سعودی حکمران خاندان اور اہلِ دین کی کشمکش

   
تاریخ اشاعت: 
۲۸ اپریل ۱۹۹۷ء

روزنامہ پاکستان اسلام آباد کے مدیر جناب حامد میر نے افغانستان میں سعودی عرب کے ممتاز تاجر اور جہادِ افغانستان کے حوالے سے عالمی شہرت یافتہ شخصیت اسامہ بن لادن سے مل کر ایک جرأتمندانہ قدم اٹھایا ہے، اس پر وہ بلاشبہ مبارکباد کے ساتھ ساتھ اہلِ دین کے شکریہ کے مستحق ہیں۔ کیونکہ اس سے انہیں ایک ایسے عنوان پر معلومات حاصل کرنے اور گفت و شنید کا موقع ملا ہے جس کے گرد ذہنی تحفظات کا ایک تہہ در تہہ حصار قائم ہو گیا تھا، اور بہت سے حضرات ان ذہنی تحفظات کی وجہ سے اس بارے میں کچھ کہنے اور لکھنے کی خواہش رکھنے کے باوجود حجاب محسوس کر رہے تھے۔

حرمین شریفین کی مسلسل خدمت اور اپنے بعض اسلامی اقدامات کی وجہ سے سعودی عرب کے حکمران خاندان کو عالمِ اسلام میں ہمیشہ احترام حاصل رہا ہے، اور اس احترام کے باعث ان کے بارے میں کوئی بات کہتے ہوئے احتیاط کے کئی پہلو ملحوظ رکھنا پڑتے ہیں۔ بالخصوص دو امور میں تو آج بھی سعودی عرب کے حکمرانوں کی تعریف کیے بغیر کوئی بات آگے نہیں بڑھتی:

  1. ان میں سے ایک حرمین شریفین کی توسیع اور حجاج کرام کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں مہیا کرنے کی پالیسی ہے،
  2. اور دوسرا معاشرتی جرائم میں شرعی حدود کے نفاذ کے باعث امن کا قیام و استحکام اور جرائم کی شرح کا بے حد کم ہونا ہے، جس کی مثال اسلامی قوانین کی برکات کے ثبوت میں اکثر دی جاتی ہے۔

لیکن ان دو معاملات سے ہٹ کر قومی زندگی اور اجتماعی معاملات کے دیگر پہلو ایک عرصہ سے توجہ طلب ہیں، اور ان امور میں سعودی عرب کے حکمران خاندان اور دینی حلقوں کے درمیان کشمکش دن بدن واضح ہوتی جا رہی ہے۔

مملکتِ عربیہ سعودیہ کا قیام موجودہ صدی کے تیسرے عشرہ میں اس وقت عمل میں آیا تھا جب یورپی ممالک کی مسلسل سازشوں کے نتیجے میں عالمِ اسلام کی نمائندگی کرنے والی ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ عرب نیشنلزم کے نعرہ کی آڑ میں عرب صوبوں کو خلافتِ عثمانیہ سے باغی کر کے مستقل ممالک کی شکل دے دی گئی تھی۔ اور خلافتِ عثمانیہ کی طرف سے حجازِ مقدس کے گورنر شریف ِ مکہ شاہ حسین کو ترکی کی خلافتِ عثمانیہ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے باوجود اپنی مستقل حکومت قائم کرنے کے لیے فضا سازگار نہیں ملی تھی۔ اور برطانوی استعمار نے ان کے خاندان میں بغاوت و تقسیم کا بیج بو کر ان کا پورے عرب کا بادشاہ بننے کا خواب پریشان کر دیا تھا۔ ان حالات میں نجد سے تعلق رکھنے والی دو قوتیں آگے بڑھیں اور ۱۹۲۶ء میں شریفِ مکہ شاہ حسین سے حجازِ مقدس کا کنٹرول حاصل کر کے مملکتِ عربیہ سعودیہ کے نام سے ایک نئی سلطنت کی داغ بیل ڈال دی۔ ان میں:

  1. ایک قوت سیاسی تھی جو آلِ سعود کے نام سے نجد کے ایک علاقہ پر ایک عرصہ سے حکمران چلی آ رہی تھی،
  2. اور دوسری قوت مذہبی تھی جو نجد کے عظیم مصلح الشیخ محمد بن عبد الوہابؒ کے خاندان اور پیروکاروں پر مشتمل تھی اور عرب قبائل اور عوام کی ایک بڑی تعداد ان سے منسلک تھی۔

الشیخ محمد بن عبد الوہابؒ کی تحریک شرک اور رسوم و بدعات کے خلاف اصلاحی تحریک تھی، مزاج میں تیزی اور شدت تھی اور بعض دینی معاملات میں جداگانہ رائے اور تفرد بھی رکھتے تھے۔ جس کی وجہ سے عالمِ اسلام بالخصوص برصغیر پاک و ہند کے مذہبی حلقوں میں انہیں وہ پذیرائی نہیں ملی جو انہیں نجد و حجاز کے علاقوں میں حاصل ہو گئی تھی۔ لیکن بہرحال وہ ایک اصلاحی تحریک تھی جس نے قوت حاصل کی اور پھر آلِ سعود کے ساتھ مل کر نئی قائم ہونے والی سلطنت میں ’’شریکِ حکومت‘‘ خاندان کا درجہ حاصل کر لیا۔

بتایا جاتا ہے کہ ’’آلِ سعود‘‘ اور الشیخ محمد بن عبد الوہابؒ کے خاندان کے درمیان، جسے ’’آلِ شیخ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، یہ خاموش معاہدہ طے پا گیا تھا کہ مملکتِ عربیہ سعودیہ کا دستور قرآن و سنت ہو گا، ریاست میں مکمل شرعی نظام نافذ کیا جائے گا، اور قضاء و شرعی نظام ’’آلِ شیخ‘‘ کی تحویل میں ہو گا جو اس حیثیت سے مملکت کے پورے نظام کو شرعی طور پر کنٹرول کرے گا۔

شاہ عبد العزیز بن سعودؓ کے دور میں اس معاہدہ پر پوری طرح عملدرآمد ہوتا رہا اور ملک کے اجتماعی نظام پر شرعی فیصلوں کی چھاپ اور آلِ شیخ کی بالادستی قائم رہی۔ لیکن ان کے بعد معاملات میں اس درجہ کی گرمجوشی باقی نہ رہی اور پالیسی امور پر آلِ شیخ کی بالادستی کا پہلو کمزور پڑتا چلا گیا۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے جس علمی و دینی شخصیت نے اختلافات کا دوٹوک اظہار کیا وہ الشیخ محمد ابراہیمؒ ہیں جو محکمہ شرعیہ کے سربراہ اور قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز رہے ہیں۔ الشیخ محمد بن ابراہیمؒ چار واسطوں سے الشیخ محمد بن عبد الوہابؒ کے پوتے ہیں۔ شاہ عبد العزیز بن سعودؒ کے برادر نسبتی ہیں اور شاہ فیصل شہیدؒ کے ماموں ہیں۔ اپنے وقت کے بڑے علماء میں شمار ہوتے تھے، ان کے فتاوٰی دیکھ کر ان کی علمی ثقاہت اور جرأت و عزیمت کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ ان کے ابتدائی دور میں انہیں تمام حکومتی نظام کے نگرانِ اعلٰی کی حیثیت حاصل تھی اور تمام معاملات شرعی توثیق کے لیے ان کے سامنے آتے تھے۔ لیکن رفتہ رفتہ حکومت نے کچھ شعبوں کو ان کی دسترس سے مستثنٰی کرنے کی کاروائی کی، مثلاً تجارتی تنازعات کے فیصلوں کے لیے شرعی محکمہ کی بجائے الگ تجارتی عدالت قائم کر دی گئی، جس پر الشیخ محمد بن ابراہیمؒ نے احتجاج کیا، اور اس سلسلہ میں ان کے خطوط ان کے مطبوعہ فتاوٰی میں موجود ہیں، مثلاً:

  • ۱۱ ربیع الثانی ۱۳۷۵ھ کو گورنر ریاض کے نام اپنے خطوط میں انہوں نے تجارتی تنازعات کو محکمہ شرعیہ سے الگ کرنے کی کاروائی کو شرعی اصولوں سے متصادم قرار دیا اور اس پر شدید احتجاج کیا۔ اس قسم کے متعدد خطوط حکومت کے مختلف ذمہ داروں کے نام سے انہوں نے تحریر کیے جو ان کے مطبوعہ فتاوٰی میں شائع ہو چکے ہیں۔
  • اس کے بعد حکومت نے سرکاری محکموں کے ملازمین سے متعلقہ تنازعات کو بھی محکمہ شرعیہ سے الگ کر کے ان کے لیے مستقل لیبر ٹربیونل قائم کر دیا، اور الشیخ محمد بن ابراہیمؒ نے متعلقہ حکام کے نام اپنے خطوط میں اس پر بھی احتجاج کیا۔

