طالبان حکومت کی مشکلات اور عزم

   
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۲۰۰۰ء

گزشتہ ہفتہ کے دوران راقم الحروف کو حرکۃ الجہاد الاسلامی کے ایک وفد کے ہمراہ کابل جانے کا موقع ملا۔ مدیر نصرۃ العلوم حاجی محمد فیاض خان سواتی اور مدرسہ نصرۃ العلوم کے مدرس مولانا ظفر فیاض بھی وفد میں شامل تھے۔ راقم الحروف ۱۳ اور ۱۴ اگست دو روز کابل میں گزار کر واپس آ گیا جبکہ وفد کے دیگر ارکان غزنی اور قندھار بھی گئے اور براستہ کوئٹہ واپس آئے۔

ہم نے کابل میں دو روزہ قیام کے دوران طالبان حکومت کے جن ذمہ دار حضرات سے ملاقات کی ان میں سے امارتِ اسلامی افغانستان کے نائب صدر ملا محمد حسن، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مولانا نور محمد ثاقب، کابل یونیورسٹی کے چانسلر مولانا پیر محمد روحانی، اور ممتاز افغان کمانڈر مولانا ارسلان رحمانی بطور خاص قابلِ ذکر ہیں۔ اس سفر اور کابل وغیرہ میں میزبانی کے انتظامات حرکۃ الجہاد الاسلامی العالمی نے کیے جس پر ہم سفر کے منتظم قاری عبد القادر صاحب اور حرکۃ الجہاد الاسلامی کے دیگر ذمہ دار حضرات کے شکرگزار ہیں۔

افغانستان کے اس سفر میں وہاں کی صورتحال کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور اپنی آنکھوں سے یہ مشاہدہ کر کے خوشی ہوئی کہ مسائل و مشکلات میں مسلسل اضافہ کے باوجود طالبان کی اسلامی حکومت کے اہلکار پورے صبر و حوصلہ، ایثار و استقامت اور قناعت و کفایت شعاری کے ساتھ حکومتی نظام چلا رہے ہیں، جو بلاشبہ قابلِ رشک اور لائقِ تقلید ہے اور طالبان کے خلوص اور دینی تربیت کا ثمرہ ہے۔

اس سلسلہ میں مزید تفصیلات میں جائے بغیر صرف ایک مثال کا ذکر کر دینا کافی معلوم ہوتا ہے کہ طویل خشک سالی، بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں اور مسلسل حالتِ جنگ کے باوجود طالبان حکومت عام آدمی کے استعمال میں آنے والی اشیا پر ٹیکس لگانے سے گریز کر رہی ہے، جو خود مشقت اٹھا کر عوام کو سہولت پہنچانے کی بہترین مثال ہے۔ اور اسی وجہ سے کابل میں عام شہریوں کو چینی ۱۲ روپے (پاکستانی) فی کلو، آٹے کی ۸۰ کلو کی بوری ۷۰۰ روپے، بکرے کا گوشت ۴۰ روپے فی کلو، گھی کا ڈبہ (کنستر) ۵۰۰ روپے، اور پٹرول ۱۸ روپے فی لیٹر کے حساب سے فراہم ہو رہا ہے۔ اور جو گاڑی ہمارے ہاں پاکستان میں کئی گنا کسٹم ڈیوٹی ادا ہونے کے بعد تین سوا تین لاکھ میں ملتی ہے وہ افغانستان میں معمولی کسٹم ڈیوٹی کی وجہ سے ایک لاکھ روپے میں مل جاتی ہے۔

البتہ افغانستان میں سڑکوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے اور جنگ کی تباہ کاری کے بعد انہیں دوبارہ بنانے کی نوبت نہیں آئی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے اور ترقی یافتہ ممالک افغانستان کو جن شرائط پر امداد دینا چاہتے ہیں وہ طالبان کی اسلامی حکومت کے لیے قابلِ قبول نہیں ہیں۔ اور ان میں سب سے اہم شرط اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے مغربی فلسفہ کو قبول کر کے اسلامی احکام و قوانین کے عملی نفاذ سے دستبردار ہونا ہے۔ جس کے لیے طالبان حکومت تیار نہیں ہے اور پورے عزم و استقامت کے ساتھ مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کے موقف پر قائم ہے۔ اس سلسلہ میں افغان نائب صدر ملا محمد حسن نے ہمارے وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ ہم وہی اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں جو حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے دور میں نافذ تھا اور اس بارے میں ساری دنیا دوسری طرف ہو جائے ہم کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ طالبان کی اسلامی حکومت کو اس مبارک عزم پر قائم رکھیں اور انہیں مشکلات و مسائل کے بھنور سے نجات دلا کر استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter