ایرانی راہنما مولانا عبد العزیزؒ کے فرزند ڈاکٹر عبد الرحیم سے ملاقات

   
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۱۹۹۸ء

گزشتہ دنوں لندن میں مقیم ایران کے سنی راہنما ڈاکٹر عبد الرحیم راقم الحروف سے ملاقات کے لیے ابوبکرؓ اسلامک سنٹر ساؤتھال براڈوے میں تشریف لائے اور ان سے ایران کے برادرانِ اہلِ سنت کے مسائل و حالات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

ڈاکٹر عبد الرحیم ایرانی بلوچستان کے صدر مقام زاہدان سے تعلق رکھنے والے بزرگ عالمِ دین حضرت مولانا عبد العزیزؒ کے چھوٹے بھائی ہیں، جو اپنے دور میں ایران کے سب سے بڑے سنی عالمِ دین شمار ہوتے تھے، شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری قدس اللہ سرہ العزیز کے تلامذہ میں سے تھے، اور حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے ساتھ خصوصی تعلق رکھتے تھے۔ راقم الحروف ان سے کراچی اور تہران میں دو ملاقاتوں کا شرف حاصل کر چکا ہے۔

حضرت مولانا عبد العزیزؒ زاہدان کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب تھے، شہنشاہیت کے خلاف انقلابی جدوجہد میں شریک تھے، اور انقلاب کے بعد انقلابی کونسل اور دستور ساز اسمبلی کے رکن رہے ہیں۔ لیکن جلد ہی انقلابی حکومت کے فرقہ وارانہ رجحانات اور تعصبات کے ہاتھوں مجبور ہو کر علیحدگی اختیار کر لی اور گوشہ نشین ہو گئے، اور پھر اسی گوشہ نشینی کے عالم میں چند برس قبل ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کا خاندان ابتلا و آزمائش کے بھنور میں پھنس گیا۔ مولانا مرحوم کے ایک بیٹے عبد الناصر دو برس قبل کراچی میں اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ قتل ہوئے، اور چھوٹے بھائی ڈاکٹر عبد الرحیم لندن میں سیاسی پناہ حاصل کیے ہوئے ہیں، جبکہ خاندان کے دیگر افراد مختلف ممالک میں بکھرے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر عبد الرحیم نے جو حالات بتائے ہیں ان پر ہم اس سے قبل ان صفحات میں گفتگو کر چکے ہیں کہ ایران کے برادرانِ اہلِ سنت کو اس صورتحال کا سامنا ہے کہ وہ ملک میں کم و بیش پچیس فیصد ہونے کے باوجود سیاسی نظام میں کسی درجہ میں بھی شریک نہیں ہیں۔ انہیں دستور میں طے شدہ حقوق حاصل نہیں ہیں، وہ اپنے حقوق کے لیے منظم جدوجہد کرنے اور آواز بلند کرنے کی سہولت سے محروم ہیں، ان کے علماء اور کارکنوں کو ریاستی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان کی متعدد مساجد اور مدارس بند کر دیے گئے ہیں، اور انہیں اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں اہلِ اقتدار کے توہین آمیز ریمارکس اور متعصبانہ طرز عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی دینی جماعتیں اس طرف توجہ دیں اور ایران کے برادرانِ اہلِ سنت کے جائز حقوق کے لیے کلمۂ حق بلند کرتے ہوئے ان کی حمایت کریں۔ ہمارے خیال میں اسلامی سربراہ کانفرنس کے جدہ سیکرٹریٹ، رابطہ عالم اسلامی، مؤتمر عالمِ اسلامی، اور عالمِ اسلام کی دیگر بین الاقوامی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے وفود ایران بھیج کر وہاں کے اہلِ سنت کے حالات کا جائزہ لیں، اور ان کی جو شکایات بھی درست اور جائز ہوں ان کے ازالہ کے لیے ایرانی حکومت پر دباؤ ڈالیں، تاکہ ایران کے اہلِ سنت اپنے مسلّمہ حقوق سے بہرہ ور ہو کر عزت و وقار کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter