حضرت عیسٰیؑ کی تصلیب اور موجودہ مسیحی مذہبی قیادت کا مخمصہ

   
۱۱ جون ۲۰۰۴ء

اسرائیل کی حمایت میں اس وقت یہودی اور مسیحی امتوں میں اتحاد ہے اور اسرائیلی ریاست کو تحفظ فراہم کرنے میں مغرب کی مسیحی حکومتیں یہودیوں سے بھی دو ہاتھ آگے دکھائی دے رہی ہیں۔ حالانکہ گزشتہ دو ہزار برس میں یہودیوں اور مسیحیوں کے مابین کھلی عداوت رہی ہے اور مسیحی حکومتوں کے ہاتھوں یہودیوں کا مسلسل قتل عام ہوتا رہا ہے۔ یہودیوں کے نزدیک حضرت عیسٰی علیہ السلام نہ صرف یہ کہ نبی نہیں ہیں بلکہ بغیر باپ کے جنم لینے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہما السلام دونوں نعوذ باللہ شرمناک الزام کا ہدف چلے آرہے ہیں۔ جبکہ مسیحیوں کی طرف سے اب تک یہ کہا جاتا رہا ہے کہ ان کے بقول حضرت عیسٰیؑ مصلوب ہوئے ہیں تو ان کے سولی پر چڑھنے اور قتل ہونے کی ذمہ داری یہودیوں پر عائد ہوتی ہے اور یہودی حضرت عیسٰیؑ کے قاتل ہیں۔ قرآن کریم نے ان دونوں باتوں کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے اور اصل پوزیشن واضح کی ہے۔ قرآن کریم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حضرت عیسٰیؑ بغیر باپ کے پیدا ہوئے لیکن اس کی وجہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار ہے کہ جس طرح اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام کو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کیا اسی طرح حضرت عیسٰیؑ کو باپ کے بغیر پیدا کر کے اپنی قدرت کا اظہار فرمایا۔ جبکہ حضرت مریمؑ اور حضرت عیسٰیؑ دونوں پاک دامن اور راست باز تھے۔

حضرت عیسٰی علیہ السلام کو مصلوب کرنے کے واقعہ کی قرآن کریم نے تردید کی ہے اور بتایا ہے کہ دشمن انہیں سولی تک نہیں لے جا سکا تھا اور اشتباہ کا شکار ہوگیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسٰیؑ کو سولی دیے جانے سے قبل زندہ حالت میں آسمان کی طرف اٹھا لیا تھا، ان پر ابھی تک موت وارد نہیں ہوئی۔ اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح ارشادات کے مطابق حضرت عیسٰیؑ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے، حضرت امام مہدیؒ کے دور میں دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی مینار پر اتریں گے، یہودیوں کا مقابلہ کریں گے، دجال کو قتل کریں گے، اسلامی خلافت کا احیا کریں گے، ان کی شادی ہوگی، بچے ہوں گے، مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہوگا اور آنحضرتؐ کے روضۂ اطہر میں دفن ہوں گے جہاں ان کے لیے ایک قبر کی جگہ خالی چلی آرہی ہے۔ البتہ اس بات کی قرآن کریم نے تائید کی ہے کہ حضرت عیسٰیؑ کو قتل کرنے کی یہودیوں نے کوشش کی اور ان کی دعوت قبول کرنے کی بجائے دشمنی اور عداوت کا راستہ اختیار کیا تھا اور ان کے قتل کے درپے ہوگئے تھے۔

مگر گزشتہ عیسوی صدی کے آغاز میں یہودیوں نے اسرائیلی ریاست کے قیام کے سلسلہ میں خلافت عثمانیہ سے مایوس ہو کر مسیحی ریاستوں کا رخ کیا اور مسیحی دنیا کو بتدریج لادینیت اور سیکولرازم کی راہ پر ڈال کر آلۂ کار بنانے میں کامیابی حاصل کر لی۔ پھر مغرب کی مسیحی ریاستوں کے تعاون سے خلافت عثمانیہ کا تیاپانچہ کرانے کے بعد فلسطین پر قبضہ کرنے اور اسرائیل کے نام سے یہودیوں کی ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ مسیحی دنیا کے سیاست کاروں اور سیکولر حلقوں کا یہ عمل تو کسی حد تک قابل فہم تھا لیکن یہ بات اس وقت مضحکہ خیز صورت اختیار کر گئی جب یہودیوں کی ہمنوائی اور ان کی حمایت و پشت پناہی میں مسیحی دنیا کے مذہبی حلقوں نے بھی اپنے دو ہزار سالہ موقف اور تاریخی مذہبی حقائق کو نظرانداز کرنا شروع کر دیا۔ اور اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اس وقت مغرب کے مسیحی کلیساؤں میں یہ بحث ازسرنو شروع ہوگئی ہے کہ حضرت عیسٰیؑ کو سولی پر کس نے لٹکایا تھا اور کیا ان کے مبینہ قتل میں یہودیوں کا ہاتھ نہیں ہے؟ اس بحث کا تذکرہ گوجرانوالہ سے شائع ہونے والے مسیحی جریدہ ماہنامہ کلام حق نے مئی ۲۰۰۴ء کے شمارہ میں کیا ہے اور تفصیلی بحث کے بعد لکھا ہے کہ:

