جاگیرداری نظام اور علماء کی ذمہ داری

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
جون ۱۹۹۸ء

ایٹمی دھماکوں کے بعد وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جس قومی ایجنڈے کا اعلان کیا ہے اس میں زرعی اصلاحات بھی شامل ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ وہ قوم کو جاگیرداری سسٹم سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔

ہمارا موجودہ زمیندارہ سسٹم برطانوی تسلط کے نوآبادیاتی دور کی یادگار ہے جو ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد برطانوی استعمار نے اپنا تسلط مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے استوار کیا تھا۔ مغل دور کی زمینداریاں ختم کر دی گئی تھیں اور جاگیریں ضبط کر لی گئی تھیں۔ حتٰی کہ مساجد، مدارس اور دینی اداروں کے لیے وقف زمینیں بھی بیرونی سرکار نے تحویل میں لے لی تھیں اور انہیں ازسرِنو اپنے وفاداروں میں تقسیم کر کے جاگیرداروں اور بڑے زمینداروں کا ایک نیا طبقہ کھڑا کر دیا تھا جس کے ذریعے تاج برطانیہ نے اس خطہ زمین پر کم و بیش ایک صدی تک حکمرانی کی، بلکہ اس کے بعد بھی برطانوی استعمار کی یادگار نوآبادیاتی نظام کی حفاظت کے لیے یہی طبقہ سب سے مؤثر اور پیش پیش ہے۔

آزادی کے بعد بھارت نے تو ان ریاستوں اور جاگیرداریوں سے جلد نجات حاصل کر لی تھی مگر ہمارے ہاں جاگیردار طبقہ کی گرفت قائم رہی اور ابھی تک اس حد تک قائم ہے کہ اقتدار میں یہ طبقہ کسی نہ کسی شکل میں ہر دور میں موجود رہا ہے، اور زرعی اصلاحات کے نام پر جب بھی اس سسٹم کو قوم کے اجتماعی دھارے میں شامل کرنے اور ملکی تقاضوں اور ضروریات کے سانچے میں ڈھالنے کی کوئی کوشش کی گئی تو اسے اس طبقہ نے کمال چابکدستی سے ناکام بنا دیا اور اقتدار پر اپنی طبقاتی گرفت کو کبھی کمزور نہیں پڑنے دیا۔ صدر محمد ایوب خان مرحوم اور ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی زرعی اصلاحات پر ایک نظر ڈال لیجئے ، ان سے وہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکے جو مطلوب تھے اور اسی کے نتیجہ ہے کہ ایک بار پھر زرعی اصلاحات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اور وزیراعظم نے انہیں اپنے قومی ایجنڈے کا حصہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

میاں محمد نواز شریف کا تعلق ملک کے صنعتکار طبقہ سے ہے اور وہ طبقاتی لحاظ سے صعنتکاروں اور تاجر طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ طبقہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اقتدار میں شریک ہوا ہے جس سے طاقت کا سابقہ توازن بگڑ گیا ہے، اسی لیے بعض حلقے یوں کہتے ہیں کہ میاں محمد نواز شریف اقتدار میں تاجر و صنعتکار طبقہ کی شرکت کو مستحکم بنانے کے لیے اپنے روایتی حریف زرعی طبقہ پر زرعی اصلاحات کے ذریعے کاری ضرب لگانا چاہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ملک کا اقتدار تین طبقوں، جاگیرداروں، جرنیلوں اور نوکر شاہی کے پاس باری باری چکر کاٹتا رہا ہے۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے اس تکون کو توڑ کر اس میں دو نئے طبقوں تاجر و صنعتکار طبقہ اور علماء کرام کو شامل کرنے کی کوشش کی۔ صنعتکار طبقہ نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں اقتدار کی دوڑ میں عملاً شریک ہو گیا۔ جبکہ علماء کرام اور ملک کی دینی قیادت نے جنرل ضیاء الحق مرحوم کے پروگرام میں ایڈجسٹمنٹ قبول نہ کی اور وہ پیچھے رہ گئے۔

پس منظر خواہ کچھ بھی ہو مگر یہ حقیقت ہے کہ اس جاگیرداری سسٹم کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے بلکہ اس میں بہت تاخیر ہو گئی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ قیام پاکستان کے فورًا بعد ایک کمیشن بٹھایا جاتا جو ان جاگیروں کا کھوج لگاتا جو برٹش استعمار نے اپنی وفاداری اور جنگ آزادی سے غداری کے صلے میں اپنے کاسہ لیسوں کو دی تھیں، وہ جاگیریں بلاتاخیر ضبط کر لی جاتیں اور آزادی کی خاطر جان و مال کی قربانیاں دینے والے افراد اور خاندانوں کی حوصلہ افزائی اور تکریم کی جاتی۔ مگر بدقسمتی سے اس وقت قائد اعظم مرحوم کے اردگرد انہیں لوگوں کا ہجوم تھا جو جاگیردار طبقہ کی نمائندگی کرتے تھے اور خود قائد اعظم کے بقول ’’کھوٹے سکے‘‘ تھے۔ اس لیے اقتدار کی چابی انہیں کے ساتھ میں رہی اور ملک کی آزادی اور پاکستان کے نام سے نئے ملک کے قیام کے بعد بھی ملک کا عمومی نظام نوآبادیاتی کا نوآبادیاتی رہا۔

اس موقع پر مسئلہ کے ایک اور پہلو پر کچھ عرض کرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اور اسلامی نظام جس کی عملداری کے نعرہ کے ساتھ پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، ہمارے ہاں ایک نظام اور سسٹم کے طور پر کبھی عملی حیثیت حاصل نہیں کر سکا۔ البتہ نعرے اور ڈھال کے طور پر اسے ہم میں سے ہر شخص اور ہر طبقے نے ہر موقع پر خوب استعمال کیا ہے۔ اقتدار تک پہنچنے کے لیے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی غرض سے اسلام بطور نعرہ استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ جب کسی بھی طبقہ اور گروہ کے مفادات کو زد پہنچی ہے اور اسلام کے کسی مسئلہ اور حکم سے اسے ریلیف ملنے کا امکان دکھائی دیا ہے تو غریب اسلام اس کے ہاتھ میں ڈھال بن کر رہ گیا ہے۔ ورنہ یہی اسلام انہیں ڈھال بنانے والے گروہوں اور طبقات کے ہاں کبھی ایک نظام اور سسٹم کی جگہ حاصل نہیں کر سکا اور نہ ہی اس کے عملی احکامات و قوانین کو اپنانے کی کبھی انہوں نے ضرورت محسوس کی ہے۔

اسی جاگیرداری سسٹم اور زمیندارہ نظام کو لے لیجئے، قیام پاکستان کے بعد جب زرعی اصلاحات کے لیے آواز اٹھائی گئی تو بڑے بڑے زمینداروں نے ’’انجمن تحفظ حقوق زمینداراں تحت الشریعۃ‘‘ کے نام سے باقاعدہ تنظیم قائم کر لی اور شریعۃ کا پرچم اٹھا کر اپنے مفادات کے تحفظ کا نعرہ لگا دیا۔ مگر کسی بھلے مانس کو ان سے یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ بھلے لوگو! کیا تمہارا یہ موجودہ زمینداری سسٹم شرعی قوانین کے تحت وجود میں آیا ہے؟ اور اس سسٹم کے تحفظ کے لیے تمہیں شریعت اور اسلام کی چھتری کو استعمال کرنے کا حق کس نے دیا ہے؟ آج بھی بعض حلقوں کی طرف سے اس قسم کی باتیں سامنے آ رہی ہیں اور نوآبادیاتی دور کی یادگار ظالمانہ و جاگیردارانہ نظام کو بچانے کے لیے بعض شرعی احکام کے حوالے دیے جا رہے ہیں، اس لیے ہم ان دوستوں کی خدمت میں یہ اصولی بات عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ اسلام اور شریعت کے ساتھ مذاق ہے اور ان دو مقدس اصطلاحوں کا استحصال ہے۔ جب یہ جاگیرداری سسٹم شرعی احکام کے تحت وجود میں نہیں آیا اور نہ ہی شرعی احکام کے مطابق چل رہا ہے تو اسے بچانے کے لیے شریعت کی آڑ لینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

اور اگر بات اسلام اور شرعی احکام کے حوالہ سے ہی کرنی ہے تو ہماری خواہش، کوشش اور دعا بھی یہی ہے کہ خدا کرے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر معاملہ میں اپنے فیصلے شرعی احکام کے مطابق کرنے کی پوزیشن میں آ جائیں اور اسلام کو محض مفادات کے حصول اور ان کے تحفظ کے لیے نعرہ کے طور پر استعمال کرنے کی روش ترک کر دیں، تو پھر زرعی اصلاحات کی مناسبت سے دو باتوں کا تذکرہ مناسب سمجھیں گے:

  • ایک ’’عمر ثانی‘‘ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کی زرعی اصلاحات کا جس کے تحت انہوں نے سب سے پہلے باغ فدک بیت المال کو واپس کر دیا تھا۔
  • اور دوسری بات امام اعظم ابو حنیفہؒ کے فتوٰی کی ہے جو انہوں نے بٹائی کے مروجہ سسٹم کے عدم جواز پر دیا تھا۔

فدک نامی باغ غزوہ خیبر میں مسلمانوں کی فتح کے بعد بطور غنیمت مسلمانوں کے قبضہ میں آیا تھا، بہت بڑا باغ تھا اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عام سپاہیوں میں تقسیم کرنے کی بجائے بیت المال کی تحویل میں رہنے دیا تھا اور اس کی پیداوار آپؐ کی ازواج مطہرات اور اہل خاندان کے اخراجات کے لیے مخصوص کر دی تھی۔ جناب نبی اکرمؐ کے وصال کے بعد آپ کی دختر حضرت سیدہ فاطمہؓ نے خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ سے مطالبہ کیا کہ یہ باغ میرے والد محترمؐ کی ملکیت ہے، اس لیے بطور وراثت انہیں دے دیا جائے۔ مگر حضرت صدیق اکبرؓ کا موقف یہ تھا کہ یہ باغ حضورؐ کی نہیں بلکہ بیت المال کی ملکیت تھا اور اس کی پیداوار آپؐ کے خاندان کے اخراجات کے لیے مخصوص کی گئی تھی، اس لیے اسے بطور وراثت حضرت فاطمہؓ کو نہیں دیا جا سکتا، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کا ایک فرد بھی جب تک زندہ ہے اس کے اخراجات اسی باغ کی پیداوار سے دیے جاتے رہیں گے۔ چنانچہ خلفاء راشدینؓ کے دور میں اسی اصول پر عمل ہوتا رہا۔

یہ باغ فدک اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان چلے آنے والے اختلافات میں سے ایک بڑا اختلافی مسئلہ بھی بنا ہوا ہے جس پر دونوں طرف سے بیسیوں کتابیں لکھی گئی ہیں اور کئی مباحثے اور مناظرے ہو چکے ہیں، مگر اس اختلافی بحث و مباحثہ سے قطع نظر عملاً ایسا ہوا کہ بنو امیہ کی حکومت کے دور میں حکمران خاندان کے لوگوں نے جہاں بیت المال کی دیگر اشیاء پر قبضہ جما لیا وہاں یہ باغ بھی شاہی خاندان کی تحویل میں آ گیا تھا اور وراثت میں حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کی ملکیت میں منتقل ہو گیا۔ خلافت سنبھالنے تک ان کے ذاتی اور گھریلو اخراجات کی کفالت اسی باغ کی پیداوار سے ہوتی تھی، لیکن خلافت کا منصب سنبھالنے کے بعد جب انہوں نے بیت المال (قومی خزانے) کے اثاثوں پر قابض لوگوں سے یہ اثاثے واپس لینے کے لیے زرعی اور مالی اصلاحات کا اعلان کیا تو سب سے پہلے باغ فدک بیت المال کو یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ ’’جس باغ پر سیدہ فاطمہؓ کا حق ملکیت تسلیم نہیں ہوا تھا اسے اپنے قبضہ میں رکھنے کا مجھے کیا حق ہے‘‘۔

حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے اس باغ پر خود قبضہ نہیں کیا تھا بلکہ انہیں وراثت میں ملا تھا، اس لیے ملک کی تبدیلی کے ساتھ احکام کی تبدیلی کے جس فقہی ضابطے کا آج حوالہ دیا جا رہا ہے وہ ان کا بھی اسی طرح ساتھ دے رہا تھا جس طرح اس سے آج کے جاگیرداروں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن ان کے سامنے اجتماعی مفاد تھا، ملک کا نظام تھا اور اصلاحات کے ناگزیر تقاضے تھے، اس لیے انہوں نے کسی تامل کے بغیر باغ بیت المال کو واپس کر دیا اور خلیفۃ المسلمین کی حیثیت سے باقی زندگی فقروفاقہ اور تنگی ترشی کے ساتھ گزار دی۔

اس لیے ہم گزارش کریں گے کہ اصلاحات کے باب میں تو حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے اسوہ کو ہی سامنے رکھا جائے کیونکہ جب ہم انہیں ’’عمر ثانی‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور ان کے دور خلافت کو خلافت راشدہؓ کا تتمہ قرار دیتے ہیں تو اجتماعی نظام میں اصلاحات کے لیے ان کی پیروی میں بھی ہمیں کوئی جھجھک نہیں ہونی چاہیے۔

(مضمون کا بقیہ حصہ دستیاب نہیں ہو سکا۔)