الحاج سید امین گیلانی ؒ

   
۷ اگست ۲۰۰۵ء

آج صبح اخبار پر نظر دوڑائی تو اس غمناک خبر نے نگاہوں کو گھیر لیا کہ الحاج سید امین گیلانی گزشتہ روز انتقال کر گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ دو روز قبل سوچا تھا کہ سید سلمان گیلانی سے کہوں کہ کسی روز باپ بیٹا دونوں گوجرانوالہ کا پروگرام بنائیں، ہم ان کے ساتھ ایک شام منانے کی تقریب رکھ لیتے ہیں، اس طرح ایک اچھی سی ادبی محفل ہو جائے گی اور گوجرانوالہ کے احباب کی الحاج سید امین گیلانی سے ملاقات بھی ہو جائے گی۔ مگر میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ شاہ جی اپنا وقت مکمل کر کے خالق حقیقی کے حضور پیش ہوگئے۔

سید امین گیلانی کو آج کی نسل نہیں جانتی اور نہ آج کے لوگوں نے وہ دور دیکھا ہے جس دور اور ماحول میں سید امین گیلانیؒ ، سائیں حیات پسروریؒ ، جانباز مرزاؒ اور عبد الرحیم عاجزؒ جیسے حدی خوانوں نے آزادی کے ترانے گائے تھے اور قافلۂ حریت کے جذبات کو گرمائے رکھنے کا فریضہ سنبھال رکھا تھا۔ عبد الرحیم عاجز مرحوم کو تو میں نے بھی نہیں دیکھا البتہ ان کی تگ و تاز کے تذکرے سنے ہیں۔ مگر سائیں حیات پسروری، جانباز مرزا اور الحاج سید امین گیلانی کو خوب دیکھا ہے ، سنا ہے، اور ایک عرصہ تک ان سے رفاقت رہی ہے۔ یہ تینوں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے قافلہ کے افراد تھے، مجلس احرار اسلام کے جاں نثار کارکن تھے، اور آزادی کی جنگ لڑنے والے قافلہ کے حدی خواں تھے۔ انہوں نے اس دور میں برطانوی استعمار کے خلاف عوام کے جذبات کو گرما دیا تھا جب جنوبی ایشیا پر برطانوی تسلط کے خلاف بات کرنا اسی طرح پاگل پن سمجھا جاتا تھا جس طرح آج امریکی استعمار کی بالادستی کو چیلنج کرنے والے حریت پسندوں کو جنونی اور بے وقوف سمجھا جا رہا ہے۔ مگر انہوں نے لوگوں کے طعنوں، دانشوروں کی نصیحتوں، اور ریاستی جبر کے باوجود آزادی کے ترانے گائے، جیل کی کال کوٹھڑیوں کو آباد کیا، فقر و فاقہ کی زندگی بسر کی، عیش و آرام کو اپنے مشن پر قربان کیا، اور حریت پسندی کے جذبات کو اپنے جگر کا خون جلا کر گرمی پہنچاتے رہے۔

مجھے آج ان بھولے بھالے دانشوروں اور قلمکاروں پر ہنسی آتی ہے جو بڑی آسانی کے ساتھ یہ لکھ اور کہہ دیتے ہیں کہ برصغیر کی آزادی اور قیام پاکستان کے لیے ایک قرارداد منظور ہوئی اور اس پر چھ سات سال کی بیان بازی، خط و کتابت، عوامی اجتماعات اور مظاہروں کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آگیا۔ انہیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہے کہ اس بیان بازی، خط و کتابت، جلسوں اور مظاہروں کے پیچھے ان جانبازوں اور سر فروشوں کے مقدس خون اور قربانیوں کی کتنی قوت کارفرما تھی جنہوں نے آزادی کی خاطر اپنے جسموں کو چھلنی کروا لیا، پھانسی کے پھندوں کو چوما، جیلوں کی کال کوٹھڑیوں کو آباد کیا، پولیس کے ڈنڈے کھائے اور اپنی ہڈیاں تڑوا کر جدوجہد آزادی کے تسلسل کو قائم رکھا۔

الحاج سید امین گیلانی بھی حدی خوانوں کے اس قافلہ کے فرد تھے جس کا کام عوامی جلسوں میں برطانوی استعمار کو للکارنا، لوگوں کو آزادی کی جدوجہد کے لیے تیار کرنا، اپنے منظوم کلام اور انقلابی لہجے کے ذریعے عوام کے جذبات کو ابھارنا، اور استعمار کی غلامی کے خلاف بغاوت کا ماحول پیدا کرنا تھا۔ میں نے ان کی نوجوانی کا وہ دور تو نہیں دیکھا لیکن جو دور میں نے دیکھا ہے اسے دیکھ کر بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ جس کے جذبات کا بڑھاپے میں یہ عالم تھا جوانی میں وہ کیا طوفان ہوگا؟

الحاج سید امین گیلانیؒ کو میں نے سب سے پہلے اس دور میں دیکھا جب فیلڈ مارشل صدر ایوب خان مرحوم کے دور صدارت کا عروج تھا۔ صدر ایوب خان کا ایجنڈا بھی یہی تھا کہ پاکستان کے نام سے اسلام کا لفظ مٹ جائے اور اس وطن عزیز کی بین الاقوامی شناخت اسلام کے حوالے سے نہ ہو۔ چنانچہ ۱۹۶۲ء میں انہوں نے ملک کو نیا دستور دیا تو اس میں ملک کا نام ’’عوامی جمہوریہ پاکستان‘‘ تھا اور اسلام کا نام غائب تھا۔ اس پر زبردست عوامی احتجاج ہوا اور ہمارے ایک شاعر کا یہ شعر ملک بھر کے جلسوں میں گونجا تھا :

ملک سے نام اسلام کا غائب، مرکز ہے اسلام آباد
پاک حکمران زندہ باد، پاک حکمران زندہ باد

عائلی قوانین اور تحفظ ختم نبوت ملک کے دینی اجتماعات کے اہم عنوانات ہوتے تھے۔ قادیانیوں کو کسی بیان یا خطاب میں کافر کہنے پر مقدمہ درج ہو جایا کرتا تھا اور گرفتاری ہوتی تھی۔ آغا شورش کاشمیری کے ہفت روزہ چٹان کا ڈیکلیریشن اور چٹان پریس قادیانیوں کے بارے میں ایک شذرہ لکھنے پر ضبط ہوگئے تھے۔ اس فضا میں الحاج سید امین گیلانی، جانباز مرزا، اور سائیں حیات پسروری جن جذبات کے ساتھ عوامی جلسوں میں عقیدہ ختم نبوت کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعلان کرتے اور قادیانیوں کے کفر کو بے نقاب کرتے، اسے دیکھ کر بوڑھوں کے جذبات میں بھی حرارت لوٹ آیا کرتی تھی۔ الحاج سید امین گیلانی کو میں نے پہلی بار شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ کے جلسہ عام میں سنا۔ یہ میرا طالب علمی کا دور تھا اور کسی باغی شاعر کو پورے جوبن میں سننے کا پہلا تجربہ تھا۔ وہ منظر آج تک نگاہوں کے سامنے ہے اور اس باغیانہ کلام کو سن کر دل میں جو جذبات ابھرے تھے ان کی حرارت آج تک کام آرہی ہے۔

ایوبی آمریت کے خلاف ملک میں تحریک اٹھی اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے بھی اس میں متحرک کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ جمعۃ الوداع کے موقع پر حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ نے جمعہ کی نماز شیرانوالہ گیٹ لاہور سے باہر باغ میں پڑھائی اور جمعہ کے اجتماع کے بعد اجتماعی جلوس کا اعلان کیا۔ پولیس نے جلوس کو روکنے کے لیے شدید لاٹھی چارج کیا اور بہت سے لوگوں کو گرفتار کر لیا۔ اس وحشیانہ لاٹھی چارج میں مولانا عبید اللہ انورؒ شدید زخمی ہوئے اور اسی میں ان کی ریڑھ کی ہڈی مضروب ہوئی جس کے باعث انہیں باقی زندگی مستقل علالت اور خانہ نشینی میں بسر کرنی پڑی۔ جمعیۃ علماء اسلام نے اگلے جمعہ کو اسی جگہ جمعہ پڑھنے اور جمعہ کے بعد احتجاجی جلوس نکالنے کا اعلان کر دیا۔ یہ عجیب منظر تھا کہ حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ ، مولانا عبد اللہ درخواستیؒ ، مولانا مفتی محمودؒ ، اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ سمیت جمعیۃ کے بیشتر اکابر موجود تھے۔ وہ منظر اہل لاہور کو ضرور یاد ہوگا مگر اس میں الحاج سید امین گیلانی نے جو قیامت بپا کی، اس کی یاد میں زندگی بھر نہیں بھلا سکوں گا۔ انہوں نے اپنی جس نظم سے لوگوں کے جذبات کو آگ لگائی اس کا ایک بند یہ ہے:

