کھیلوں کے مقابلے اور سنت نبویؐ

   
۲۶ مارچ ۲۰۲۲ء

(الشریعہ اکادمی، کوروٹانہ، گوجرانوالہ میں ہفتہ وار نقشبندی محفل سے خطاب۔)

بعد الحمد والصلوٰة۔ آج الشریعہ اکادمی میں کرکٹ میچ ہوا ہے جس میں اکیڈمی ہی کی دو ٹیموں نے حصہ لیا اور اس میں کنگنی والا کی ٹیم نے کوروٹانہ ٹیم پر برتری حاصل کی۔ اس پر کامیاب ٹیم کو مبارک باد دیتے ہوئے کھیلوں کے مقابلوں کے بارے میں کچھ باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ عام طور پر کھیلوں سے تین قسم کے فوائد مقصود ہوتے ہیں:

  • ایک تو یہ ہے کہ معمول کی مصروفیات سے الگ کوئی مصروفیت اختیار کی جائے تاکہ ذہنوں کو دباؤ سے نجات حاصل ہو اور وہ تازہ دم ہو کر اپنے معمولات میں پھر سے مصروف ہو جائیں، یہ انسانی زندگی کا حصہ اور ضرورت ہے۔
  • دوسرا یہ کہ اس سے ورزش ہو جاتی ہے، بعض کھیلوں میں جسمانی ورزش ہوتی ہے اور بعض میں ذہنی ورزش ہو جاتی ہے، اور یہ بھی زندگی کی ضروریات میں سے ہے۔
  • تیسرا مقصد جنگی ماحول میں مقابلہ کی تیاری کا ہوتا ہے کہ انسان اپنے دفاع اور دشمن پر برتری حاصل کرنے کے لیے خود کو تیار کرتا ہے۔

یہ کھیلیں اور ان کے مقابلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی ہوتے تھے اور خود نبی اکرمؐ اس کا اہتمام کرتے تھے۔ چونکہ مدینہ منورہ کا دس سالہ دور جنگی ماحول کا تھا کہ اس دور میں خود نبی اکرمؐ دو درجن سے زائد جنگوں میں شریک ہوئے، اس لیے اس ماحول میں جنگی مشقوں والے مقابلے زیادہ ہوتے تھے۔

ام المؤمنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ مسجد نبویؐ کے صحن میں کچھ نوجوان نیزہ بازی کا مقابلہ کر رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ مقابلہ دیکھو گی؟ میں نے ہاں کی تو آپؐ کھڑکی کے سامنے کھڑے ہو گئے اور میں ان کے پیچھے چھپ کر کافی دیر تک یہ مقابلہ دیکھتی رہی اور جب تھک گئی تو بس کہہ کر پیچھے ہٹ گئی۔

ایک موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی راستہ سے گزر رہے تھے تو دیکھا کہ نوجوانوں کی دو ٹیمیں آپس میں تیر اندازی کا مقابلہ کر رہی ہیں، آپؐ کھڑے ہو گئے اور شاباش دیتے ہوئے فرمایا کہ خوب کھیلو، اور یہ بھی کہا کہ میں فلاں ٹیم کے ساتھ ہوں، جس پر دوسری ٹیم نے تیر پھینکنا بند کر دیے۔ نبی اکرمؐ نے پوچھا کہ رُک کیوں گئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم آپ کی طرف تیر کیسے پھینک سکتے ہیں؟ آپؐ یہ فرماتے ہوئے وہاں سے ہٹ گئے کہ تم لوگ کھیلو میں دونوں کے ساتھ ہوں۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے مشہور پہلوان حضرت رکانہؓ کے ساتھ کشتی لڑی اور انہیں تین دفعہ پچھاڑا جس کے بعد وہ مسلمان ہو گئے۔

ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہؓ کے ساتھ دوڑ لگائی، پہلی بار حضرت عائشہؓ سبقت لے گئیں، دوسری بار آپؐ دوڑ میں آگے نکل گئے اور فرمایا ’’تلک بتلک‘‘ یہ اس کا بدلہ ہو گیا ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار گھوڑ دوڑ کا مقابلہ کرایا، دو گروپ تھے، تربیت یافتہ گھوڑوں کا مقابلہ لمبی مسافت کا تھا اور غیر تربیت یافتہ گھوڑوں کا مقابلہ تھوڑے فاصلے کا تھا اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بھی اس دوڑ میں گھوڑے کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔

یہ تو جسمانی مقابلے تھے اور جنگی تیاری کے حوالہ سے تھے، اس کے علاوہ ذہنی مقابلہ میں بنو تمیم کے شاعر اور خطیب کے ساتھ مقابلہ تاریخ کا حصہ ہے کہ بنو تمیم کا وفد حضرت اقرع بن حابسؓ کی سربراہی میں مدینہ منورہ آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعری اور خطابت میں مقابلہ کی دعوت دی جو قبول کر لی گئی۔ مقابلہ کا میدان سجا، محفل بپا ہوئی، جس میں بنو تمیم کے خطیب حضرت زبرقان بن بدرؓ نے خطابت کے جوہر دکھائے جس میں اپنے قبیلہ کی خوبیاں بیان کیں اور اپنے مفاخر کا ذکر کیا۔ جناب نبی اکرمؐ کے حکم پر خطیب الانصار حضرت ثابت بن قیسؓ نے اپنے خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید، رسول اکرمؐ کی صفاتِ حسنہ اور اسلام کی خوبیوں کا خطیبانہ انداز میں تذکرہ کیا۔ اس طرح بنو تمیم کے شاعر حضرت اقرع بن حابسؓ نے یہی باتیں شاعرانہ لہجے میں کہیں تو آپؐ کے ارشاد پر حضرت حسان بن ثابتؓ نے شاعری میں آنحضرتؐ کی نعت اور اسلام کے محاسن کا تذکرہ کیا۔ اس مقابلہ میں بنو تمیم کے وفد کے سربراہ حضرت اقرع بن حابسؓ نے مسلمان خطیب اور شاعر کی برتری کا اعتراف کیا اور اس پر وہ سب لوگ مسلمان ہو گئے۔

یہ واقعات دورِ نبوی کے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذہنی و جسمانی ورزش، جنگی تیاری، اور ایسی تفریح، جس سے ذہنوں کو فرحت و سکون حاصل ہو اور وہ تازہ دم ہو کر اپنے معمولات زندگی ادا کر سکیں، اسلامی تعلیمات کا حصہ ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کا اہتمام فرمایا ہے۔

اس کے ساتھ، میں اپنی ٹیموں سے کہنا چاہوں گا کہ ہم گوجرانوالہ میں رہتے ہیں جو پہلوانوں کا شہر کہلاتا ہے اور یہاں کا خصوصی کھیل کبڈی ہے جو جسمانی ورزش کے لیے ہوتا ہے اور اس علاقہ کی ثقافت ہے، اس لیے میری خواہش ہے کہ الشریعہ اکادمی میں کھیل کا اگلا مقابلہ کبڈی کا ہو اور آپ لوگ اس کی ابھی سے تیاری شروع کر دیں۔

2016ء سے
Flag Counter