بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی لاہور آمد

   
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۱۹۹۹ء

گزشتہ دنوں بھارت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی بس کے ذریعے لاہور آئے اور وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے ساتھ ان کے مذاکرات کے بعد دونوں لیڈروں کی طرف سے ’’اعلانِ لاہور‘‘ جاری کیا گیا ہے، جس میں باہمی تنازعات کو شملہ معاہدے کی بنیاد پر آپس کی گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے تجارت اور دیگر شعبوں میں تعلقات کو بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے ’’اعلانِ لاہور‘‘ کے بارے میں ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ بھی اس ’’قراردادِ لاہور‘‘ کی طرح مؤثر ہو گا جس میں پاکستان بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا اور متحدہ ہندوستان کی تقسیم اور مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

بین الاقوامی پریس کے مطابق بھارتی وزیراعظم کا یہ دورہ اور لاہور میں ان کی پذیرائی دونوں امریکی دباؤ کا نتیجہ ہیں، جو جنوبی ایشیا میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان اور بھارت کو متحد دیکھنا چاہتا ہے اور اس کی خاطر دونوں ملکوں پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ جبکہ ملک کے مختلف حلقے اور ان کے ساتھ کشمیری جماعتوں نے اس سلسلہ میں خدشات کا اظہار کیا ہے کہ اس سارے کھیل میں کشمیر کے مسئلہ کو گول کیا جا رہا ہے ، یا زیادہ سے زیادہ امریکی فارمولے کے مطابق کشمیر کے حصے بخرے کر کے اس قضیے کو مستقل طور پر ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ اور بعض راہنما یہ خدشہ بھی پیش کر رہے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کو ایک بار پھر متحد کر کے اس خطہ پر بھارت کی بالادستی قائم کی جا رہی ہے۔

یہ خدشات کہاں تک درست ثابت ہوتے ہیں ان کے بارے میں آنے والا وقت ہی بتائے گا، البتہ اس موقع پر حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے ان ریمارکس کا حوالہ دینا شاید نامناسب نہ ہو جو انہوں نے ۱۹۷۰ء کے عام انتخابات کے بعد ڈھاکہ میں شیخ مجیب الرحمٰن مرحوم سے مذاکرات کے دوران دیے تھے کہ

’’شیخ صاحب! آپ مسلم لیگی ہیں اور ہم کانگریسی۔ کل آپ ہندوستان کو تقسیم کر کے پاکستان بنا رہے تھے تو ہم نے منع کیا تھا کہ ایسا نہ کرو، اس سے مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا۔ اور آج آپ پاکستان کو توڑ رہے ہیں تو ہم اس کی بھی مخالفت کر رہے ہیں کہ پاکستان کو تقسیم نہ کرو، اس سے مسلمانوں کو نقصان ہو گا۔‘‘

میاں محمد نواز شریف مسلم لیگ کے سربراہ ہیں، ان کے جذباتی حواری انہیں بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کا جانشین کہتے ہیں، اور مسلم لیگ کا دعوٰی ہے کہ پاکستان اس نے بنایا تھا، اس لیے ہم میاں صاحب محترم سے قرآن کریم کی زبان میں یہی عرض کرنا چاہتے ہیں کہ

’’اور اس عورت کی طرح مت ہو جاؤ جس نے اپنے ہی کاتے ہوئے دھاگے کو مضبوطی کے بعد پھر سے تار تار کر دیا۔‘‘ (سورۃ النمل ۹۲)

   
2016ء سے
Flag Counter