نورِ دیدہ وہ احمد علی کا
خود ولی اور بیٹا ولی کا
ماریں ظالم اسے تازیانہ
اٹھ بھی اٹھ قوم کے نوجوانا
بیٹھنے کا نہیں ہے زمانہ

۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کا دور تھا اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی عوامی تحریک زوروں پر تھی۔ پارلیمنٹ کے اندر حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، اور دیگر اکابر علماء کرام تحریک ختم نبوت کی ترجمانی کر رہے تھے۔ کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے حکومت کو سات ستمبر کا الٹی میٹم دے رکھا تھا۔ مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں ملک بھر میں عوامی اجتماعات کا سلسلہ جاری تھا اور مجلس عمل کے اس الٹی میٹم کو الحاج سید امین گیلانی نے ترانے کی جو زبان دے دی تھی وہ ہر کارکن کی زبان پر تھی جس کا ایک شعر یہ تھا:

بیت گیا جو یونہی سات ستمبر بھی
پیش کریں گے ہم سینے بھی، خنجر بھی

۱۹۷۷ء میں پاکستان قومی اتحاد کی تحریک انتخابات میں بھٹو حکومت کی دھاندلیوں کے خلاف تھی جس نے پاکستان قومی اتحاد کے انتخابی منشور اور عوامی جذبات کے حوالے سے ’’تحریک نظام مصطفیؐ‘‘ کا عنوان اختیار کر لیا تھا۔ اور ملک بھر میں عوام نے جس ولولہ اور جوش و خروش کے ساتھ اس تحریک میں قربانیاں دیں، وہ اسلام کے ساتھ اس ملک کے عوام کی عقیدت اور جذبات کا اظہار تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اس تحریک کا سب سے بڑا ہدف تھے اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ اس کے جواب میں انہوں نے ایک جملہ کہا تھا کہ ’’میں تو کمزور ہوں مگر میری کرسی بہت مضبوط ہے۔‘‘

مگر چند دنوں کے بعد انہیں اس کرسی سے رات کے اندھیرے میں محروم ہونا پڑا تو اس پر الحاج سید امین گیلانی نے یہ کہہ کر بہت خوبصورت تبصرہ کیا کہ:

کٹی جو پتنگ، کچی ڈور نکلی
کرسی بہت کمزور نکلی

کرسی کا یہ مرثیہ انہوں نے جس انداز میں پیش کیا، اس کی یاد بہت دیر تک لوگوں کے ذہنوں میں تازہ رہی اور یہ مصرعہ نوجوانوں کی زبانوں پر کافی عرصہ تک چلتا رہا۔

الحاج سید امین گیلانی نے اخباری رپورٹ کے مطابق ۸۳ سال کی عمر پائی مگر بڑھاپے میں بھی ان کے جذبات جوان تھے۔ کچھ عرصہ قبل پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا قاری جمیل الرحمن اختر نے باغبانپورہ لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر شاہ جی کے ساتھ ایک شام منائی۔ بہت سے علماء کرام اور دینی کارکن جمع تھے، میں بھی موجود تھا۔ الحاج سید امین گیلانی اور ان کے فرزند و جانشین سید سلمان گیلانی نے کلام سنایا اور حاضرین کے دلوں کو گرما دیا۔ شاہ جی مرحوم نے جس انداز سے کلام پیش کیا اس سے قطعی اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ ان کی عمر کی سوئی ۸۰ کے ہندسے کو چھو رہی ہے۔

الحاج سید امین گیلانی آج ہم سے رخصت ہوگئے ہیں مگر ان کے فرزند و جانشین سید سلمان گیلانی ان کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے ہمارے درمیان موجود ہیں اور اپنے عظیم باپ کی ہو بہو تصویر ہیں۔ میں گیلانی خاندان اور شاہ جی کے عقیدت مندوں کے ساتھ اس غم میں شریک ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت الحاج سید امین گیلانی کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور سید سلمان گیلانی اور ان کے خاندان کو اپنے عظیم باپ کی روایات زندہ رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter