سود اور نفع کا تقابلی جائزہ

   
تاریخ : 
۳۰ مارچ ۲۰۲۴ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اور اس پروگرام کے منتظمین کا شکرگزار ہوں کہ اہل دانش و اہل فکر کے ساتھ گفتگو اور تبادلہ خیالات کا موقع فراہم کیا۔ سب سے پہلے میں اس بات پر خوشی اور مسرت کا اظہار کروں گا کہ اس پروگرام کا عنوان ”مروجہ قوانین :اسلام کی نظر میں “بہت اہم عنوان ہے اور اس پر وکلاء اور علماء کا مل بیٹھ کر غور کرنا انتہائی ضروری ہے۔ میں ایک عرصہ سے یہ آواز لگا رہا ہوں کہ ہمیں مل بیٹھنا چاہیے اور میرے نزدیک اس وقت ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں قانون کے جو دو دائرے ہیں: ایک دائرہ قانونی نظام کا ، اور ایک دائرہ لوگوں کے عقیدے، ایمان، محبت و عقیدت کا ،یہ دونوں دائرے مختلف ہیں، جب تک یہ دائرے اکٹھے نہیں ہوں گے اس وقت تک ملک کا قانونی اور معاشرتی نظام صحیح رخ پر نہیں آئے گا۔ میں تقریباً چالیس سال سے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ دونوں دائروں میں ایڈجسٹمنٹ ہونی چاہیے۔ جب تک علماء اور وکلاء مل کر معاشرتی اور قانونی مسائل کا حل نہیں نکالیں گے اور باہمی مشاورت سے اس خلا کو کم کرنے کی کوشش نہیں کریں گے، بات نہیں بنے گی اور ہم ٹریک پر نہیں آئیں گے۔ اس لیے میں خوشی کا اظہار کروں گا کہ ایک اچھی سوچ پیدا ہوئی ہے ۔ اللہ رب العزت ہمیں مل بیٹھ کر باہمی مشاورت سے قانون اور شریعت کے دونوں سرچشموں سے استفادہ کرنے کی توفیق دیں تاکہ ہم مل جل کر قوم کو صحیح راہ فراہم کر سکیں۔

مجھے گفتگو کا عنوان دیا گیا ہے ” سود اور منافع کا تقابلی جائزہ“ اس پر میں دو تین حوالوں سے بات کروں گا:

پہلی گزارش یہ ہے قرآن مجید نے بھی اس پر دو تین جگہ بحث کی ہے لیکن قرآن مجید سود اور منافع کا تقابل نہیں کرتا بلکہ قرآن مجید نے سود کا تقابل صدقہ سے کیا ہے۔ منافع کا تقابل قرآن پاک نے ماپ پول میں کمی اور تجارتی بد دیانتی سے کیا ہے، میں اس پر چند آیات کا حوالہ دینا چاہوں گا۔

قرآن میں ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ ”یمحق اللہ الربا ویربی الصدقات“ (البقرہ ۲۷۶) اللہ تعالیٰ سود سے بے برکتی بڑھاتے ہیں اور صدقہ سے برکت بڑھاتے ہیں۔ یہاں سود اور صدقے کا باہمی تقابل کیا ہے کہ سود سے برکت اٹھ جاتی ہے اور صدقہ سے برکت بڑھ جاتی ہے۔ میں اس کی چھوٹی سی مثال دوں گا۔ دیکھیے بظاہر ایسا ہے کہ سود سے رقم بڑھتی ہے اور صدقہ سے کم ہوتی ہے۔ اگر سود کی شرح دس فیصد ہے تو سو سے ایک سو دس ہو جائیں گے، اور صدقہ سے کم از کم اڑھائی فیصد تو کمی ہوتی ہے، لہٰذا سو سے ساڑھے ستانوے رہ جائیں گے۔ تو ظاہری منظر یہ ہے کہ سود سے رقم بڑھتی ہے اور صدقے سے کم ہوتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے بلکہ سود سے رقم کم ہوتی ہے اور صدقہ سے بڑھتی ہے۔ یہ قرآن مجید کا واضح اور دوٹوک ارشاد ہے۔

اس پر اشارہ کے طور پر یہ بات عرض کرنا چاہوں گا کہ ایک ہے گنتی اور ایک ہے ویلیو۔ گنتی اور چیز ہے، ویلیو اور چیز ہے۔ سود سے گنتی بڑھتی ہے، ویلیو کم ہوتی ہے ۔ جبکہ صدقہ سے ویلیو بڑھتی ہے، گنتی کم ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر دیکھیں کہ میری شادی ۱۹۷۰ء میں ہوئی تھی ، میں نے تھوڑا سا زیور بنوایا اور گوجرانوالہ کے صرافہ بازار سے ایک سو ستر روپے تولہ سونا خریدا تھا ، لیکن آج ایک تولہ سونے کا بھاؤ سوا دو لاکھ ہے۔ گنتی ایک سو ستر سے سوا دو لاکھ تک چلی گئی ہے، جبکہ ویلیو وہی ایک تولہ سونا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی دیکھ لیں کہ ویلیو کا بڑھنا یا کم ہونا اس آدمی کے اختیار میں نہیں ہے جس کی جیب میں رقم ہے، بلکہ اس کا اختیار کسی اور قوت کے پاس ہے۔ کچھ قوتیں ہیں جو ویلیو کو کم زیادہ کرتی رہتی ہیں۔ مثلاً میری جیب میں پانچ ہزار کا نوٹ ہے، اس کا کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ یہ پانچ ہزار کل سات ہزار ہو جائے یا تین ہزار رہ جائے ، اس میں میرا کوئی اختیار نہیں ہے۔ اسی طرح مال میں برکت پیدا کرنا یا بے برکتی ڈالنا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بیان فرمایا کہ ”یمحق اللہ الربا ویربی الصدقات“ (البقرہ ۲۷۶) اللہ تعالیٰ سود سے رقم میں بے برکتی پیدا کرتے ہیں اور صدقہ سے برکت پیدا کرتے ہیں۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے اسے زیادہ وسیع انداز میں بیان فرمایا ہے ”وما اٰتیتم من ربا لیربو فی اموال الناس فلا یربوا عنداللہ وما اٰتیتم من زکوٰۃ تریدون وجہ اللہ فاولئک ھم المضعفون“ (الروم ۳۹) کہ جو تم سود لیتے ہو اس نیت سے کہ رقم بڑھے گی، اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتی، اور جو تم اللہ کی رضا کے لیے زکوٰۃ دیتے ہو درحقیقت وہ بڑھتی ہے۔ یہاں بھی اللہ رب العزت نے سود کا نفع سے تقابل نہیں کیا، بلکہ سود کا تقابل صدقہ اور زکوٰۃ سے کیا ہے۔

البتہ قرآن مجید میں ایک مقام پر نفع سے تقابل بھی کیا ہے جو تجارتی بددیانتی اور ماپ تول میں کمی کے ساتھ ہے۔ لیکن یہ بات کہنے سے پہلے ایک بات عرض کروں گا کہ انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات دنیا میں مخلوق کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنے اور اس کی اصلاح کے لیے تشریف لائے ہیں ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ قومی، معاشرتی اور سماجی مسائل بھی انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کے ایجنڈا کا حصہ رہے ہیں۔ مثلاً جب حضرت موسیٰ علیہ السلام تشریف لائے تو انہوں نے صاف کہا کہ میں اپنی قوم کی آزادی کے لیے آیا ہوں۔ جب حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونؑ دونوں بھائی فرعون کے سامنے پیش ہوئے تو اس سے اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا کہ ہم اپنی قوم کو غلامی سے چھڑانے آئے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کا آزادی کی جدوجہد اور قومی آزادی کا ایجنڈا قرآن پاک یوں بیان کرتا ہے ”فارسل معنا بنی اسرآئیل ولا تعذبھم“ (طہ ۴۷) کہ انہوں نے فرعون سے کہا کہ ہم اپنی قوم بنی اسرائیل کی آزادی کے لیے آئے ہیں، انہیں غلامی کے عذاب سے نکالو۔ اس پر ایک دلچسپ مکالمہ بھی قرآن مجید نے نقل کیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا کہ میں قوم کی آزادی کے لیے اور انہیں غلامی کے عذاب سے نکالنے کے لیے آیا ہوں تو فرعون نے یہ طعنہ دیا ”الم نربک فینا ولیدا ولبثت فینا من عمرک سنین۔ وفعلت فعلتک التی فعلت وانت من الکافرین‘‘ (الشعراء ۱۸، ۱۹) فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ کیا تم میرے گھر میں نہیں پلے ہو؟ تم بچے تھے ،میں نے تمہیں پالا تھا ، میرے گھر میں ہی جوانی تک کا عرصہ گزارا ہے اور جاتے جاتے ایک بندہ مار کر بھاگ گئے تھے۔ اب مجھ سے آزادی کی بات کر رہے ہو؟ جب فرعون نے یہ احسانات جتلائے تو حضرت موسیٰ نے بہت خوبصورت جواب دیا ”تلک نعمۃ تمنھا علی ان عبدت بنی اسرائیل“ (الشعراء ۲۲) اے فرعون! تم کونسے احسانات جتلا رہے ہو؟ تمہارا یہی احسان ہے کہ میری قوم کو غلام بنا رکھا ہے؟

یہ بات میں نے اس حوالے سے ذکر کی ہے کہ پیغمبرؑ کا ایجنڈا صرف عبادت نہیں ہوتا، بلکہ پیغمبر کا ایجنڈا معاشرتی اور قومی مسائل بھی ہوتے ہیں۔ پیغمبر قوم کی قیادت کرتا ہے۔ اسی طرح قرآن مجید حضرت لوط علیہ السلام کا ایجنڈا خاندانی نظام بیان کرتا ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام نے قوم سے اللہ کی توحید کی بات کرنے کے بعد سب سے بڑی بات یہ کی ہے” اتاتون الذکران من العالمین وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم“ (الشعراء ۱۶۵، ۱۶۶) یہ کیا جنس پرستی میں پڑے ہوئے ہو، اس سے خاندانی نظام تباہ ہو جائے گا۔ چنانچہ حضرت لوط علیہ السلام کا ایجنڈا خاندانی نظام کا تحفظ تھا۔ حضرت شعیب علیہ السلام کا ایجنڈا قرآن مجید نے یہ بیان کیا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو ”اوفوا الکیل ولا تکونوا من المخسرین۔ وزنوا بالقسطاس المستقیم“ (الشعراء ۱۸۱، ۱۸۲) ماپ تول پورا کیا کرو، سودے میں ڈنڈی مت مارو ”ولا تبخسوا الناس اشیاءھم ولا تعثوا فی الارض مفسدین“ (الشعراء ۱۸۳) دو نمبر مال مت بیچو اور ماپ تول میں کمی نہ کرو کہ اس سے فساد پیدا ہوتا ہے۔

ہمیں قرآن مجید اس نیت سے بھی پڑھنا چاہیے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کا کیا ایجنڈا تھا؟ ہم قرآن مجید ثواب کے لیے پڑھتے ہیں، اللہ تعالیٰ ثواب دیتے ہیں، لیکن قرآن مجید کو سماجی رہنمائی کے لیے بھی پڑھنا چاہیے کہ قرآن پاک نے ہمارے قومی و سماجی مسائل کے حوالے سے کیا رہنمائی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی بات کسی پیغمبر کے حوالے سے کی ہے اور کوئی بات کسی پیغمبر کے حوالے سے کی ہے، اس میں ہمارے لیے سبق ہے۔

چنانچہ اللہ رب العزت نے حضرت شعیب علیہ السلام کی زبان سے فرمایا ”بقیت اللہ خیر لکم کنتم مؤمنین“ (ہود ۸۶) جو تم ڈنڈی مار کر کماتے ہو اس کی بجائے وہ منافع جو اللہ دیتا ہے وہ بہتر ہے۔ ماپ تول میں کمی کر کے پیسے کمانے سے دیانت کے ساتھ مال سے ملنے والا منافع بہتر ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ماپ تول میں کمی اور تجارتی بددیانتی کا منافع سے تقابل کیا ہے کہ اللہ کا دیا ہوا منافع بہتر ہے۔

میں نے عرض کیا کہ اللہ رب العزت سود کو منافع کے مقابلے میں بیان نہیں کرتے، بلکہ صدقہ و خیرات کے مقابلے میں بیان کرتے ہیں۔ اسے اگر آج ہم سوسائٹی کے اجتماعی مسائل کے حوالے سے دیکھیں تو قرآن مجید نے دولت اور مال کا یہ بنیادی اصول بیان کیا ہے کہ ”کی لا یکون دولۃ بین الاغنیاء منکم“ (الحشر ۷) دولت کو اوپر اوپر مالداروں میں نہیں گھومتے رہنا چاہیے بلکہ دولت کی گردش نیچے آنی چاہیے تاکہ سارا معاشرہ دولت سے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق فیضیاب ہو۔ امام غزالی ؒ نے اس پر بڑی مزے کی مثال دی ہے۔ کہتے ہیں کہ معاشرہ میں دولت کی مثال ایسے ہے جیسے جسم میں خون ہوتا ہے۔ خون پورے جسم میں حرکت کرے گا، ہر جگہ ضرورت کے مطابق پہنچے گا تو جسم کا نظام ٹھیک رہے گا۔ اگر خون ہر عضو تک ضرورت کے مطابق نہیں پہنچے گا تو وہ عضو مفلوج ہو جائے گا۔ اور اگر خون ضرورت سے زیادہ پہنچ گیا تو وہاں پھوڑے پھنسیاں بن جائیں گی۔ ایسے ہی دولت کی گردش ہے کہ معاشرے کے ہر طبقے تک دولت کی گردش صحیح طور پہ پہنچنی چاہیے ۔ ایسا سسٹم ہو کہ معاشرے کے ہر فرد اور ہر طبقے کی ضرورت پوری ہوتی رہے۔ اگر ضرورت پوری ہوتی رہے گی تو نظام ٹھیک چلے گا۔ جہاں دولت نہیں پہنچے گی تو وہاں کفر پیدا ہو گا اور جہاں دولت ضرورت سے زیادہ پہنچے گی وہاں عیاشی پیدا ہو گی۔

اللہ رب العزت نے دولت کی گردش کا جو اصول بیان فرمایا ہے اس پر ایک واقعہ عرض کرتا ہوں۔ ’’کتاب الاموال‘‘ اسلامی معیشت کی کلاسیکل کتاب ہے، تیسری صدی کے فقیہ ابو عبید قاسم بن سلامؒ نے اس میں یہ روایت نقل ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ کے زمانے میں یمن کے گورنر حضرت معاذ بن جبلؓ تھے۔ انہوں نے اپنے صوبے سے زکوٰۃ، جزیہ، خراج اور عشر وغیرہ جو سالانہ ریوینیو وصول کیا، ایک سال اس کا تیسرا حصہ کسی مطالبے کے بغیر مرکز کو بھیج دیا۔ اس پر حضرت عمرؓ ناراض ہوئے اور حضرت معاذؓ کو خط لکھا جو ریکارڈ پر موجود ہے کہ معاذ! تم تو عالم آدمی ہو، تمہیں پتہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالیات کا اصول کیا بیان فرمایا ہے۔ تمہیں ہی جب حضورؐ نے یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تھا تو فرمایا تھا ’’توخذ من اغنیائھم فترد الی فقرائھم‘‘ کہ وہاں کے لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرنا تو جو مالداروں سے وصول کرو گے وہ اسی معاشرے کے غرباء پہ خرچ کرنا۔ زکوٰۃ اور صدقات کا یہ اصول ہے کہ جس علاقے کے مالداروں سے وصول کیے جائیں اسی علاقے کے مستحقین پر تقسیم کیے جائیں۔ تو تم نے یہ رقم مجھے کیوں بھیجی ہے، یہ تو یمن کے غریبوں کا حق ہے؟ اس پر حضرت معاذؓ نے جواب دیا کہ اس سال اپنے صوبے کے اخراجات پورے ہو جانے کے بعد یہ ون تھرڈ فاضل بجٹ تھا ، اس رقم کا میرے پاس کوئی مصرف نہیں اس لیے آپ کو بھیجی ہے۔

میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ دولت اوپر سے نیچے گردش کرنی چاہیے ۔ اس تناظر میں عرض کرتا ہوں کہ سود کے نظام سے گردش نیچے سے اوپر چلی جاتی ہے، جبکہ زکوٰۃ اور صدقات کے نظام سے دولت کی گردش نیچے آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ غریبوں سے سود لے کر اغنیاء کی تجوریاں مت بھرو، بلکہ امیروں سے لے کر غریبوں کو دو۔ صدقات اور زکوٰۃ سے دولت کی گردش اوپر سے نیچے ہو گی جس سے تقسیم صحیح ہو جائے گی۔ اللہ رب العزت نے یہاں تک فرمایا ہے کہ ”یا ایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وذروا ما بقی من الربا ان کنتم مؤمنین“ (البقرہ ۲۷۸) اے اہلِ ایمان! اللہ سے ڈرو اور سود کھانا چھوڑ دو۔ ”فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ“(البقرہ ۲۷۹) اگر سود نہیں چھوڑو گے تو اللہ اور رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہے۔

میں اس کا دوسرا پہلو اپنے ملک کی تاریخ کے حوالے سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ستتر سال پہلے جب پاکستان بنا تھا تو ہم نے اپنا پہلا ریاستی بینک ”سٹیٹ بینک آف پاکستان“ بنایا تھا، جس کا افتتاح بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم و مغفور نے کیا تھا۔ انہوں نے اس موقع پر دو باتیں کہی تھیں جو ریکارڈ پر ہیں۔ سٹیٹ بینک کے ریکارڈ پر بھی ہیں اور قومی پریس کے ریکارڈ میں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ”ہم اپنا معاشی نظام مغربی اصولوں پر نہیں، بلکہ اسلامی اصولوں پر بنائیں گے۔“ اس پر بطور دلیل یہ کہا ”اس لیے کہ مغرب کے معاشی سسٹم نے دنیا کو لڑائیوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔“

یہ قائد اعظم کی تقریر کا حصہ ہے۔ اس حوالہ سے میں عرض کیا کرتا ہوں کہ قائد اعظم نے مغربی معاشی نظام کو قبول نہ کرنے کی بات محض رسماً نہیں کی تھی، بلکہ دلیل کی بنیاد پر کی تھی کہ مغرب کے معاشی نظام نے دنیا کو لڑائیوں کے سوا کچھ نہیں دیا، اس لیے ہم اپنے سسٹم کی بنیاد مغرب کے معاشی اصولوں پر نہیں رکھیں گے، بلکہ اسلام کے اصولوں پر رکھیں گے۔ قائد اعظم یہ بات کہنے کے بعد فوت ہو گئے اور ہم آج تک قائد اعظم کی اس بات کی طرف واپس نہیں جا رہے۔

جب ۱۹۵۶ء کا دستور بنا تو ہم نے اس میں لکھا کہ ہم سود کا نظام ختم کریں گے۔ ۱۹۷۳ء کے دستور میں لکھا کہ سود کا نظام ختم کریں گے۔ پھر وفاقی شرعی عدالت نے فیصلہ دیا کہ سودی قوانین ختم کریں۔ پھر سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی فیصلہ دیا لیکن ہم ابھی تک سٹے در سٹے کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔

جب وفاقی شرعی عدالت نے سود کے بارے میں فیصلہ دیا تو آپ کے علم میں ہے کہ نظر ثانی کی اپیل وہی بینچ سنتا ہے جس نے سماعت کی ہوتی ہے۔ چنانچہ وفاقی شرعی عدالت میں نظر ثانی کی اپیل دائر ہوئی۔ وفاقی شرعی عدالت کے جج ملازمت پر نہیں بلکہ معاہدے پر ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس بات کا انتظار کیا گیا کہ جس بینچ نے فیصلہ کیا ہے اس کی مدت ختم ہو ،نیا بینچ آئے اور وہ فیصلہ کرے۔ نئے بینچ نے آ کر صرف ایک جملہ لکھ دیا کہ ”سماعت میں کچھ سقم رہ گیا ہے ازسرنو غور کیا جائے‘‘۔ اس جملہ کا کیا مطلب ہے آپ سمجھتے ہیں، میں بھی عدالت میں جانے والوں کے ساتھ تھا، اس ایک جملہ سے ہم انیس سال کے سابقہ زیرو پوائنٹ پہ چلے گئے۔ میں نے اس پر ایک کالم لکھا تھا کہ ہمیں لڈو کا سانپ ڈس گیا ہے کہ ہم اٹھانوے پر پہنچ چکے تھے، سانپ نے ایسا ڈسا کہ ہم زیرو پر آ گئے۔ لیکن جو بات میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جن ججز نے یہ جملہ لکھا تھا کہ سماعت میں کچھ سقم رہ گیا ہے، دوبارہ سماعت کی جائے، ان میں سے ایک جج سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے کہا کہ آپ نے یہ کیا گڑبڑ کی ہے؟ اگر ایسا کرنا ہی تھا تو سیدھا کہہ دیتے ہیں کہ فیصلہ غلط ہے۔ وہ کہنے لگے کہ میں نے یہ لکھ کافر نہیں ہونا تھا۔ یعنی بس فیصلے کو روکنا تھا ۔ ہمارے ساتھ گزشتہ چالیس سال سے ایسا ہو رہا ہے۔

اس کی اصل وجہ یہ کہ ہم قائد اعظم کی وفات کے بعد امریکہ کی گود میں چلے گئے تھے اور ابھی تک امریکہ کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہمارے فیصلے یہاں نہیں ہوتے، وہاں ہوتے ہیں، ہماری پالیسیاں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کنٹرول کرتا ہے۔ اس لیے سیدھی بات ہے کہ ہمیں اس دلدل سے نکلنے کے لیے کھڑا ہونا ہو گا۔ آج کھڑے ہو جائیں یا بیس چالیس سال بعد کھڑے ہوں ،اس کے سوا کوئی علاج نہیں کہ ہم اس بیرونی مداخلت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ سٹیٹ بینک ہمارا ہے، کنٹرول ان کا ہے، گلّا میرا ہے چابی ان کے پاس ہے۔ اس سسٹم کے خلاف ہمیں قومی طور پر اٹھنا ہو گا، اس کے بغیر کوئی راستہ نہیں ہے۔

میں الحمد للہ تقریبا ً نصف صدی سے انسدادِ سود کی جدوجہد کا حصہ ہوں اور آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ سب کا مشترکہ فورم ”ملی مجلس شرعی“ جو گزشتہ بارہ سال سے ان مقاصد کے لیے کام کر رہا ہے، میں اس کا صدر ہوں۔ سودی نظام سے نجات کے حوالے سے تین باتیں عرض کروں گا:

پہلی بات یہ ہے کہ اس قسم کے مسائل آتے رہتے ہیں ۔ اب تک یہی مسائل ہیں کہ قانون یہ کہتا ہے، شریعت یہ کہتی ہے، علماء یہ کہتے ہیں، وکلاء یہ کہتے ہیں، جج صاحبان یہ کہتے ہیں، مفتیان کرام یہ کہتے ہیں۔ یہ باتیں چلتی رہتی ہیں۔ ہمارے تقریباً اسی فیصد مسائل اسی نوعیت کے ہیں۔ کیا ہم اس کنفیوژن کے حل کیلئے مل کے فیصلے نہیں کر سکتے؟ میرے دوست اور جیل فیلو اقبال احمد خان مرحوم ایک دور میں پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین تھے، وزیر قانون بھی رہے ہیں، وہ بھی ہماری اس تحریک کے آدمی تھے ۔میں نے ان سے کہا کہ کوئی ایسی ترتیب بنا دیں کہ اس قسم کے مشترکہ مسائل میں علماء اور وکلاء مل بیٹھ کر رائے دیں۔ کوئی ایسا پرائیویٹ فورم ہونا چاہیے۔ سرکاری فورم تو ہیں، لیکن وہ کیسے ہیں اس کا مجھے بھی پتہ ہے اور آپ کو بھی پتہ ہے۔ پرائیویٹ سطح پر ہماری ایسی مشترکہ مجالس ہونی چاہئیں کہ ہم مل کر رائے دیں تاکہ لوگوں کا بھلا ہو۔ علماء کچھ کہہ دیتے ہیں اور وکلاء کچھ اور کہہ دیتے ہیں، اس سے لوگ کنفیوژن میں پڑ جاتے ہیں، نہ وہ بات بڑھتی ہے اور نہ یہ بات بڑھتی ہے۔

میرے نزدیک اس وقت ہمارے ملک میں انصاف کے راستے میں جو بڑی رکاوٹیں ہیں، ان میں ایک رکاوٹ یہ ہے کہ علماء اور وکلاء دونوں الگ الگ دائروں میں چل رہے ہیں، لوگ کنفیوژ ہو رہے ہیں، وکیل کی بات مرضی کے مطابق نہیں ہوتی تو مفتی کے پاس آ جاتے ہیں، عالم کی بات سمجھ میں نہیں جاتی تو وکیل کے پاس چلے جاتے ہیں۔ اس گلی ڈنڈے کے کھیل نے ہمارے ملک کا نظام خراب کیا ہوا ہے۔ اس لیے میں آپ کے اس عمل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یہ درخواست دہرانا چاہوں گا جو آج سے چالیس سال پہلے میں نے باقاعدہ پاکستان بار کونسل کو لکھ کر دی تھی، اس کے لیے آپ اگر کچھ کر سکتے ہیں تو ضرور کریں ۔

دوسری بات یہ ہے کہ سود کے حوالے سے ہماری ایک تحریک ہے جس میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث ، جماعت اسلامی اور شیعہ سب شریک ہیں ، ہم اکٹھے بیٹھ کر کام کرتے ہیں، لاہور بار کے کچھ وکلاء ہمارے ساتھ ہیں، میں اس حوالہ سے گوجرانوالہ کے وکلاء سے درخواست کرنا چاہوں گا کہ آپ بھی اس کمپین میں ہمارے ساتھ تعاون کریں۔

تیسری بات یہ عرض کروں گا کہ سود کے حوالے سے شرعی مسائل تو واضح ہیں، لیکن آج کی دنیا کیا کہہ رہی ہے اور آج کی معیشت کی سائنٹیفک ریسرچ کیا کہہ رہی ہے کہ سود نے انسانی معاشرے اور انسانی معیشت کو فائدہ دیا ہے یا نقصان دیا ہے؟ اسے بھی آپ اسٹڈی کریں۔ میں اپنی بات نہیں کرتا، آپ ورلڈ بینک کی پچھلے سال کی رپورٹ پڑھ لیں ، آئی ایم ایف جس نے ہمیں جکڑا ہوا ہے اس کی رپورٹ پڑھیں کہ سوسائٹی اور سماج کی معیشت کے لیے سودی سسٹم اور غیر سودی سسٹم میں سے کون سا بہتر ہے؟ وہ یہی بات کہتے ہیں جو میں کہتا ہوں ۔ انڈیا کے ایک اخبار نے ورلڈ بینک کے ایک سابق ڈائریکٹر کا انٹرویو شائع کیا تھا۔ ان سے پوچھا گیا کہ دنیا کی غیر متوازن معیشت کا کیا حل ہے؟ انہوں نے کہا ایک ہی حل ہے، معاشی استحکام اور معاشی بیلنس کے لیے سود کی شرح جتنی کم کریں گے اتنا معیشت میں استحکام اور توازن آئے گا۔ ان سے پوچھا گیا کہ اس کی آخری حد کیا ہو گی؟ انہوں نے کہا زیرو۔

اس لیے میں یہ درخواست کر رہا ہوں کہ آج کی دنیا کو سود کے نتائج کیا مل رہے ہیں، اسے سٹڈی کریں اور ان نتائج سے پاکستان کو بچانے کے لیے اگر ہم کچھ کر سکتے ہیں تو ہمیں کرنا چاہیے۔ پاکستان میں ریاستی سود کا مسئلہ سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے لیکن پرائیویٹ سود تو قانوناً بھی منع ہے، اس کو روکنے کے لیے نوجوان وکلاء اور نوجوان اہلِ علم قانون کے ذریعے جو کچھ کر سکتے ہیں انہیں کرنا چاہیے۔

پھر ایک بڑا مسئلہ آگہی کا بھی ہے۔ اس لیے ہم مسئلے سے واقفیت حاصل کریں کہ مسئلہ کی نوعیت کیا ہے؟ جو عالمی سطح پر مسائل ہیں ہم ان پر جذباتی اور سطحی باتیں کرتے ہیں ، ہمارے ہاں اسٹڈی کا ماحول نہیں ہے، نہ علماء میں اور نہ وکلاء میں۔ ہمیں سٹڈی کا ماحول پیدا کرنا چاہیے اور مل جل کر آپس میں مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا چاہیے کیونکہ اگر دونوں الگ الگ حل نکالیں گے تو ٹکراؤ پیدا ہو گا۔ یہ چند گزارشات میں نے پیش کر دی ہیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter