جہادِ کشمیر کی شرعی حیثیت کے بارے میں دو شبہات کا جائزہ

   
تاریخ اشاعت: 
۹ جون ۲۰۰۱ء

جہادِ کشمیر کی شرعی حیثیت کے بارے میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خان کے حوالے سے علماء کشمیر کا یہ موقف اس کالم میں عرض کیا جا چکا ہے کہ ان کے نزدیک انڈین آرمی کے خلاف مجاہدین کی یہ عسکری تگ و تاز شہدائے بالاکوٹ کے اس جہاد کا تسلسل ہے جس کا مقصد کشمیر کو آزاد کرا کے ایک اسلامی ریاست کی حیثیت دینا تھا، اور جب تک یہ مقصد پورا نہیں ہو جاتا جہاد کو بہرحال جاری رہنا ہے۔

قیامِ پاکستان کے بعد جب پونچھ کے علماء اور دیندار عوام نے ڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر کے ہتھیار اٹھائے اور آزاد قبائل کے غیور مسلمانوں کی مدد سے پونچھ اور سری نگر کے دروازے تک جا پہنچے، تو اس وقت سب سے پہلے یہ سوال اٹھا تھا کہ یہ عسکری جدوجہد شرعاً جہاد ہے یا نہیں؟ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اس جنگ کے شرعی جہاد ہونے سے اختلاف کیا تھا، مگر شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے مولانا مودودیؒ کے موقف کو قبول نہ کرتے ہوئے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ کشمیری عوام اور قبائلی مسلمانوں کی یہ جنگ شرعی جہاد ہے۔ چنانچہ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کی حیات اور خدمات کے بارے میں معروف کتاب ’’تجلیاتِ عثمانی‘‘ کے مصنف پروفیسر انوار الحسن شیرکوٹیؒ نے اس کا تذکرہ کیا ہے اور لکھا ہے کہ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے اس موقع پر جہاد کا فتویٰ دیا، اس کی حمایت میں عالمِ اسلام کے علماء اور مشائخ کی تائید حاصل کی، مولانا مودودیؒ کو دلائل کے ساتھ مطمئن کیا، مجاہدین کی امداد کے لیے کراچی میں خود فنڈ جمع کیا، ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمد عثمانیؒ سے کہہ کر فنڈ جمع کرایا، مجاہدین اور زخمیوں کی طبی امداد کے لیے ڈاکٹروں کی ٹیم بھجوائی، اور دستور ساز اسمبلی میں ’’جہاد کشمیر‘‘ کی حمایت میں پرزور خطاب کر کے سرکاری سطح پر ’’کشمیر کمیٹی‘‘ بنوائی۔

اس لیے شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کے اس فتویٰ اور عملی تگ و دو کے بعد اس امر میں شک و شبہ کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا کہ کشمیر کو ڈوگرہ حکمرانوں اور انڈین تسلط سے آزاد کرانے کی عسکری جدوجہد شرعی جہاد ہے، اور اس میں شریک ہونے والوں کو مجاہدین اور شہداء کا مقام حاصل ہے۔

البتہ اس سلسلہ میں دو اشکال ایسے ہیں جن کا علمی سطح پر جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ اگر کسی کے ذہن میں اس معاملہ میں کوئی خلجان باقی ہے تو وہ دور ہو جائے۔

  1. ایک اشکال یہ ہے کہ اگر یہ واقعتاً شرعی جہاد ہے تو حکومتِ پاکستان اس میں براہ راست کیوں شریک نہیں ہے اور اس کی باقاعدہ افواج جنگ میں حصہ کیوں نہیں لے رہیں؟
  2. اور دوسرا اشکال یہ ہے کہ اگر انڈین آرمی کے خلاف کشمیری نوجوانوں کی اس عسکری تگ و تاز کو شرعی جہاد کا درجہ حاصل ہے تو بھارتی مسلمانوں کا اس میں کیا حصہ ہے اور کیا بھارت میں رہنے والے مسلمانوں پر جہاد فرض نہیں ہے؟

یہ دونوں سوال بہت نازک اور حساس ہیں، لیکن چونکہ جہادِ کشمیر کی شرعی حیثیت کے بارے میں پھیلائے جانے والے شکوک و شبہات کا زیادہ تر تعلق انہی دو سوالات سے ہے، اس لیے ان کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

جہاں تک حکومت پاکستان کے براہ راست اعلان جہاد نہ کرنے کا مسئلہ ہے، ہم اسے پاکستان کی بین الاقوامی مجبوریوں اور معاملات کے پس منظر میں دیکھ سکتے ہیں اور ہمیں اس سلسلہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ میں ایک واضح اسوہ ملتا ہے کہ جب آنحضرتؐ نے قریشِ مکہ کے ساتھ حدیبیہ میں دس سال تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا تو اس معاہدہ میں ایک شق یہ بھی تھی کہ اس دوران مکہ مکرمہ سے کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ منورہ جائے گا تو وہاں نہیں رہ سکے گا اور نبی اکرمؐ اسے مکہ مکرمہ واپس بھجوانے کے پابند ہوں گے۔

یہ شق بظاہر مسلمانوں کے خلاف تھی اور اس پر حضرت عمر بن الخطابؓ نے بے چینی کا اظہار بھی کیا تھا، مگر نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم حکمِ الٰہی کی وجہ سے پابند تھے، اس لیے اس شرط کو معاہدہ میں شامل کر لیا گیا، جس سے مکہ مکرمہ میں رہنے والے مسلمان یا اسلام قبول کرنے کی خواہش رکھنے والے حضرات شدید مشکلات سے دوچار ہو گئے۔ اس کیفیت کو علامہ سید سلمان ندویؒ ’’سیرت النبیؐ‘‘ میں یوں بیان کرتے ہیں:

’’جو مسلمان مکہ میں مجبوری سے رہ گئے تھے، چونکہ کفار ان کو سخت تکلیفیں دیتے تھے، اس لیے وہ بھاگ بھاگ کر مدینہ آتے تھے۔ سب سے پہلے حضرت عتبہ بن اسیدؓ (ابوبصیر) بھاگ کر مدینہ آئے۔ قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو شخص بھیجے کہ ہمارا آدمی واپس کر دیجئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عتبہؓ سے فرمایا کہ واپس جاؤ۔ عتبہؓ نے عرض کیا کہ آپ مجھے کافروں کے پاس واپس بھیجتے ہیں کہ مجھ کو کفر پر مجبور کریں؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ خدا اس کی کوئی تدبیر نکالے گا۔‘‘

حضرت عتبہؓ مجبوراً دو کافروں کی حراست میں واپس گئے، لیکن مقام ذوالحلیفہ پہنچ کر انہوں نے ایک شخص کو قتل کر ڈالا۔ دوسرا شخص جو بچ رہا اس نے مدینہ آ کر آنحضرتؐ سے شکایت کی۔ ساتھ ہی ابوبصیرؓ پہنچے اور عرض کی کہ آپ نے عہد کے موافق اپنی طرف سے مجھے واپس کر دیا، اب آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ کہہ کر وہ مدینہ سے چلے گئے اور مقامِ عیص پر، جو سمندر کے کنارے ذومروہ کے پاس ہے، رہنا اختیار کیا۔ مکہ کے بے کس اور ستم رسیدہ لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ جان بچانے کا ایک ٹھکانہ پیدا ہو گیا ہے تو چوری چھپے بھاگ بھاگ کر یہاں آنے لگے۔ چند روز میں اچھی خاصی جمعیت ہو گئی۔ اب ان لوگوں نے اتنی قوت حاصل کر لی کہ قریش کا کاروانِ تجارت جو شام کو جایا کرتا تھا اس کو ۔۔۔۔

   
2016ء سے
Flag Counter