عام انتخابات اور فرقہ وارانہ کشیدگی: صدر مشرف سے چند گزارشات

   
تاریخ : 
۲۴ اگست ۲۰۰۱ء

۱۴ اگست کو یومِ آزادی کے موقع پر اعلان کے مطابق ضلعی حکومتوں کا آغاز ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی صدر جنرل پرویز مشرف نے اگلے سال اکتوبر کے دوران عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر دیا ہے۔ ضلعی حکومتوں کا دائرہ کار کیا ہو گا؟ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے ساتھ ان کے تعلقات کار کی نوعیت کیا ہوگی؟ اور ضلعی حکمرانوں کے اختیارات کی حد کہاں تک ہوگی؟ اس سلسلہ میں بہت سے اعلانات اور وضاحتوں کے باوجود ابھی تک منظر پوری طرح واضح نہیں ہے۔ اور عملی تجربہ کی طرف کم از کم سال چھ ماہ کی پیشرفت کے بعد ہی کچھ اندازہ ہو سکے گا کہ ضلعی حکومتوں کے قبلہ کی سمت کون سی ہے اور ان کے مقاصد و اہداف کی اصل ترجیحات کیا ہیں؟

بعض دوستوں کا خیال ہے کہ یہ مقامی حکومتیں ترقی یافتہ ممالک کے اس نظام اور سسٹم کی پیروی میں بنائی گئی ہیں جہاں اختیارات کو زیادہ سے زیادہ مقامی سطح پر عوام کے نمائندوں کو منتقل کر کے مرکزی حکومتوں کا انتظامی و مالی بوجھ کم کیا گیا ہے، اور ان ممالک میں یہ تجربہ کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اگر ایسا ہو تو یقیناً یہ ایک اچھا تجربہ ہو گا، لیکن تاریخ کے ایک طالب علم کے طور پر ہمیں یہ منظر بھی دکھائی دے رہا ہے کہ انگریز جب برصغیر میں آیا تھا تو جنوبی ایشیا کا بیشتر حصہ دہلی کی مغل حکومت کے زیر اثر تھا، لیکن جب ۱۹۴۷ء میں برطانوی حکومت یہاں سے رخصت ہوئی تو پانچ سو ایسی ریاستیں چھوڑ کر گئی تھی جن کے والی اور راجے مقامی طور پر خود مختار حکمران کہلاتے تھے، مگر ان کے تمام معاملات کو برطانوی حکومت کنٹرول کرتی تھی۔ اس لیے ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری ضلعی حکومتیں ان ریاستوں کی طرز پر مقامی اختیارات اور لوکل کنٹرول کے نام پر گلوبلائزیشن کے اس جال میں جکڑی جائیں جس کا دائرہ کار ملٹی نیشنل کمپنیوں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور این جی اوز کے ذریعہ مسلسل پھیلایا جا رہا ہے۔ اور اس کے نتیجہ میں خدانخواستہ پاکستان کے قومی تشخص کے ساتھ ساتھ پنجاب، سندھ، سرحد، بلوچستان اور کشمیر کی علاقائی شخصیات بھی ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور دیگر عالمی اداروں کی فائلوں میں گم ہو کر رہ جائیں۔

جہاں تک اگلے سال عام انتخابات کے انعقاد کی بات ہے اس کا دارومدار بھی پرویز حکومت کے طرز عمل اور پالیسیوں پر ہے کہ وہ عوام میں اپنی جڑیں رکھنے والی حقیقی سیاسی قوتوں کو آگے آنے کا موقع دیتی ہے، یا انتخابات کے نام پر اپنی مرضی کی کوئی ڈھیلی ڈھالی سیاسی قیادت کشید کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کا اندازہ بھی آئندہ چند ماہ میں ہو جائے گا، البتہ اس سے ہٹ کر ہم جنرل پرویز مشرف کے اس اعلان کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں جو فرقہ وارانہ دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے لشکرِ جھنگوی اور سپاہِ محمد کو خلافِ قانون قرار دینے اور سپاہِ صحابہ اور تحریکِ جعفریہ کو انتباہ کرنے کے سلسلہ میں ہے۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے اور نہ ہی اس سے صورتحال میں کوئی تبدیلی رونما ہوگی، کیونکہ اگر افراد موجود ہیں، ذہن موجود ہے، کشیدگی قائم ہے، اور کشیدگی کے اسباب بھی قائم ہیں، تو کسی جماعت کے نام پر پابندی لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ویسے بھی جماعتوں پر پابندی لگانے کا فلسفہ اب ناکام ہو گیا ہے۔ ترکی میں جناب نجم الدین اربکان کی ’’رفاہ پارٹی‘‘ پر پابندی لگی تو وہی حضرات ’’فضیلت پارٹی‘‘ کے نام سے سامنے آ گئے۔ اس کے بعد فضیلت پارٹی کو بھی خلافِ قانون قرار دے دیا گیا تو وہ حلقہ ایک نئے نام سے میدان میں موجود ہے۔ افراد بھی وہی ہیں، ذہن بھی وہی ہے اور میدان کار بھی وہی ہے۔ خود ہمارے ہاں بھٹو مرحوم کی حکومت نے خان عبد الولی خان کی ’’نیشنل عوامی پارٹی‘‘ کو خلافِ قانون قرار دیا تھا، مگر وہی پارٹی ’’عوامی نیشنل پارٹی‘‘ کے نام سے موجود ہے، اس کا ووٹ بنک بھی وہی ہے، افراد بھی وہی ہیں، اور دائرہ عمل بھی وہی ہے۔ نام کی ترکیب میں تبدیلی کے سوا کوئی فرق سامنے نہیں آیا۔ اس لیے پابندی کا فلسفہ کامیاب فلسفہ نہیں ہے، اور زیر زمین کام کرنے والی تنظیموں کو تو ویسے ہی حکومتوں کی طرف سے کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لیے اصل مسئلہ کشیدگی کے اسباب کی تلاش، دہشت گردی کے پس پردہ عوامل کی نشاندہی، اور فرقہ وارانہ تصادم کے محرکات کو بے نقاب کرنے کا ہے۔ جب تک اس طرف سنجیدہ توجہ نہیں دی جائے گی کوئی تادیبی کارروائی دونوں میں سے کسی بھی گروہ کو اس کے مشن اور کارروائیوں سے نہیں ہٹا سکے گی اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کا دائرہ پھیلتا رہے گا۔

جہاں تک اس دہشت گردی پر قابو پانے کا تعلق ہے اس میں دوسری کوئی رائے نہیں ہے اور ملک کا ہر شہری اس بات کا خواہشمند ہے کہ حکومت اس قتل و غارت کو سنجیدگی کے ساتھ روکے اور نہ صرف دونوں طرف کے انتہا پسند حضرات سے آہنی ہاتھوں کے سامنے نمٹے، بلکہ اس کشیدگی سے فائدہ اٹھانے اور اس آگ کو خفیہ طور پر ایندھن فراہم کرنے والے اندرونی و بیرونی عوامل کا ہاتھ بھی پکڑے۔ اس دہشت گردی نے ہزاروں شہریوں کی بھینٹ وصول کی ہے اور بہت سے قیمتی اور گراں مایہ لوگ اس کی نذر ہوئے ہیں۔ اس لیے اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس مسئلہ پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن قائم کیا جائے جو آزادانہ اور کھلی انکوائری کے ذریعے سنی شیعہ کشیدگی کے اسباب و عوامل، محرکات اور پس پردہ کار فرما عناصر کو بے نقاب کرے اور کشیدگی کے اصل اسباب پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات اور آئندہ کے لیے ضابطۂ اخلاق تجویز کرے، جس پر سختی کے ساتھ عملدرآمد کا اہتمام کیا جائے۔ اس بنیادی ضرورت کو تسلیم اور پورا کیے بغیر گندگی کے ڈھیر پر وقتاً فوقتاً دھمکیوں اور پابندیوں کا چونا چھڑکتے رہنے سے نہ پہلے کچھ حاصل ہوا ہے اور نہ ہی آئندہ اس کا کوئی نتیجہ برآمد ہوگا۔

   
2016ء سے
Flag Counter