نائجیریا میں نفاذِ شریعت کا سلسلہ

   
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۲۰۰۰ء

روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۲۱ اگست ۲۰۰۰ء کی خبر کے مطابق افریقی ملک نائجیریا میں مسلم اکثریت کی حامل آٹھویں ریاست بورتو میں بھی شرعی قوانین کے نفاذ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ جبکہ اس سے قبل نائجیریا کی سات ریاستوں میں نفاذِ شریعت کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ بورتو میں ایک پرہجوم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی گورنر نے شرعی قوانین کے نفاذ کا اعلان کیا، اور بتایا کہ حدودِ شرعیہ کا اطلاق صرف مسلمانوں پر ہو گا۔ مگر خبر کے مطابق اس کے باوجود عیسائی باشندوں نے شرعی قوانین کے نفاذ کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور تین روزہ اجتماعی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل نائجیریا کی بعض دیگر ریاستوں میں نفاذِ شریعت کے موقع پر بھی عیسائی باشندوں نے احتجاجی پروگراموں کا سلسلہ شروع کیا تھا، جس کے نتیجے میں خونریز فسادات بھی رونما ہو چکے ہیں۔ حالانکہ کسی بھی ملک کے عوام کو جمہوری اصولوں کے مطابق بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اکثریت کے رجحانات و عقائد کے مطابق نظامِ حکومت اپنائیں۔ اور جب اقلیتی آبادی کو شرعی قوانین کے اطلاق سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے تو اس کے بعد انہیں اس پر اعتراض کا کوئی حق نہیں پہنچتا، اور عیسائی آبادی کا یہ احتجاج مسلّمہ اصولوں اور اخلاقیات کے منافی ہے۔

ہمارے خیال میں دنیا بھر میں مسلم اکثریت کے ممالک میں عیسائی اقلیت کو ایک عرصہ سے خاص طور پر اس انداز میں منظم اور متحرک کیا جا رہا ہے کہ وہ نفاذِ اسلام کی راہ میں رکاوٹ ڈالیں، اور شرعی احکام و قوانین کی عملداری میں مزاحم ہوں۔ خود ہمارے ملک میں مسیحی مشنریوں اور ان کی ہمنوا این جی اوز کا کردار بھی یہی ہے۔ اس لیے اسلامی تحریکات کو نفاذِ اسلام کے سلسلہ میں جدوجہد کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ مسیحی مشنریوں اور این جی اوز کی کارکردگی پر بھی نظر رکھنا ہو گی اور ان سے چوکنا رہ کر ان کی سرگرمیوں کا توڑ تلاش کرنا ہو گا۔

   
2016ء سے
Flag Counter