سائنس اور مذہب: کیسے اور کیوں کا سوال

   
تاریخ: 
۲۱ دسمبر ۲۰۰۶ء

۲۱ دسمبر کو مجھے مانسہرہ (ہزارہ) کے قراقرم ہوٹل میں سائنس اور مذہب کے حوالے سے منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا۔ سائنس میں نے نہ پڑھی ہے اور نہ ہی میرے مطالعہ اور تحقیق و گفتگو کا کبھی موضوع رہا ہے۔ مگر سیمینار کے منتظمین بالخصوص پروفیسر عبد الماجد صاحب کا اصرار تھا کہ میں بہرحال اس سیمینار میں شرکت کروں بلکہ کلیدی خطاب بھی کروں۔ پروفیسر عبد الماجد صاحب سائنس اور مذہب کے حوالے سے ہمارے ملک کے ممتاز سکالروں میں سے ہیں، بین الاقوامی کانفرنسوں میں شریک ہوتے رہتے ہیں اور اسلام و پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں، مختلف اعزازات اور ایوارڈ بھی اس حوالے سے انہوں نے عالمی سطح پر حاصل کیے ہیں، اور سائنس اور مذہب کے مطالعہ کے موضوع پر متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔ انہوں نے کچھ عرصہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں تعلیم حاصل کی اور اسی مناسبت سے عقیدت و محبت بھی رکھتے ہیں۔

اس سیمینار کا اہتمام ’’ہزارہ سوسائٹی فار سائنس ریلیجین ڈائیلاگ‘‘ اور ’’فورم فار دی پروموشن آف ریلیجین سائنس ڈسکورس پشاور‘‘ نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ ہزارہ سوسائٹی کے چیئرمین پروفیسر عبد الماجد ہیں اور اس سوسائٹی کی ویب سائیٹ بھی وجود ہے جو سائنس اور مذہب کے حوالے سے مفید اور جدید معلومات سے آراستہ ہے۔ سیمینار کے دو موضوع تھے:

  1. قدرتی آفات اور مصائب، سائنس اور مذہب کے تناظر میں۔
  2. مسئلہ خیر و شر، سائنسی اور مذہبی تناظر میں۔

سیمینار میں کراچی سے ڈاکٹر عامر حسین، پشاور سے حافظ خورشید انجم، ڈاکٹر محمد صدیق اور ڈاکٹر صفدر حسین شاہ سمیت متعدد احبابِ علم و دانش نے شرکت کی اور متعلقہ موضوعات پر مقالات پڑھے گئے۔ مجھے سیمینار میں صدارت کے ساتھ ساتھ مہمانِ خصوصی کے اعزاز سے بھی نوازا گیا، اس لیے نہ صرف یہ کہ پورے سیمینار میں، جو صبح ساڑھے دس بجے سے شام ساڑھے چھ بجے تک چھوٹے چھوٹے وقفوں کے ساتھ جاری رہا، مجھے جم کر بیٹھنا پڑا، بلکہ کلیدی خطاب کے علاوہ سوالات و جوابات کی نشست کا بنیادی ہدف بھی میں ہی رہا۔ اس موقع پر موضوع کی مناسبت سے جو گزارشات میں پیش کر سکا اس کا خلاصہ قارئین کی نذر کر رہا ہوں۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ بدقسمتی سے اندلس کی شکست کے بعد سائنس ہماری تعلیم و تحقیق کا اہم موضوع نہیں رہا۔ اور ہم نے اندلس کی درسگاہوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی بلکہ عمرانیات اور معاشرتی علوم کے حوالے سے بھی جو پیشرفت کی تھی، اس کا سارا اثاثہ مغربی اقوام کے حوالے کر کے ہم آرام سے بیٹھ گئے، اور اس کے بعد اس حوالے سے جو کام بھی کیا وہ مغربی اقوام نے ہی کیا۔ ہم اساس فراہم کرنے والے تھے، سوچ دینے والے تھے، اور بنیادیں مہیا کرنے والے تھے، لیکن ہم اندلس سے کیا نکلے کہ اپنے علمی و فکری اور تحقیقی اثاثے سے بھی دستبرداری اختیار کر لی۔ اس کے بعد صدیوں تک ہماری دو بڑی حکومتیں قائم رہیں۔ ترکی کی خلافتِ عثمانیہ اور دہلی کی مغل سلطنت اپنے دور کی باجبروت اور باوسائل حکومتیں تھیں، لیکن سائنس و ٹیکنالوجی اور عمرانیات کے علوم ان کے نزدیک اس اہمیت کے حامل نہیں تھے کہ وہ اس طرف توجہ دیتیں۔ اس لیے ہم رفتہ رفتہ اس مقام تک جا پہنچے کہ ان علوم اور ان کے حوالے سے تحقیقات میں ہم مغرب کے دست نگر ہیں۔

مغرب میں جب سائنس آگے بڑھی تو وہاں کا مذہب اس کے مقابل آ گیا، سائنسدانوں پر کفر و الحاد کے فتووں کے ساتھ ساتھ ان کے قتل کے فیصلے صادر ہونے لگے، اور سائنس اور کفر کو مترادف قرار دیا جانے لگا، جس کی وجہ سے مذہب کو میدان سے ہٹنا پڑا اور وہ شکست کھا کر کھڈے لائن لگ گیا۔ ہمارے ہاں یہ کیفیت تو نہ تھی اور مذہبی قیادت نے سائنس کی ترقی اور ریسرچ کو کبھی کفر و الحاد قرار نہیں دیا، مگر اس سمت میں پیشرفت کی طرف ہماری عدمِ توجہ اور غفلت نے عملاً ہمیں بھی اسی صف میں کھڑا کر دیا۔ اس لیے سائنس اور مذہب کے مشترکہ مطالعہ کے حوالے سے قائم ہونے والے یہ فورم اور ان کی طرف سے اس قسم کے سیمیناروں کے انعقاد پر تاریخ کے ایک طالب علم کے طور پر مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔

اسلام کے نزدیک سائنس اور مذہب میں کسی درجے میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے کیونکہ دونوں کا دائرۂ کار الگ الگ ہے:

  • سائنس کی بنیاد محسوسات، مشاہدات اور معقولات پر ہے، اور سائنس کائنات کے مشاہدہ و مطالعہ میں آگے بڑھتے ہوئے کسی بھی چیز کے بارے میں بحث کرتی ہے تو اس کی گفتگو اس پہلو سے ہوتی ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ہو رہا ہے؟
  • مذہب کو اس سے کوئی بحث نہیں، اور وہ اس سوال کو سائنس کے حوالے کرتے ہوئے اس سے آگے کی بات کرتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟

سائنس کی بحث کا بنیادی سوال ’’کیسے‘‘ ہے اور مذہب کی بحث کا بنیادی سوال ’’کیوں‘‘ ہے اور ان دونوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ مثلاً قدرتی آفات اور مصائب کے حوالے سے سائنس ان کے اسباب پر بحث کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا ہے؟ سائنس اس کے جو اسباب بھی بیان کرے، مذہب کو ان سے کوئی انکار نہیں اور وہ ان کو تسلیم کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ یہ سب کچھ کیوں ہوا ہے؟

گزشتہ سال آزاد کشمیر اور ہزارہ کے علاقوں میں خوفناک زلزلہ آیا تو اس کے سائنسی اسباب پر تفصیلی بحث ہوئی اور ماہرین و محققین نے ان اسباب و عوامل سے قوم کو آگاہ کیا جو اس زلزلہ کا باعث بنے اور آئندہ بھی باعث بن سکتے ہیں۔ جبکہ مذہبی رہنماؤں نے اس کے روحانی اور غیبی اسباب کی طرف توجہ دلائی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ اور عذاب کا ذریعہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اس پر کچھ حضرات نے کنفیوژن کی کیفیت اپنے ذہن میں محسوس کی اور اس کا اظہار بھی کیا۔ ہم نے گزارش کی کہ کنفیوژن کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں ہے اس لیے کہ اس بات سے کسی کو اختلاف نہیں ہے کہ زلزلہ کے ظاہری اسباب وہی ہیں جو سائنس بیان کرتی ہے۔ لیکن اس سے اگلا سوال کہ کیا اسباب خودکار اور خودمختار ہیں یا ان کے پیچھے کوئی کنٹرولر بھی موجود ہے؟ اگر ہمارے عقیدے کے مطابق یہ اسباب خودمختار نہیں ہیں اور ان کے پیچھے بلکہ کائنات کے پورے نظام کے پیچھے ایک کنٹرولر موجود ہے تو ’’کیوں‘‘ کا سوال بہرحال ہمیں اسی سے کرنا ہو گا۔ اور وہ خود یا اپنے کسی نمائندے اور رسول کے ذریعے اس کا جو جواب دے اسے قبول کر لینے کے سوا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں، اس لیے کہ اس کے سوا اس سوال کا جواب دینے کے لیے کوئی اور ہستی کائنات میں موجود نہیں۔ یہاں میں دو سوال سامنے لانا چاہوں گا:

  1. ایک یہ کہ کیا کائنات اتنی ہی ہے جتنی اب تک ہمارے مشاہدہ میں آ چکی ہے؟ اور اگر کائنات ہمارے مشاہدات سے کہیں زیادہ وسعت رکھتی ہے تو کیا ہم خود کو نظر آنے والی کائنات کا، نظر نہ آنے والی کائنات کے ساتھ کوئی تناسب طے کر سکتے ہیں؟ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پوری کائنات کا ایک ہزارواں حصہ ہمارے مشاہدات کے دائرے میں آ چکا ہے؟
  2. دوسرا سوال یہ کہ ہمیں اس وقت علم کے جو ذرائع میسر ہیں، کیا وہ مکمل اور حتمی ہیں؟ ہمارے میسر ذرائع محسوسات، مشاہدات اور معقولات تک محدود ہیں۔ اور ہماری معقولات بھی ان محدود معلومات کی اسیر ہیں جن میں ہر وقت اضافے کا امکان موجود رہتا ہے۔ اس لیے کہ عقل صرف ایک آلہ ہے جو موجود معلومات، مشاہدات اور محسوسات کی بنیاد پر نتائج اخذ کرتا ہے۔ اور معلومات اور مشاہدات میں ہر وقت تغیر اور اضافے کا امکان موجود ہونے کی وجہ سے عقل کے کسی نتیجے کو کسی بھی دور میں حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بلکہ ہم حتمی علم اور یقینی بات کے لیے ہر وقت کسی ایک ہستی کے محتاج رہتے ہیں، جس کی معلومات حتمی ہیں اور جو کائنات کی ہر بات سے یکساں طور پر آگاہ ہے۔ جب ہمارے عقیدہ و ایمان کی رو سے وہ ذات اللہ تعالیٰ کی ذاتِ گرامی ہے تو ہمارے لیے بڑا آسان اور فطری راستہ ہے کہ ہم مشاہدہ اور عقل یعنی سائنس اور فلسفہ کی آخری حد سے اگلے مراحل کے لیے وحئ الٰہی سے رجوع کریں، اور اپنے علم اور عقل کو محدود تصور کرتے ہوئے اس ذاتِ باری تعالیٰ کے ارشادات پر بے چون و چرا ایمان لے آئیں۔

اس پس منظر میں قدرتی آفات و مصائب کے ظاہری اسباب کا تعین ہم یقیناً سائنس کے ذریعے ہی کریں گے، لیکن وہ صرف ’’کیسے‘‘ کا جواب دے گی ’’کیوں‘‘ کا جواب اس کے پاس نہیں ہے۔ جبکہ اس ’’کیوں‘‘ کا جواب ہمیں اللہ تعالیٰ کے قرآن کریم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں ملے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں قومِ نوح سے لے کر بنی اسرائیل تک دنیا کی مختلف اقوام کے ادوار میں رونما ہونے والی آفات و مصائب کو اپنے عذاب اور غضب سے تعبیر کیا۔ ایک مقام پر تو اسے ان الفاظ میں قانون کے طور پر بھی بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب نازل کرے، یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب پیدا کر دے، یا خود تمہیں آپس میں لڑا کر ایک دوسرے کے لیے عذاب بنا دے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیسیوں ارشادات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں لیکن ان میں سے اس موقع پر صرف دو کا تذکرہ کرنا چاہوں گا:

  1. ایک میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے چار باتوں کی درخواست کی تھی، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے تین باتیں منظور فرما لیں مگر چوتھی بات قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ میں نے عرض کیا کہ یا اللہ! میری امت پوری کی پوری یکبارگی کافر نہ ہو جائے، اللہ تعالیٰ نے یہ بات قبول کر لی۔ میں نے عرض کیا کہ میری امت پر غیروں سے دشمن مسلط نہ کیے جائیں، یہ بات بھی قبول ہو گئی ۔ میں نے تیسری گزارش کی کہ میری امت پر بحیثیت امت پہلی امتوں جیسا عذاب نازل نہ ہو، یہ بات بھی قبول فرما لی گئی۔ مگر جب میں نے گزارش کی کہ میری امت آپس میں نہ لڑے تو اللہ تعالیٰ نے یہ درخواست قبول کرنے سے انکار فرما دیا۔
  2. دوسری حدیث میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت پر جب خدا ناراض ہو گا تو اس کی ناراضگی اور عذاب کی تین بڑی صورتیں ہوں گی: (۱) میری امت آپس میں لڑے گی (۲) امت کے شریر لوگ امت پر مسلط کر دیے جائیں گے، اور (۳) امت کے نیک لوگوں کی دعاؤں کو بھی قبولیت حاصل نہیں ہو گی۔

جہاں تک خیر و شر کا تعلق ہے، اس کا معیار قائم کرنے کے لیے ہمیں بہت گہرائی میں جانا ہو گا۔ اس لیے کہ مغرب نے تو خیر و شر کا معیار یہ قرار دے دیا ہے کہ جس کو سوسائٹی قبول کرے وہ خیر ہے، اور جو چیز سوسائٹی کے لیے قابلِ قبول نہ ہو وہ شر ہے۔ مگر اسلام اس معیار کو قبول نہیں کرتا اور وہ مغرب سے کہیں زیادہ دوسرے تناظر میں خیر و شر کے معیار کا تعین کرتا ہے۔

اسلام صرف یہ نہیں دیکھتا کہ ایک معاملہ اس کے دو فریقوں کے مابین قابلِ اعتراض نہیں ہے تو وہ درست ہے، بلکہ اسلام اس سے آگے بڑھ کر سوسائٹی کے نفع و نقصان کو بھی دیکھتا ہے۔ اور اگر دو افراد یا طبقات کے مابین کسی باہمی معاملہ پر اتفاق سوسائٹی کے لیے مجموعی طور پر نقصان دہ ہے تو اسلام اس کو جائز معاملہ تسلیم نہیں کرتا۔ اسلام کسی معاملے کے خیر و شر ہونے کو صرف دو افراد یا دو فریقوں کی باہمی رضامندی کے حوالے سے نہیں دیکھتا بلکہ سوسائٹی پر اس کے مجموعی اثرات کے مثبت یا منفی ہونے کا لحاظ بھی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ صرف حال کے نفع و نقصان کی بنیاد پر کسی چیز کے جواز یا عدمِ جواز کا فیصلہ نہیں کرتا بلکہ اس کے مستقبل کے امکانات کو بھی سامنے رکھتا ہے۔ اسلام کے نزدیک انسان کا مستقبل صرف اس دنیا میں اس کی باقی ماندہ زندگی کا نام نہیں ہے، بلکہ مرنے کے بعد کی زندگی انسان کا اصل مستقبل ہے۔ اور اسلام کسی بھی چیز کے خیر یا شر ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے انسان کی دنیوی زندگی کے ساتھ ساتھ اخروی زندگی کا بھی پوری طرح لحاظ کرتا ہے۔

اس لیے خیر و شر کے تعین میں اسلام کا تناظر انتہائی جامع اور وسیع ہے، اور اسی کی روشنی میں طے کیا جانے والا خیر و شر ہی حقیقی طور پر خیر و شر ہے۔ امام غزالیؒ نے ’’مصلحت‘‘ کا معیار بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مصلحت صرف وقتی نفع کا نام نہیں ہے بلکہ انسانی سوسائٹی کے فطری مقاصد کی پاسداری کا نام ہے، اور یہ فطری مقاصد امام غزالیؒ کے نزدیک پانچ ہیں: (۱) دین و عقیدہ کا تحفظ (۲) جان کا تحفظ (۳) عزت کا تحفظ (۴) مال کا تحفظ (۵) اور نسب و خاندان کا تحفظ۔ اس لیے جو چیز ان فطری مقاصد میں سے کسی ایک کو بھی نقصان دیتی ہے اسے مصلحت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ میں دو مثالوں سے اس کی وضاحت کرنا چاہوں گا:

  • مغرب نے سود کو اس بنا پر جائز قرار دے رکھا ہے کہ یہ دو افراد کا معاملہ ہے جس پر سوسائٹی کو اعتراض نہیں۔ لیکن اسلام کہتا ہے کہ دو افراد کے باہمی رضامندی کے معاملہ اور سوسائٹی کی طرف سے اعتراض نہ ہونے کے باوجود چونکہ سود اپنے حتمی نتیجے کے حوالے سے انسانی سوسائٹی کے لیے نقصان دہ ہے کہ اس سے دولت کا ارتکاز جنم لیتا ہے، جیسا کہ جدید معاشی ماہرین کھلم کھلا کہہ رہے ہیں، اس لیے یہ ایک جائز معاملہ نہیں ہے اور اسے درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
  • اسی طرح زنا مغرب کے نزدیک دو افراد کی باہمی رضامندی کی صورت میں کوئی جرم نہیں، کہ اسے جرم قرار دینا دو افراد کی باہمی آزادانہ رضامندی میں دخل اندازی تصور ہو گا۔ لیکن اسلام کہتا ہے کہ دو متعلقہ افراد کی باہمی رضامندی کے باوجود چونکہ زنا سے رشتوں کا تقدس پامال ہوتا ہے بلکہ رشتوں کا وجود ہی قائم نہیں رہتا، کیونکہ جہاں سنگل پیرنٹ کے قانون کے ذریعے باپ کے رشتے کو غیر ضروری قرار دے دیا گیا ہو، وہاں باقی رشتوں کا کون سا تصور باقی رہ جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی مشاہدہ میں ہے کہ مغرب میں فیملی سسٹم کی تباہی کا سب سے بڑا سبب زنا ہے، اس لیے اسلام اس عملِ بد کی کسی حالت میں اجازت نہیں دیتا۔

ہمارے ہاں مذہب اور سائنس کے حوالے سے اگر کسی درجہ میں کنفیوژن پایا جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان دونوں میں کوئی تضاد ہے یا کسی سطح پر کوئی ٹکراؤ ان میں پایا جاتا ہے، بلکہ ہمارا اصل مسئلہ ہماری بے علمی اور بے خبری ہے۔ جو لوگ سائنس کا علم رکھتے ہیں وہ مذہب کے علم سے بے خبر ہیں، اور جو دین کا علم رکھتے ہیں وہ سائنسی علم اور معلومات سے بے بہرہ ہیں، جس کی وجہ سے یہ دونوں طبقے ایک دوسرے سے بلا وجہ اختلاف رکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں طبقے اگر ایک دوسرے سے صحیح طور پر استفادہ کریں تو یہ آپس میں معاون ہو سکتے ہیں، اور یہ ملک اور دین دونوں حوالوں سے آج ہماری سب سے بڑی ضرورت بھی ہے۔

مجھے امید ہے کہ مذہب اور سائنس کے حوالے سے منعقد ہونے والے اس قسم کے مفید سیمیناروں کا دائرہ وسیع ہو گا اور ہم باہمی تعاون اور اشتراک کے ساتھ دین و ملک کی خدمت کے ایک نئے دور کا آغاز کر سکیں گے۔

(روزنامہ پاکستان، لاہور ۔ ۷ جنوری ۲۰۰۷ء)
2016ء سے
Flag Counter