دستورِ پاکستان اور مرزا طاہر احمد

   
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۱۹۹۸ء

حکومت اور عدلیہ کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے چلی آنے والی کشمکش اور اس سے پیدا شدہ بحران کے ٹھنڈا ہونے پر جہاں پوری قوم نے اطمینان کا سانس لیا ہے اور کاروبار زندگی ایک بار پھر معمول کی راہوں پر چلتا نظر آنے لگا ہے وہاں اس پر سب سے زیادہ دکھ کا اظہار قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے کیا ہے، اور اخبارات میں شائع ہونے والی ایک نشری تقریر کے مطابق مرزا طاہر احمد نے کہا ہے کہ انہیں یقین تھا کہ اس بحران کے نتیجے میں پاکستان کا دستور ختم ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ مرزا طاہر احمد نے یہ بھی کہا ہے، یہ دستور جس میں قادیانیت کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے ردی کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے اور اسے بہرحال ختم ہونا ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے موجودہ دستور کے خلاف قادیانی گروہ کا یہ غم و غصہ نیا نہیں ہے بلکہ ۱۹۷۴ء میں پارلیمنٹ نے جب متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا تب سے قادیانی امت اس پر پیچ و تاب کھا رہی ہے اور اس کے خلاف سازش کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہی۔ اس آئینی فیصلے کے مطابق قانون سازی کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ۱۹۸۴ء میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے امتناعِ قادیانیت کا صدارتی آرڈیننس جاری کیا تو مرزا طاہر احمد نے پاکستان کو چھوڑ دیا تھا، اور اس وقت سے لندن میں ’’اسلام آباد‘‘ کے نام سے مرکز قائم کر کے پاکستان اور اس کے دستور کے خلاف سازشوں کا جال پھیلا رکھا ہے۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ قادیانی گروہ اپنی الگ حیثیت تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے جداگانہ الیکشن کا بائیکاٹ کیے ہوئے ہے، اور مردم شماری میں خود کو غیر مسلموں کے خانے میں درج کرانے سے منحرف ہے اور اس کے بھی بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔ جبکہ مرزا طاہر احمد نے کھلم کھلا دستورِ پاکستان کو ردی کاغذ کا ٹکڑا قرار دے کر اس کے خلاف اپنی دلی نفرت کا اعلان کر دیا ہے۔

گزشتہ سال عبوری حکومت کے دور میں سندھ کی صوبائی حکومت میں کنور ادریس نامی قادیانی وزیر کی شمولیت کے موقع پر ہم نے یہ سوال اٹھایا تھا اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو تحریری طور پر توجہ دلائی تھی کہ قادیانی گروہ جب اس ملک کے دستور کو تسلیم ہی نہیں کرتا تو اس کے افراد اہم مناصب کے لیے حلف کس دستور کے تحت اٹھاتے ہیں۔ اور اگر وہ منافقت کرتے ہوئے حلف اٹھاتے ہیں تو دستورِ پاکستان کے خلاف ان کی کھلی سرگرمیوں کا علم ہوتے ہوئے ان کے حلف کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ مگر عدالتِ عظمیٰ نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا تھا۔

دستور کے خلاف مرزا طاہر احمد کے حالیہ بیان کے بعد اس سوال کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے اور دستورِ پاکستان کی پاسداری کرنے والے اداروں بالخصوص سپریم کورٹ آف پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ملک کے آئین کے خلاف ایک گروہ کے کھلم کھلا اعلانات کا نوٹس لیں اور مرزا طاہر احمد کے خلاف بغاوت کا کیس درج کر کے انٹرپول کے ذریعے اس کی وطن واپسی کا اہتمام کیا جائے۔

اس موقع پر ہم مرزا طاہر احمد کی یہ غلط فہمی بھی دور کر دینا چاہتے ہیں کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مسئلہ صرف دستور کا مسئلہ ہے، اور اگر یہ دستور ختم ہو گیا تو اس گروہ کی سابقہ پوزیشن بحال ہو جائے گی۔ یہ قادیانیوں کی خام خیالی ہے، اس لیے کہ پوری امتِ مسلمہ قادیانیوں کے کفر سے آگاہ ہو چکی ہے اور پارلیمنٹ کے فیصلے سے پہلے ہی دنیا بھر کے مذہبی ادارے قادیانیوں کو کافر قرار دے چکے ہیں۔ دستور کا فیصلہ تو صرف اس کے آئینی تقاضوں کی تکمیل کرتا ہے۔ اس لیے اگر خدانخواستہ یہ متاثر بھی ہوتا ہے تو امتِ مسلمہ کے نزدیک قادیانی گروہ پھر بھی کافر ہی رہے گا اور مسلمانوں کی صف میں دوبارہ شامل ہونے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔

   
2016ء سے
Flag Counter