ان معاملات میں شیخ کا موقف یہ تھا کہ ملک کے اجتماعی نظام کا کوئی حصہ بھی محکمہ شرعیہ کے اختیار سے باہر نہیں ہے، اور شرعی عدالت کو ہر مسئلہ اور معاملہ کا شرعی نقطۂ نظر سے جائزہ لینے کا حق حاصل ہے۔ شیخ کی علمی وجاہت اور بزرگی کی وجہ سے ان کے سامنے انکار کی تو کسی میں ہمت نہیں تھی لیکن ان کے احتجاج در احتجاج کے باوجود حکومتی نظام میں تبدیلیوں کا پرنالہ بدستور آلِ سعود کی مرضی کے مطابق بہتا رہا۔ حتٰی کہ تجارت معاملات، ملازمتوں کے امور، اور بینکوں کے نظام سمیت ملک کے اجتماعی نظام کا بیشتر حصہ محکمہ شرعیہ کے دائرۂ اختیار سے مستثنٰی کر دیا گیا۔

الشیخ محمد بن ابراہیمؒ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انتہائی خوددار، غیور اور بے باک عالمِ دین تھے، انہیں ایک موقع پر شاہ فیصل شہیدؒ نے وزیر عدل بنانا چاہا تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ مجھے وزارت کی ضرورت نہیں، جو باتیں میں کہتا ہوں ان پر عمل کرو۔ ان کی حق گوئی کی کیفیت یہ تھی کہ شاہ فیصل شہیدؒ کے دور میں ٹیلیویژن کو سرکاری طور پر ملک میں رائج کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی تو انہوں نے شدت سے مخالفت کی کہ اس سے لوگوں کے اخلاق خراب ہوں گے۔ شاہ فیصل شہیدؒ نے کہا کہ عام لوگوں کا تقاضا ہے اور ہمیں لوگوں کے جذبات کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ تو اس پر شیخ نے کہا کہ ہمیں صرف قرآن و سنت کے احکام کا لحاظ رکھنا چاہیے، لوگ اگر کل یہ کہیں کہ ہمیں ملک فیصل کی بجائے کوئی اور حکمران چاہیے تو کیا لوگوں کی یہ بات بھی قبول کر لو گے؟

الغرض الشیخ محمد بن ابراہیمؒ نے ملکی نظام کو مکمل طور پر شرعی احکام کے تابع رکھنے کے لیے پورا زور صرف کیا اور اپنی زندگی میں محکمہ شرعیہ میں ہر سطح پر قاضیوں کے تقرر و برخواستگی پر بھی اپنا کنٹرول رکھا لیکن یہ سب کچھ ان کی زندگی تک تھا۔ جب ۱۳۸۹ء میں ان کی وفات ہوئی تو محکمہ شرعیہ کے سربراہ کا یہ منصب ہی سرے سے ختم کر دیا گیا۔ چنانچہ ان کی جگہ اب الشیخ عبد العزیز بن باز جو اُنہی کے شاگرد ہیں، سعودی عرب میں سرکاری سطح پر سب سے بڑے عالم شمار ہوتے ہیں، لیکن ان کی حیثیت مفتی کی ہے اور بحیثیت قاضی انہیں کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

اس تفصیل کے ذکر کرنے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ سعودی عرب میں حکمران خاندان اور علماء کے درمیان آج جو کشمکش نظر آ رہی ہے وہ نئی نہیں بلکہ اس کی تاریخ نصف صدی پر محیط ہے۔ اور اس کا بنیادی نکتہ علماء کا یہ موقف ہے کہ شرعی عدالت اور محکمہ شرعیہ کا کام صرف جرائم کی شرعی سزائیں دینا نہیں ہے بلکہ اجتماعی نظام کے دیگر شعبوں مثلاً نظم و نسق، تجارت، معیشت اور دوسرے محکموں کو بھی شرعی اصولوں کے مطابق چلانا ضروری ہے اور ان کے فیصلے بھی قرآن و سنت کی روشنی میں ہونے چاہئیں۔

اس پس منظر میں سعودی عرب کے حکمران خاندان کے ساتھ وہاں کے سرکردہ علماء کرام کی موجودہ کشمکش کا جائزہ لیا جائے تو مسئلہ کی نوعیت کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ اس کشمکش کا آغاز اس وقت ہوا جب جولائی ۱۹۹۲ء میں سعودی عرب کے ایک سو سے زائد علماء اور علمی شخصیات نے اپنے دستخطوں کے ساتھ ’’مذکرۃ النصیحۃ‘‘ (خیر خواہی کی یادداشت) کے نام سے ایک مفصل عرضداشت سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فہد بن عبد العزیز کی خدمت میں پیش کی جو کتابی سائز کے ایک سو بیس صفحات پر مشتمل ہے۔

اس یادداشت میں ملک کے مجموعی نظام کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیتے ہوئے شرعی نقطۂ نظر سے مختلف شعبوں میں غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور اصلاحات تجویز کی گئی ہیں۔ ان اصلاحات کا خلاصہ یہ ہے کہ:

  • ملک کے اجتماعی نظام پر قرآن و سنت کی مکمل بالادستی قائم کی جائے،
  • لوگوں کے شرعی حقوق اور رائے کی آزادی بحال کی جائے،
  • سودی نظام ختم کیا جائے،
  • سرکاری دولت کو عیاشیوں اور فضول خرچیوں میں ضائع کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے،
  • امریکہ اور دیگر اسلام دشمن مغربی طاقتوں کے ساتھ تعلقات و معاہدات پر نظرثانی کی جائے ،
  • اور عالمِ اسلام کی حقیقی وحدت کے لیے جدوجہد کی جائے۔

اس یادداشت کو سعودی عرب کے چار اکابر علماء الشیخ سفر الحوالی، الشیخ سلیمان العودہ، الشیخ عبد اللہ الجبرین، اور الشیخ عبد اللہ الجلالی کی تائید بھی حاصل ہے، جن کے خطوط اس یادداشت کے ساتھ منسلک ہیں۔ اور ان میں اول الذکر دو بزرگ یادداشت پیش ہونے کے بعد سے اب تک زیر حراست ہیں۔ یادداشت پیش ہونے کے بعد سینکڑوں علماء کرام گرفتار کر لیے گئے، جن میں بہت سے اب بھی جیلوں میں ہیں۔ یادداشت پر دستخط کرنے والے دو اہم راہنما ڈاکٹر محمد بن عبد اللہ المسعری اور ڈاکٹر سعد الفقیہ لندن میں جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اور خلیج میں امریکی افواج کی موجودگی کے خلاف پرجوش تقریریں کرنے والے مجاہد عالم الشیخ عائض القرنی جلاوطنی اور گرفتاریوں کے مراحل سے مسلسل گزرتے رہتے ہیں۔

لندن میں ’’لجنۃ الدفاع من الحقوق الشرعیۃ‘‘ کے نام سے سعودی علماء کا ایک گروپ ڈاکٹر محمد المسعری کی قیادت میں اپنے مطالبات کے لیے جدوجہد میں مصروف ہے اور ان علماء کو اپنی اس جدوجہد میں الشیخ اسامہ بن لادن کی حمایت حاصل ہے۔ اسامہ بن لادن کا موقف بھی اس کا علاوہ کچھ نہیں ہے کہ سعودی عرب میں مکمل شرعی نظام نافذ کیا جائے، سود کا نظام ختم کیا جائے، اور امریکی تسلط سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔

ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ انسانی حقوق، آزادئ رائے اور قانون کی حکمرانی کے دعویدار مغربی ذرائع ابلاغ اور لابیاں سعودی عرب کے دینی حلقوں کی اس جدوجہد کے بارے میں مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اور ان کی حمایت کے لیے صرف اس وجہ سے آگے نہیں بڑھ رہیں کہ یہ جدوجہد اسلام کے حوالے سے ہے اور سعودی علماء لوگوں کے حقوق کی بحالی کا شریعتِ اسلامیہ کے حوالے سے مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان حالات میں عالمِ اسلام اور خاص طور پر پاکستان کے دینی حلقوں اور علماء کی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مصلحتوں اور تحفظات کے حصار سے باہر نکلیں اور سعودی عرب کے علماء کرام اور اہلِ دین کی اس جائز دینی اور شرعی جدوجہد کی حمایت کریں تاکہ سعودی عرب جو حرمین شریفین کی وجہ سے پورے عالمِ اسلام کی عقیدتوں کا مرکز ہے، صحیح معنوں میں ایک مثالی اسلامی ریاست کی حیثیت سے دنیائے اسلام کی قیادت کر سکے۔

   
2016ء سے
Flag Counter