ہے تو ابھی سے حتمی طور پر کہہ دیا جائے تاکہ تذبذب اور گومگو کی فضا ختم ہو اور اساتذہ وطلبہ دل جمعی کے ساتھ کام کو آگے بڑھا سکیں۔
  • مڈل تک کے نصاب کو دینی مدارس کے لیے ضروری قرار دیا گیا تو اس کا تاثر یہ تھا کہ دباؤ اور مجبوری کے تحت ایسا کیا جا رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس نصاب کی تعلیم ہمارے ہاں اہتمام اور خوش دلی کے ساتھ نہیں ہو رہی بلکہ محض رسم پوری کرنے اور امتحان میں پاس ہونے کی حد تک اس کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ میٹرک کے بارے میں بھی ایسا ہوگا اور ہمارے طلبہ میٹرک کر لینے کے بعد بھی میٹرک کے درجہ کی صلاحیت سے محروم رہیں گے، اس لیے یہ بات بھی ابھی سے اور دوٹوک انداز میں طے کرنے کی ہے کہ اگر تو یہ سب کچھ دباؤ اور مجبوری کی وجہ سے کیا جا رہا ہے تو ایسا کرنے کی کوئی ضرورت وافادیت نہیں ہے بلکہ دباؤ قبول کرنے سے کھلے لفظوں میں انکار کر دینا چاہیے اور اگر فی الواقع اس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اور ہم خود اس کی افادیت کا احساس کرتے ہوئے اسے شامل نصاب کرنا چاہتے ہیں تو پھر میٹرک کے نصاب کی تعلیم بھی خوش دلی اور اہتمام کے ساتھ ہونی چاہیے اور اس کے مضامین کی پوری طرح تیاری کرائی جانی چاہیے تاکہ ہمارے طلبہ اس معاملے میں دوسرے سکولوں کے طلبہ سے پیچھے نہ رہیں۔
  • عربی کی تعلیم کے حوالے سے وفاق المدارس کے نصاب میں جو تبدیلیاں کی گئی ہیں، وہ جزوی طور پر افادیت کی حامل ضرور ہیں لیکن ان سے اصل مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ عربی زبان کی تعلیم سے بنیادی طور پر ہمارے دو مقصد ہیں۔ ایک یہ کہ فارغ التحصیل عالم دین کا قرآن وسنت، فقہ اسلامی اور دیگر علوم اسلامی کے ساتھ تعلق ورابطہ مضبوط ہو اور وہ ان سے صحیح طور پر استفادہ کر سکے اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ وہ آج کے ماحول اور ضروریات کے مطابق عربی زبان میں گفتگو کر سکے، بوقت ضرورت خطاب کر سکے، آج کے عربی لٹریچر سے استفادہ کر سکے اور مروجہ عربی زبان میں لکھ پڑھ سکے۔ درس نظامی میں عربی زبان کے حوالے سے جن علوم اور مواد کی تعلیم دی جاتی ہے، اس سے پہلا مقصد تو کسی حد تک پورا ہو جاتا ہے لیکن دوسرا مقصد کسی درجہ میں بھی حاصل نہیں ہوتا اور فارغ التحصیل علما بلکہ سالہا سال تک تدریس کا فریضہ سرانجام دینے والے اساتذہ کرام بھی مروجہ عربی میں گفتگو اور لکھنے پڑھنے کی صلاحیت واستعداد سے محروم رہتے ہیں۔ اس کمزوری کو دور کرنا انتہائی ضروری ہے اور وفاق المدارس کے نصاب میں کی جانے والی حالیہ ترامیم سے یہ خلا پر نہیں ہوگا بلکہ صورت حال جوں کی توں رہے گی۔ اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا مقصد قدیم عربی اور اس کے متعلقہ علوم کی اہمیت کم کرنا نہیں بلکہ اس کے ساتھ جدید عربی اور اس کے تقاضوں کو شامل کرنا ہے تاکہ ہمارے فضلا قدیم لٹریچر سے استفادہ کی بھرپور صلاحیت کے ساتھ ساتھ جدید اور مروجہ عربی زبان میں بھی ضروری استعداد حاصل کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے عربی زبان کی تعلیم کے جدید اسلوب اور ادب عربی کے جدید لٹریچر سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ ایسا کرنا ناگزیر ہے اس لیے کہ اس کے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکے گا۔
  • وفاق المدارس نے نصاب میں ترمیم واضافہ کے حوالے سے سب سے زیادہ ضروری اور اہم مسئلہ کی طرف کوئی توجہ نہیں دی اور وہ ہے اساتذہ کی تربیت اور تدریس کی فنی ٹریننگ کا نصاب جس کی غیر موجودگی بہت سی کمزوریوں اور خرابیوں کا باعث بن رہی ہے۔ ہمارے ہاں اساتذہ کی تربیت کا کوئی نصاب یا نظام موجود نہیں ہے۔ صرف دورۂ حدیث کی سند میں ذہین طالب علم کی سند پر لکھ دیا جاتا ہے کہ ’’یہ تدریس کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘ اور وہ بھی تدریس کی کسی عملی تربیت کے بغیر۔ یہ طریق کار درست نہیں ہے۔ معاصر تعلیمی نظاموں میں پرائمری سکول کے استاذ کا تقرر بھی باقاعدہ کورس کی تکمیل کے بغیر نہیں ہوتا جبکہ اس سے اعلیٰ درجوں کے لیے سال سال اور دو دو سال کے تربیتی نصاب ہیں جو ٹیچر بننے والے کو لازمی طور پر پڑھنا پڑتے ہیں لیکن ہمارے ہاں کسی عملی اور فنی تعلیم وتربیت کے بغیر کوئی بھی فاضل اپنی ذہانت یا تعلقات کی بنیاد پر مسند تدریس پر فائز ہو جاتا ہے۔
    خود ہمارے ہاں کچھ عرصہ قبل تک افتا کا کوئی باضابطہ کورس نہیں ہوتا تھا اور کوئی ذہین مدرس کسی پختہ کار مفتی کی نگرانی میں چند سال عملی تجربہ حاصل کر کے مفتی کے منصب پر فائز ہو جایاکرتا تھا مگر اب اسے کافی نہیں سمجھا جا رہا بلکہ افتا کا باقاعدہ نصاب طے کیا گیا ہے اور کورس مقرر کیا گیا ہے جس کی تکمیل مفتی کے منصب کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح استاذ کے منصب کے لیے بھی سابقہ طریق کار پر قناعت کافی نہیں ہے بلکہ تدریس کی فنی تربیت اور اس کے ساتھ ساتھ عملی استعداد میں اضافہ اور فکری اور اخلاقی ودینی تربیت کی ضروریات پر مشتمل نصاب کی ترتیب ضروری ہے اور یہ کام وفاق المدارس ہی کو کرنا چاہیے کیونکہ استاذ تمام تر ذہانت اور لیاقت کے باوجود اگر تدریس کے فن سے آگاہ نہیں ہے تو وہ اپنا علم طلبہ تک صحیح طور پر منتقل نہیں کر سکے گا۔ اگر وہ خود کسی فکری کج روی کا شکار ہے تو اس کی یہ متعدی بیماری طلبہ تک منتقل ہوگی اور اگر اس کی دینی واخلاقی تربیت ضرورت کے مطابق مکمل نہیں ہے تو اس کے شاگرد بھی اسی کے رنگ میں رنگے جائیں گے۔ یہ سب کچھ ہمارے ہاں عملی طور پر ہو رہا ہے اور اس کے تلخ نتائج بھی ہم اپنے ماحول میں دیکھ رہے ہیں۔ اسی طرح مدرس اور استاذ کے لیے تیار کیے جانے والے تربیتی نصاب میں طلبہ کی نفسیات اور آج کے ماحول سے آگاہی کو شامل کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ بہت سے طلبہ صرف اس لیے تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں کہ ان کے مزاج، نفسیات اور ماحول کا لحاظ نہیں رکھاجا تا اور ان کے لیے تعلیم کو جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
  • فکری اور اعتقادی تعلیم کے حوالے سے بھی ہمارا نصاب تشنہ ہے۔ ’’شرح عقائد‘‘ اور ’’العقیدۃ الطحاویۃ‘‘ بہت ضروری اور مفید کتابیں ہیں جن کا شامل نصاب رہنا ضروری ہے۔ ان میں اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد کی ضروری تشریح موجود ہے لیکن جن گمراہ فرقوں کے عقائد کا ان کتابوں میں تذکرہ ہے، وہ صدیوں پرانے ہیں جو اب موجود نہیں ہیں یا پہلے سے مختلف شکلیں اختیار کر چکے ہیں جبکہ آج کے گمراہ فرقوں اور ان کے عقائد کے حوالے سے ہمارے نصاب میں کوئی مواد موجود نہیں ہے اور ا س سلسلے میں پانچ درجوں پر ضروری مواد کو شامل نصاب کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے:
    1. معاصر ادیان ومذاہب مثلاً مسیحیت، یہودیت، ہندو مت، سکھ ازم اور بدھ مت وغیرہ کے بارے میں تعارفی اور تقابلی مواد
    2. اسلام سے منحرف مذاہب مثلاً قادیانیت، بہائیت، نیشن آف اسلام وغیرہ کے بارے میں ضروری معلومات
    3. اسلام سے منسوب گمراہ گروہوں مثلاً رافضیت اور منکرین حدیث وغیرہ کا تعارف
    4. اہل سنت کے داخلی مذاہب مثلاً حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، ظاہری اور سلفی وغیرہ کا تعارف اور تقابلی مطالعہ
    5. مغربی فکر وفلسفہ اور تہذیب وثقافت کا تاریخی پس منظر اور اسلام کے ساتھ اس کی کشمکش کی موجودہ صورت حال

    اس ضروری مواد کو نصاب میں شامل کرنے کے لیے مستقل کتابوں کی تصنیف کی ضرورت ہے جو تدریسی نقطہ نظر سے اور تدریسی انداز میں تحریر کی گئی ہوں یا دوسری صورت یہ ہے کہ ان کے بارے میں محاضرات کا اہتمام ہو لیکن اس کے لیے اساتذہ کی تیاری اور انہیں متعلقہ مواد کی فراہمی ضروری ہوگی تاکہ وہ محاضرات کی صورت میں اپنے تلامذہ کو صحیح معلومات دے سکیں۔

  • اسلامی معیشت کے بارے میں جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کی کتاب شامل نصاب کی گئی ہے جو بہت مفید اور ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ جدید معاشی نظام اور علم معیشت کا تعارفی مطالعہ شامل نصاب کیا جائے کیونکہ جب تک طالب علم جدید معیشت کے اصول اور طریق کار سے واقف نہیں ہوگا، اس کے لیے اسلام کے معاشی احکام وقوانین اور جدید معاشی نظام میں فرق کو صحیح طور پر سمجھنا مشکل ہوگا۔ اس کے علاوہ جدید سماجی علوم اور جنرل سائنس کا تعارفی مطالعہ بھی ضروری ہے۔ اس کا مقصد ان علوم کی باقاعدہ تعلیم نہیں بلکہ ان کے مبادیات، بنیادی اصطلاحات اور افادیت سے طلبہ کو واقف کرانا ہے کیونکہ اس کے بغیر وہ آج کے مجموعی ماحول، ضروریات اور آج کی مروجہ زبان واصطلاحات سے آگاہی حاصل نہیں کر سکیں گے۔
  • طلبہ کی فکری تربیت کی طرف توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت عملی صورت حال یہ ہے کہ جس استاذ کے ساتھ کسی طالب علم کا ذہنی میلان ہوتا ہے، وہ اسی کے فکر اور سوچ سے منسلک ہو جاتا ہے اور ایک ہی درس گاہ میں مختلف سوچوں اور فکری اہداف کے الگ الگ دائرے بن جاتے ہیں جو تعلیم سے فراغت کے بعد نہ صرف قائم رہتے ہیں بلکہ مزید ترقی کرتے ہیں جس سے فکری خلفشار پیدا ہوتا ہے۔ اس صورت حال کے تدارک کی طرف وفاق المدارس کی قیادت کو توجہ دینی چاہی اور اجتماعی فکری اہداف کا ایک دائرہ طے کر کے اسے اساتذہ کے تربیتی پروگرام کا حصہ بنانا چاہیے تاکہ وہ طلبہ کی صحیح رخ پر تربیت کر سکیں۔
  • دینی اور اخلاقی تربیت کا معاملہ بھی توجہ طلب ہے۔ فرائض وواجبات کی ادائیگی، باہمی حقوق ومعاملات اور عام لوگوں کے ساتھ میل جول کے آداب کی صورت حال تسلی بخش نہیں ہے اور اس کا زیادہ تر تعلق بھی اساتذہ سے ہے۔ اساتذہ اخلاقی اور دینی لحاظ سے مضبوط کردار کے حامل ہوں گے تو طلبہ پر اس کے اثرات ہوں گے اور اگر اساتذہ کی اخلاقی اور دینی حالت کمزور ہوگی تو طلبہ کی حالت اس سے زیادہ کمزور ہوگی۔ اس لیے اس سلسلے میں مدارس کے اساتذہ اور منتظمین کے ساتھ مسلسل رابطہ اور ان کی راہ نمائی کی ضرورت ہے۔

قارئین کرام! یہ ہے خلاصہ اس گفتگو کا جو مختلف دینی مدارس کے اساتذہ نے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی دو روزہ مشاورت کے دوران متعدد مجالس میں کی۔ اس سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دینی مدارس کے نصاب ونظام کی موجودہ صورت حال اور اس میں اصلاح وترامیم کی ضروریات کے بارے میں ان اساتذہ کی سوچ کیا ہے اور وہ کس انداز سے ان امور پر غور کرتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اساتذہ کے مابین مشاورت، باہمی تبادلہ خیالات اور بحث ومباحثہ کے اس دائرہ کو وسیع کیا جائے، مختلف علاقوں میں دینی مراکز اس کا اہتمام کریں بلکہ خود وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیر اہتمام قومی اور علاقائی سطح پر ایسی مشاورتوں اور مباحثوں کا انعقاد ہو تو اس کی افادیت اور اثرات زیادہ نمایاں ہوں گے۔

امید ہے کہ ارباب بست وکشاد دینی مدارس کے اساتذہ کی ان آرا وتجاویز کو سنجیدہ توجہ سے نوازیں گے اور باہمی مشاورت ومباحثہ کی اس روایت کو آگے بڑھانے میں مثبت کردار ادا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ دینی مدارس کی حفاظت فرمائیں اور ہم سب کو دینی تعلیم کے فروغ کے لیے زیادہ سے زیادہ محنت کرنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter