ملکی دستور، عسکری قوت اور تہذیبی تحفظ کے حوالے سے مکاتب فکر کے مطالبات

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۲۵ فروری ۲۰۰۰ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

چند دن قبل ہمارے شہر کے مختلف دینی مکاتبِ فکر کے علماء کا اجلاس ہوا جس میں مختلف مسائل پر غور ہوا جن کی روشنی میں مطالبات کیے گئے۔

ان میں سے ایک مسئلہ پر تو وضاحت آگئی ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے جو دستور معطل کیا ہے، اس میں اسلامی دفعات، ختمِ نبوت کے حوالے سے دفعات، اور قادیانیوں کے حوالے سے دفعات ابہام کا شکار ہو گئی ہیں۔ جبکہ ملک بھر کے دینی حلقوں کا مطالبہ یہ ہے کہ اول تو سارا دستور بحال ہونا چاہیے، ورنہ کم از کم اسلامی دفعات کی بحالی کا اعلان تو فوراً‌ ہی ہو جانا چاہیے۔ اسلامی دفعات کے حوالے سے اور ’’قراردادِ مقاصد‘‘ کے حوالے سے پورے ملک کے دینی حلقوں کا یہ مشترکہ مطالبہ ہے۔ اس پر آج ایک وضاحت آگئی ہے، الحمد للہ، ٹھیک ہے، لیکن یہ وضاحت ابھی ادھوری ہے۔ ختمِ نبوت کی دفعات کے حوالے سے وضاحت ہے لیکن ملک کے اسلامی ریاست ہونے کے حوالے سے وضاحت نہیں ہے۔

دوسرا مسئلہ جو پہلے بھی آپ سے کئی مرتبہ عرض کر چکا ہوں کہ ایٹمی توانائی حاصل کرنا ہمارا مذہبی فریضہ ہے اور قرآن کریم کا حکم ہے۔ اس کی حد بھی قرآن کریم نے خود بیان کر دی ہے کہ ’’ترہبون بہ عدوا اللہ وعدوکم‘‘ کہ وقت کی جنگی قوت اس حد تک حاصل کرو کہ تم دشمن پر رعب ڈال سکو۔ اور اس سے پہلے کسی رکاوٹ کو قبول کرنا اور پیشرفت پر پابندی کو قبول کرنا، یہ قرآن کریم کی منشا کے خلاف ہے۔ اس لیے تمام دینی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ ’’سی ٹی بی ٹی‘‘ پر دستخط امریکی خواہشات کی پیروی ہے اور قرآن کریم کے احکام کی خلاف ورزی ہے۔

تیسری بات یہ کہ یہ جو بسنت کے نام سے قوم کا پیسہ اور جانیں ضائع ہو رہی ہیں، جسے کبھی تفریح کا نام دیا جاتا ہے، کبھی جشنِ بہاراں کا نام دیا جاتا ہے، لیکن آخر اس ساری خرافات کا فائدہ کیا ہے؟ ہمارے خیال میں یہ ایک ہندو تہذیب ہے جو کہ جانی و مالی طور پر بے حد نقصان دہ ہے۔ جس ہندو سے ہم محاذِ جنگ پر لڑ رہے ہیں، اس کی تہذیب، اس کا کلچر، اس کا تمدن ہم اپنے ہاں سرکاری سرپرستی میں رواج دے رہے ہیں، یہ بات ٹھیک نہیں ہے۔ یہ ٹی وی کے زور پر، کور کمانڈر کے افتتاح کے زور پر، ریاستی اداروں کے زور پر ہندؤوانہ تہذیب ہم پر مسلط کی جا رہی ہے، ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

چوتھی بات یہ کہ ہمارے ہاں جی ٹی روڈ پر کئی ہفتوں سے تفریحی میلے کے نام سے جوے کا کاروبار چل رہا ہے۔ ہم کئی بار انتظامیہ کی اس طرف توجہ دلا چکے ہیں کہ جوا قانوناً‌ بھی حرام ہے اور شرعاً‌ بھی۔ جبکہ سرکاری افسران کی سرپرستی میں گوجرانوالہ شہر میں روزانہ کروڑوں روپے کا جوا ہوتا ہے۔

تو شہر کی دینی جماعتوں نے مشترکہ طور پر یہ مطالبہ کیا ہے کہ (۱) دستور کی اسلامی دفعات کے تحفظ کا اعلان کیا جائے (۲) سی ٹی بی ٹی پر دستخط نہ کیے جائیں (۳) بسنت کی سرپرستی نہ کی جائے (۴) اور تفریحی میلے کے نام پر یہ جوے کا کاروبار بند کیا جائے۔

2016ء سے
Flag Counter