حضرت شیخ الحدیث کا دورۂ بنگلہ دیش

   
تاریخ : 
فروری ۱۹۹۸ء

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے فاضل ’’نصرۃ العلوم‘‘ مولوی محمد عبد اللہ صاحب کا گزشتہ ایک سال سے مسلسل اصرار تھا کہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم ایک بار ان کی دعوت پر بنگلہ دیش کا سفر ضرور کریں۔ مولوی محمد عبد اللہ صاحب کا تعلق ڈھاکہ کی نواحی بستی مدھوپور سے ہے جہاں ان کے والد محترم مولانا عبد الحمید صاحب کے زیراہتمام جامعہ حلیمیہ کے نام سے ایک دینی درسگاہ عرصہ سے قائم ہے۔ مولانا محمد عبد الحمید صاحب جامعہ حلیمیہ کے مہتمم ہونے کے ساتھ ساتھ روحانی پیشوا بھی ہیں، حکیم الامت حضرت تھانوی قدس اللہ سرہ العزیز کے سلسلہ سے وابستہ ہیں، اور ان کے مریدین پورے علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مولانا موصوف متحرک اور مجاہد عالم ہیں۔ کچھ عرصہ قبل چاٹگام کے علاقہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور لوگوں کی جہالت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پر پُرزے پھیلانا شروع کیے تو اس کے تعاقب میں مولانا عبد الحمید سب سے پیش پیش تھے، انہوں نے بہت بڑی ختم نبوت کانفرنس منعقد کی اور لوگوں کو بیدار کیا ۔۔۔

مولوی محمد عبد اللہ صاحب کے مسلسل فون آ رہے تھے کہ شعبان کے آخری عشرہ کے دوران ختم بخاری شریف کی سالانہ تقریب اور جامعہ حلیمیہ کے سالانہ جلسہ دستار بندی کے لیے حضرت شیخ الحدیث صاحب ضرور وقت دیں، ان کے ساتھ وہ مجھے بھی دعوت دیتے رہے اور مدرسہ نصرۃ العلوم کے استاذ قاری محمد عبد اللہ صاحب کے بارے میں بھی ان کا تقاضہ تھا کہ وہ بھی اس سفر میں ساتھ آئیں۔ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ ضعف اور علالت کی وجہ سے اس سال شعبان المعظم میں دورۂ تفسیر قرآن کریم نہیں پڑھا سکے، انہوں نے مسلسل اکیس برس دورۂ تفسیر پڑھایا ہے اور مختلف ممالک کے ہزاروں علماء اور طلبہ نے اس دوران ان سے استفادہ کیا ہے، لیکن اس سال ان کی طبیعت متحمل نہیں تھی اس لیے یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔ خیال تھا کہ اس کیفیت میں بنگلہ دیش کا سفر ان کے لیے مشکل ہو گا، اس لیے مولوی محمد عبد اللہ صاحب سے ہر فون پر حضرت شیخ الحدیث صاحب کے بارے میں معذرت کرتا رہا۔ لیکن بالآخر مولوی صاحب موصوف غالب آ گئے اور مجھے اس سفر کے بارے میں حضرت شیخ الحدیث صاحب سے بات کرنا پڑی۔

چنانچہ وہ میرے تھوڑے سے اصرار کے بعد اس سفر کے لیے آمادہ ہو گئے۔ قاری محمد عبد اللہ صاحب کا رمضان المبارک کے آغاز میں عمرہ کے لیے روانگی کا پروگرام بن رہا تھا اس لیے ان کی جگہ ان کے فرزند اور مدرسہ نصرۃ العلوم کے مدرس قاری محمد عبید اللہ عامر صاحب شریکِ سفر ہوئے۔ ویزے اور ٹکٹ وغیرہ کے مراحل سے گزر کر پروگرام طے ہوا کہ ۲۲ دسمبر ۱۹۹۷ء کو امارات ایئر لائنز کے ذریعے کراچی سے ڈھاکہ روانگی ہو گی اور ۲۸ دسمبر کو واپسی کی جائے گی۔

کراچی کے مفتی محمد جمیل خان صاحب کو معلوم ہوا تو وہ بہت خوش ہوئے کہ انہوں نے ۲۱ دسمبر کو لاہور میں اقراء روضۃ الاطفال کی شاخ سیدنا معاذ بن جبلؓ کی سالانہ تقریب رکھی ہوئی تھی اور اس میں حضرت شیخ الحدیث صاحب کی شرکت کے خواہشمند تھے۔ مفتی محمد جمیل خان، مفتی خالد محمود اور ان کے رفقاء نے ’’اقراء روضۃ الاطفال‘‘ کے عنوان سے حفظِ قرآن کریم اور ابتدائی دینی تعلیم کے لیے کراچی کے مختلف علاقوں میں جدید طرز کی درسگاہوں کا جال پھیلا رکھا ہے اور ہزاروں طلبہ اور طالبات ان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اسی سلسلہ کی ایک شاخ گارڈن ٹاؤن لاہور میں سیدنا معاذ بن جبلؓ کے نام سے موسوم ہے جس کے حوالے سے ۲۱ دسمبر کو صبح دس بجے سے ظہر تک قذافی اسٹیڈیم کے گیٹ ۷ پر ایک باوقار تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا، جس میں سالانہ امتحان میں امتیازی پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ اور طالبات کو انعامات دیے جانے کے علاوہ حفظِ قرآن کریم مکمل کرنے والے چند طلبہ نے آخری سبق بھی سنانا تھا۔

ہمارا پروگرام ۲۱ دسمبر کو پی آئی اے کی گیارہ بجے والی فلائٹ پر لاہور سے کراچی جانے کا طے تھا اور سیٹیں کنفرم ہو چکی تھیں مگر مفتی محمد جمیل خان کے اصرار پر اس میں ردوبدل کرنا پڑا۔ صبح ۸ بجے گکھڑ سے لاہور کے لیے روانگی کا پروگرام تھا، قاری عبید اللہ عامر صاحب کے دو شاگرد عمر سلیم شیخ اور عثمان اجمل شیخ اپنی اپنی گاڑیاں لے کر گکھڑ پہنچے ہوئے تھے اور دونوں کا اصرار لاہور تک ساتھ لے جانے کا تھا مگر حضرت شیخ الحدیث صاحب کی ہدایت پر صرف ایک گاڑی ساتھ لے جانے کا پروگرام طے پایا اور یہ سعادت عثمان اجمل شیخ کے حصے میں آئی۔

چنانچہ حضرت شیخ الحدیث، قاری عبید اللہ عامر صاحب اور راقم الحروف اس نوجوان کے ہمراہ سیدھے قذافی اسٹیڈیم پہنچے جہاں اقراء روضۃ الاطفال کی تقریب عروج پر تھی اور اسٹیج پر مدرسہ شاہی (مراد آباد، بھارت) کے مہتمم حضرت مولانا رشید الدین صاحب، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر، حضرت مولانا عبد الرحمٰن اشرفی، اور حضرت مولانا محمد اجمل خان جیسی بزرگ شخصیات تشریف فرما تھیں۔ جبکہ مختلف کلاسوں کے طلبہ اور طالبات قرآن کریم کی سورتیں، دعائیں اور عربی نظمیں سنا رہے تھے۔ قرآن کریم مکمل کرنے والے چند حفاظ نے آخری سبق سنایا اور مختلف طلبہ اور طالبات کو ان بزرگوں کے ہاتھوں سے انعامات دلوائے گئے۔ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ نے مختصر خطاب میں شرکاء محفل کو نصائح سے نوازا اور پھر ان کی دعا پر یہ بابرکت محفل اختتام پذیر ہوئی۔

میری ملاقات اس تقریب میں ایک پرانے دوست سے ہو گئی۔ شیخ محمد حنیف صاحب کراچی میں حضرت مولانا مفتی محمود صاحبؒ کے میزبان ہوا کرتے تھے اور ان کے ہمراہ مجھے بھی کئی بار ان کے ہاں جانے کا موقع مل چکا ہے۔ ان کا تعلق چنیوٹی شیخ برادری سے ہے، بڑے تاجر ہیں، لیکن کراچی کے حالات کی وجہ سے ان دنوں ایبٹ آباد میں رہائش اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے دو پوتوں نے اقراء روضۃ الاطفال سے قرآن کریم حفظ مکمل کیا ہے اور اس تقریب میں انعام حاصل کرنے والوں میں وہ بھی شامل تھے، طویل عرصہ کے بعد ان سے اچانک ملاقات پر بہت خوشی ہوئی مگر زیادہ گفت و شنید کا موقع نہ مل سکا۔

تقریب سے فارغ ہو کر تقریب کے میزبان مفتی جمیل خان کے ہمراہ گارڈن ٹاؤن میں اقراء روضۃ الاطفال کی شاخ میں پہنچے، ظہر کی نماز ادا کی، کھانا کھایا اور کچھ آرام کے بعد ایئر پورٹ جانے کا پروگرام تھا کیونکہ کراچی کے لیے چھ بجے والی فلائٹ پر سیٹیں کنفرم ہو چکی تھیں۔ اتنے میں جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث حضرت مولانا صوفی محمد سرور صاحب مدظلہ اپنے فرزندانِ گرامی کے ہمراہ تشریف لے آئے۔ ان کا تقاضا تھا کہ ایئرپورٹ جانے سے پہلے کاہنہ کے قریب ان کے نئے قائم کردہ دینی مدرسہ میں تھوڑا سا وقت ضرور دیا جائے۔ چنانچہ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ اپنے رفقاء کے ہمراہ حضرت صوفی صاحب کی معیت میں ان کی دینی درسگاہ میں تشریف لے گئے اور اساتذہ و طلبہ سے مختصر نصیحت آموز خطاب فرمایا۔ اس کے بعد ایئرپورٹ پہنچے، نمازِ مغرب وہیں ادا کی، لاہور سے کراچی کے اس سفر میں جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مہتمم حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر اور اقراء روضۃ الاطفال کے مفتی خالد محمود بھی ہمراہ تھے۔ جبکہ مفتی محمد جمیل خان کو حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے ساتھ ربوہ جانا تھا اس لیے وہ شریکِ سفر نہ ہو سکے۔

کراچی پہنچے تو مفتی محمد جمیل خان کے چھوٹے بھائی عبد الرزاق خان صاحب اپنے رفقاء کے ہمراہ ایئرپورٹ پر موجود تھے۔ رات آٹھ بجے کا وقت تھا جب کہ ڈھاکہ کے لیے صبح ساڑھے پانچ کی فلائیٹ تھی جس کے لیے تین بجے شب ایئرپورٹ پر پہنچنا ضروری تھا، اس لیے چند گھنٹے کے لیے محمود آباد میں عبد الرزاق صاحب کی قیام گاہ پر چلے گئے۔ ۲۲ دسمبر کو صبح کراچی سے امارات ایئرلائنز کے طیارے پر ڈھاکہ کے لیے سوار ہوئے جو دوبئی سے براستہ کراچی ڈھاکہ جا رہا تھا۔ دس بجے کے لگ بھگ ڈھاکہ پہنچے، مولانا عبد الحمید صاحب اپنے فرزند مولانا محمد عبد اللہ صاحب اور دیگر رفقاء کے ہمراہ ایئرپورٹ پر موجود تھے۔ انہوں نے ڈھاکہ میں ہمارے قیام کا اہتمام جامعہ نوریہ اشرف آباد میں کر رکھا تھا، جو بنگلہ دیش کی معروف دینی شخصیت حافظ جی حضور رحمہ اللہ کا قائم کردہ مدرسہ ہے۔

حافظ جی حضورؒ کا نام مولانا محمد اللہ تھا اور وہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے بڑے خلفاء میں سے تھے۔ عملی سیاست میں بھی خاصے سرگرم رہے، تحریکِ خلافت کے نام سے بنگلہ دیش میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے رہے، دو دفعہ صدارتی انتخاب میں حصہ لیا، پہلی بار جسٹس عبد الستار کے مقابلہ میں تیسری پوزیشن پر رہے، جبکہ دوسری مرتبہ جنرل حسین محمد ارشاد کے مقابلہ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اس دوران انہیں بہت مقبولیت حاصل ہوئی اور بین الاقوامی پریس میں ان کے حوالے سے بنگلہ دیش میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کا خاصا چرچا رہا، مگر ۱۹۸۷ء میں ان کا انتقال ہو گیا اور ان کے بعد تحریک خلافت دو حصوں میں بٹ گئی۔ ایک حصہ ’’تحریک خلافت‘‘ ہی کے نام سے حافظ جی حضورؒ کے فرزند مولانا احمد اللہ اشرف کی سربراہی میں متحرک ہے، جبکہ دوسرا دھڑا ’’خلافت مجلس‘‘ کے نام سے ایک اور بزرگ عالم دین حضرت مولانا عزیر الحق صاحب کی قیادت میں کام کر رہا ہے۔ اور اس خلفشار کی وجہ سے عوامی مقبولیت کی پہلے والی صورتحال قائم نہیں رہے اور اب دونوں جماعتیں رسمی سرگرمیوں کے حوالے سے زندہ ہیں۔

حافظ جی حضورؐ معمر بزرگ تھے اور وفات کے وقت ان کی عمر سو برس کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ راقم الحروف نے ۱۹۸۵ء میں لندن میں منعقد ہونے والی پہلی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں ان کی زیارت کی ہے۔ اس بڑھاپے اور ضعف میں اس قدر تگ و دو اور نفاذِ اسلام کے لیے ان کی جدوجہد واقعتاً قابل رشک تھی۔ صدارتی الیکشن کے لیے ان کی پرجوش انتخابی مہم کے حوالے سے ایک واقعہ بطور خاص قابل ذکر ہے کہ انہوں نے قوم کو یہ نعرہ دیا کہ ہم نے آزادی اسلام کے نام پر حاصل کی ہے اس لیے بنگلہ دیش میں اسلامی نظام کا نفاذ ضروری ہے۔ ایک موقع پر ان سے اخبار نویسوں نے پوچھا کہ ہم نے آزادی تو پاکستان سے حاصل کی ہے اور اس دوران اسلام کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، یہ آزادی نہیں تھی، یہ تو دو بھائیوں کی علیحدگی تھی، آزادی ہم نے ۱۹۴۷ء میں انگریزوں سے حاصل کی تھی اور اسلام کے نام پر حاصل کی تھی، اس لیے اسلام کا نفاذ ضروری ہے اور وہ اسلامی خلافت کے احیا کے لیے ہی صدارتی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔

حافظ جی حضورؒ کی قائم کردہ دینی درسگاہ جامعہ نوریہ اشرف آباد میں ہمارا قیام تھا اور ان کے منجھلے فرزند مولانا حمید اللہ صاحب ہمارے میزبان تھے، جو بیماری اور کمزوری کے باوجود خدمت اور دیکھ بھال میں ہمہ وقت مستعد تھے۔ حافظ جی حضورؒ کے بڑے بیٹے مولانا احمد اللہ اشرف ہمارے میزبان اور داعی مولانا محمد عبد اللہ صاحب کے خسر بزرگوار ہیں، اور شاید اسی مناسبت سے جامعہ نوریہ اشرف آباد ڈھاکہ شہر میں قیام کے دوران ہمارا ٹھکانہ رہا۔ مولانا احمد اللہ اشرف سے تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں، انہوں نے تحریک خلافت اور صدارتی انتخابات کے مد و جزر سے خوب آگاہ کیا۔ وہ ملکی سیاست اور بین الاقوامی حالات پر نظر رکھتے ہیں اور اپنے دائرے میں متحرک رہتے ہیں۔ مولانا حمید اللہ صاحب ان سے چھوٹے ہیں مگر دل کے مریض ہیں۔ ڈاکٹروں نے ان کے سینے میں دل کو چلانے والی بیٹریاں فٹ کر رکھی ہیں جس کے سہارے بظاہر وہ چل رہے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ و عاجلہ سے نوازیں۔ دونوں بھائیوں نے خوب مہمانداری کی اور دونوں کے بچے حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کی خدمت میں حاضر باش رہے اور مسلسل خدمت کرتے رہے۔

ڈھاکہ کی سب سے بڑی مسجد بیت المکرم ہے جو شہر کے وسط میں ہے اور صدر جنرل محمد ایوب خان مرحوم کے دور میں تعمیر ہوئی تھی۔ سات منزلہ وسیع بلڈنگ ہے اور اس کے آگے بڑا صحن ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کم و بیش ستر ہزار افراد اس میں بیک وقت نماز ادا کر سکتے ہیں۔ بیت المکرم کے خطیب حضرت مولانا عبید الحق صاحب ہیں جو دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد ہیں۔ انہوں نے ۱۹۴۷ء، ۱۹۴۸ء میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی۔ وہ بنگلہ دیش کے بڑے علماء میں شمار ہوتے ہیں اور ان دنوں مجلس تحفظ ختم نبوت بنگلہ دیش کے امیر ہیں۔ وہ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ سے ملاقات کے لیے جامعہ نوریہ تشریف لائے، خاصی مفید گفتگو رہی اور بنگلہ دیش کے حالات سے آگاہی حاصل ہوئی۔ ان کی فرمائش پر جمعہ کی نماز بیت المکرم میں ادا کرنے اور جمعہ کے روز صبح ڈھاکہ کی قدیمی دینی درسگاہ جامعہ قرآنیہ لال باغ میں علماء کرام کے اجتماع سے خطاب کا پروگرام طے پایا۔

۲۳ دسمبر کو حضرت شیخ الحدیث مدظلہ نے اپنے کمرہ میں آرام کیا جبکہ راقم الحروف اور قاری عبید اللہ عامر نے ڈھاکہ کی مشہور ندی ’’بوڑھی گنگا‘‘ میں کشتی کی سیر کی۔ بنگلہ دیش میں ندیوں کی کثرت ہے، اس لیے کشتی اور چھوٹے بحری جہاز مسافر برداروں اور بار برداروں کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ بوڑھی گنگا میں ہر طرف کشتیوں کی چہل پہل تھی جو مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا رہی تھیں اور سامان بھی ادھر ادھر منتقل کر رہی تھیں۔ کشتیوں پر ریت، اینٹیں، کراکری کا سامان اور سبزیاں لاد کر لے جانے کا منظر ہم پہلی بار دیکھ رہے تھے۔ ان میں سے بعض کشتیوں میں انجن نصب تھے اور کئی کشتیاں انجن کے بغیر چپوؤں کے سہارے رواں دواں تھیں۔ ہم نے دوسرے شہروں میں جانے والے چھوٹے مسافر جہازوں کا اڈہ بھی دیکھا جو پاکستان کے کسی بڑے شہر کے جنرل بس اسٹینڈ کا منظر پیش کر رہا تھا۔

اسی روز شام کو مغرب کے بعد ڈھاکہ کے ایک علاقہ گلشن بڈا میں مدرسہ فتاح العلوم کا جلسہ دستار بندی تھا جس میں شرکت کے لیے خاتم المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ کے فرزند اور دارالعلوم (وقف) دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمد انضر شاہ مسعودی بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔ جلسہ مغرب کے بعد شروع ہوا اور رات گئے تک جاری رہا۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور حضرت مولانا سید محمد انضر شاہ مسعودی نے نصیحت آموز خطابات کیے اور مدرسہ سے دورہ حدیث مکمل کرنے والے فضلاء کی دستار بندی کی۔

وہیں مجلس تحفظ ختم نبوت بنگلہ دیش کے سیکرٹری جنرل مولانا نور الاسلام سے ملاقات ہو گئی۔ ان سے راقم الحروف کی لندن میں ملاقات ہو چکی ہے، دیکھ کر بڑے خوش ہوئے اور شکوہ کیا کہ اتنے مختصر وقت کے لیے اور پہلے اطلاع دیے بغیر کیوں آئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اگر پروگرام کا پیشگی علم ہوتا تو تحریک ختم نبوت کے حوالے سے مختلف مقامات پر مفید اور مؤثر اجتماعات ہو سکتے تھے۔ ان کے اصرار پر اگلے روز مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں تحریک ختم نبوت کے سرکردہ حضرات سے ملاقات کا پروگرام بن گیا۔

۲۴ دسمبر کو مجلس تحفظ ختم نبوت ڈھاکہ کے دفتر میں گئے، علماء کرام کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ امیر مجلس مولانا عبید الحق صاحب اور مولانا نور الاسلام نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ اور حضرت مولانا سید محمد انضر شاہ صاحب نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد کے تقاضوں پر روشنی ڈالی۔ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ نے علماء پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داری پر غور کریں اور اسے نباہنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ معاشرہ میں فتنوں سے باخبر رہنا اور لوگوں کو ان سے آگاہ کرنا علماء کرام کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ توحید، عقیدۂ ختم نبوت اور سنتِ نبویؐ کا بطور خاص پرچار ضروری ہے کیونکہ یہی ہمارے دین کی اصل بنیادیں ہیں۔

دفتر ختم نبوت سے واپسی پر تحریک خلافت کے دفتر میں جانا ہوا جہاں تحریک کے سربراہ مولانا احمد اللہ اشرف نے حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کو تحریک کی سرگرمیوں اور پروگرام سے آگاہ کیا۔

۲۵ دسمبر کو نواکھالی جانے کا پروگرام تھا جہاں ضلع فینی میں علماء بازار کی مشہور دینی درسگاہ دارالعلوم حسینیہ میں علاقہ کے علماء کرام کا اجتماع رکھا گیا تھا۔ دارالعلوم حسینیہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے نام پر قائم ہوا ہے جس کے بانی حضرت مولانا عبد الحلیم قدس سرہ العزیز کا شمار بنگلہ دیش کے اکابر علماء میں ہوتا ہے۔ ہمارے میزبان مولانا محمد عبد اللہ کے والد محترم حضرت مولانا عبد الحمید صاحب انہی مولانا عبد الحلیم صاحبؒ سے بیعت ہیں اور انہی کے نام پر مدھوپور میں جامعہ حلیمیہ قائم کر رکھا ہے۔ علماء بازار کی یہ درسگاہ ایک دور میں جمعیۃ علماء اسلام کا مرکز رہی ہے۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ یہاں بارہا تشریف لا چکے ہیں۔ دارالعلوم حسینیہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا نور الاسلام صاحب باذوق عالم دین ہیں، کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور پختہ کار مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے عوامی مقرر بھی ہیں۔ دارالعلوم حسینیہ میں ان دنوں سالانہ تعطیلات تھیں، اس لیے طلبہ کی روایتی چہل پہل تو نظر نہیں آئی، البتہ اردگرد سے خاصے علماء کرام جمع تھے، اور بہت سے مدارس کے اساتذہ شکوہ کر رہے تھے کہ آپ حضرات ایسے وقت آئے ہیں جبکہ مدرسہ میں تعطیلات ہیں اس لیے حضرت شیخ الحدیث دامت برکاتہم کی تشریف آوری سے ہم کماحقہٗ استفادہ نہیں کر پا رہے۔

ڈھاکہ سے ڈیڑھ سو کلومیٹر کے لگ بھگ سفر تھا مگر سڑک بہت اچھی تھی اس لیے زیادہ دقت نہیں ہوئی۔ عصر کے بعد دارالعلوم حسینیہ کی مسجد میں حضرت شیخ الحدیث مدظلہ اور حضرت مولانا سید محمد انضر شاہ صاحب نے خطاب کیا اور مغرب کے بعد ہم واپس ڈھاکہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ اور گزرتے ہوئے علماء بازار کے ساتھ ہی حضرت مولانا عبد الحلیم صاحبؒ کے فرزند کے قائم کردہ ایک اور مدرسہ میں بھی حاضری ہو گئی۔

۲۶ دسمبر جمعۃ المبارک کو حضرت مولانا عبد الحمید صاحب کے ایک عقیدت مند کے ہاں ناشتہ تھا، یہاں کھانوں اور ناشتوں کا مسئلہ بھی خاصا صبر آزما ہوتا ہے۔ طرح طرح کی چیزیں ایک ترتیب کے ساتھ باری باری دستر خوان پر آتی رہتی ہیں اور ہر چیز کے کھانے پر اصرار ہوتا ہے۔ بنگالی دوستوں کی مہمان نوازی کے چرچے سن رکھے تھے، واسطہ پڑا تو سنی ہوئی باتیں کم لگنے لگیں۔ حتٰی کہ ایک دستر خوان پر راقم الحروف نے بنگلہ دیش کے علماء کرام سے ازراہِ تفنن پوچھ لیا کہ اگر اطعام بالجبر کی صورت میں دیت تک نوبت پہنچ جائے تو یہ دیت کس پر ہو گی؟ جواب میں زوردار قہقہہ لگا اور ایک بزرگ نے ایک اور ڈش میرے آگے کر دی۔

ناشتے سے فارغ ہو کر ہم روانہ ہونے لگے تو حضرت مولانا عزیز الحق صاحب آ گئے اور دروازے پر ہی ملاقات اور مصافحہ ہوا۔ ان کا تذکرہ پہلے ہو چکا ہے، مجلسِ خلافت کے نام سے ایک دینی جماعت کی قیادت کر رہے ہیں اور بنگلہ دیش کے بزرگ علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ ان دنوں ڈھاکہ سے چاٹگام کی طرف ’’لانگ مارچ‘‘ کی تیاری کر رہے تھے جو ہماری ڈھاکہ سے واپسی کے ایک دن بعد یعنی ۲۸ دسمبر کو ہونے والا تھا۔ اس لانگ مارچ میں ان کے ساتھ اور دینی جماعتیں بھی شریک تھیں۔

چاٹگام میں بھارت کی سرحد کے ساتھ پہاڑی علاقہ میں چکمہ قبائل کی شورش متحدہ پاکستان کے دور میں موجود تھی اور بنگلہ دیش بننے کے بعد بھی مسلسل جاری ہے۔ یہ غیر مسلم قبائل ہیں جنہیں مبینہ طور پر بھارت کا آشیرباد حاصل ہے اور وہ ایک عرصہ سے خودمختاری کے حصول کے لیے سرگرم ہیں۔ بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت نے گزشتہ دنوں ان قبائل کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت انہیں اندرونی خودمختاری کے ساتھ ساتھ باہر سے جا کر اس علاقہ میں آباد ہونے والوں کو روکنے بلکہ نکالنے کا حق بھی حاصل ہو گیا ہے۔ بنگلہ دیش کی بیشتر دینی و سیاسی شخصیات اس معاہدہ کو ملکی سالمیت کے لیے نقصان دہ قرار دے رہی ہیں اور ۲۸ دسمبر کا مذکورہ لانگ مارچ اسی معاہدہ کے خلاف احتجاج کے طور پر ہو رہا تھا۔

ناشتے سے فارغ ہو کر ہم جامعہ قرآنیہ لال باغ پہنچے جہاں علماء کرام کی ایک بڑی تعداد جمع تھی۔ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ اور حضرت مولانا سید محمد انضر شاہ مسعودی نے خطابات کیے اور وہاں سے حضرت شیخ الحدیث کا قافلہ مسجد بیت المکرم پہنچ گیا۔ جمعہ کے اجتماع سے قبل حضرت مولانا عبید الحق صاحب نے بنگلہ زبان میں حسبِ معمول خطاب کیا۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ نے عربی خطبہ ارشاد فرمایا اور نماز پڑھائی۔ نماز جمعہ کے بعد مولانا عبید الحق صاحب کے کمرہ میں پہنچے تو بہت سے لوگ جمع ہو گئے کہ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ ہمیں کچھ نصیحت فرمائیں اور ہمارے لیے دعا بھی کریں۔ چنانچہ حضرت شیخ الحدیث نے نماز کی اہمیت اور ضروری مسائل پر مختصر خطاب فرمایا اور مولانا عبید الحق صاحب نے اس کا بنگلہ میں ترجمہ کیا، اس کے بعد دعا ہوئی اور ہم اپنے دورہ بنگلہ دیش کی اصل منزل یعنی جامعہ حلیمیہ مدھوپور کے لیے روانہ ہو گئے۔

مدھوپور ڈھاکہ سے زیادہ دور نہیں ہے، پندرہ بیس کلومیٹر کا راستہ بتاتے ہیں، لیکن حضرت شیخ الحدیث صاحب کی علالت اور ضعف کی وجہ سے لمبا راستہ اختیار کیا گیا تاکہ پورا سفر گاڑی پر ہی ہو جائے۔ چنانچہ ایک ویگن پر مدھوپور کی قریبی ندی تک پہنچے، وہاں سے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ندی عبور کی اور عصر کے لگ بھگ مدھوپور پہنچ گئے۔

جامعہ حلیمیہ کا سالانہ جلسہ شروع تھا، کم و بیش دس پندرہ ہزار کے درمیان اجتماع لگ رہا تھا۔ جمعہ کی نماز سے پہلے بیانات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جو کسی وقفہ کے بغیر دوسرے روز گیارہ بجے تک جاری رہنا تھا۔ اس طرح کا شب و روز کا مسلسل جلسہ زندگی میں پہلی بار دیکھا کہ صرف نمازوں کا وقفہ ہو رہا ہے اور ایک جمِ غفیر جم کر علماء کرام کے بیانات مسلسل سن رہا ہے۔ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ نے مغرب کے بعد بخاری شریف کا آخری سبق پڑھایا اور علماء و طلبہ کے لیے بخاری شریف کے آخری باب کے علمی مباحث کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے لیے حجیتِ حدیث پر روشنی ڈالی۔ خطاب کے بعد جامعہ حلیمیہ میں دورہ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ کی دستار بندی کی اور اپنی قیام گاہ پر واپس آ گئے، جو جلسہ گاہ کے بالکل ساتھ تھی اور لاؤڈ اسپیکر کی مسلسل آواز کی وجہ سے حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کو ساری رات جاگ کر گزارنا پڑی۔ عشاء کی نماز کے بعد راقم الحروف اسٹیج پر پہنچا کہ حاضری لگا کر آرام سے نیند کر سکوں، مگر مجھے کہا گیا کہ آپ جا کر آرام کریں جب آپ کی باری آئے گی آپ کو بلا لیا جائے گا۔ چنانچہ رات اڑھائی بجے مجھے بیدار کیا گیا اور پونے تین بجے سے ساڑھے تین بجے تک کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع میسر آیا۔ میری گفتگو زیادہ تر دینی مدارس کی اہمیت اور ان کے معاشرتی کردار کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کے خلاف مغربی لابیوں کی مہم کے جائزہ پر مشتمل تھی۔

حضرت مولانا سید محمد انضر شاہ صاحب مسعودی نے بھی نصف شب کے قریب بخاری شریف کی پہلی حدیث کا درس دیا اور وہ رات ہی رات ڈھاکہ واپس چلے گئے۔ جبکہ ہم حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کے ہمراہ صبح نمازِ فجر کے بعد ڈھاکہ کے لیے روانہ ہو گئے، راستہ میں مولانا عبد الحمید صاحب کے ایک اور معتقد کے گھر ناشتہ تھا، ناشتہ سے فارغ ہو کر بھاگم بھاگ ایئرپورٹ پہنچے تو پتہ چلا کہ فلائٹ دو گھنٹے سے زیادہ لیٹ ہے۔

ڈھاکہ شہر کے درمیان کئی بار بازاروں اور سڑکوں سے گزرنے کا اتفاق ہوا اور ایک بات بطور خاص دیکھی کہ گھوڑا تانگہ یا گدھا ریڑھی کہیں نظر نہیں آئے، البتہ سائیکل رکشوں کی بھرمار تھی، اور سائیکل رکشا کے ساتھ ساتھ سائیکل ریڑھی بھی دیکھی جو بار برداری کے کام آتی ہے۔ سائیکل ریڑھیوں پر بالکل ہماری طرح کی گدھا گاڑیوں کی طرز پر سامان لادا جاتا ہے۔ ایک سائیکل ریڑھی کو اینٹیں لے جاتے دیکھا اور قاری عبید اللہ عامر صاحب نے ایک ریڑھی کی طرف توجہ دلائی جس پر ایک گائے بڑے مزے سے براجمان تھی اور انسان اسے کھینچ رہا تھا۔ اس کا ایک فائدہ تو محسوس ہوا کہ ڈھاکہ کی سڑکوں پر گوبر، لید اور اس سے پیدا ہونے والا گرد و غبار نظر نہیں آیا، مگر انسانی مشقت کو اس انتہا پر دیکھ کر یہ خیال ضرور ذہن میں آیا کہ اگر وسائل میسر ہوں تو ان ہزاروں بلکہ لاکھوں انسانوں کو متبادل موٹر رکشے مہیا کر کے اس مشقت اور تذلیل سے نجات دلانے کی کوئی صورت بنگلہ دیشی حکومت کو ضروری نکالنی چاہیے۔

کراچی پہنچے تو عصر کی نماز کا وقت تھا۔ عبد الرزاق خان، مفتی خالد محمود صاحب اور حاجی شمیم احمد شمسی ایئرپورٹ پر موجود تھے۔ حاجی شمیم احمد صاحب حضرت شیخ الحدیث کے پرانے عقیدت مند ہیں اور اس سے پہلے بھی حضرت شیخ ان کی رہائشگاہ واقع بہادر یار جنگ سوسائٹی میں قیام کر چکے ہیں۔ حاجی صاحب کے ہمراہ ان کے گھر پہنچے اور رات قیام کیا۔ حاجی صاحب نے شام کے کھانے پر احباب کو بلا رکھا تھا، حضرت مولانا عبد الرزاق سکندر، حضرت مولانا مفتی محمد نعیم صاحب، مفتی خالد محمود صاحب، حضرت مولانا رشید الحسن صاحب، حضرت مولانا فضل اللہ صاحب آف لکی مروت اور ان کے علاوہ اور بہت سے حضرات جمع تھے۔

۲۸ دسمبر کو صبح آٹھ بجے پی آئی اے کی سیٹیں عبد الرزاق خان صاحب نے کنفرم کرا رکھی تھیں، چنانچہ دس بجے کے لگ بھگ لاہور پہنچے۔ گوجرانوالہ سے قاری عبید اللہ عامر صاحب کے شاگرد عمر سلیم شیخ اور علی شیخ گاڑی لے کر پہنچے ہوئے تھے، ان کے ہمراہ تقریباً ساڑھے بارہ بجے ہم واپس گکھڑ پہنچ گئے۔

   
2016ء سے
Flag Counter