قادیانی راہنما کا شاہی حج اور تحفظِ ناموس صحابہؓ کا بِل

   
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۲۳ء

گزشتہ دنوں قومی اسمبلی نے مولانا عبد الاکبر چترالی کی طرف سے پیش کردہ تحفظ ناموس صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ایک بِل متفقہ طور پر منظور کیا تھا جس میں ان میں سے کسی بزرگ کی اہانت پر سزا میں اضافہ کیا گیا ہے، مگر سینٹ آف پاکستان میں پیش ہونے کے بعد منظوری کے مراحل سے نہیں گزر سکا تھا جس پر ملک بھر کے دینی حلقوں میں اضطراب پایا جاتا ہے۔ حالانکہ عزت و تکریم دنیا کے کسی بھی ملک میں ہر شہری کا بنیادی حق سمجھا جاتا ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں عزتِ نفس اور تکریم کو ہر انسان کا حق تسلیم کرتے ہوئے حکومتوں اور ریاستوں کو اس حق کی حفاظت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جبکہ عام شہریوں کے ساتھ ہر ملک کی قومی شخصیات کی عزت و تکریم کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اور ان کی توہین کو عام شہریوں کی توہین سے بڑا جرم سمجھا جاتا ہے۔ ایک یورپی عدالت کا یہ فیصلہ ریکارڈ پر ہے کہ مقدس شخصیات کی توہین دوہرا جرم ہے، اس حوالے سے بھی کہ وہ ایک قابلِ احترام شخصیت کی توہین ہے اور اس لیے بھی کہ اس سے اس شخصیت کے لاکھوں اور کروڑوں عقیدت مندوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں جو ایک مستقل جرم ہے۔

اس تناظر میں جہاں عالمی سطح پر ہمارا مسلسل مطالبہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کو قابلِ سزا جرم تسلیم کیا جائے وہاں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ماحول میں یہ بھی ہمارا مطالبہ ہے کہ حضرات صحابہ کرام اور اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی بزرگ کی توہین کو جرم تسلیم کرتے ہوئے ان کی اہانت کی سزا ان کی شخصیت و عظمت کی سطح اور معیار پر مقرر کی جائے۔

اسی تناظر میں قومی اسمبلی اور سینٹ میں یہ بِل پیش ہوا اور اس کے لیے سنیٹر مولانا عطاء الرحمن، سنیٹر مشتاق احمد، سنیٹر کامران مرتضیٰ، مولانا عبد الاکبر چترالی اور دیگر ارکان پارلیمنٹ نے مسلسل محنت کی جس کے نتیجے میں یہ بل پاس ہوگیا، مگر سینٹ آف پاکستان میں ابھی تک نہیں ہو سکا۔ سنی علماء کونسل پاکستان کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے فون پر بتایا کہ یہ بل پارلیمنٹ میں دوبارہ زیر بحث آگیا ہے اور اس پر چند روز میں بحث ہونے والی ہے خدا کرے یہ بل جلد از جلد منظور ہو کر ملک کے قانون کا حصہ بن جائے، آمین یا رب العالمین۔

اس کے ساتھ ہی اس سال حج بیت اللہ کے موقع پر شاہی مہمانوں میں معروف قادیانی راہنما افتخار احمد ایاز کی شمولیت ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے کیونکہ قادیانیوں کو صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نہیں بلکہ سعودی عرب کے قانون میں بھی غیر مسلم سمجھا جاتا ہے اور اس پر رابطہ عالم اسلامی کے ایک بڑے اجلاس میں تمام مسلم ممالک کا متفقہ فیصلہ موجود ہے۔

اس تناظر میں پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا مفتی محمد رویس خان ایوبی نے سعودی ولی عہد اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا نے اسلام آباد میں سعودی سفیر کے نام اپنے خطوط میں انہیں اس سلسلہ میں مسلمانوں کے جذبات اور تحفظ ختم نبوت کے تقاضوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو لائق تحسین ہے مگر صرف اتنا کافی نہیں ہے بلکہ اس کے تدارک اور تحفظ ختم نبوت کی عالمی جدوجہد کو اس کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے محنت کی بھی ضرورت ہے۔ اس لیے ملک بھر کی تمام دینی جماعتوں کی قیادتوں بالخصوص اسلام آباد کے تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام سے ہماری گزارش ہے کہ وہ ان دونوں مسائل کے حوالے سے باہم مل بیٹھ کر مشترکہ جدوجہد کی کوئی صورت نکالیں تاکہ اس سلسلہ میں ہم استطاعت کی حد تک اپنا فریضہ سرانجام دے سکیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter