تحفظِ حقوقِ نسواں بل اور خصوصی علماء کمیٹی

   
تاریخ اشاعت: 
۲۴ ستمبر ۲۰۰۶ء

میرے لیے یہ خبر افسوس اور رنج کا باعث بنی ہے کہ محترم جاوید احمد غامدی صاحب نے اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت سے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے۔ غامدی صاحب علومِ عربیہ کے ممتاز ماہرین میں شمار ہوتے ہیں اور دینی لٹریچر پر بھی ان کی گہری اور وسیع نظر ہے، اسلامی نظریاتی کونسل میں ایسے فاضلین کی موجودگی بہت سے معاملات میں راہنمائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ امام اعظم امام ابوحنیفہؒ کی فقہی مجلس میں، جہاں بحث و مباحثہ اور مشترکہ فکری کاوش کے ساتھ مسائل کا فقہی حل تلاش کیا جاتا تھا، مختلف اور متنوع علوم و فنون کے ماہرین شریک ہوتے تھے اور ان کی موجودگی اس بات کی ضمانت سمجھی جاتی تھی کہ مسئلہ کے تمام علمی اور فنی پہلوؤں پر غور و خوض کے بعد اس کا حل پیش کیا گیا ہے۔ محترم ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی صاحب نے ایک مستقل کتابچے میں امام ابوحنیفہؒ کی اس فقہی مجلس کا تعارف کرایا ہے، جو آج کے دور میں اجتماعی اجتہاد کو آگے بڑھانے کے لیے خاصی راہنمائی مہیا کرتا ہے۔ البتہ محترم جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنے احتجاجی استعفیٰ کی جو وجوہ بیان کی ہیں ان کے بارے میں کچھ گزارشات پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ انہوں نے اپنے استعفیٰ کی دو وجوہ بیان فرمائی ہیں:

  1. ایک یہ کہ ’’تحفظِ حقوقِ نسواں بل‘‘ پر مشاورت کے لیے حکومت نے علماء کرام کی جو کمیٹی بنائی تھی، غامدی صاحب کے نزدیک وہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بائی پاس کرنے کی ایک صورت تھی، جس سے ان کے خیال میں ایک آئینی ادارے کا وقار مجروح ہوا ہے، اور وہ اس کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت برقرار رکھنے میں کوئی افادیت نہیں سمجھتے۔
  2. دوسری وجہ انہوں نے یہ بیان کی ہے کہ صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے نافذ کردہ حدود آرڈیننس کے بارے میں وہ یعنی غامدی صاحب گزشتہ پچیس تیس سال سے جو کچھ فرماتے آ رہے ہیں اس کو قبول نہیں کیا جا رہا۔ اس ضمن میں انہوں نے متعدد مسائل کی نشاندہی بھی کی ہے جس میں ان کی رائے باقی علماء کرام سے مختلف ہے اور انہیں شکایت ہے کہ ان کی رائے کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔

جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے، میں چونکہ اس ’’خصوصی علماء کمیٹی‘‘ کا ایک ممبر ہوں اس لیے اس وضاحت کا حق رکھتا ہوں کہ اسے خواہ مخواہ مسئلہ بنا لیا گیا ہے۔ اس سے قبل ایم کیو ایم اور بعض دیگر حلقوں نے علماء کی خصوصی کمیٹی کو قومی اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی کے متوازی قرار دے کر یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس کمیٹی کے ذریعے قومی اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی کو بائی پاس کیا گیا ہے، جو جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ خود ہمارے ساتھ مذاکرات کے دوران ایم کیو ایم کے رہنماؤں جناب فاروق ستار اور ان کے دیگر رفقاء نے یہی بات کی تو ہم نے ان سے عرض کیا کہ علماء کی یہ کمیٹی قومی اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی کی متبادل یا اس کے متوازی نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے اختیارات اور پراسیس کی نفی کر رہی ہے۔ بلکہ اس کی حیثیت صرف اتنی ہے کہ تحفظِ حقوقِ نسواں بل پر باہمی تنازعہ اور کشمکش کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان ملاقات ہوئی تو مولانا فضل الرحمٰن نے چودھری صاحب سے کہا کہ تحفظِ حقوقِ نسواں بل کی بعض شقوں کے بارے میں متحدہ مجلس عمل کے علماء کرام کی رائے یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت کے صریح احکام سے متصادم ہے، اس لیے ان کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر چودھری شجاعت حسین صاحب اور حکومتی حلقے مناسب سمجھیں تو ایسے علماء سے بھی رائے لے لیں جن کے بارے میں انہیں اطمینان ہو کہ وہ اس مسئلہ سے واقفیت رکھتے ہیں اور موجودہ سیاسی کشمکش میں فریق نہیں ہیں، تاکہ ان کو اس بات کا اطمینان ہو جائے کہ متحدہ مجلس عمل کے علماء کرام تحفظِ حقوق نسواں بل کے بارے میں جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ سیاسی مخاصمت کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ علمی اور دینی حوالے سے ہے۔

اس پر چودھری شجاعت حسین صاحب نے فیصلہ کیا کہ ایسا کر لیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے، لہٰذا انہوں نے چند علماء کرام کے نام اس مقصد کے لیے تجویز کیے جن سے مولانا فضل الرحمٰن نے بھی اتفاق کر لیا۔ اس طرح اس غرض کے لیے (۱) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی (۲) مولانا حسن جان (۳) مولانا مفتی منیب الرحمٰن (۴) مولانا مفتی غلام الرحمٰن (۵) مولانا قاری محمد حنیف جالندھری (۶) مولانا ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی (۷) اور راقم الحروف ابوعمار زاہد الراشدی پر مشتمل خصوصی علماء کمیٹی وجود میں آئی۔ جو صرف اس مقصد کے لیے قائم کی گئی کہ حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور ان کے رفقاء اس بات کی تسلی کر لیں کہ تحفظِ حقوقِ نسواں بل کے بارے میں متحدہ مجلس عمل کے علماء کرام کی طرف سے جو کچھ کہا جا رہا ہے اس کی علمی اور دینی حیثیت کیا ہے؟

چنانچہ اس کمیٹی کے سامنے چودھری صاحب نے یہی بات کی کہ آپ حضرات کو صرف اس لیے زحمت دی گئی ہے کہ تحفظِ حقوقِ نسواں بل کے بارے میں جو یہ کہا جا رہا ہے کہ اس میں قرآن و سنت کے منافی باتیں بھی شامل ہیں، اس کے بارے میں آپ حضرات رائے دیں، اور اگر آپ کے نزدیک بھی اس بل میں قرآن و سنت سے متصادم کوئی بات ہو تو اس کی نشاندہی کر کے ہمیں سمجھا دیں، کیونکہ یہ بات ہم نے طے کر رکھی ہے اور یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے کہ قرآن و سنت کے منافی کوئی بات ہم قطعاً نہیں کریں گے۔

سچی بات یہ ہے کہ چودھری شجاعت حسین صاحب اور ان کے ساتھ چودھری پرویز الٰہی صاحب اور ان کے دیگر رفقاء کے اس جذبہ کی قدر کرتے ہوئے ہم نے یہ ذمہ داری قبول کی اور باہمی مشاورت میں طے کیا کہ ہم اپنے غور و خوض اور رائے کو صرف اسی اصول تک محدود رکھیں گے، باقی تفصیلات میں جب تک ہمیں دوبارہ نہ کہا جائے، نہیں جائیں گے۔ اور پوری دیانتداری اور شرح صدر کے ساتھ اپنی رائے دیں گے۔

اس سلسلہ میں لطف کی بات یہ ہے کہ ۶ ستمبر کو عشاء کے بعد جب قومی اسمبلی کے کمیٹی روم میں پہلا اجلاس ہوا تو چودھری شجاعت حسین صاحب وفاقی وزراء کی ایک ٹیم کے ساتھ موجود تھے، ایم ایم اے کے علماء کرام بھی شریک تھے، کمیٹی کے بیشتر ارکان بھی حاضر تھے۔ اس کے علاوہ ہمارے دو اور فاضل دوست محترم ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی صاحب اور ڈاکٹر محمد فاروق صاحب آف مردان (جو غامدی صاحب محترم کے رفیق خاص ہیں) بھی تشریف فرما تھے، جنہیں خاص اس مقصد کے لیے زحمت دی گئی تھی کہ علماء کرام اگر اس بل کی بعض شقوں پر بات کریں تو موقع پر ہی ان کے ساتھ مباحثہ بھی ہو جائے۔ ہمارے یہ دونوں محترم دوست اس مباحثے کے لیے باقاعدہ تیاری کر کے آئے تھے، حتیٰ کہ محترم ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی صاحب تو روایتی مناظرین کی طرح کتابوں کی گٹھڑی بھی ساتھ لائے تھے۔ انہوں نے بعض مسائل پر بحث شروع کرنے کی کوشش بھی کی، مگر ہم اس وقت اس قسم کے مباحثے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ایک تو اس لیے کہ تحفظِ حقوقِ نسواں بل اور اس کے بارے میں قومی اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی کی رپورٹ ہمیں اسی مجلس میں دی گئی تھی جو ہم نے اس سے قبل نہیں دیکھی تھی، اور ہم اسے پوری طرح پڑھے بغیر کوئی رائے نہیں دے سکتے تھے۔ دوسرا اس لیے کہ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مجلس میں بلکہ اس وقت ملک میں ہی موجود نہیں تھے، اور چونکہ وہ اپنے علم اور تجربہ دونوں حوالے سے اس مسئلہ سے زیادہ گہری واقفیت رکھتے ہیں، اس لیے ہم ان کی غیر موجودگی میں کوئی رائے قائم نہیں کرنا چاہتے تھے۔

چنانچہ ہم نے دوٹوک کہہ دیا کہ ہم بل اور سلیکٹ کمیٹی کی رپورٹ کو پڑھے بغیر کوئی رائے نہیں دیں گے، اور چونکہ مولانا محمد تقی عثمانی ۹ ستمبر کو بیرون ملک سے واپس آ رہے ہیں، اس لیے ہم اس بل پر بات کرنے کے لیے ۱۱ ستمبر پیر کو بیٹھ سکیں گے، اس وقت تک ہمیں مہلت دی جائے، ہم رائے بھی دیں گے اور اگر کسی علمی مباحثہ کی نوبت آئی تو اس میں بھی شریک ہوں گے، کیونکہ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ باہمی افہام و تفہیم اور مکالمہ و مباحثہ کے ذریعے اتفاقِ رائے کی کوئی صورت اگر ہو سکتی ہو تو پیدا کر لی جائے۔ مگر اس وقت محترم ڈاکٹر محمد فاروق صاحب نے ایک ایسی بات فرما دی جو ہمارے لیے تو حیرت کا باعث بنی ہی، مجلس کے دوسرے شرکاء بھی چونکے بغیر نہ رہ سکے۔ محترم ڈاکٹر صاحب کا یہ ارشاد تھا کہ اس مسئلہ پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکتا، اس لیے کہ قرآن و سنت کی تعبیرات و تشریحات اپنی اپنی ہیں اور ان الگ الگ تعبیرات و تشریحات کے ہوتے ہوئے متفقہ رائے قائم نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ مجلس کسی نتیجے پر پہنچے بغیر برخواست ہو گئی۔

لیکن جب ہم دوبارہ اس مقصد کے لیے ۱۰ ستمبر کو اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں مل بیٹھے تو ہمارے سامنے محترم ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی صاحب اور ڈاکٹر محمد فاروق خان صاحب تشریف فرما نہیں تھے، بلکہ وزارتِ قانون کے اعلیٰ افسران ہمارے ساتھ گفتگو کے لیے موجود تھے۔ جبکہ چودھری شجاعت حسین صاحب، چودھری پرویز الٰہی صاحب، اور اس مسئلہ پر قائم ہونے والی قومی اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی کے سربراہ سردار نصر اللہ دریشک بعض دیگر رفقاء کے ہمراہ شریکِ محفل تھے۔ ہم اس تبدیلی کی وجہ دریافت نہیں کر سکے، ویسے بھی ہمیں رائے دینے کے لیے بلایا گیا تھا، مباحثہ و مناظرہ ہمارے ایجنڈا میں شامل نہیں تھا۔ البتہ میرا خیال ہے کہ پہلی نشست میں ڈاکٹر محمد فاروق صاحب کا مذکورہ ارشاد گرامی اس تبدیلی کا باعث بنا اور ہم ان دوستوں کے ساتھ اس مقصد کے لیے دوبارہ مل بیٹھنے کے موقع سے محروم ہو گئے، البتہ ان کی نمائندگی مسلسل ہوتی رہی۔ چنانچہ وزارتِ قانون کے افسران کے ساتھ طویل گفتگو اور مباحثہ کے دوران ان کی طرف سے جو کچھ کہا جاتا رہا وہ محترم ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی صاحب اور ڈاکٹر محمد فاروق خان صاحب، یا بالفاظِ دیگر محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے نقطۂ نظر کی ترجمانی پر ہی مشتمل تھا۔

مثال کے طور پر ایک مسئلہ یہ تھا کہ تحفظِ حقوقِ نسواں بل میں حدِ شرعی کے نفاذ کے حوالے سے زنا بالجبر اور زنا بالرضا کے حکم میں فرق کیا گیا ہے، اور زنا بالجبر کو حدِ شرعی کے دائرے سے نکال کر تعزیرات میں شامل کیا گیا ہے، جو ہمارے نزدیک قرآن و سنت کے اصولوں سے متصادم ہے۔ اس لیے کہ حدِ شرعی کے نفاذ کے حوالے سے قرآن و سنت نے جبری زنا اور رضامندی کے زنا میں کوئی فرق نہیں کیا، بلکہ احادیث میں یہ روایت موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح رضامندی کے زنا پر حدِ شرعی جاری کی ہے، اسی طرح جبری زنا کے ایک کیس میں بھی مجبور کی جانے والی خاتون کو بری کر کے جبر کرنے والے مرد پر شرعی حد جاری کی تھی۔ اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عملی فیصلے کے بعد اس سلسلہ میں مزید کسی وضاحت کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔

جبکہ وزارتِ قانون کے ایک اعلیٰ افسر کا اصرار تھا کہ رضامندی کے زنا اور جبری زنا میں حد کے نفاذ کے سلسلہ میں فرق موجود ہے۔ ہم نے حوالہ پوچھا تو فرمایا کہ حضرت مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے ’’تدبرِ قرآن‘‘ میں یہ فرق کیا ہے۔ اس پر میں نے ہی ان سے دریافت کیا کہ کیا ان سے پہلے بھی امت میں کسی نے یہ کہا ہے؟ فرمانے لگے کہ مولانا حمید الدین فراہیؒ نے بھی یہی لکھا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ مولانا فراہیؒ، مولانا اصلاحیؒ اور محترم غامدی صاحب تو ایک ہی ہیں، میں ان سے پہلے امت کے فقہی مذاہب کی بات کر رہا کہ حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی، ظاہری، بلکہ جعفری اور زیدی میں سے کسی فقہی مکتبِ فکر نے یہ قبول کیا ہو تو غور کیا جا سکتا ہے۔ اس کے جواب میں وہ خاموش رہے تو میں نے عرض کیا کہ جن فقہی مذاہب پر امتِ مسلمہ کا تیرہ سو سال سے عمل چلا آ رہا ہے، مولانا فراہیؒ یا مولانا اصلاحیؒ کے ایک تفرد پر یہ سب کچھ قربان نہیں کیا جا سکتا۔

ہماری یہ گزارش مجلس کے شرکاء کی سمجھ میں آ گئی اور طے ہو گیا کہ حد کے بارے میں رضامندی اور جبر کے زنا کا فرق ختم کر دیا جائے، اور زنا بالجبر پر بھی شرعی ثبوت کی صورت میں حد جاری کرنے کے قانون کو بحال کیا جائے۔ یہ میں نے صرف ایک مثال دی ہے، ورنہ دو تین روز کی اس محفل میں اس طرح کی اور بھی بہت سی باتیں ہوئیں جنہیں کسی اور موقع پر قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

اس پس منظر میں محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے اس ارشاد سے میں اختلاف کر رہا ہوں کہ علماء کی خصوصی کمیٹی کو مشورے کے لیے بلانے سے اسلامی نظریاتی کونسل کے دائرہ کار یا اختیارات پر کوئی اثر پڑا ہے، اس لیے کہ جیسے ہماری کمیٹی قومی اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی کے متوازن یا متبادل نہیں ہے، اسی طرح اسلامی نظریاتی کونسل کے متوازی اور متبادل بھی نہیں ہے۔ ہم نے چودھری شجاعت حسین صاحب کے کہنے پر صرف ایک نکتہ پر اپنی رائے دی ہے اور انہی کے کہنے پر وزارتِ قانون کے اعلیٰ افسران کو اس بات پر مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہم جو رائے دے رہے ہیں قرآن و سنت کی تعلیمات کا منشا وہی ہے۔ اس سے زیادہ ہمارا کوئی کردار نہیں ہے اور نہ ہماری رائے کو کوئی آئینی اور قانونی درجہ حاصل ہے۔ یہ بل ہماری رائے سمیت دوبارہ سلیکٹ کمیٹی میں جا سکتا ہے، بلکہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن کا یہ مطالبہ اخبارات میں آ چکا ہے کہ تحفظِ حقوقِ نسواں بل کو علماء کمیٹی کی سفارشات کے ساتھ سلیکٹ کمیٹی میں دوبارہ بھیجا جائے۔ اسی طرح اسلامی نظریاتی کونسل بھی اس پر غور کر سکتی ہے، اور میری معلومات کے مطابق کونسل کو یہ اختیار حاصل ہے کہ حکومت اس کے پاس بل نہ بھی بھیجے تو وہ اپنے کسی رکن کی تحریک پر ایسا کر سکتی ہے۔ اس لیے اس کمیٹی کو اسلامی نظریاتی کونسل کے متوازی قرار دے کر اسے احتجاجی استعفیٰ کی بنیاد بنانا میرے خیال میں درست طریق کار نہیں ہے اور محترم جاوید احمد غامدی صاحب کو اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

باقی رہی بات کسی تعبیر و تشریح کو قبول کرنے یا نہ کرنے کی، تو میں بڑے ادب و احترام کے ساتھ غامدی صاحب سے عرض کرنا چاہوں گا کہ اس کے لیے صرف کسی صاحبِ علم کا اسے پیش کر دینا اور اس پر اپنے خیال میں دلائل قائم کر دینا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ امت میں اسے قبولیت حاصل ہونا بھی ضروری ہے۔ امت میں حسن بصریؒ، سفیان ثوریؒ، لیث بن سعدؒ اور امام بخاریؒ کے درجے کے بیسیوں فقہائے کرام موجود ہیں، جن کے علم و فضل اور کردار و تقویٰ کے تمام تر احترام کے باوجود ان کی فقہی آرا اور تعبیرات و تشریحات کو امت نے قبول نہیں کیا، اسی لیے ان پر عمل ہی نہیں ہو رہا۔ تو آج بھی کسی صاحبِ علم کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ ان کی تعبیر و تشریح کو امت میں قبولیت کا درجہ حاصل ہوئے بغیر واجب العمل سمجھ لیا جائے گا۔

   
2016ء سے
Flag Counter