انسدادِ سود قومی کنونشن

   
۱۵ مارچ ۲۰۱۷ء

۱۳ مارچ کو اسلام آباد کے ایک معروف ہوٹل میں جماعت اسلامی پاکستان نے سودی نظام کے خلاف جدوجہد کے حوالہ سے سیمینار کا اہتمام کیا جس میں مختلف دینی و سیاسی جماعتوں کے سرکردہ زعماء اور علماء کرام نے شرکت کی۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر جناب سراج الحق کی زیرصدارت منعقدہ اس سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں مولانا سمیع الحق، علامہ ساجد نقوی، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، جناب حامد میر، مولانا اشرف علی، جناب عبد اللہ گل، اعجاز احمد چودھری، مفتی محمد سعید خان، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، پروفیسر محمد ابراہیم خان اور جناب اسد اللہ بھٹو کے علاوہ جمعیۃ العلماء پاکستان نورانی گروپ، جماعت الدعوہ پاکستان، پاکستان عوامی تحریک، وفاق العلماء الشیعہ اور دیگر جماعتوں کے سرکردہ راہنما شامل ہیں، جبکہ راقم الحروف نے بھی کچھ معروضات پیش کیں۔ سیمینار میں متفقہ طور پر منظور کیا جانے والا اعلامیہ درج ذیل ہے۔

’’انسدادِ سود قومی کنونشن میں شریک تمام نامور علمائے کرام، وکلاء حضرات، ماہرین قانون، پارلیمنٹیرین، اہل قلم، کالم نگار اور صحافی حضرات سودی معیشت کے فی الفور خاتمہ اور اسلامی شریعت پر مبنی غیر سودی نظام بنکاری کے مکمل اجراء کے مطالبے کی بھرپور اور مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے اس غیر متزلزل عقیدے اور ایمان کا غیر مبہم اور واشگاف الفاظ میں اعلان کرتے ہیں کہ سود انفرادی ہو یا اجتماعی، ذاتی ہو یا کاروباری، مہاجن کا ہو یا بنکوں کا وہ قرآن و حدیث کے مطابق قطعی حرام ہے اور اس کے خلاف اللہ اور رسول ﷺ کی طرف سے اعلان جنگ اور سخت ترین وعید ہے۔ سود کے نتیجے میں انسانیت کو سرمائے کی برتری، محنت کی ناقدری، انسانی اقدار کی تباہی، مہنگائی، بے روزگاری، ناجائز منافع خوری، خود غرضی، مفاد پرستی، کرپشن، معاشرتی عدم استحکام، قرضوں اور ظالمانہ ٹیکسوں کی معیشت اور حیوانیت پر مبنی غیر انسانی رویوں کے سوا کچھ نہیں ملا۔

سودی معیشت کا خاتمہ آئین پاکستان کے آرٹیکل (F)۳۸ کے مطابق ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے لیکن حضرت قائد اعظمؒ کی واضح ہدایات، وفاقی شرعی عدالت کے دسمبر ۱۹۹۱ء اور سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بنچ کے ۲۳ دسمبر ۱۹۹۹ء کے غیر مبہم، جرأت مندانہ اور تاریخی فیصلوں کے باوجود حکومتوں نے سود کے خاتمہ سے دانستہ اور مجرمانہ پہلوتہی کی ہے جس کی وجہ سے اللہ کریم نے ہم پر بھوک اور خوف مسلط کر دیا ہے۔ دہشتگردی، بدترین بدعنوانی، قرضوں کی معیشت، ٹیکسوں کی بھرمار، بے برکتی، مہنگائی، بے روزگاری میں مسلسل اضافہ اللہ کی ناراضگی کی واضح علامات ہیں۔

یہ کنونشن وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ

  • سپریم کورٹ کے ۲۴ جون ۲۰۰۲ء کے فیصلے کو کالعدم اور وفاقی شرعی عدالت کے ۱۹۹۱ء اور سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بنچ کے ۲۳ دسمبر ۱۹۹۹ء کے تاریخی فیصلوں کو برقرار رکھنے کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کرے۔
  • سود ایکٹ مجریہ ۱۸۳۹ سمیت تمام مروجہ سودی قوانین کو کالعدم قرار دے کر فوری طور پر اسلامی معیشت پر مبنی متبادل قانون سازی کرے۔
  • بلاسود معیشت کے قیام میں رکاوٹ بننے والی تمام آئینی ترامیم کا فوری خاتمہ کیا جائے۔
  • حکومت سودی معیشت کے مکمل خاتمے کی واضح تاریخ کا اعلان کرے۔
  • اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا شریعہ بورڈ واضح اعلان کرے اور وفاقی شرعی عدالت میں تحریری موقف داخل کرے کہ بنکوں کا سود بھی ربا میں شامل اور مکمل حرام ہے۔
  • کمیشن فار اسلامائزیشن آف اکانومی کو مؤثر، فعال اور حقیقت پسندانہ بنایا جائے۔
  • تمام حکومتی قرضوں مثلاً وفاقی و صوبائی حکومتوں کے باہمی قرضوں، وفاقی حکومت کو اسٹیٹ بنک کی طرف سے دیے گئے قرضوں وغیرہ پر سود فوری ختم کیا جائے اور اسی طرح حکومت کی طرف سے نیم سرکاری اداروں، کارپوریشنوں کو دیے گئے قرضوں کو ایکویٹی میں تبدیل کیا جائے۔
  • سرکاری ملازمین کو مکان، سواری و دیگر مقاصد کے لیے دیے گئے قرضوں پر سود ختم کیا جائے۔
  • ہاؤس بلڈنگ اور زرعی ترقیاتی اسکیموں کے لیے دیے گئے قرضوں پر بھی سود ختم کیا جائے۔
  • بین الاقوامی سودی قرضوں کی ایڈجسٹمنٹ کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے فائدہ اٹھایا جائے اور Debt Equity Swap کے طریق کار کو اختیار کر کے ملک کے اندر حقیقی سرمایہ کاری کی جائے۔

یہ اجلاس ذرائع ابلاغ سے اپیل کرتا ہے کہ وہ غیر سودی معیشت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔ اجلاس عوام الناس سے بھی اپیل کرتا ہے کہ وہ سودی کھاتوں سے اپنی رقوم نکالیں اور بلاسود سرماریہ کاری کی طرف توجہ دیں۔ ‘‘

سیمینار میں دینی جماعتوں، مختلف طبقات اور علمی حلقوں کی نمائندگی اور اسلام آباد کے علماء کرام کی بھرپور حاضری سے اندازہ ہوا کہ اس مسئلہ کی اہمیت دن بدن واضح ہوتی جا رہی ہے اور اس ضرورت کا احساس ہر طبقہ میں بڑھ رہا ہے کہ ملک کے معاشی نظام کو سود سے پاک کرنے کے لیے منظم اور مربوط جدوجہد ناگزیر ہو گئی ہے اور خاص طور پر دینی جماعتوں کا مشترکہ فورم اور اتحاد اس کا اہم تقاضہ ہے۔

سیمینار کے بعد میڈیا سے تعلق رکھنے والے کچھ دوستوں کے ایک سوال پر میں نے عرض کیا کہ سودی نظام کے خاتمہ کے لیے جدوجہد کے حوالہ سے ’’تحریک انسداد سود پاکستان‘‘ کے نام سے ایک مشترکہ فورم پہلے سے موجود ہے اور کسی حد تک متحرک بھی ہے جس میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام شامل ہیں اور اس کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے کنوینر کے طور پر ذمہ داری راقم الحروف کے سپرد ہے۔ لیکن اس فورم اور اتحاد کو اس سے کہیں زیادہ وسعت دینے اور مربوط و متحرک بنانے کی ضرورت ہے جس کے لیے سرکردہ علماء کرام، وکلاء، تاجر راہنماؤں اور دینی قائدین کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ امید ہے کہ ماہ رواں کے دوران اس سلسلہ میں مزید عملی پیش رفت کی کوئی شکل سامنے آجائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

   
2016ء سے
Flag Counter