’’اب دو ہزار سال کے بعد اگر مغربی کلیسائیں یہودیوں کو خداوند یسوع مسیح کی موت سے بری الذمہ قرار دیتی ہیں تو اس کی کوئی مذہبی اور تاریخی اہمیت نہیں۔ یہ تمام پراپیگنڈا یہودیوں کے ایما پر ان کو خوش کرنے کے لیے، سیاسی اور معاشی فائدہ اٹھانے کے لیے اور موجودہ سلطنت اسرائیل کی بقا کے لیے عام مسیحی کی برین واشنگ کرنے کے لیے ہے تاکہ وہ یہودیوں کو معصوم مطلق مان لیں۔ لیکن یاد رہے کہ یہودی قوم کی گردن پر اور ان کی اولاد کی گردن پر خداوند یسوع مسیح کا خون ہے جس کا خمیازہ وہ دو ہزار سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک بھگت رہے ہیں اور خداوند یسوع مسیح کی واپسی تک بھگتتے رہیں گے۔‘‘

حضرت عیسٰیؑ کی سولی کے بارے میں مسیحی دنیا کا اب تک یہ روایتی اور کم و بیش متفقہ عقیدہ چلا آرہا ہے کہ یہودیوں نے انہیں سولی پر لٹکانے کا اہتمام کیا تھا جس میں وہ کامیاب ہوگئے تھے، حضرت عیسٰیؑ مصلوب ہوئے تھے، اس کے بعد قبر میں دفن کیے گئے تھے، تین دن کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر قبر سے نکلے تھے اور پھر آسمانوں پر اٹھا لیے گئے تھے۔ حضرت عیسٰیؑ کا دوبارہ نزول مسیحی دنیا کے عقائد میں بھی شامل ہے جس کے مطابق وہ دنیا میں ایک بار پھر خدا کی بادشاہت (مسیحی ریاست) قائم کریں گے اور یہودیوں کو ختم کریں گے۔ چنانچہ بعض مسیحی فرقوں کے نزدیک چونکہ حضرت عیسٰیؑ کے دوبارہ نزول سے قبل یہودیوں کا ایک جگہ مجتمع ہونا اور اسرائیل کے نام سے ریاست قائم کرنا ضروری ہے اس لیے یہودیوں کے ساتھ مسیحی دنیا کا موجودہ تعاون اس شرط کو پورا کرنے کے لیے ہے تاکہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دوبارہ نزول کی شرائط جلد از جلد پوری ہوں اور وہ دنیا میں تشریف لا کر مسیحی بادشاہت کے قیام کا اعلان کر سکیں۔

لیکن اس سے قطع نظر یہودیوں کو حضرت عیسٰیؑ کے ساتھ دشمنی اور ان کے مبینہ قتل کے الزام سے بری قرار دینے کے لیے مسیحی دنیا کے مذہبی حلقوں کی کوششیں ناقابل فہم ہیں اور شاید اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ چونکہ مسیحی دنیا کے نزدیک ان کی مذہبی قیادت کو عقائد کی کسی بھی تعبیر اور احکام میں نسخ اور ردوبدل کا مکمل اختیار حاصل ہے اس لیے مغرب کی مسیحی کلیسائیں یہودیوں کو حضرت عیسٰیؑ کے مبینہ قتل کا ذمہ دار قرار دینے کے بارے میں نئی تعبیر کی راہ ہموار کرنے میں مصروف ہیں۔ مگر بات صرف عقائد کی نہیں تاریخی حقائق کی بھی ہے اور تاریخی حقائق میں نسخ نہیں ہوا کرتا، ان میں صرف تصدیق ہوتی ہے یا تکذیب ہوتی ہے۔ ماہنامہ کلام حق نے مذکورہ شمارے میں بائبل کے بیسیوں مقامات کا حوالہ دیا ہے جن میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ یہودیوں نے حضرت عیسٰیؑ کے قتل کی سازش کی اور مسیحیوں کے بقول وہ اس میں بالآخر کامیاب بھی ہوگئے۔ اب دو ہی صورتیں ہیں:

  • اگر بائبل کا یہ کہنا درست ہے کہ یہودیوں نے حضرت عیسٰیؑ کے قتل کا اہتمام کیا تو یہودیوں کو اس قتل سے بری الذمہ قرار دینے کی کوششوں کا کوئی جواز نہیں۔
  • اور اگر موجودہ مغربی کلیساؤں کے مطابق یہودی حضرت عیسٰیؑ کو مصلوب کرنے کی سازش میں شریک نہیں تھے تو یہ کہنا بائبل کی ان بیسیوں آیات کو رد کرنے کے مترادف ہے جن کا حوالہ ماہنامہ کلام حق گوجرانوالہ نے دیا ہے اور یہ بات نسخ اور ردوبدل نہیں بلکہ تکذیب کے زمرہ میں آتی ہے۔

بہرحال مسیحی دنیا کی مذہبی قیادت اس وقت عجیب مخمصے میں ہے اور اسے اسرائیل کی حمایت اور یہودیوں کے ساتھ دوستی و اتحاد کا جواز فراہم کرنے کے لیے کیا کیا پینترے بدلنا پڑ رہے ہیں اس کا اندازہ ماہنامہ کلام حق کی مذکورہ عبارت سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک بائبل کا تعلق ہے ہم ماہنامہ کلام حق کے پیش کردہ بیسیوں حوالوں میں سے صرف ایک کا تذکرہ قارئین کی دلچسپی کے لیے کرنا چاہتے ہیں جس میں ماہنامہ کلام حق کا کہنا ہے کہ:

’’متی باب ۲: ہیرودیس نے خداوند یسوع مسیح کو قتل کروانے کے لیے بیت اللحم میں بچوں کا قتل عام کروایا۔ گو ہیرودیس لادین تھا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ یہودی بھی تھا۔ جبکہ متی کی انجیل کا باب دوم میں اس اجمال کی تفصیل یوں مذکور ہے کہ:

’’جب یسوع ہیرودیس بادشاہ کے زمانے میں یہودیہ کے بیت لحم میں پیدا ہوا تو دیکھو کئی مجوسی پوپ سے یروشلم میں یہ کہتے ہوئے آئے کہ یہودیوں کا بادشاہ جو پیدا ہوا ہے وہ کہاں ہے؟ کیونکہ پورب میں اس کا ستارہ دیکھ کر ہم اسے سجدہ کرنے آئے ہیں۔ یہ سن کر ہیرودیس بادشاہ اور اس کے ساتھ یروشلم کے سب لوگ گھبرا گئے۔ انہوں نے اس سے کہا کہ یہودیہ کے بیت اللحم میں۔ کیونکہ نبی کی معرفت یوں لکھا گیا ہے کہ اے بیت اللحم یہوداہ کے علاقے! تو یہوداہ کے حاکموں میں ہرگز سب سے چھوٹا نہیں کیونکہ تجھ میں سے ایک سردار نکلے گا جو میری امت اسرائیل کی گلہ بانی کرے گا۔ اس پر ہیرودیس نے مجوسیوں کو چپکے سے بلا کر ان سے تحقیق کی کہ وہ ستارہ کس وقت دکھائی دیا تھا؟ اور یہ کہہ کر انہیں بیت اللحم کو بھیجا کہ جا کر اس بچے کی بابت ٹھیک ٹھیک دریافت کرو اور جب وہ ملے تو مجھے خبر دو تاکہ میں بھی آکر اسے سجدہ کروں۔ وہ بادشاہ کی بات سن کر روانہ ہوئے اور دیکھا جو ستارہ انہوں نے پورب میں دیکھا تھا وہ ان کے آگے آگے چلا یہاں تک کہ اس جگہ کے اوپر جا کر ٹھہر گیا جہاں وہ بچہ تھا۔ وہ ستارہ کو دیکھ کر نہایت خوش ہوئے۔ اور اس گھر میں پہنچ کر اس کی ماں مریم کے پاس دیکھا اور اس کے آگے گر کر سجدہ کیا اور اپنے ڈبے کھول کر سونا، لبان اور مر اس کو نذر کیا۔ اور ہیرودیس کے پاس پھر نہ جانے کی ہدایت خواب میں پا کر دوسری راہ سے اپنے ملک کو روانہ ہوئے۔ جب وہ روانہ ہوگئے تو دیکھو خداوند کے فرشتہ نے یوسف کو خواب میں دکھائی دے کر کہا اٹھ! بچے اور اس کی ماں کو ساتھ لے کر مصر کو بھاگ جا اور جب تک میں تجھ سے نہ کہوں وہیں رہنا کیونکہ ہیرودیس اس بچے کی تلاش میں ہے تاکہ اسے ہلاک کر دے۔ پس وہ اٹھا اور رات کے وقت بچے اور اس کی ماں کو ساتھ لے کر مصر کو روانہ ہوگیا اور ہیرودیس کے مرنے تک وہیں رہا تاکہ جو خداوند نے نبی کی معرفت کیا تھا وہ پورا ہو کہ مصر سے میں نے اپنے بیٹے کو بلایا۔ جب ہیرودیس نے دیکھا کہ مجوسیوں نے میرے ساتھ ہنسی کی تو نہایت غصے ہوا اور آدمی بھیج کر بیت اللحم اور اس کی سب سرحدوں کے اندر کے ان سب لڑکوں کو قتل کروا دیا جو دو دو برس کے یا اس سے چھوٹے تھے اس وقت کے حساب سے جو اس نے مجوسیوں سے تحقیق کی تھی۔‘‘

   
2016ء سے
Flag Counter