قانونِ توہینِ رسالت کے خلاف مہم

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۱۹ جنوری ۲۰۰۱ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

توہینِ رسالت کے قانون کے حوالے سے آپ حضرات جانتے ہیں کہ قوم کے جذبات کیا ہیں، لیکن غیر ملکی مفادات کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کی طرف سے وقتاً‌ فوقتاً‌ یہ شرارتیں ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ ملک بھر میں ایک اشتہار شائع کیا گیا ہے کہ توہینِ رسالت کے قانون کا غلط استعمال روکا جائے ورنہ دس جنوری سے ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گا۔ اس سلسلے میں کراچی میں ایک ہنگامہ بھی ہوا ہے۔

اس سلسلہ میں ہمارا وفد ڈپٹی کمشنر سے ملا ہے اور ہم اپنے حکمرانوں سے یہ کہنا چاہیں گے کہ یہ بات خلفشار کا باعث بنے گی۔ اگر غیر ملکی سرمایہ سے چلنے والا کوئی گروپ یہاں سڑکوں پر آ کر توہینِ رسالت کے شرعی قانون کے خلاف بات کرے گا تو کیا عام لوگوں کے جذبات قابو میں رہیں گے؟ اس پر جھگڑا ہوگا، دنگا فساد ہوگا، اور یہی بات یہ لوگ چاہتے ہیں کہ یہاں مذہب کے نام پر سڑکوں پر جھگڑے ہوں جن کی ویڈیوز بنیں اور یہ ویڈیوز پوری دنیا میں دکھائی جائیں کہ پاکستان میں مذہب کے نام پر یہ ہو رہا ہے، اور یوں پاکستان کے اسلامی تشخص کی بدنامی ہو۔

اس لیے حکومت کو اس صورتحال کو کنٹرول کرنا چاہیے اور بروقت اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ بیرونی مفادات کے لیے کام کرنے والے عناصر اس ملک میں کسی نئے خلفشار کو شروع نہ کر سکیں۔

2016ء سے
Flag Counter