مصر میں مساجد پر سرکاری کنٹرول کا نیا قانون

   
تاریخ اشاعت: 
فروری ۱۹۹۷ء

برادر مسلم ملک ’’عرب جمہوریہ مصر‘‘ میں ان دنوں مساجد پر سرکاری کنٹرول کے سلسلہ میں حکومت اور مذہبی حلقوں کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ ہفت روزہ ’’العالم الاسلامی‘‘ مکہ مکرمہ نے ۶ جنوری ۱۹۹۷ء کی اشاعت میں اس سلسلہ میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مصری پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا ہے جس میں غیر سرکاری مساجد کے خطباء اور ائمہ مساجد کو بھی پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ خطبہ اور درس کے سلسلہ میں محکمہ اوقاف کی ہدایات پر عمل کریں۔ جبکہ مصر کے ایک ممتاز مذہبی راہنما الشیخ یوسف بدری نے اسے مذہبی آزادی اور دعوت و تبلیغ کے تقاضوں کے منافی قرار دیتے ہوئے عدالت میں اس قانون کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مصری پارلیمنٹ کا منظور کردہ یہ قانون جنوری کے وسط سے نافذ العمل ہو گا اور کسی بھی مسجد کا خطیب یا امام محکمہ اوقاف کی منظوری کے بغیر خطبہ یا وعظ نہیں کہہ سکے گا۔ قانون میں اس حکم کی خلاف ورزی کی سزا ایک ماہ قید اور ایک سو مصری پونڈ جرمانہ تجویز کی گئی ہے۔

  • مصر کی ایک دینی جماعت ’’الجمعیۃ الشرعیۃ‘‘ نے اپنے حالیہ اجلاس میں اس قانون کو دعوت کی آزادی اور اسلامی اقدار سے انحراف قرار دیا ہے۔
  • اور جمعیۃ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فواد مخیمر نے اجلاس میں کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعیۃ کے تحت کام کرنے والی چھ ہزار مساجد اس قانون کی زد میں آئیں گی اور اس قانون سے اسلام کی دعوت و تبلیغ کے کام میں رکاوٹ پیدا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم مساجد اور ائمہ و خطباء پر نگرانی کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن یہ محکمہ اوقاف کا نہیں بلکہ جامعہ ازہر کا حق ہے، اور ہم مساجد پر سرکاری کنٹرول کو درست تسلیم نہیں کرتے۔
  • ان کے علاوہ جامعہ ازہر کے شعبہ وعظ و تبلیغ کے نگران الشیخ سید عسکر نے بھی نئے قانون پر نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ یہ قانون سیاسی مقصد کے لیے نافذ کیا گیا ہے جس سے مساجد اذیتناک صورتحال سے دوچار ہو گئی ہیں اور آزاد دینی خطابت کا راستہ روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ مساجد اور ائمہ پر نگرانی کا حق جامعہ ازہر کا ہے اور محکمہ اوقاف کے لیے یہ حق تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
  • ادھر مصر کے وزیر قانون ڈاکٹر حمدی زقزوق نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ یہ قانون واپس نہیں لیا جائے گا اور اس کا اطلاق مصر کی سرکاری و غیر سرکاری تمام مساجد پر ہو گا۔

مصر میں مساجد اور خطباء و ائمہ کی آزادی کے حوالے سے حکومت اور دینی حلقوں کی اس کشمکش سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مسلم ممالک کی حکومتیں دینی اداروں اور حلقوں کی سرگرمیوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کیا عزائم رکھتی ہیں اور یہ صورتحال پاکستان کے دینی حلقوں کے لیے بھی لمحۂ فکریہ ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter