مشرف حکومت سے مطالبات اور ملک گیر ہڑتال

   
تاریخ اشاعت: 
جون ۲۰۰۰ء

ملک بھر کے عوام نے ۱۹ مئی کو دینی جماعتوں اور تاجر برادری کی اپیل پر ملک گیر ہڑتال کر کے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے اسلامی تشخص، دستور کی اسلامی دفعات، عقیدۂ ختم نبوتؐ کے تحفظ، اور ناموسِ رسالتؐ کی حفاظت کے لیے پاکستانی قوم ماضی کی طرح آج بھی پوری طرح متحد ہے، اور دینی جماعتوں کے قائدین اس حوالے سے حالات پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے ہڑتال سے ایک روز پہلے اعلان کر دیا کہ وہ توہینِ رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون پر عملدرآمد کے طریق کار کے بارے میں وہ ترامیم واپس لے رہے ہیں جس کے تحت توہینِ رسالتؐ کے کسی واقعہ میں ایف آئی آر کے اندراج کے لیے ڈپٹی کمشنر کی پیشگی منظوری کو شرط قرار دیا گیا تھا۔ مگر دینی جماعتوں کے قائدین نے اس اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہڑتال کا فیصلہ (۱) توہینِ رسالتؐ کی سزا کے قانون کے ساتھ ساتھ (۲) دستور کی اسلامی دفعات اور عقیدۂ ختمِ نبوتؐ سے متعلق دستوری شقوں کو عبوری آئین کا حصہ بنانے (۳) اور جمعہ کی چھٹی بحال کرنے کے مطالبات کے لیے کیا گیا تھا، اس لیے ہڑتال پروگرام کے مطابق ہو گی۔

چنانچہ ہڑتال پروگرام کے مطابق ہوئی اور ملک بھر میں دینی جماعتوں کے ان مطالبات کی بھرپور حمایت کی گئی، جو اِن مطالبات کے حق میں عوامی ریفرنڈم کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے ہم جنرل پرویز مشرف سے گزارش کریں گے کہ وہ اس عوامی ریفرنڈم کا احترام کرتے ہوئے دینی جماعتوں کے تمام مطالبات کو منظور کریں۔ اور قراردادِ مقاصد، عقیدۂ ختم نبوتؐ، توہینِ رسالتؐ کی سزا، اور دیگر اسلامی قوانین کے بارے میں دستوری دفعات کو عبوری آئین میں شامل کرنے کا فرمان جاری کریں تاکہ اس سلسلہ میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کا ازالہ ہو سکے۔

   
2016ء سے
Flag Counter