اسامہ بن لادن اور افغان طالبان کے بارے میں جنرل مشرف کے خیالات

   
تاریخ : 
۳۰ مارچ ۲۰۰۱ء

اخباری اطلاعات کے مطابق چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ

  1. مغرب کے نامناسب رویہ نے اسامہ بن لادن کو ہیرو بنا دیا ہے۔ عام مسلمان دیکھتا ہے کہ امریکہ سے یا ہالی وڈ کی غیر اخلاقی فلمیں آتی ہیں، یا پھر اسرائیل، بھارت اور روس کے لیے حمایت آتی ہے۔ مغرب مشرقی تیمور کو حق خود ارادیت دیتا ہے لیکن کشمیریوں کو نہیں دیتا۔ مسلمانوں کے ساتھ ہر جگہ زیادتی ہو رہی ہے، ان پر یا تو کروز میزائل برسائے جاتے ہیں یا ان کو اقتصادی پابندیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لہٰذا رد عمل میں ناراض مسلمان اسامہ کو ہیرو بنا لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن پر مقدمہ چلانے کے لیے ایک تین رکنی جیوری بن سکتی ہے جس میں تین عالم ہوں۔ ایک سعودی عرب سے، ایک افغانستان سے، اور ایک کسی تیسرے اسلامی ملک سے ہو۔ امریکہ اس جیوری کے سامنے اسامہ کے خلاف ثبوت پیش کر دے۔
  2. انہوں نے کہا کہ ہم طالبان کی حمایت اس لیے کرتے ہیں کہ ان کی وجہ سے ہماری مغربی سرحد محفوظ ہے۔ ہماری مشرقی سرحد پر بھارت بیٹھا ہے، اگر مغربی سرحد پر بھارت کے دوست آ بیٹھیں تو ہمارے لیے مسائل پیدا ہوں گے۔ طالبان نے افغانستان میں امن قائم کیا ہے اس لیے افغان عوام ان کے ساتھ ہیں۔ قحط اور بھوک سے طالبان کا کچھ نہ بگڑے گا۔ اگر طالبان نہ ہوتے تو افغانستان اب تک کئی حصوں میں تقسیم ہو چکا ہوتا۔ طالبان نے افغانستان کو بچا لیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے طالبان کو بدھا کے مجسموں کی تباہی سے روکنے کے لیے بڑا سخت پیغام بھیجا، پھر اپنے وزیر داخلہ کو بھی بھیجا، لیکن طالبان باز نہیں آئے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ خودمختار ہیں اور ہمارا ان پر زیادہ اثر نہیں ہے۔

جنرل پرویز مشرف کے مذکورہ بالا ارشادات کے بڑے حصے سے ہمیں اتفاق ہے اور یہ بات خوشی کا باعث ہے کہ انہوں نے ڈپلومیسی سے کام لینے کی بجائے مغربی پریس کے سامنے اپنی پوزیشن کا صاف صاف اظہار کر دیا ہے۔ کیونکہ مغرب کو مسلمان حکمرانوں کی طرف سے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر یہ بتانا ضروری ہے کہ عالمِ اسلام میں اس کے خلاف نفرت کے اسباب کیا ہیں؟ اور دنیا بھر کے مسلمان مغرب کی کسی بات پر اعتماد کرنے کے لیے کیوں تیار نہیں ہیں؟

کچھ عرصے پہلے تک ملیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد مغرب سے اس لہجہ میں بات کرتے تھے تو ہمیں خوشی ہوتی تھی کہ مسلمان حکمرانوں میں کوئی تو ہے جو مغرب سے صاف لہجے میں بات کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے، لیکن مہاتیر محمد کو داخلی مسائل میں اس طرح جکڑ دیا گیا ہے کہ اب ان سے اس قسم کی باتیں سننے کو کان ترس گئے ہیں۔ اب اگر جنرل پرویز مشرف نے مغرب سے دو ٹوک بات کے لیے طرز اپنایا ہے تو ہم اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے دعا گو بھی ہیں کہ اللہ تعالی انہیں اس صاف گوئی پر قائم رکھیں، اور زبانی باتوں کے ساتھ ساتھ اس صاف گوئی کے عملی تقاضوں کی طرف پیشرفت کی توفیق سے بھی نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

مگر ان کے ان ارشادات میں دو باتیں ہمیں کھٹکی ہیں جن کی طرف اشارہ کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے:

  1. ایک تو عظیم عرب مجاہد اسامہ بن لادن کے بارے میں ہے جن کے لیے جنرل صاحب موصوف نے کہا ہے کہ ’’رد عمل میں ناراض مسلمان اسامہ کو ہیرو بنا لیتے ہیں‘‘۔ اس سے تاثر ملتا ہے کہ اسامہ بن لادن حقیقتاً ہیرو نہیں ہے بلکہ رد عمل کا ہیرو ہے جسے ناراض مسلمانوں نے مغرب کے طرز عمل کے خلاف ہیرو کا درجہ دے دیا ہے۔ اور اس تاثر کو اگر تھوڑا سا اور آگے بڑھایا جائے تو اس میں سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اسامہ کے بارے میں مغرب جو کچھ کہہ رہا ہے اور اس کی تصویر کو یہودی پریس جس رنگ میں پیش کر رہا ہے وہ کچھ زیادہ غلط نہیں ہے، اور اسامہ جنرل پرویز کی نظر میں دراصل وہی کچھ ہے جو مغرب اس کے بارے میں بتا رہا ہے، لیکن وہ ناراض مسلمانوں کو اسے ہیرو بنانے میں مجبور اور معذور قرار دے رہے ہیں۔

    ہمارے نزدیک یہ تاثر قطعی طور پر غلط ہے اور اس سے بالواسطہ مغرب کے موقف کی تائید ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اسامہ کسی ڈرامے یا افسانے کے کردار کا نام نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہے اور اسے خود اپنے ملک سعودی عرب اور خطۂ خلیج عرب میں مغرب کے جس وحشیانہ تسلط اور جبر و استبداد کا سامنا ہے، وہ اس کے خلاف اسی طرح کی مزاحمت کر رہا ہے جس طرح جنوبی ایشیا میں برطانوی تسلط کے خلاف سید احمد شہیدؒ اور ویتنام میں امریکی تسلط کے خلاف ہوچی منہ نے کی تھی۔ وہ مجاہدِ آزادی ہے جو امریکی استعمار کے جابرانہ تسلط سے خلیج عرب کے ممالک کی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے، اور عرب عوام کے اسلامی اور جمہوری حقوق کی بحالی کے ساتھ ساتھ فلسطین کی آزادی اور بیت المقدس کی بازیابی کا پرچم بلند کیے ہوئے ہے۔ اس لیے وہ ناراض مسلمانوں کا بنایا ہوا ردعمل کا ہیرو نہیں، بلکہ غلبۂ اسلام اور عربوں کی خودمختاری کی بحالی کی جدوجہد کا حقیقی کردار ہے، اور اسے ‘‘ردعمل کا ہیرو‘‘ کہنا عرب عوام کے جذبات اور جدوجہد کی توہین ہے۔

  2. دوسری بات جنرل پرویز مشرف کا یہ ارشاد ہے کہ ’’ہم طالبان کی اس لیے حمایت کرتے ہیں کہ ان کی وجہ سے ہماری مغربی سرحد محفوظ ہے‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں صرف اپنے مفادات سے غرض ہے، اور افغان عوام کے عظیم جہاد، نفاذِ اسلام کے لیے ان کی قربانیوں، اور ایک نظریاتی اسلامی ریاست کے قیام سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اور اگر واقعی اس کا مطلب یہی ہے تو اس پر ’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘ کے سوا اور کوئی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔

    جنرل صاحب سے گزارش ہے کہ مغربی سرحد کا محفوظ ہونا ان عظیم فوائد میں سے ہے جو ہمیں طالبان کی اسلامی حکومت کے قیام سے حاصل ہوئے ہیں، لیکن یہ ہماری طرف سے طالبان کی حمایت کی وجہ نہیں ہے۔ اور اسے طالبان حکومت کی حمایت کی وجہ قرار دینے کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہے کہ میں پانچ وقت کی نماز اس لیے پڑھتا ہوں کہ اس سے وقت کی پابندی کی عادت پختہ ہوتی ہے۔ بلاشبہ نماز کی پابندی سے وقت کی پابندی کی عادت پیدا ہوتی ہے اور یہ نماز کے بہت سے ظاہری فوائد میں سے ایک ہے، لیکن نماز پڑھنے کی وجہ یہ نہیں ہے، بلکہ نماز کی اصل وجہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور اپنے خالق و مالک کے حضور جھکنا ہے، جو کسی بھی اور وجہ کے بغیر ہماری ذمہ داری ہے۔

    اسی طرح جہادِ افغانستان اور طالبان حکومت کے فوائد و ثمرات کو شمار کیا جائے تو ان کی ایک لمبی فہرست بنتی ہے۔ اور ان فوائد سے صرف پاکستان نہیں بلکہ وسطی ایشیا، مشرقی یورپ اور بالٹیک ریاستوں کے ساتھ ساتھ خود امریکہ بھی پوری طرح بہرہ ور ہو رہا ہے۔ لیکن جہادِ افغانستان اور طالبان حکومت کے لیے ہماری حمایت کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ ہماری دینی ذمہ داری اور ہمارا شرعی فریضہ ہے، اور ہمارے لیے اس حمایت میں ظاہری فائدہ کا کوئی پہلو نہ ہو تو بھی ایک مسلمان قوم کی حیثیت سے ہم ان کی حمایت کے پابند اور ذمہ دار ہیں۔

    ہم جنرل پرویز مشرف صاحب کو یاد دلانا چاہیں گے کہ وہ ایک مسلم مملکت کے سربراہِ حکومت ہیں جو دستوری طور پر اسلامی جمہوری ریاست ہے۔ اور جس کے دستور میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ اور قرآن و سنت کی بالادستی کو تسلیم کیا گیا ہے، اور اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کی حمایت و امداد اللہ تعالیٰ کے احکامات اور قرآن سنت کی رو سے ہمارا شرعی فریضہ ہے۔ اس لیے وہ مغرب کو اپنی بات سمجھانے کے لیے جو لہجہ چاہیں اختیار کریں، لیکن اپنی گفتگو میں دینی تقاضوں اور پاکستانی عوام کے جذبات کا بھی لحاظ رکھا کریں، کیونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا عملاً یہی مطلب بنتا ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter