قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹ مرحوم

   
یکم جنوری ۲۰۰۶ء

قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹؒ بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گزشتہ روز ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان کے تازہ شمارے میں ان کی وفات کی خبر پڑھی تو دل سے رنج و صدمہ کی ایک لہر اٹھی اور ماضی کے بہت سے اوراق ایک ایک کر کے نگاہوں کے سامنے الٹتے چلے گئے۔ قاری صاحب مرحوم خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان اللہ شجاع آبادیؒ کے داماد تھے اور انہی کے تربیت یافتہ تھے۔ وہ ملتان کی سرگرم دینی اور سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے، وکالت کرتے تھے اور ملتان بار کے فعال ارکان میں سے تھے۔ ایک دور میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے صدر بھی رہے ہیں اور ڈسٹرکٹ کورٹس کے احاطے میں ان کا ڈیرہ ایک وکیل کی بجائے سیاسی کارکنوں کی روز مرہ ملاقاتوں اور گپ شپ کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔

آج کی نسل مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ سے متعارف نہیں ہے تو قاری نور الحق قریشیؒ سے اس کا تعارف کیا ہوگا۔ قاضی صاحبؒ کو احرار کے حلقوں میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے بعد اپنے دور کا سب سے بڑا خطیب سمجھا جاتا تھا، وہ صرف خطیب نہیں تھے بلکہ ایک غیرت مند مجاہد اور بے باک سیاسی رہنما بھی تھے اور ان حریت پسند قائدین میں سے تھے جنہوں نے تحریک آزادی کے حوالے سے پنجاب جیسی سنگلاخ زمین کو اپنی جولانگاہ بنایا۔ فرنگی حکمران پنجاب کو اپنا بازوئے شمشیر زن سمجھتے تھے، انہیں یہیں سے سیاسی قوت ملتی تھی اور اپنی فوج کے لیے بھرتی کا بڑا حصہ میسر آتا تھا۔ یہاں بڑے زمینداروں، جاگیرداروں، نوابوں، اور گدی نشینوں کا راج تھا اور وہی بدیشی حکمرانوں کی اصل قوت تھے جن کی مرضی کے بغیر کوئی دم نہیں مار سکتا تھا۔ دیکھا جائے تو آج بھی عالمی استعمار کی قوت اور تسلط کا ایک بڑا سرچشمہ یہی ہے بلکہ ملک کے اندر چھوٹے صوبوں کو پنجاب سے جو شکایات ہیں ان کا سب سے بڑا سبب بھی یہی طبقہ ہے۔ اسی وجہ سے پنجاب میں فرنگی حکمرانوں سے آزادی کا کھلم کھلا مطالبہ کرنا اور اس کے لیے تحریک چلانا ایک دور میں پاگل پن سمجھا جاتا تھا۔ لیکن امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ، چودھری افضل حق مرحوم، ماسٹر تاج الدین انصاری مرحوم، شیخ حسام الدین مرحوم، مولانا سید داؤد غزنویؒ، مولانا مظہر علی اظہرؒ، صاحبزادہ فیض الحسنؒ، آغا شورش کاشمیری مرحوم اور دیگر احرار رہنماؤں نے یہ معرکہ ایسے حوصلہ و جرأت اور عزیمت و استقامت کے ساتھ سر کیا کہ تاریخ کو ان کے ’’جنون‘‘ کے سامنے سرِ عقیدت خم کرنا پڑا۔

قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ اسی قافلہ حریت کے فرد تھے، وہ ذاتی طور پر انتہائی نفیس الطبع، نازک مزاج اور خوش پوش شخص تھے لیکن ان کی نفاست و نزاکت ان کے فرائض اور جدوجہد کی راہ میں کبھی رکاوٹ نہیں بنی۔ انہوں نے اپنے مشن کی خاطر دور دراز کے طویل سفر کیے اور جیل کی کال کوٹھڑیوں کو بھی آباد کیا۔ عوام میں آزادی کا جذبہ بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ قادیانیت اور دیگر باطل گروہوں کا رد ان کی خطابت کا اہم موضوع ہوتا تھا۔ وہ کتابوّں کا صندوق ساتھ رکھتے تھے اور عوام بیداری کے ساتھ ساتھ خواص کی بریفنگ بھی ان کا خصوصی ذوق تھا۔ یہ ذوق اب کم ہوتا جا رہا ہے کہ خاص حلقوں کے وہ بڑے لوگ جو قومی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان کے ساتھ ملک کی عمومی سیاسی مخاصمت کے ماحول سے ہٹ کر ذاتی رابطہ رکھا جائے اور انہیں متعلقہ مسائل میں ایسی بریفنگ مہیا کی جائے جو انہیں صحیح فیصلے تک پہنچنے میں مدد دیتی ہو۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ اپنے دور میں اس فن کے امام تھے، میں نے انہیں اس دور میں دیکھا جب بڑھاپا ان پر غالب آچکا تھا، یہ میرا طالب علمی کا زمانہ تھا۔ مجھے شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ اور دارالعلوم مدینہ ڈسکہ میں ان کے دو خطاب سننے کی سعادت حاصل ہوئی اور نجی محفل میں ان کی نکتہ سنجی اور چٹکلوں سے بھی محظوظ ہوا ہوں۔ میں سوچتا تھا کہ بڑھاپے میں اس شیر کی دھاڑ یہ ہے تو جوانی میں کیا عالم ہوگا۔

قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹؒ انہی کے فرزند نسبتی تھے، انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز مجلس احرار اسلام سے کیا لیکن بعد میں مولانا مفتی محمودؒ کی رفاقت کے دائرے میں آگئے۔ ملتان میں ان کی رہائش مدرسہ قاسم العلوم کے قریب ہی ایک چوبارے میں ہوا کرتی تھی۔ مفتی صاحبؒ سے روز مرہ ربط رہتا۔ چنانچہ جب ۱۹۶۷ء اور ۱۹۶۸ء میں مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، اور مولانا مفتی محمودؒ کی قیادت میں جمعیۃ علماء اسلام نے ملک گیر سطح پر عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اپنی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کیا تو قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹؒ اس میں شامل ہوگئے اور جمعیۃ کو منظم و فعال بنانے میں سرگرم کردار ادا کیا۔ قاری صاحب جلد ہی جمعیۃ کی صوبائی قیادت میں آگئے۔ اس دور میں جمعیۃ کے صوبائی امیر مولانا عبید اللہ انور رہے جن کے ساتھ سیکرٹری جنرل کے طور پر کچھ عرصہ مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ نے کام کیا، پھر مولانا سید نیاز احمد شاہ گیلانیؒ صوبائی سیکرٹری جنرل رہے، ان کے بعد قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹؒ نے یہ منصب سنبھالا اور کافی عرصہ تک یہ ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔

جمعیۃ علمائے اسلام میں مختلف سطح پر قاری نور الحق قریشیؒ کے سرگرم کردار کا دور ۱۹۷۱ء سے ۱۹۸۰ء تک رہا اور انہوں نے صوبے میں جمعیۃ کو ایک متحرک اور فعال سیاسی جماعت بنانے کے لیے انتھک محنت کی۔ بھٹو مرحوم کے دور حکومت میں بلوچستان میں مری اور بگٹی قبائل کے خلاف فوجی آپریشن ہوا اور سردار عطاء اللہ خان مینگل کی منتخب حکومت برطرف کر دی گئی جس میں جمعیۃ علمائے اسلام بھی شامل تھی اور اسے بلوچستان میں واضح اکثریت حاصل تھی تو اس کے رد عمل میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے ملک گیر احتجاج کا پروگرام بنایا۔ پنجاب میں غلام مصطفیٰ کھر کا راج تھا۔ اپوزیشن نے حکومت کے رویہ کے خلاف گرفتاریاں دینے کا پروگرام بنایا تو لاہور اور ملتان سے بہت سے رہنماؤں اور کارکنوں نے خود کو گرفتاری کےلیے پیش کیا۔ جمعیۃ علمائے اسلام نے بھی اس میں سرگرم حصہ لیا۔ قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹؒ نے ملتان سے گرفتاری پیش کی۔ اس موقع پر گرفتاریاں پیش کرنے والوں کو پولیس نے روایتی تشدد اور تذلیل کا نشانہ بنایا اور انتہائی توہین آمیز سلوک کیا مگر اس کے باوجود سیاسی کارکنوں نے استقامت کا مظاہرہ کیا اور بھٹو حکومت کے مجموعی رویہ بالخصوص بلوچستان میں غاصب اقتدار کے خلاف سیاسی احتجاج ریکارڈ کرایا جس سے بلوچستان کے عوام کو حوصلہ ہوا کہ ان کے صوبے میں فوجی آپریشن کو ملک کی سیاسی جماعتوں بالخصوص پنجاب کے عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

۱۹۷۷ء میں پاکستان قومی اتحاد تشکیل پایا تو قاری نورالحق قریشی ایڈووکیٹؒ نے صوبائی سطح پر قومی اتحاد میں جمعیۃ علمائے اسلام کی بھرپور نمائندگی کی۔ صوبائی پارلیمانی بورڈ میں قومی اتحاد میں شامل نو جماعتوں کے درمیان سیٹوں کی تقسیم خاصا مشکل کام تھا۔ جماعتوں کو بھرپور نمائندگی دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری تھا کہ ہر سیٹ پر ایسا نمائندہ لایا جائے جو سیٹ جیتنے کی پوزیشن میں ہو۔ صوبائی پارلیمانی بورڈ میں اس مقصد کے لیے جماعتوں کے درمیان خاصی کشمکش رہی مگر قاری صاحب نے پورے حوصلے اور تدبر کے ساتھ پارٹی کی نمائندگی کی اور سیٹوں میں معقول حصہ وصول کیا، ان کے ساتھ میں بھی پارلیمانی بورڈ میں جمعیۃ کی طرف سے ان کی معاونت کرتا رہا۔

مولانا مفتی محمودؒ کی وفات کے بعد جمعیۃ علمائے اسلام درخواستی گروپ اور فضل الرحمٰن گروپ میں تقسیم ہوئی تو قاری نور الحق قریشیؒ ابتدا میں مصالحتی کوششوں میں شریک رہے لیکن پھر دھیرے دھیرے کنارہ کش ہوتے چلے گئے اور پھر بالکل ہی خاموش ہوگئے۔ اس دوران وہ قوم پرست سرائیکی رہنما تاج محمد لنگاہ کے ساتھ سرائیکی صوبہ بنانے کی تحریک میں شامل ہوئے اور کچھ عرصہ اس میں بھرپور حصہ لیا مگر پھر اس میں بھی ان کی زیادہ سرگرمی نہ رہی۔ چند برس قبل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کے دفتر میں تحریک ختم نبوت کے ایک پروگرام کے سلسلہ میں ان سے ملاقات ہوئی تو وہ ملک کی سیاسی صورتحال سے خاصے دلبرداشتہ تھے۔ اس کے بعد ان سے ملاقات کی کوئی صورت نہ بن سکی۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

احباب سے ایک ضروری گزارش:

راقم الحروف نے بحمد اللہ تعالیٰ ۱۹۶۴ء کے لگ بھگ مضمون نویسی کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ جس کے بعد سے اب تک مسلسل میرے مضامین مختلف رسائل، اخبارات اور جرائد میں شائع ہوتے آ رہے ہیں۔ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ نے میرے اب تک شائع ہونے والے مضامین اور ان کے ساتھ خطبات و تقاریر کو جمع کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے، جس کے بعد ان کی موضوعات کے حوالے سے تقسیم و تدوین اور پھر طباعت و اشاعت کا پروگرام ہے، ان شاء اللہ۔ ملک بھر کے احباب سے اس سلسلے میں تعاون کی درخواست ہے کہ جس دوست کے پاس کوئی مضمون یا تقریر کسی بھی شکل میں ہو، وہ اسے الشریعہ اکادمی، ہاشمی کالونی، کنگنی والا، گوجرانوالہ کو مہیا فرما دیں، اس سلسلے کے ضروری اخراجات اکادمی برداشت کرے گی۔ مزید معلومات کے لیے اکادمی کے ناظم مولانا حافظ محمد یوسف صاحب سے رابطہ کریں۔

   
2016ء سے
Flag Counter