کیا امام اعظم ابوحنیفہؒ کا تعلق مرجئہ سے تھا؟

   
تاریخ اشاعت: 
اگست ۱۹۹۰ء

سوال: مرجئہ کون تھے؟ ان کے خاص خاص عقیدے کیا تھے؟ کیا یہ فرقہ اب بھی موجود ہے؟ امام ابوحنیفہ ؒ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھی مرجئہ فرقہ میں سے تھے، اس کی کیا حقیقت ہے؟ (چراغ الدین فاروق، کوٹ رنجیت سنگھ، شیخوپورہ)

جواب: عہدِ صحابہؓ کے اختتام پر رونما ہونے والے فرقوں میں سے ایک ’’مرجئہ‘‘ بھی تھا جس کے مختلف گروہوں کا ذکر امام محمد بن عبد الکریم الشہرستانی ؒ (المتوفی ۵۴۸ھ) نے اپنی معروف تصنیف ’’الملل والنحل‘‘ میں کیا ہے، اور مرجئہ کی وجہ تسمیہ ایک یہ بیان کی ہے کہ یہ لوگ ایمان کے ساتھ عمل کو ضروری نہیں سمجھتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ کبیرہ گناہ کے مرتکب کے بارے میں دنیا میں جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا اور فیصلہ آخرت تک مؤخر اور موقوف ہے۔ اس لیے انہیں مرجئہ کہا جاتا تھا جس کا معنی ہے ’’مؤخر کرنے والا گروہ‘‘۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ ایک شخص جب توحید و رسالت پر ایمان لے آئے تو اس کو کوئی گناہ ضرر نہیں دیتا اور اس کی نجات یقینی ہے۔

دراصل اسی دور میں خوارج اور بعض دیگر گروہوں نے جب اس عقیدہ کا اظہار کیا کہ کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے مسلمان کافر ہو جاتا ہے، تو اس کے ردعمل میں مرجئہ دوسری انتہا پر چلے گئے کہ صرف ایمان کافی ہے، عمل کی سرے سے ضرورت نہیں ہے۔ یا ایمان کی موجودگی میں کسی بھی قسم کا عمل کوئی نقصان نہیں دیتا۔

جبکہ اہلِ سنت کا مذہب اعتدال و توازن کا ہے کہ ایمان کے ساتھ نجاتِ کامل کے لیے عملِ صالح شرط ہے، لیکن کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے کفر لازم نہیں آتا۔ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ چونکہ اہلِ سنت کے امام اور ترجمان تھے اور انہوں نے کبیرہ گناہ کے مرتکب پر کفر کا فتوٰی لگانے سے انکار کر دیا، تو اس طرف کے لوگوں نے الزاماً انہیں ’’مرجئہ‘‘ قرار دے دیا، حالانکہ امام صاحبؒ کا مرجئہ کے ساتھ دور کا تعلق بھی نہیں تھا۔ امام شہرستانی ؒ نے ’’الملل والنحل‘‘ میں امام اعظمؒ کی طرف مرجئہ ہونے کی نسبت کا خوب تجزیہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ صرف قدریہ اور معتزلہ کا حضرت امام صاحبؒ پر الزام ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter