عید پر مختلف بچوں کا اقدام خودکشی

   
دسمبر ۲۰۰۴ء

روزنامہ پاکستان لاہور نے ۱۴ نومبر ۲۰۰۴ء کی اشاعت میں یعنی عید کے روز یہ خبر شائع کی ہے کہ لاہور میں عید کے موقع پر نئے کپڑے اور چوڑیاں وغیرہ نہ ملنے پر خودکشی کا اقدام کیا ہے، خبر کے مطابق کوٹ لکھپت کے رہائشی عمران کی بیٹی نسرین نے عید کے کپڑے نہ ملنے پر گندم میں رکھی جانے والی گولیاں کھالیں، اور بادامی باغ کی آسیہ اور شالیمار نے بھی عید کی کی چوڑیوں اور کپڑوں کے لیے والدین سے پیسے نہ ملنے پر زہریلی گولیاں نگل لیں جبکہ ایک اور قومی اخبار نے اس حوالہ سے خود کشی کی کوشش کرنے والوں کی تعداد سات بتائی ہے۔

خودکشی کے یہ واقعات صرف عید کے حوالہ سے نہیں بلکہ عام روزمرہ زندگی میں بھی غربت اور فقر و فاقہ سے تنگ آکر خودکشی کرنے والوں کے واقعات اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ معاشرہ میں محتاجی، غربت اور افلاس کے ساتھ بے بسی اور لاچاری کی یہ کیفیت ہمارے اس معاشی نظام کا منطقی نتیجہ ہے جس میں غربت اور امارت کے درمیان فرق دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اور معاشی وسائل کی تقسیم اس قدر غیر منصفانہ ہے کہ ایک طرف خوشحال لوگوں کی بلیاں، کتے اور گھوڑے تعیش اور لگژری کے وسائل سے مالامال ہیں اور دوسری طرف غربت کے مارے خاندانوں کے انسان بچوں کو بنیادی ضروریات اور عید کی چھوٹی موٹی خوشیاں میسر نہیں ہیں۔

معاشی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور طبقاتی ترجیحات کا یہ معاشرہ کسی طرح بھی ایک اسلامی معاشرہ کہلانے کا حق دار نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔ ہمارا موجودہ معاشی و معاشرتی ڈھانچہ نوآبادیاتی دور کی منحوس یادگار ہے جس سے نجات حاصل کرنا تحریک آزادی اور تحریک پاکستان دونوں کے مقاصد میں شامل تھا لیکن آزادی اور پاکستان حاصل کر لینے کے باوجود ہم یہ مقصد حاصل نہیں کر پائے اور ایک نئے عالمی نو آبادیاتی معاشی سسٹم کے جال میں ہم نے خود کو جکڑ لیا ہے۔ اس کا حل صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم خلافت راشدہ کی بنیاد پر اسلامی معاشرہ کی تشکیل کی طرف عملی پیشرفت کریں ورنہ یہ خودکشیاں نہ صرف جاری رہیں گی بلکہ ان میں خدانخواستہ دن بدن اضافہ ہوتا رہے گا۔

   
2016ء سے
Flag Counter