سنی شیعہ تنازعہ کے بارے میں کمیٹی

   
تاریخ : 
جون ۱۹۹۹ء

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ دنوں سنی شیعہ کشمکش اور تصادم کے اسباب و عوامل کا جائزہ لینے کے لیے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی تھی جس میں تحریک جعفریہ اور سپاہ صحابہؓ کے سربراہوں سمیت تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام شامل ہیں۔ اس کمیٹی نے محرم سے قبل اپنے کام کا آغاز کیا اور ایک اجلاس میں یہ دو تجویزیں طے کیں کہ

  1. صحابہ کرامؓ اور اہل بیت عظامؓ کی شان میں گستاخی کے جرم میں تین سال قید کی مروجہ سزا کو بڑھا کر چودہ سال کر دیا جائے،
  2. اور کسی فرقہ کو کافر قرار دینے کو وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے ساتھ مشروط کر دیا جائے۔

ان تجاویز پر بات آگے بڑھ رہی تھی کہ کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر اسرار احمد کے بارے میں کچھ راہنماؤں کے مخالفانہ بیانات کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب نے کمیٹی کی سربراہی اور رکنیت سے استعفٰی دے دیا اور کچھ عرصہ کے لیے خاموشی چھا گئی۔ اب بعض اخباری اطلاعات سے معلوم ہوا کہ یہ کمیٹی دوبارہ متحرک ہو گئی ہے اور وزیراعظم نے جامعہ اشرفیہ لاہور کے نائب مہتمم مولانا عبد الرحمٰن اشرفی کو کمیٹی کا نیا سربراہ مقرر کیا ہے جنہوں نے اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے۔

جہاں تک کمیٹی کے کام کا تعلق ہے ہم ایک عرصہ سے حکومت سے گزارش کرتے آ رہے ہیں کہ سنی شیعہ کشمکش میں اضافہ اور مسلح تصادم کے اسباب و عوامل کا اعلیٰ سطح پر جائزہ لیا جائے اور ان کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ہماری تجویز یہ تھی کہ سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے جو اس کشیدگی اور کشمکش میں اضافہ کے اسباب و عوامل کی نشاندہی کرے، اور پھر کسی رو رعایت کے بغیر ان اسباب و عوامل کے سدباب کے لیے مؤثر قدم اٹھایا جائے۔ اگرچہ ہمارے نزدیک مسئلہ کا اصل حل اب بھی وہی ہے، تاہم یہ غنیمت ہے کہ حکومت کو اس ضرورت کا کسی درجہ میں احساس تو ہوا جس کے نتیجہ میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام پر مشتمل یہ کمیٹی وجود میں آئی ہے۔

ہم اس کمیٹی کے سربراہ اور ارکان سے گزارش کریں گے کہ وہ کمیٹیوں کے روایتی طریق کار سے ہٹ کر سنجیدگی کے ساتھ اس مسئلہ کا جائزہ لیں، کیونکہ دونوں طرف کے بہت سے افراد کی جانیں تلف ہو چکی ہیں، مساجد اور عبادت گاہوں کا امن مخدوش ہو کر رہ گیا ہے، اور اس کشمکش سے فائدہ اٹھانے کے لیے بہت سے ملک دشمن اور قانون شکن عناصر مسلسل متحرک ہیں۔ اس لیے ہمیں امید ہے کہ معزز علماء اور دینی راہنماؤں کی یہ کمیٹی ملک کو اس فرقہ وارانہ تصادم سے نجات دلانے کے لیے کوئی مؤثر لائحہ عمل تجویز کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

   
2016ء سے
Flag Counter