ظہورِ امام مہدی کا عقیدہ اور مولانا محمد سرفراز خان صفدر

   
تاریخ : 
۲۸ دسمبر ۲۰۰۵ء

سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمانوں پر اٹھایا جانا اور قیامت سے پہلے دوبارہ نازل ہونا ہمارے معتقدات میں سے ہے اور اس کے ساتھ حضرت امام مہدی کا ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مل کر دنیا میں دوبارہ اسلام کے غلبہ و نفاذ کی راہ ہموار کرنا سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ہے، جو صحیح اور صریح روایات سے ثابت ہے اور مسلمانوں کو ہر دور میں ان کا انتظار رہا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور امام مہدی کا ظہور ایک ہی دور میں ہو گا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دور کی جو علامات اور نشانیاں بیان فرمائی ہیں ان میں سے بہت سی پوری ہو چکی ہیں اور بعض پوری ہوتی نظر آ رہی ہیں، اس لیے مسلمانوں کے اس انتظار میں شدت پیدا ہوتی جا رہی ہے اور دینی محفلوں میں مختلف حوالوں سے اس کا تذکرہ اب بہت زیادہ ہونے لگا ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں شخصیات کے تعارف اور ان کی تشریف آوری کی علامتوں کو مختلف ارشادات میں اس قدر واضح کر دیا ہے کہ ان کی پہچان میں کسی قسم کے ابہام کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود مختلف ادوار میں ایسے افراد کا تذکرہ بھی تاریخ کے صفحات میں ملتا ہے، جنہوں نے مسیح یا مہدی ہونے کا دعویٰ کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور پیش گوئیوں کو اپنے اوپر فٹ کرنے کے لیے انتہائی مضحکہ خیز تاویلیں کیں اور اپنے گرد ہزاروں لوگوں کو جمع کرنے میں کامیاب ہوئے۔

نبوت کے بہت سے جھوٹے دعویداروں کا آغاز مہدی کے دعویٰ سے ہوا اور پھر رفتہ رفتہ ترقی کرتے ہوئے وہ خود ساختہ نبوت کے منصب پر براجمان ہو گئے۔

  • مرزا غلام احمد قادیانی نے یہی ترتیب اختیار کی تھی، بلکہ عیسیٰ علیہ السلام اور مہدی کو ایک ہی شخصیت قرار دے کر خود کو بطور مسیح مہدی دنیا سے منوانے کے لیے دور از کار تاویلات کا ایسا گورکھ دھندا تیار کیا تھا کہ بہت سے سمجھدار لوگ بھی اس کا شکار ہو گئے۔
  • امریکا کے آلیج محمد نے اپنے دعویٰ کا آغاز اسی سے کیا۔ اس کی جماعت ”نیشن آف اسلام“ اپنے عقائد میں اسے مہدی اور نبی کا درجہ دیتی ہے اور دنیا کے آخری نجات دہندہ کے طور پر اس کا تعارف کرایا جاتا ہے، جبکہ معروف سیاہ فام امریکی لیڈر لوئیس فرخان آج کل اس جماعت کی قیادت کر رہے ہیں۔
  • بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں آباد ذکری گروہ کی شروعات بھی ملا محمد اٹکی کے مہدی ہونے کے دعویٰ سے ہوئی اور بالآخر اس نے نبوت کا دعویٰ کر دیا اور نماز سمیت بہت سے اسلامی احکام کو منسوخ کرنے کا اعلان کر کے ذکر کو نماز کا متبادل قرار دے دیا، جس کی وجہ سے یہ گروہ ذکری کہلاتا ہے اور مکران کے کوہِ مراد میں ستائیس رمضان المبارک کو یہ گروہ حج کے نام سے جمع ہو کر اپنا سالانہ مذہبی اجتماع منعقد کرتا ہے۔
  • ریاض احمد گوہر شاہی نے بھی یہی دعویٰ کیا کہ وہ امام مہدی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہونے والا ہے، جس کے بعد وہ دونوں مل کر دنیا پر حکومت کریں گے۔ گوہر شاہی نے یہاں تک کہہ دیا کہ امریکا کے ایک ہوٹل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اس کی ملاقات ہو چکی ہے اور ان کے ساتھ پروگرام کی تفصیلات طے پا چکی ہیں۔ مگر قدرت نے اسے زیادہ مہلت نہ دی اور وہ دنیائے فانی سے جلد رخصت ہو گیا، مگر اس کا بپاکردہ فتنہ ختم نہیں ہوا اور اس کی صدائے بازگشت گزشتہ دنوں فیصل آباد میں اس طرح سنائی دی کہ ریاض گوہر شاہی کے ایک پیروکار شہباز احمد نے مہدی ہونے کا دعویٰ کر دیا اور اپنے چند مسلح ساتھیوں سمیت شہر میں ہوائی فائرنگ کے ذریعے خوف و ہراس کی کیفیت پیدا کرنے کے بعد موٹر وے کے انٹرچینج پر ایک بس کے مسافروں کو یرغمال بنایا، مگر اس موقع پر پولیس کے ساتھ مسلح تصادم میں اس کے ایک ساتھی کی موت اور اس کے جتھے سمیت گرفتاری کے ساتھ یہ ڈرامہ اختتام کو پہنچ گیا۔

اس طرح کے ڈرامے ہر دور میں ہوتے رہے ہیں۔ نبوت اور مہدیت کے سینکڑوں جھوٹے دعویداروں کے حالات حضرت مولانا ابو القاسم محمد رفیق دلاوری رحمہ اللہ نے اپنی تصنیف ”ائمہ تلبیس“ میں بیان کیے ہیں۔ مولانا دلاوری رحمہ اللہ شیخ الحدیث مولانا محمود حسن دیوبندی رحمہ اللہ کے تلامذہ میں سے تھے اور اپنے دور میں انہوں نے انتہائی وقیع علمی و تحقیقی خدمات سرانجام دی ہیں۔ ان کی مذکورہ بالا کتاب کچھ عرصہ سے ناپید تھی اور اب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ، ملتان نے اسے دوبارہ شائع کیا ہے۔

امام مہدی کے ظہور کا تذکرہ ان دنوں ہماری مختلف محافل میں میرے والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے حوالے سے بھی ہو رہا ہے اور گزشتہ دو ماہ کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں خود مجھ سے اس سلسلے میں بہت سے دوستوں نے استفسار کیا ہے۔ اس بارے میں ایک روایت عام طور پر چل رہی ہے کہ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اس سال بیت اللہ شریف کے حج کے لیے اس ارادہ سے جا رہے ہیں کہ ان کے خیال میں امام مہدی کا ظہور اسی سال ہونے والا ہے، وہ انہیں پہچانیں گے اور یہ ان کی بیعت کریں گے۔ ہمارے ایک محترم اور مکرم بزرگ مولانا عبدالرحمٰن اشرفی مدظلہ کو اس سلسلے میں خدا جانے کس ذریعے سے روایت پہنچی جس کا انہوں نے ایک اخباری انٹرویو میں تذکرہ فرما دیا اور ملک بھر میں اس حوالے سے چہ میگوئیوں اور استفسارات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

میرے علم میں پہلے سے یہ بات تھی کہ حضرت والا مدظلہ نے امام مہدی کے ظہور کے بارے میں اس طرح کی کوئی بات نہیں فرمائی، لیکن اس کے باوجود احتیاطاً میں نے چند روز قبل ان کی خدمت میں پھر حاضر ہو کر دریافت کیا تو انہوں نے بھی تصدیق کر دی کہ انہوں نے اس طرح کی کوئی بات نہیں کہی اور نہ ہی اس سال ان کا حج کے لیے جانے کا کوئی پروگرام ہے۔ وہ اپنے گھر میں ہیں، بستر علالت پر ہیں، چلنے پھرنے سے معذور ہیں اور سفر کے سرے سے متحمل ہی نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ عاجلہ سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

اصل بات صرف اتنی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے خواب میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تین بار زیارت سے نوازا ہے اور ان میں سے ایک خواب کی تعبیر میں ان کے استاذ محترم حضرت مولانا عبد القدیر صاحب رحمہ اللہ نے یہ فرمایا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ کی زندگی میں آ جائیں۔ حضرت والد صاحب مدظلہ نے اپنے ان تینوں خوابوں کا تذکرہ اپنی کتاب ”توضیح المرام“ میں کر دیا ہے اور میرے خیال میں اسی سے بات بڑھتے بڑھتے اتنی دور تک چلی گئی ہے، جبکہ اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

یہ خواب حضرت والد محترم مدظلہ نے ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران جبکہ وہ ملتان جیل میں اسیر تھے، دیکھا تھا اور اس کی تفصیل خود ان کے الفاظ میں اس طرح ہے:

”تقریباً سحری کا وقت تھا کہ خواب میں مجھے کسی نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آ رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہاں آ رہے ہیں؟ تو جواب ملا کہ یہاں تمہارے پاس تشریف لائیں گے۔ میں خوش بھی ہوا کہ حضرت کی ملاقات کا شرف حاصل ہو گا اور کچھ پریشانی بھی ہوئی کہ میں تو قیدی ہوں، حضرت کو بٹھاؤں گا کہاں؟ اور کھلاؤں پلاؤں گا کیا؟ پھر خواب میں ہی خیال آیا کہ راقم کے نیچے جو دری، نمدہ اور چادر ہے، یہ پاک ہیں ان پر بٹھاؤں گا۔ خواب میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھ ایک خادم تشریف لائے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سر مبارک ننگا تھا، چہرہ اقدس سرخ اور داڑھی مبارک سیاہ تھی، لمبا سفید عربی طرز کا کرتا زیب تن تھا اور آپ کے خادم کا لباس سفید تھا، فٹ کرتا اور قدرے تنگ شلوار اور سر پر سفید اور اوپر ابھری ہوئی نوک دار ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔

راقم نے اپنے بستر پر جو زمین پر بچھا ہوا تھا دونوں بزرگوں کو بٹھایا۔ نہایت ہی عقیدت مندانہ طریقہ سے علیک سلیک کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مؤدبانہ طور پر کہا کہ حضرت! میں قیدی ہوں، اور کوئی خدمت نہیں کر سکتا، صرف قہوہ پلا سکتا ہوں۔ حضرت نے فرمایا لاؤ۔ میں فوراً تنور پر پہنچا جہاں روٹیاں پکتی تھیں، میں نے اس تنور پر گھڑا رکھا اور اس میں پانی، چائے کی پتی اور کھانڈ ڈالی۔ تنور خوب گرم تھا، جلدی میں قہوہ تیار ہو گیا۔ راقم اثیم خوشی خوشی لے کر کمرہ میں پہنچا، قہوہ دو پیالیوں میں ڈالا اور یوں محسوس ہوا کہ اس میں دودھ بھی پڑا ہوا ہے، بڑی خوشی ہوئی۔ ان دونوں بزرگوں نے چائے پی، پھر جلدی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اٹھ کھڑے ہوئے اور خادم بھی ساتھ اٹھ گیا۔ میں نے التجا کی کہ حضرت! ذرا آرام کریں اور ٹھہریں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ہمیں جلدی جانا ہے، پھر ان شاء اللہ العزیز جلدی آئیں گے۔ یہ فرما کر رخصت ہو گئے۔

راقم اثیم اس خواب سے بہت ہی خوش ہوا، فجر ہوئی اور ہمارے کمرے کھلے تو راقم اثیم استاد محترم مولانا عبد القدیر رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا جو تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں ہمارے ساتھ ہی جیل میں مقید تھے۔ ان کے سامنے خواب بیان کیا تو حضرت نے فرمایا کہ ”میاں! تمہیں معلوم ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور فرشتوں کی شکل و صورت میں شیطان نہیں آ سکتا، اس لیے واقعی تم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کو دیکھا ہے اور میاں! ہو سکتا ہے کہ تمہاری زندگی میں ہی تشریف لے آئیں۔“

خواب کی بات تو اسی قدر ہے، اس سے زیادہ اگر کچھ ہے تو وہ محض حاشیہ آرائی ہے۔ البتہ امام مہدی کے حوالے سے ایک اور بات کا تذکرہ شاید نامناسب نہ ہو کہ رائے ونڈ کے سالانہ عالمی تبلیغی اجتماع کے موقع پر گزشتہ سال پاکستان کے سرکردہ علماء کرام نے جن میں والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے ساتھ حضرت مولانا سلیم اللہ خان مدظلہ، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی مدظلہ، حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر مدظلہ، مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ، مولانا حسن جان مدظلہ اور دیگر حضرات شامل تھے، تبلیغی جماعت کے انڈیا سے تعلق رکھنے والے اکابر سے خصوصی ملاقات میں انہیں جن چند اہم مسائل کی طرف توجہ دلائی تھی، ان میں امام مہدی کے ظہور کا مسئلہ بھی تھا۔ ان بزرگوں کا کہنا تھا کہ تبلیغی جماعت کے عام حلقوں میں امام مہدی کے ظہور کے بارے میں جس طرح تذکرہ ہو رہا ہے اور یہ تاثر جنم لے رہا ہے کہ شاید امام مہدی کا بہت ہی جلد ظہور ہونے والا ہے اور لوگوں کو اس کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا جا رہا ہے، یہ مناسب نہیں ہے اور بے احتیاطی کی بات ہے، جس کا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ تبلیغی جماعت کے بزرگوں نے بھی اس سے اتفاق کیا تھا اور اس سلسلے میں اصلاح احوال کی کوشش کا وعدہ فرمایا تھا۔

سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور امام مہدی کے ظہور پر ہمارا ایمان ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ان کی تشریف آوری ضرور ہو گی، لیکن اس سلسلے میں شرعی طور پر ہم صرف دو باتوں کے مکلف ہیں:

  1. ایک یہ کہ قرآن و سنت کی نصوص صریح کی بنیاد پر ان بزرگوں کی تشریف آوری پر ایمان رکھیں۔
  2. اور دوسرا یہ کہ اس بات کی پختہ نیت کریں کہ اگر یہ بزرگ ہماری زندگی میں تشریف لے آئیں تو ہم ان کے ساتھ ہوں گے۔

اس سے زیادہ ہم کسی بات کے مکلف نہیں ہیں اور تکلفات کا رجحان دنیا کے کسی بھی مسئلہ میں پیدا ہونے لگے تو اس میں فائدہ کی بجائے نقصان کے پہلو کا زیادہ احتمال ہوتا ہے، اس لیے غیر ضروری قیاس آرائیوں سے ہمیں بہرحال گریز کرنا چاہیے۔

   
2016ء سے
Flag Counter