نظامِ خلافت اور عالمِ اسلام

   
تاریخ : 
۱۴ جولائی ۲۰۰۱ء

ڈاکٹر میر معظم علی علوی پاکستان کے بزرگ دانشور ہیں اور تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن رہے ہیں۔ ایک عرصہ سے ملک میں نظامِ خلافت کے اَحیا کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اسی عنوان پر ان کے خطبات کا ایک مجموعہ کتابی شکل میں شائع ہوا ہے جس کے پیش لفظ کے طور پر ان کی فرمائش پر یہ سطور تحریر کی گئی ہیں۔

خلافت کا قیام امتِ مسلمہ کا اجتماعی فریضہ ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور دیگر فقہاء و محدثین نے تصریح کی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جس اجتماعی فریضہ کی ادائیگی کی طرف سب سے پہلے توجہ دی وہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین اور خلیفہ کی حیثیت سے سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ کا انتخاب تھا، جنہوں نے جانشینِ رسولؐ کے طور پر امت کی قیادت کے ساتھ ساتھ زمامِ حکومت بھی سنبھالی، اور اس کے بعد جناب رسالت مآبؐ کی تجہیز و تکفین کا اہم فریضہ سرانجام دیا گیا۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے لکھا ہے کہ جہاد، اقامتِ حدود، امنِ عامہ کا قیام اور دیگر احکام کا نفاذ خلافت و حکومت کے قیام پر موقوف ہے، اس لیے اس اصول کے تحت کہ جس چیز پر فرض موقوف ہو وہ بھی فرض کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے، خلافت کا قیام مسلمانوں کے ذمہ فرض ہے۔ اور اس کی حیثیت فرضِ کفایہ کی ہے کہ اگر دنیا کے کسی خطے میں چند مسلمانوں کی کوشش سے خلافت قائم ہو جائے تو سب کی طرف سے فرض ادا ہو جاتا ہے، لیکن اگر کسی وقت خلافت کا وجود باقی نہ رہے، اور قرآن و سنت کے اجتماعی احکام کے نفاذ کے لیے اسلامی حکومت کی اتھارٹی معدوم ہو جائے، تو پوری کی پوری امت گناہ گار قرار پاتی ہے اور فرض کی تارک شمار ہوتی ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور دیگر فقہاء کرامؒ کی ان تصریحات کی روشنی میں اس وقت ہم سب دنیا کے مسلمان مجموعی طور پر شرعی فریضہ کے تارک اور خلافتِ اسلامیہ قائم نہ کرنے کے گناہ گار ہیں ۔اور اسی وجہ سے افرادی قوت، بے پناہ وسائل اور دولت ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رحمت و رضا سے محروم ہو کر غیروں کے دستِ نگر بن کر رہ گئے ہیں۔ آج دنیا میں کسی جگہ بھی خلافتِ اسلامیہ کا نظام موجود نہیں ہے، البتہ عالمِ اسلام کے مختلف حصوں میں خلافت کے اَحیا و قیام کے لیے مساعی اور جدوجہد کا سلسلہ جاری ہے، اور بیسیوں تحریکات مختلف مسلم ممالک میں خلافت کے قیام کے لیے تگ و دو کر رہی ہیں۔ پاکستان میں جو حلقے اس مقدس جدوجہد میں مصروف ہیں ان میں محترم ڈاکٹر میر معظم علی علوی کا حلقہ بطور خاص قابلِ ذکر ہے، جو خلافت کی اہمیت کو مسلمانوں کے ذہنوں میں اجاگر کرنے اور اس کے لیے لوگوں کی ذہن سازی و فکری تربیت کے کام میں ہمہ تن مصروف ہے۔

ڈاکٹر صاحب محترم سے میں ذاتی طور پر متعارف ہوں اور ان کے اس جذبہ کا دل سے قدر دان ہوں کہ بڑھاپے اور ضعف و بیماری کے باوجود اس فکر کو لے کر قریہ قریہ گھوم رہے ہیں اور اربابِ علم و دانش کے دروازوں پر مسلسل دستک دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر میر معظم علی علوی صاحب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ان طلبہ میں سے ہیں جنہوں نے تحریکِ پاکستان میں حصہ لیا اور جنوبی ایشیا میں اسلام کے نام پر ایک نئی ریاست کی تشکیل میں سرگرم کردار ادا کیا۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی زبان سے خود کئی بار سنا کہ پاکستان کے قیام کا واحد مقصد اسلامی معاشرہ کا قیام ہے اور وہ پاکستان کے نام پر جس ملک کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اس کا دستور قرآن پاک اور سنتِ رسولؐ پر مبنی ہو گا۔

اس لیے ڈاکٹر صاحب موصوف اور تحریکِ پاکستان کے ان جیسے دیگر نظریاتی کارکنوں کے ذہنوں میں پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ اور خلافتِ اسلامیہ کے قیام کے سوا اور کسی بات کا تصور بھی نہیں آ سکتا، اور وہ اسی جذبہ اور لگن سے پاکستان میں خلافت کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جس جوش و ولولہ کے ساتھ انہوں نے اس ملک کے قیام کے لیے محنت کی تھی۔ اس لیے وہ یقیناً اپنے خلوص، جذبہ اور محنت کی بدولت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دوہرے اجر کے مستحق ہیں، اور اللہ تعالیٰ کا ضابطہ ہے کہ وہ کسی کا خلوص اور محنت کبھی رائیگاں نہیں جانے دیتے اور اس کا اجر ضرور عطا فرماتے ہیں۔ ڈاکٹر علوی صاحب خلافت کے قیام کے سلسلہ میں ایک واضح فکر اور پروگرام رکھتے ہیں اور اس کے لیے دعوت دینے کے ساتھ ساتھ قریب آنے والے دوستوں کی اس کے لیے ذہن سازی بھی کرتے ہیں، ضروری نہیں کہ ان کی ساری باتوں سے ہمیں اتفاق ہو، لیکن ان کے خلوص اور جذبہ و ولولہ سے انکار کی گنجائش نہیں ہے اور اس بڑھاپے میں ان کا یہی ولولہ دیکھ کر ان کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے۔

ہم اس وقت دنیا بھر میں خلافتِ اسلامیہ کے حوالے سے ذہن سازی کے مرحلہ میں ہیں، اور بیسیوں فکری حلقے اس مقصد کے لیے اپنے اپنے ذوق اور مطالعہ و تحقیق کی بنیاد پر خلافت کے خاکے اور پروگرام تجویز کر کے ان کے لیے محنت کر رہے ہیں، جو ظاہر ہے کہ اپنی جزئیات و تفصیلات کے حوالے سے اور بعض جگہ اصولوں کے تعین میں بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے۔ اس لیے اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ خلافت کے لیے کام کرنے والے مختلف حلقوں اور تحریکات میں باہمی مشاورت، رابطہ اور مفاہمت و مباحثہ کا بھی اہتمام ہو، تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ متفقہ پروگرام امت کے سامنے پیش کر سکیں۔ ہمارے نزدیک اس وقت امت مجموعی طور پر خلافت کی طرف آنے کے لیے تیار ہے، مگر بیسیوں حلقوں کے الگ الگ پروگرام اور فکری ڈھانچے شاید اس میں رکاوٹ بن رہے ہیں، اور اگر ہم اس مرحلہ کو حکمتِ عملی اور سنجیدگی کے ساتھ طے کر سکیں تو خلافتِ اسلامیہ کے اَحیا کی منزل قریب آ سکتی ہے۔

ڈاکٹر علوی صاحب کے خیالات و نظریات اور ان کا پروگرام ان کے خطبات کی صورت میں آپ کے سامنے ہے۔ اس کا مطالعہ کیجئے اور ڈاکٹر صاحب اور ان کے رفقاء کے لیے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے خلوص و محنت کو بار آور فرمائیں، اور دنیا میں خلافتِ اسلامیہ کے اَحیا کا ذریعہ بنا دیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter