طالبان کی مزید کامیابیوں پر مبارکباد

   
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۱۹۹۸ء

افغانستان میں بالآخر طالبان کی اسلامی حکومت نے مزار شریف اور دیگر ایسے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے جو ان کے مخالف شمالی اتحاد کے کنٹرول میں تھے۔ اور جس وقت یہ سطور تحریر کی جا رہی ہیں وادئ پنج شیر کے علاوہ پورے افغانستان پر طالبان کا کنٹرول قائم ہو چکا ہے۔

طالبان دینی مدارس کے طلبہ اور اساتذہ پر مشتمل فورس ہے جو جہادِ افغانستان کے نتیجہ میں روسی افواج کی واپسی کے بعد افغان مجاہدین کی مختلف جماعتوں کی مشترکہ حکومت کی ناکامی، اور جہادی تنظیموں کے درمیان بڑھتی ہوئی خانہ جنگی کے ردعمل میں ابھری، اور افغان عوام کے تعاون سے اس نے رفتہ رفتہ پورے افغانستان میں اپنی حکومت قائم کر لی۔

جہادِ افغانستان میں سرگرم کردار ادا کرنے والی تنظیموں کے قائدین کے باہمی اختلافات کو ختم کرانے اور انہیں باہمی اعتماد کے ساتھ ایک متحدہ حکومت قائم کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری طور پر متعدد کوششیں ہوئیں ،اور بالخصوص پاکستان اور سعودی عرب کی حکومتوں نے ان کے درمیان کئی معاہدے کرائے جن میں ایک معاہدہ پر اتفاقِ رائے کے اظہار کے لیے ساتوں افغان جماعتوں کے قائدین کو بیت اللہ شریف کا دروازہ کھول کر اس کے اندر جمع کیا گیا اور وہاں سب لیڈروں نے متحد رہنے کا عہد کیا، لیکن یہ قائدین ان معاہدوں پر قائم نہ رہ سکے۔

ایک موقع پر پاکستان کے بزرگ ترین عالمِ دین اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی ؒ نے بھی ان ساتوں لیڈروں کو پشاور میں جمع کیا اور انہیں باہم متحد رہنے اور جہادِ افغانستان کے منطقی اور اسلامی تقاضوں کی تکمیل کے لیے مشترکہ جدوجہد کی تلقین کی، لیکن ان افغان قائدین پر کوئی تلقین اثرانداز نہ ہو سکی۔

جس کے نتیجے میں افغانستان کے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے، اور وہ جہادِ افغانستان جس کی بدولت مشرقی یورپ اور وسطی ایشیا کی درجنوں ریاستوں کو آزادی ملی اور جرمنی دوبارہ متحد ہوا، خود اپنی سرزمین پر ان لیڈروں کے منفی طرزعمل نے اسی جہادِ افغانستان کے نتائج کو تماشہ بنا کر رکھ دیا۔ جس پر خدا کی بے آواز لاٹھی حرکت میں آئی اور افغان مجاہدین کی انہی سات تنظیموں میں شامل دینی مدارس کے طلبہ اور اساتذہ نے اپنے اپنے لیڈروں کے خلاف بغاوت کر دی اور باہم متحد ہو کر قندھار سے اصلاحِ احوال کا آغاز کیا۔ اور یہ ان درویشوں کے خلوص کا نتیجہ ہے کہ آج افغانستان ان کی قیادت میں نہ صرف ایک بار پھر متحد ہو گیا ہے بلکہ خانہ جنگی اور خلفشار کا خاتمہ ہوا ہے، اور افغان عوام کو امن و سکون کے ساتھ اسلامی نظام کی برکات سے مستفید ہونے کا موقع مل رہا ہے۔

طالبان اپنے سربراہ امیر المومنین ملا محمد عمر اخوند کی قیادت میں اس عزم پر قائم ہیں کہ وہ جہادِ افغانستان کے منطقی تقاضوں کی تکمیل کرتے ہوئے افغانستان میں مکمل اسلامی نظام نافذ کریں گے اور اسے ایک مثالی ریاست بنائیں گے۔ اور اسی مقصد کے لیے انہوں نے افغانستان کا سرکاری نام ’’امارتِ اسلامی افغانستان‘‘ رکھ دیا ہے۔

طالبان کی اسلامی حکومت کو عالمی رائے عامہ اور استعماری قوتوں کی شدید ترین مخالفت اور بین الاقوامی ایجنسیوں کی مسلسل سازشوں کا سامنا ہے۔ کیونکہ ایک صحیح نظریاتی اور عملی اسلامی ریاست کا وجود ان میں سے کسی کے لیے بھی قابلِ برداشت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ اور امریکہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک اور عالمی ادارے افغانستان پر مکمل کنٹرول اور مثالی امن و امان کے باوجود طالبان کی اسلامی حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے ابھی تک تیار نہیں ہیں۔ اور ان پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ اور عالمی اداروں کے پروگرام کو قبول کر کے اسلامی نظام کے عملی اور مکمل نفاذ کے عزم میں لچک پیدا کریں اور دنیا کی دیگر بہت سی مسلم حکومتوں کی طرح اسلام کے نام کو محض ایک سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے عالمی برادری کے موجودہ اجتماعی دھارے میں شامل ہو جائیں۔

لیکن طالبان کی حکومت ابھی تک اس دباؤ کا مقابلہ کر رہی ہے اور ایک مکمل اسلامی ریاست کے قیام کے عزم پر پختہ دکھائی دیتی ہے۔ اس لیے پاکستان کے دینی حلقوں اور سنجیدہ دینی اداروں اور شخصیات بلکہ دنیا بھر کے اسلامی حلقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ طالبان کے اس جائز، اصولی اور اسلامی موقف اور عزم کی حمایت کرتے ہوئے انہیں اخلاقی اور سیاسی سپورٹ اور پشت پناہی فراہم کریں تاکہ وہ زیادہ حوصلے اور اعتماد کے ساتھ اپنی منزل کی طرف آگے بڑھ سکیں۔

ان گزارشات کے ساتھ ہم طالبان کی تازہ فتح یابیوں پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی مکمل کامیابی اور استقامت کے لیے دعاگو ہیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter