اب ’’اسلامی سیکولرازم‘‘ کا سبق

   
تاریخ : 
یکم فروری ۲۰۰۲ء

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے گزشتہ روز صدر جنرل پرویز مشرف کے ترجمان کی طرف سے یہ وضاحت جاری کی ہے کہ صدر محترم کے ایک عالمی اخبار کو دیے گئے حالیہ انٹرویو کے حوالہ سے ان کی طرف سے پاکستان کو ’’سیکولر اسلامی ریاست‘‘ بنانے کے جو الفاظ منسوب کیے گئے ہیں وہ درست نہیں ہیں۔ کیونکہ صدر جنرل پرویز مشرف نے سیکولر کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ پاکستان کو ایک ترقی پسند فلاحی اسلامی ریاست بنانے کی بات کی ہے، اور سیکولر کا لفظ انٹرویو لینے والے صحافی نے اپنی طرف سے شامل کیا ہے۔

صدارتی ترجمان کی یہ وضاحت خوش آئند ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی نہ صرف پاکستان میں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے نظریاتی مستقبل کے بارے میں جس بحث کا آغاز ہو گیا ہے، موجودہ ملکی اور عالمی حالات کے تناظر میں وہ خاصی اہمیت کی حامل ہے۔ جہاں تک صدارتی ترجمان کی وضاحت کا تعلق ہے ہمارے خیال میں اسے ان تاثرات کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے جو صدر پرویز مشرف کے مذکورہ انٹرویو اور حالیہ اقدامات و بیانات سے عمومی طور پر لیے جا رہے ہیں۔ کیونکہ کسی گفتگو یا عمل کا مفہوم و مقصد متعین کرنے کے لیے صرف اتنی بات کافی نہیں ہوتی کہ کہنے والا کیا کہہ رہا ہے، یا کرنے والا کیا کر رہا ہے؟ بلکہ اس قول یا عمل کی غرض متعین کرنے میں اس امر کا بھی دخل ہوتا ہے کہ اسے سننے والوں نے کیا مطلب سمجھا ہے اور دیکھنے والوں نے اس کے عمل سے کیا نتیجہ اخذ کیا ہے؟

ہمارے ہاں نماز کے مسائل میں ایک بات کہی جاتی ہے کہ ’’عملِ کثیر‘‘ سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ یعنی نمازی کسی مجبوری کی وجہ سے نماز میں نماز کے اعمال سے ہٹ کر کوئی حرکت کرتا ہے تو اس سے نماز پر کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن اگر اس کی یہ حرکت زیادہ عمل یعنی عمل کثیر کے دائرہ میں داخل ہو گئی ہے تو اس سے نماز متاثر ہو گی اور بسا اوقات ٹوٹ بھی جاتی ہے۔ اب فقہاء کے ہاں عملِ کثیر پر بحث ہوتی ہے کہ اس کی تعریف کیا ہے اور وہ کون سا عمل یا حرکت ہے جس پر عملِ کثیر کا اطلاق کیا جا سکتا ہے؟ تو اس کے بارے میں فقہاء کرام نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق مختلف باتیں لکھیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ عملِ کثیر اس حرکت یا عمل کو سمجھا جائے گا جس میں نمازی مصروف ہو تو دیکھنے والا یہ سمجھے کہ یہ نماز میں نہیں ہے۔ گویا دیکھنے والوں کا تاثر اس عمل کی حد متعین کرنے کا معیار بن جائے گا۔

اس لیے ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے اقدامات اور بیانات کے بارے میں سرکاری وضاحتیں اپنی جگہ، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ دنیا میں ان کو کس معنی میں سمجھا جا رہا ہے اور ان سے کیا تاثر لیا جا رہا ہے؟ اس گزارش کے ساتھ ہم قارئین کی توجہ معروف امریکی دانشور اور امریکی تھنک ٹینک کے رکن پروفیسر سٹیفن پی کوہن کے اس مضمون کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں جس کے کچھ اقتباسات پاکستان کے ایک قومی اخبار نے ۲۵ جنوری ۲۰۰۲ء کو شائع کیے ہیں اور جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’’پاکستان سیکولر اسلام کی طرف واپس لوٹ رہا ہے‘‘۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’سیکولر سے مراد لادینیت لینا درست نہیں ہے‘‘۔ لیکن ہمارے لیے ان کی اس وضاحت کو قبول کرنا ممکن نہیں ہے، کیونکہ سیکولرازم اور دین کا تعلق ہم گزشتہ پون صدی کے دوران اپنے برادر مسلم ملک ترکی میں عملاً دیکھ بلکہ بھگت چکے ہیں، اور سیکولرازم نے ترکی میں ریاست کی بنیاد بننے کے بعد دین اور دینی اقدار و شعائر کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس کا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اس لیے اس عملی مشاہدہ کے بعد جب کوئی ہم سے یہ کہتا ہے کہ سیکولرازم سے مراد لادینیت نہیں ہے تو ہمیں شک ہونے لگتا ہے کہ یا تو اس کی ’’دماغی صحت‘‘ معائنہ کی محتاج ہے اور یا پھر وہ ہمارا مذاق اڑا رہا ہے۔

ترکی ’’خلافتِ عثمانیہ‘‘ کے مرکز کی حیثیت سے پورے عالم اسلام کا قائد تھا اور اسے یہ پوزیشن اب سے پون صدی پہلے تمام تر کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باوجود حاصل تھی، لیکن جب سیکولرازم کو ریاستی نظریہ کے طور پر جدید ترکی کی بنیاد بنایا گیا تو اس کے نتیجے میں خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوا، ترکی کی عدالتوں سے اسلامی قوانین صدیوں کے بعد ختم کر کے ان کی جگہ اٹلی سے درآمد شدہ قانونی نظام رائج کیا گیا، عربی زبان اور دینی تعلیم ممنوع قرار پائی، بیشتر مساجد و مدارس اور خانقاہیں بند کر دی گئیں، کسی اجتماعی یا قومی معاملہ کے لیے اسلام اور قرآن پاک کا حوالہ سیکولرازم کے منافی قرار دے دیا گیا، نکاح، طلاق اور وراثت کے بارے میں قرآن پاک کے صریح احکام کو منسوخ کر دیا گیا۔ اور یہ اسی تسلسل کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں ایک ترک خاتون کو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے کے باوجود ترکی پارلیمنٹ کی رکنیت سے صرف اس لیے محروم ہونا پڑا کہ وہ سر پر سکارف لے کر پارلیمنٹ ہاؤس میں بیٹھنے پر مصر تھیں۔ اور حال ہی میں ترکی وزیر اعظم بلند ایجوت نے حکم جاری کیا ہے کہ سرکاری ملازمت کرنے والی خواتین کے لیے دورانِ ملازمت سکرٹ پہننا لازمی ہے اور وہ شلوار یا پاجامہ پہن کر دفتر میں نہیں آ سکتیں۔

یہ سیکولر ریاست کا وہ مفہوم ہے جو عملاً ایک مسلم ریاست کی پالیسیوں اور ان پر عملدرآمد کی صورت میں سامنے آ چکا ہے اور جس کا ساری دنیا مشاہدہ کر رہی ہے۔ اس کے بعد بھی پروفیسر سٹیفن پی کوہن اگر ہمیں یہی سبق دے رہے ہیں کہ ’’سیکولر سے مراد لادینیت نہیں ہے‘‘ تو ہم ان سے اس سے زیادہ کیا عرض کر سکتے ہیں کہ حضور! ہمارا مذاق تو نہ اڑائیے اور ہمارے زخموں پر نمک تو نہ چھڑکیے۔ البتہ ’’سیکولر اسلام‘‘ کی اصطلاح کے بارے میں کچھ عرض کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔

ہمارے وہ دانشور جن کے ذہنوں میں ابھی تک اسلام کے ایک ضابطۂ حیات اور فلسفہ زندگی ہونے کے بارے میں شکوک و شبہات کے کانٹے موجود ہیں، اور وہ اسلام کو ایک سسٹم آف لائف اور ریاستی نظریہ کا درجہ دینے کی بجائے صرف شخصی زندگی اور عبادت خانوں تک محدود کیے جانے کے قابل ایک مذہب تصور کرتے ہیں، انہوں نے اپنی الجھن کا ایک حل اپنے خیال میں تلاش کر رکھا ہے کہ جمہوریت، سوشلزم اور سیکولرازم کے جدید تصورات اور فلسفوں کو قبول کرتے ہوئے ان پر اسلامی کا لیبل چسپاں کر لیا جائے تو ایک ٹکٹ میں دو مزے ہو جائیں گے۔ مغربی فلسفہ و ثقافت کے ساتھ بھی رشتہ استوار ہو جائے گا اور اسلام کا جھنڈا بھی ہاتھ میں رہے گا۔ اس کے لیے انہوں نے اسلامی جمہوریت اور اسلامی سوشلزم کی اصطلاحات ایجاد کیں اور امتِ مسلمہ کو اس آڑ میں اسلام کے معاشرتی اور ریاستی کردار سے دستبردار ہونے پر آمادہ کرنا چاہا۔ لیکن جو مسلمان قرآن کریم براہ راست پڑھتا ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سنت کا مطالعہ کرتا ہے، خلفاء راشدینؓ کے حالات و خدمات سے واقف ہے، اور اسلامی تاریخ پر اس کی نظر ہے اس کے لیے اس غیر فطری سوچ کا ساتھ دینا ممکن ہی نہیں ہے۔ چنانچہ امتِ مسلمہ کی رائے عامہ نے مجموعی طور پر اس تصور کو قبول نہیں کیا۔ جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ دنیا کے جس مسلم ملک میں بھی اس ملغوبہ کو مسلط کرنے کی کوشش کی گئی ہے، وہاں اس کے لیے سیاسی عمل اور رائے عامہ پر اعتماد کرنے کی بجائے فوجی قوت اور آمرانہ نظاموں کا سہارا لیا گیا ہے اور اس کا تسلسل اب تک جاری ہے۔

اسی پس منظر اور تسلسل میں اب ’’اسلامی سیکولرازم‘‘ کی اصطلاح مسلمانوں کے منہ میں ڈالی جا رہی ہے اور یہ کہہ کر کہ ’’سیکولر کا مطلب لادینیت نہیں ہے‘‘ مسلمانوں کو یہ سبق دیا جا رہا ہے کہ وہ ’’اسلامی جمہوریت‘‘ اور ’’اسلامی سوشلزم‘‘ کی طرح ’’اسلامی سیکولرازم‘‘ کی گولی بھی نگل لیں۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ مسلمان بالخصوص پاکستانیوں کے حلق سے یہ گولی زبردستی اتارنے والی قوت رائے عامہ نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے بھی عالمی دباؤ اور فوجی قوت کو ذریعہ بنانے میں عافیت محسوس کی جا رہی ہے۔ اس لیے اس کے حتمی نتیجے کے بارے میں بھی کسی غلط فہمی کا شکار ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ان گزارشات کے ساتھ ہم صدر پرویز مشرف سے عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے ترجمان کی وضاحت بہت اچھی ہے، لیکن ان کے اقدامات، بیانات اور فیصلوں سے دنیا میں جو تاثر لیا جا رہا ہے اور انہیں پاکستان کو جس سمت لے جاتے دیکھا جا رہا ہے اور اس تناظر اور تاثر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور وہ اس کے لیے جو تاویل اور وضاحت بھی پیش کریں وہ باقی سب کے لیے قابل قبول ہو سکتا ہے، مگر پاکستان کے قیام کے لیے ایک نئی اسلامی ریاست کے قیام کی تجویز پیش کرنے والے علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ اور تحریکِ پاکستان کی قیادت کرنے والے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا، جنہوں نے اسلامی قومیت کا نظریہ پیش کیا، قرآن و سنت کو پاکستان کا دستور بنانے کا اعلان کیا، اسلامی معیشت کو نئی ریاست کی منزل قرار دیا اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے اَحیا کو پاکستان کا اصل مقصد بنایا۔

   
2016ء سے
Flag Counter