ٹرانس جینڈر ایکٹ ۲۰۱۸ء ـ۔ ملی مجلسِ شرعی پاکستان کا موقف

   
تاریخ اشاعت: 
۲۲ ستمبر ۲۰۲۲ء

ٹرانس جینڈر ایکٹ ۲۰۱۸ء کے متعلق ملی مجلسِ شرعی پاکستان کا موقف ملاحظہ ہو:

ٹرانس جینڈر پرسن کے حوالے سے ایک قانون پر کچھ دنوں سے دینی حلقوں میں بحث چل رہی ہے۔ یہ قانون ۲۰۱۸ء میں سینیٹ اور قومی اسمبلی سے پاس ہوا تھا جس کا عنوان تھا ”خواجہ سرا اور اس قسم کے دیگر افراد کے حقوق کا تحفظ“۔ خواجہ سرا ملک میں بہت کم تعداد میں موجود ہیں، کچھ اوریجنل ہیں ، کچھ تکلف کے ساتھ ہیں اور کچھ کو اب مزید تکلف کے ساتھ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اللہ رب العزت نے مرد اور عورت دو جنسیں پیدا کی ہیں، تیسری جنس اللہ تعالی نے نہیں بنائی۔ خواجہ سرا یا خنثیٰ وغیرہ کوئی الگ جنس نہیں ہے، بلکہ دراصل یہ معذور افراد ہیں۔ جیسے نابینا معذور ہے، کوئی الگ جنس نہیں ہے، پیدائشی بہرہ معذور ہے، کوئی الگ جنس نہیں ہے، اسی طرح پیدائشی گونگا الگ جنس نہیں ہے، بلکہ معذور ہے۔ بالکل اسی طرح خواجہ سرا بھی معذور افراد ہیں کہ وہ ایک صلاحیت سے محروم ہیں اور معذور کے درجے میں ہیں، یہ الگ جنس نہیں ہے کہ ان کو الگ جنس کے طور پر متعارف کروایا جائے ۔ان کے حقوق ہیں ، شریعت ان کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے، اور ان کے معاملات کا فیصلہ پوری توجہ سے کرتی ہے۔ مگر ہوا یہ کہ ۲۰۱۸ء میں مستقل عنوان دے کر ان کو ایک الگ جنس کے طور پر پیش کیا گیا اور ان کے حقوق کے تحفظ کے نام سے قانون سازی کی گئی۔ اس میں اصولی غلطی یہی تھی، کیونکہ خواجہ سرا کوئی الگ جنس نہیں ہے بلکہ یہ معذور افراد کا ٹائٹل ہے، جیسے گونگے، بہرے ، نابینا اور لنگڑے ہیں۔ ان کے حقوق کا تحفظ ان کا حق ہے۔

دوسری بات یہ ہوئی کہ اس عنوان سے جو قانون سازی کی گئی، اسی عنوان کے مغالطے کی وجہ سے اصل بات کی طرف لوگوں کی توجہ نہیں ہوئی۔ حالانکہ قومی اسمبلی میں جب یہ قانون پیش ہوا تو قائمہ کمیٹی میں دو خواتین ممبران جمعیۃ علماء اسلام کی نعیمہ کشور صاحبہ اور جماعت اسلامی کی عائشہ سید صاحبہ نے تفصیل کے ساتھ اس سے اختلاف کیا اور کہا کہ یہ قانون شریعت کے خلاف ہے، اس بارے میں علماء سے پوچھا جائے، اسلامی نظریاتی کونسل سے بات کی جائے۔ لیکن اسمبلی کے آخری سیشن، جس کے بعد اسمبلی تحلیل ہو گئی اور الیکشن کا ہنگامہ شروع ہوگیا ،اس میں اس بل کو پاس کر دیا گیا، اس لیے لوگوں کی توجہ نہیں ہوئی۔ مگر جب لوگوں نے اس کو پڑھا اور اس کی طرف توجہ ہوئی تو اعتراض ہوا کہ یہ تو شریعت کے خلاف ہے اور جب شریعت کے خلاف ہے تو ملک کے دستور کے بھی خلاف ہے۔

اس پر کچھ دنوں سے بات چل رہی ہے، کئی علماء نے اس پر لکھا ہے، لیکن ابتدائی موقع پر توجہ اس لیے نہیں ہوئی کہ ایک تو اسمبلی تحلیل ہو گئی تھی، اسمبلی میں اس کے بعد اس پر تفصیل سے بحث نہیں ہوئی۔ اور دوسرا یہ کہ اس کا ٹائٹل معذوروں کے حقوق کے تحفظ کا تھا۔ اس ٹائٹل کی ہمدردی کے نیچے سب کچھ چھپ گیا۔ اب ظاہر ہو رہا ہے تو اس پر احتجاج ہو رہا ہے۔ مختلف دینی حلقے اس پر احتجاج کر رہے ہیں کہ یہ قانون شریعت کے خلاف ہے۔

مثلاً اس میں ہر شخص کو یہ حق دیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص بالغ ہو، وہ نادرا میں درخواست دے جس میں ہر شخص اپنی جنس خود طے کرے گا کہ میں مرد ہوں یا عورت۔ اور وہ جو جنس طے کر دے گا، نادرا پابند ہے کہ اس کے مطابق اس کو شناختی کارڈ جاری کرے۔ مثلاً ایک شخص نادرا میں حلفیہ بیان دیتا ہے کہ میں عورت ہوں، تو نادرا تحقیق نہیں کرے گا، بلکہ اس کے حلفیہ بیان پر اس کو عورت کا شناختی کارڈ جاری کرے گا۔ یا اگر کوئی عورت حلف نامہ داخل کرتی ہے کہ میں مرد ہوں تو نادرا کے ذمے تحقیق نہیں ہے، بلکہ اس کے حلفیہ بیان دینے پر اس کو مرد کا شناختی کارڈ جاری کرے گا۔

بہت سے دیگر ملکوں میں بھی یہ قانون ہے، لیکن وہاں میڈیکل چیک اپ شرط ہے۔ اگر کوئی شخص دعوٰی کرتا ہے کہ میں عورت ہوں تو اس کا میڈیکل چیک اپ ہوتا ہے۔ یہ بات تو سمجھ آتی ہے، لیکن مذکورہ قانون کے مطابق صرف دعوٰی اور حلفیہ بیان دینے پر نادرا پابند ہے کہ اس کے مطابق اس کو شناختی کارڈ جاری کرے اور پھر تمام قوانین اس شناختی کارڈ کے مطابق اس پر جاری ہوں۔

اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نادرا میں خود کو عورت رجسٹر کروا لیتا ہے جو کہ مشکل نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے حلفیہ بیان ہی کافی ہے اور پھر وہ کسی مرد سے شادی کرتا ہے تو یہ شادی قانوناً درست شمار ہو گی۔ یہ مرد کی مرد سے شادی صرف ریکارڈ کے فرق کے ساتھ قانوناً درست ہوگی۔ اسی طرح اگر کوئی عورت خود کو نادرا میں مرد لکھوا لیتی ہے تو وہ مرد کی طرح وراثت کی برابر حقدار شرعاً تو نہیں ہے مگر قانوناً ہو گی۔ اس قانون کے بہت سے مفاسد سامنے آرہے ہیں، جوں جوں اس کا ایک ایک پرت کھل رہا ہے اس کی خرابیاں واضح ہو رہی ہیں۔

اس پر سترہ ستمبر کو لاہور میں تمام مذہبی مکاتب فکر کے مشترکہ فورم ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ کا اجلاس ہوا۔ ملی مجلس شرعی میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، جماعت اسلامی اور شیعہ سب شریک ہیں۔ جب اس طرح کے مسائل سامنے آتے ہیں تو اس فورم کے تحت ہم مل کر ایک اجتماعی رائے قائم کرتے ہیں، اس سے متعلقہ لوگوں کو آگاہ کرتے ہیں، اس پر کچھ لابنگ کرتے ہیں۔ ملی مجلس شرعی کے مشترکہ فورم کے صدر کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی گئی ہے، اللہ تعالی کچھ تھوڑی بہت خدمت کی توفیق دے دیتے ہیں الحمد للہ۔ جوہر ٹاؤن لاہور میں ہماری مشترکہ میٹنگ ہوئی جس میں متفقہ طور پر اس قانون کو مسترد کیا گیا اور اسے شریعت اور دستور کے خلاف قرار دیاـ۔

اس حوالے سے دو مطالبے چل رہے ہیں: اس وقت سینیٹ میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد صاحب نے ترمیمی بل پیش کر رکھا ہے کہ اس قانون میں چند ترامیم کر دی جائیں تو یہ کسی درجے میں قابل قبول ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ میں عورت ہوں تو اس کے دعوے پر اس کو شناختی کارڈ جاری نہ کیا جائے بلکہ میڈیکل چیک اپ کروایا جائے۔ سینیٹر مشتاق احمد نے اس طرح کی کچھ ترامیم پیش کر رکھی ہیں۔ جبکہ جمعیۃ علماء اسلام کے سینیٹر عطاء الرحمٰن جو مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی ہیں، انہوں نے قرارداد پیش کی ہے کہ اس قانون کو منسوخ کیا جائے اور اس کے متبادل قانون لایا جائے۔

مشترکہ اجلاس میں ان دونوں سینیٹر حضرات کے موقف کی تائید اور اس قانون کے غیر شرعی اور غیر دستوری ہونے کا اعلان کیا گیا ہے اور ملک بھر میں اس کے خلاف رائے عامہ کی بیداری کی مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہماری تمام مکاتب فکر کے علماء، وکلاء، ڈاکٹر صاحبان اور تمام طبقات سے تعاون کی درخواست ہےـ آج میں نے کچھ ڈاکٹر صاحبان سے رابطہ کیا ہے کہ میڈیکل فورم سے بھی بات آنی چاہیے کہ وہ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ یہ قانون کہ جو مرد بھی اپنے آپ کو عورت کہہ دے وہ عورت ہے، اور جو عورت اپنے آپ کو مرد کہہ دے وہ مرد ہے، یہ کیسا قانون ہے؟

مشترکہ اجلاس نے فیصلہ کیا ہے اس کے مطابق ملک میں رابطہ عوام مہم کا آغاز کیا جا رہا ہےـ۔ میری سب حضرات ، علماء، وکلاء، ڈاکٹر حضرات، تاجر برادری اور جو بھی قوم اور ملت سے تعلق رکھتا ہے، اور جس کا بھی قرآن و سنت اور شریعت کے احکام پر یقین ہے، ان سب سے درخواست ہے کہ وہ اس میں شریک ہوں اور تعاون کریں۔ اللہ تعالی ہم سب کو مل جل کر اپنے ملک کے قوانین کو مغرب کی تہذیب کے منحوس اثرات سے بچا لینے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter