چند گھنٹے چیف آف آرمی اسٹاف کے ساتھ

   
تاریخ : 
۲۰ نومبر ۲۰۲۳ء

۱۷ نومبر کو جمعۃ المبارک کا بیشتر دن چیف آف آرمی اسٹاف محترم حافظ سید عاصم منیر کے ساتھ گزارنے کا موقع ملا۔ انہوں نے ملک کے مختلف مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام کو اپنی پالیسیوں کے حوالے سے بریف کرنے کے لیے دعوت دے رکھی تھی جن میں راقم الحروف بھی شامل تھا۔ یہ ایک اچھی روایت ہے کہ مختلف حوالوں سے قومی پالیسیوں کے ذمہ دار حکام متعلقہ شعبوں کے ماہرین کو اعتماد میں لیتے رہیں اور ان کی مشاورت و اعتماد کی وقتاً فوقتاً عملی صورتیں سامنے آتی رہیں۔

ہمیں کہا گیا تھا کہ صبح آٹھ بجے سے نو بجے تک ناشتہ ہو گا اور اس کے بعد مشاورت و بریفنگ کا آغاز ہو جائے گا۔ میں رات اسلام آباد میں تھا، صبح آٹھ بجے مقررہ مقام پر پہنچ گیا، بہت سے بزرگوں سے ملاقات ہوئی اور تبادلۂ خیالات بھی ہوتا رہا۔ مگر اجلاس کے مقام پر پہنچنے میں تکنیکی امور کے باعث خاصی دیر ہو گئی جبکہ آرمی چیف محترم ساڑھے دس بجے کے بعد تشریف لائے۔ انہوں نے سب سے پہلے سوشل میڈیا کی صورتحال پر اظہار خیال کیا جو ہم سب کے دلوں کی ترجمانی تھی کہ ملک کے نظریاتی اور دینی حلقوں کے میڈیا کی مجموعی کارکردگی کے بارے میں تحفظات و شکایات کم و بیش وہی ہیں جن کا جنرل سید عاصم منیر نے اظہار کیا۔ میں ان کی دردِ دل سے بھرپور گفتگو سن رہا تھا اور دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا کہ کم از کم خدشات و تحفظات کے احساس و ادراک اور ان کے اظہار میں تو ہمارے ساتھ ہم آہنگ ہیں، اللہ کرے کہ اس سے آگے کی کوئی صورت نکل آئے، آمین یا رب العالمین۔

آرمی چیف صاحب سید زادہ ہیں اور قرآن کریم کے حافظ ہیں، وہ مختلف آیات بہت اچھے تلفظ اور لہجے کے ساتھ پڑھ رہے تھے اور پورے اعتماد کے ساتھ ان سے اپنے ارشادات کے لیے استدلال کر رہے تھے۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ شاید محترم ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ تعالیٰ کا تربیت یافتہ کوئی تجربہ کار لیکچرار قرآن کریم کا درس دے رہا ہے۔ بہرحال یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ علماء کرام کے ساتھ ملک کا کوئی اسٹیک ہولڈر ان کی فریکوینسی اور لہجے میں بات کر رہا ہے۔

آرمی چیف نے غزہ فلسطین کی صورتحال پر بھی بات کی اور اپنے دردِ دل کا اظہار کرتے ہوئے مسلم دنیا کی بے بسی کا ذکر کیا، جو اُن کے خیال میں شاید حالات کے جبر کا نتیجہ ہو گی، مگر ہمارے جیسے دل جلے اسے بے حسی اور بے پروائی سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور اس موقع پر اس مسئلہ پر جس راہنما نے بھی اظہار خیال کیا اس کا احساس اسی صورت میں دکھائی دیا۔ البتہ یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ یہاں بھی ہمارے حکمران قلبی احساسات اور ذہنی رجحانات میں عام مسلمانوں کے ساتھ ہم آہنگی رکھتے ہیں۔

آرمی چیف نے افغانستان کے مسئلہ پر بہت تفصیل کے ساتھ گفتگو کی اور اپنے عزائم کا اظہار کیا جن سے اندازہ ہوا کہ اس سلسلہ میں بہت کچھ ہونے جا رہا ہے، جس پر ملک کے دینی حلقوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ میں اس حوالے سے ایک روز قبل وفاقی وزیر مذہبی امور محترم انیق احمد صاحب کے ساتھ ان کے دفتر میں ملاقات کر کے اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کر چکا تھا کہ جہاں تک غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم افغان باشندوں کو ان کے ملک میں جلد واپس بھیجنے کا تعلق ہے، یہ ہماری قومی ضرورت ہے لیکن اس کے عنوان پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اسے افغانوں کے خلاف کاروائی کے تاثر اور ماحول سے نکال کر قانون شکنی اور جرائم کے ارتکاب کے حوالے سے غیر قانونی طور پر مقیم باشندوں تک محدود رکھنے کی ضرورت ہے۔ عالمی صورتحال اور علاقائی ایجنڈوں کے تناظر میں شاید ہم اس کے نتائج کے متحمل نہ ہو سکیں، جو بہرحال قومی مفاد میں دکھائی نہیں دے رہے۔

آرمی چیف نے اپنے عزائم کا بھی دوٹوک اظہار کیا ہے جو انتہائی قابل توجہ ہے اور ملک کے سیاسی، دینی اور نظریاتی حلقوں کو اس پر سنجیدگی کے ساتھ متوجہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے ملک کے اندر ریاست کی رٹ کو تسلیم نہ کرنے اور دستور و قانون کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والے عناصر کے بارے میں بھی کھل کر گفتگو کی جس سے کسی کو بھی اختلاف نہیں ہو سکتا۔ اور اس بریفنگ میں بھی مختلف مکاتب فکر کے جن سرکردہ راہنماؤں نے اظہار خیال کیا، انہوں نے دوٹوک انداز میں ان کے اس موقف کی حمایت کی کہ ملک کے اندر یا باہر سے امنِ عامہ اور ریاست کی رٹ کے خلاف کوئی بھی کاروائی سامنے آئے تو پوری قوم اس کے سدباب کے لیے ریاست اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چنانچہ اس حوالے سے ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کا اس موقع پر نہ صرف بار بار ذکر ہوا بلکہ ایک لحاظ سے اس کی دوبارہ تجدید اور تمام مکاتب فکر کی طرف سے اس کمٹمنٹ کا اعادہ بھی ہو گیا، فالحمد للہ علیٰ ذٰلک۔ بہرحال اس ماحول میں کم و بیش آٹھ نو گھنٹے گزارنے کے بعد پانچ بجے کے لگ بھگ میں اپنے ساتھیوں حافظ خرم شہزاد اور شاہد میر کے ساتھ سیالکوٹ کی طرف روانہ ہو گیا۔

   
2016ء سے
Flag Counter