غیرت کے نام پر قتل اور اسلامی نظریاتی کونسل

   
تاریخ : 
۳ اگست ۲۰۰۴ء

وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے غیرت کے نام پر قتل اور الزام تراشی کے حوالے سے قومی اسمبلی میں بل پیش کرنے کا اعلان کیا ہے، اور کہا ہے کہ اس سلسلہ میں جو قانون تجویز کیا جائے گا وہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی بھجوایا جائے گا۔

غیرت کے نام پر قتل اور ’’کاروکاری‘‘ کا معاملہ ایک عرصہ سے ہمارے قومی حلقوں میں زیر بحث ہے، خاص طور پر این جی اوز کی طرف سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کو سنگین جرم قرار دیا جائے اور کاروکاری کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ کاروکاری ہمارے ہاں ایک قبائلی روایت کو کہا جاتا ہے جس کے تحت بعض قبائل میں ایسی عورتوں کو جرگے کے فیصلے کے مطابق قتل کر دیا جاتا ہے جو بدکاری اور زنا کی مرتکب ہوئی ہوں۔ این جی اوز اسے ماورائے عدالت قتل قرار دے کر اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کر رہی ہیں، جبکہ متعدد قبائلی راہنماؤں نے اس کا دفاع کیا ہے۔ اس سلسلہ میں نواب محمد اکبر خان بگٹی کا ایک بیان شائع ہوا ہے کہ کاروکاری میں صرف عورت کو ہی نہیں بلکہ مرد کو بھی قتل کیا جاتا ہے، اس لیے اسے صرف عورتوں کے خلاف اقدام قرار دینا درست نہیں۔ جبکہ اس سے قبل جناب محمد اجمل خٹک سے منسوب اس قسم کی بات بھی اخبارات میں شائع ہو چکی ہے کہ یہ ہماری روایت کا حصہ ہے ۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروکاری کے عنوان سے اس وقت جو بحث ہمارے ہاں چل رہی ہے، اس میں این جی اوز کے خلاف دوسرا فریق ہمارے قبائل ہیں جو اپنی اس نوعیت کی روایات کا تحفظ چاہتے ہیں، جبکہ این جی اوز ان کے خاتمے کے لیے مصروفِ کار ہیں۔ اس سے قبل پنجاب کے بعض علاقوں میں ’’ونی‘‘ کی رسم کا تذکرہ بھی اخبارات میں اہتمام کے ساتھ ہو چکا ہے، جس کے تحت خاندانوں میں قتل و قتال اور دیگر دشمنیوں کو نمٹانے کے لیے معصوم بچیوں کے رشتے مخالف خاندانوں کو دلوا کر صلح کرا دی جاتی ہے، اور قبائل کے جرگے خاندانوں کی دشمنیاں ختم کرانے کے لیے چھوٹی چھوٹی بچیوں کو ونی کی رسم کے نام پر بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔

اس حوالے سے این جی اوز کا مطالبہ ہے کہ یہ رسم ظالمانہ ہے اور عورتوں کی حق تلفی ہے اس لیے ختم کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح بہت سی قبائلی اور علاقائی رسموں اور روایات کے تحفظ یا خاتمے کے لیے کشمکش جاری ہے جو اَب ملک کے قانون ساز اداروں تک پہنچ چکی ہے۔ چنانچہ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں کاروکاری کے حوالے سے بات چلی تو حکومتی حلقوں کے بعض ذمہ دار حضرات نے اس رسم کا دفاع کیا اور کہا کہ ہم اپنی غیرت کو قربان نہیں کر سکتے۔

جہاں تک اسلام کا تعلق ہے میرے خیال میں وہ اس کشمکش کا فریق نہیں ہے اور نہ ہی اسے فریق بنانا چاہیے، کیونکہ تنازع رائج الوقت علاقائی اور قبائلی رسم و روایات اور ان کی جگہ آگے بڑھنے والی مغربی روایات و رسوم کے درمیان ہے۔ مغرب کا خاندانی نظام اور معاشرتی رسوم و روایات آگے بڑھ رہی ہیں، ذرائع ابلاغ اور این جی اوز ان کے لیے مسلسل مصروفِ کار ہیں۔ جبکہ مقامی، علاقائی اور قبائلی روایات ان کی راہ میں مزاحم ہیں اور ان کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اسلام کہیں بھی رائج العمل نہیں ہے، نہ ہی ہمارے اجتماعی فیصلے کسی سطح پر بھی اس کی بنیاد پر ہو رہے ہیں، بلکہ اسے ہم نے صرف عقائد، عبادات اور اخلاقیات تک ہی محدود کر رکھا ہے۔

عدالتیں ہوں، قبائلی جرگے ہوں، یا خاندانی پنچایتیں ہوں، وہ فیصلے قرآن و سنت کی بجائے اپنی روایات کے مطابق کرتی ہیں اور اس کے لیے قرآن کریم اور سنتِ نبویؐ کے واضح فیصلوں کی پروا بھی نہیں کرتیں۔ دوسری طرف این جی اوز کے مطالبات کی بنیاد بھی قرآن و سنت پر نہیں بلکہ مغربی معاشرت اور فلسفہ و نظام پر ہے۔ اور وہ اپنے کسی مطالبے اور موقف کے لیے قرآن و سنت کی بجائے مغربی فلسفہ و ثقافت کی بنیاد پر مروجہ بین الاقوامی قوانین کا حوالہ دیتی ہیں۔ اس لیے عملی طور پر دیکھا جائے تو اس کشمکش میں اصل فریق علاقائی اور قبائلی روایات اور ان کے مقابل مغربی ثقافت اور مروجہ بین الاقوامی قوانین ہیں۔ اسلام کا تعلق اس سے صرف اتنا ہے کہ ان میں سے جس فریق کو اسلام کی کوئی بات اپنے حق میں ملتی ہے وہ اسے استعمال کر لیتا ہے۔

جہاں تک غیرت کے نام پر قتل کا تعلق ہے، اس سلسلہ میں اسلام میں ملی جلی روایات ملتی ہیں:

  1. ایک طرف بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ جب قرآن کریم میں یہ حکم نازل ہوا کہ کوئی شخص کسی عورت پر زنا کا الزام لگائے تو اسے اس کے ثبوت میں اس عورت کی بدکاری کے چار گواہ پیش کرنا ہوں گے، اور اگر وہ چار گواہ پیش نہیں کر سکے گا تو اسے یہ الزام لگانے پر قذف کے جرم میں ۸۰ کوڑوں کی سزا ملے گی۔ اس پر انصارِ مدینہ کے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ نے جناب نبی اکرمؐ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو بدکاری میں مصروف دیکھوں تو کیا چار گواہ تلاش کرتا پھروں گا کہ تم بھی آ کر یہ منظر دیکھو؟ خدا کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا بلکہ تلوار کے ساتھ ان دونوں کی گردنیں اڑا دوں گا۔ اس پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریب بیٹھے ساتھیوں سے کہا کہ ’’کیا تم سعدؓ کی غیرت دیکھ رہے ہو؟ بخدا میں اس سے زیادہ غیرت والا ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے‘‘۔ محدثین کے مطابق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی غیرت سب سے زیادہ ہے اور چونکہ چار گواہوں کا قانون اس نے نافذ کیا ہوا ہے اس لیے یہ غیرت کے خلاف نہیں، اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں۔

    اس کے بعد قرآن کریم نے اس سلسلہ میں مزید ہدایات دیں کہ اگر بدکاری کے الزام کا معاملہ میاں بیوی کے درمیان ہو تو اس کے لیے چار گواہوں کی ضرورت نہیں بلکہ میاں بیوی عدالت میں پانچ پانچ قسمیں کھائیں گے۔ میاں چار مرتبہ کہے گا کہ میں نے اس پر بدکاری کا جو الزام لگایا ہے وہ درست ہے، اور اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر خدا کی لعنت نازل ہو۔ جبکہ جواب میں بیوی اگر اس الزام کو درست تسلیم نہیں کرتی تو وہ بھی چار بار قسم اٹھائے گی کہ مجھ پر الزام لگانے میں یہ شخص جھوٹا ہے، اور اگر یہ سچا ہے تو مجھ پر خدا کا غضب نازل ہو۔ پھر قاضی ان دونوں میں تفریق کرا دے گا اور وہ میاں بیوی نہیں رہیں گے۔

    چنانچہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا ارشاد سے محدثین یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اگر کسی عورت پر بدکاری کا الزام ہو تو کاروائی قانون کے مطابق ہونی چاہیے اور کسی کو قانون کو ہاتھ میں لینے کا حق نہیں ہے۔

  2. لیکن دوسری طرف امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ بدکاری میں مصروف دیکھ کر دوسرے شخص کو قتل کر دیا۔ اور جب مقتول کے ورثاء قتل کا مقدمہ لے کر حضرت عمرؓ کے پاس گئے تو قاتل نے یہ موقف اختیار کیا کہ میں تو اپنی بیوی کی ٹانگوں کے درمیان تلوار چلائی تھی، اگر وہاں کوئی آدمی ہو گا تو مر گیا ہو گا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے یہ خون ’’ہدر‘‘ قرار دے دیا یعنی مزید کوئی کاروائی کیے بغیر کیس داخل دفتر کر دیا۔

اس پس منظر میں اسلامی نظریاتی کونسل سے ہماری گزارش یہ ہے کہ وہ ان معاملات میں فریق نہ بنے بلکہ حَکم اور ثالث کا کردار ادا کرے کہ ایسے معاملات میں موجودہ حالات میں اسلام کا اصل کردار یہی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل اس تنازع کے دونوں فریقوں کے موقف اور اس کی فکری بنیادوں کا جائزہ لے اور دونوں کی خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے وسیع تر تناظر میں اس ثقافتی اور تہذیبی کشمکش کو دیکھے، پھر قرآن و سنت اور خلفاء راشدینؓ کے فیصلوں کی روشنی میں اسلام کے موقف کی وضاحت کرے، کیونکہ معروضی حالات میں اس کشمکش میں کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑا ہونا اسلام کے موقف کو مسخ کرنے کے مترادف ہو گا۔

   
2016ء سے
Flag Counter