نیٹو اور اسلام

   
فروری ۱۹۹۶ء

مغربی ممالک کی دفاعی تنظیم نیٹو NATO کے سیکرٹری جنرل ویلی کلاس نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ سوویت یونین کے بکھر جانے کے بعد اب اسلام مغرب کا سب سے بڑا حریف ہے اور مغربی ممالک کو اس حریف سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ لیکن اپنے اس انٹرویو کے تھوڑے دنوں بعد ویلی کلاس کو رشوت اور بدعنوانی کے ایک سنگین الزام کے باعث اپنے منصب سے ہاتھ دھونے پڑے۔

اب ان کی جگہ اسپین کے وزیرخارجہ خافیر سولانا نیٹو کے نئے سیکرٹری جنرل بنے ہیں، اور ہفت روزہ ’’العالم الاسلامی‘‘ مکہ مکرمہ ۲۵ دسمبر ۱۹۹۵ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ اسلام مغرب کا حریف نہیں ہے، اور ہم اسلام اور دہشت گردی کو لازم و ملزوم قرار دے کر بڑی خطا کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ انہوں نے ’’یورو نیوز‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں الفاظ کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے کیونکہ اسلام اور دہشت گردی کو لازم و ملزوم قرار دے کر ہم ان مسلمانوں کی توہین کرتے ہیں جو دہشت گرد نہیں ہیں۔

اسلام کے اور مسلمانوں کے بارے میں نیٹو کے نئے سیکرٹری جنرل کے خیالات بلاشبہ بہتر اور خوش آئند ہیں، لیکن معلوم نہیں کہ یہ خیالات واقعتاً ان کے اصل جذبات ہیں یا سابقہ سیکرٹری جنرل کے مذکورہ انٹرویو پر عالم اسلام کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے بطور پالیسی اختیار کیے گئے ہیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter