حق و باطل کے معرکوں میں شکست اور فتح

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۱۶ نومبر ۲۰۰۱ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

مدینہ منورہ سے شام کی طرف تین ہزار کا لشکر نکلا حضرت زید بن حارثہؓ کی قیادت میں۔ مولانا شبلی نعمانیؒ اپنی تصنیف ’’سیرت النبیؐ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ شرحبیل بن عمرو ایک لاکھ کا لشکر لے کر موطا کے مقام پر انتظار میں کھڑا تھا۔ ایک لاکھ وہ تھے اور قیصرِ روم خود بھی اسی علاقے میں کچھ فاصلے پر ایک لاکھ کے لشکر کے ساتھ موجود تھا کہ ضرورت پڑی تو میں بھی میدان میں آجاؤں گا۔ زید بن حارثہؓ نے جب یہ منظر دیکھا تو کچھ دیر کے لیے سوچ میں پڑ گئے۔

قرآن کریم بھی یہ کہتا ہے کہ اگر میدانِ جنگ میں کافر تم سے دگنے ہوں تو پھر پیچھے ہٹنے کی اجازت نہیں ہے، لیکن اگر دوگنا سے زیادہ ہیں تو پھر سوچو کہ مقابلہ کر سکتے ہو یا نہیں ’’الئٰن خفف اللہ عنکم وعلم ان فیکم ضعفا‘‘ (الانفال ۶۶)۔ زید بن حارثہؓ نے سوچا کہ ہم ابھی رکتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجتے ہیں، جو حضورؓ مشورہ دیں گے اور حکم فرمائیں گے، ہم ابھی جنگ کا آغاز نہیں کرتے۔ یعنی ان کو یہ بات سمجھ آگئی تھی کہ ہم مقابلے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ لیکن حضرت عبد اللہ بن رواحہؒ اور دیگر صحابہ کرامؓ نے کہا کہ نہیں جناب، حضورؐ نے ہمیں مقابلے کے لیے بھیجا ہے اس لیے ہم تو مقابلہ ہی کریں گے، جو ہو سو ہو، ہم شہید ہو جائیں گے، اس سے زیادہ کیا ہوگا؟

اس پر حضرت زید بن حارثہؓ نے کہا کہ اگر لشکر والوں کی یہی رائے ہے تو بسم اللہ کرتے ہیں، اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ چنانچہ تین ہزار کے اسلامی لشکر کی لڑائی ایک لاکھ کے رومیوں کے لشکر سے شروع ہوئی، صورتحال کا اندازہ تو مسلمانوں کو پہلے سے تھا، حضرت زید بن حارثہؓ تھوڑی دیر کے بعد شہید ہوگئے، عبد اللہ بن رواحہؓ نے کمان سنبھال لی، تھوڑی دیر کے بعد عبد اللہ بن رواحہؓ بھی شہید ہوگئے، پھر جعفر بن طیارؓ نے کمان سنبھالی اور مسلمانوں کو لے کر میدان میں آگے بڑھ رہے تھے اور مقابلہ کر رہے تھے۔

اس زمانے میں جنگ کی علامات سے ایک علامت یہ ہوتی تھی کہ لشکر کے سپہ سالار کے ہاتھ میں پرچم ہوتا تھا، اس پرچم کے زمین پر گر جانے کو جنگ میں شکست کی علامت سمجھ جاتا تھا، اور یہ لشکر کی نفسیاتی شکست ہوتی تھی۔ اب حضرت جعفرؓ نے ہاتھ میں پرچم پکڑا ہوا ہے، کسی دشمن نے بازو پر وار کیا اور ان کا بازو کٹ گیا، انہوں نے پرچم بائیں ہاتھ میں پکڑ لیا، تھوڑی دیر بعد کسی نے دوسرا وار کر کے بایاں بازو بھی کاٹ دیا، حضرت جعفرؓ نے وہ پرچم کندھے سے پکڑ لیا۔ خالد بن ولیدؓ اس لشکر میں بطور سپاہی تھے اور یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ اب کسی دشمن نے وار کیا اور حضرت جعفرؓ کا کندھا بھی کاٹ دیا، پرچم نیچے گرنے لگا، حضورؐ نے جو تین امیر مقرر کیے تھے، وہ تو باری باری شہید ہوگئے، یہ حالت جنگ تھی اور پل بھر کی خبر نہیں تھی، کون کس سے مشورہ کرتا اور کیا طریقہ اختیار کیا جاتا؟ حضرت خالد بن ولیدؓ ہوشیار کمانڈر تھے، تجربہ کار جرنیل تھے، انہوں نے آگے بڑھ کر پرچم سنبھال لیا اور آواز لگائی، اے مسلمانو! زیدؓ بھی شہید ہو گئے ہیں، عبد اللہؓ بھی شہید ہو گئے ہیں، جعفرؓ بھی شہید ہو گئے ہیں، میں خالد بن ولیدؓ ہوں، اب یہ مشورے کا وقت نہیں ہے، حالات بہت نازک ہیں، میں نے یہ پرچم سنبھال لیا ہے اور اب تمہاری کمان میں کر رہا ہوں۔

اُدھر مدینہ منورہ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو یہ خبر دی، فرمایا: تمہارا بھائی زیدؓ شہید ہوگیا ہے، تمہارا بھئی عبد اللہؓ بھی شہید ہوگیا ہے، پھر فرمایا، جعفرؓ بھی شہید ہوگیا ہے، اور اب لشکر کی کمان اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے سنبھال لی ہے ’’سیف من سیوف اللہ‘‘۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کو ’’سیف اللہ‘‘ کا خطاب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر دیا۔ آپؐ نے فرمایا: جعفر کے بازو کٹ گئے ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت میں اسے ان بازوؤں کے عوض پَر عطا فرما دیے ہیں، وہ جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتا پھر رہا ہے۔ اسی سے حضرت جعفرؓ کا نام پڑ گیا ’’جعفر طیار‘‘ یعنی اڑنے والا جعفر۔

اب حضرت خالد بن ولیدؓ نے کمان سنبھالی، مرحلہ یہ تھا کہ کامیابی اور فتح تو بہت دور کی بات تھی، مسئلہ یہ تھا کہ اپنے چھوٹے سے لشکر کو اتنے رومیوں کے اتنے بڑے لشکر کے نرغے سے نکال کر کیسے لے جائیں۔ خالد بن ولیدؓ کا اس وقت سب سے بڑا ہدف یہ تھا کہ میں کسی طرح اپنے مسلمان بھائیوں کو کم سے کم جانی نقصان کے ساتھ دشمن کے نرغے سے نکالوں اور بچا کر مدینہ لے جاؤں، بعد میں دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔ جنگ جیتنا اور فتح حاصل کرنا تو ایک طرف، لشکر کے تین امیروں کے شہید ہونے سے مجاہدین کے حوصلے بھی پہلے والے نہیں رہے تھے۔ اب حضرت خالد بن ولیدؓ نے اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا اور بڑی حکمت عملی سے، بڑے تدبر سے، بڑے حوصلے سے اس لشکر کو وہاں سے نکالا، چند افراد شہید ہوئے، اس وقت خالد بن ولیدؓ کی سب سے بڑی کامیابی یہ سمجھی گئی کہ اپنے لشکر کو دشمن کے نرغے سے نکال کر باہر لے گئے۔

یہ لشکر جب مدینہ منورہ پہنچا تو خبریں پہلے پہنچ گئی ہوئی تھیں، مدینہ منورہ پر شدید غم کی کیفیت تھی کہ مسلمانوں کا لشکر میدانِ جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بجائے بڑی مشکل سے اپنی جانیں بچا کر نکلا ہے۔ مسلمانوں کا لشکر، صحابہ کرامؓ کا لشکر جسے حضورؐ نے خود رومیوں کے مقابلے میں بھیجا تھا، وہ اپنے اہداف حاصل کرنے کے بجائے بڑی مشکل سے اپنی جانیں بچا کر واپس آیا ہے۔ مدینہ منورہ میں شدید غم کی کیفیت تھی، شدید حزن تھا، خود جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ مسجدِ نبوی میں جا کر ایک کونے میں چادر اوڑھے غم کے ساتھ بیٹھے تھے۔ اپنے منہ بولے بیٹے زید بن حارثہؓ کا غم، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سگے بھائی جعفر طیارؓ کا غم، عبد اللہ بن رواحہؓ کا غم، اور پھر یہ غم کے جن مقاصد کے لیے لشکر بھیجا تھا وہ بھی حاصل نہیں ہوئے۔

مولانا شبلی نعمانیؒ لکھتے ہیں کہ جب لشکر مدینہ پہنچا تو مدینہ منورہ کی عام آبادی اپنے لشکر کے استقبال کے لیے باہر نکلی، اس کیفیت میں کہ ان کی مٹھیوں میں خاک ہے اور وہ لشکر والوں کے منہ پر پھینک رہے ہیں کہ اور کہہ رہے ہیں ’’فرارون‘‘ میدانِ جنگ سے بھاگنے والو، تم واپس آگئے ہو! لیکن جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نہیں بھئی، یہ بھاگنے والے نہیں ہیں بلکہ ’’کرارون‘‘ یہ دوبارہ حملے کی تیاری کے لیے میدانِ جنگ سے پیچھے ہٹے ہیں۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تین سال کے وقفے کے بعد ایک اور لشکر تیار کیا اور فرمایا کہ یہ لشکر شام میں جائے گا، موطا میں جائے گا، وہ جنگ جس سے تم واپس آئے تھے، اس جنگ کو جا کر دوبارہ لڑو۔ حضورؐ نے لشکر کا امیر حضرت اُسامہ بن زیدؓ کو مقرر کیا، جو انہی زید بن حارثہؓ کے بیٹے ہیں جو موطا میں شہید ہوئے تھے، انیس بیس سال کے نوجوان تھے۔ اس لشکر میں حضرت صدیق اکبرؓ ہیں، حضرت عمر فاروقؓ ہیں، حضرت خالد بن ولیدؓ ہیں اور دیگر بڑے بڑے صحابہؓ ہیں لیکن حضورؐ نے انیس بیس سال کے نوجوان کو اسی جنگ کو دوبارہ لڑنے کے لیے امیر مقرر کیا جس میں ان کے والد حضرت زید بن حارثہؓ شہید ہوئے تھے۔

یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا زمانہ تھا، آپؐ نے لشکر کا حکم دیا، لشکر تیار ہوا، حضورؐ بیماری کے باوجود مدینہ منورہ سے باہر تشریف لائے اور لشکر کو اپنے ہاتھوں سے رخصت فرمایا۔ لیکن لشکر ابھی چند میل طے کر پایا تھا کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔ اسامہؓ اپنا لشکر لے کر واپس آگئے، تجہیز و تکفین سے فارغ ہوئے، حضرت صدیق اکبرؓ خلیفہ مقرر ہوئے، اسامہؓ نے پوچھا کہ حضرت میرے اور میرے لشکر کے لیے کیا حکم ہے؟ صحابہ کرامؓ میں مشورہ ہوا، حضرت عمرؒ نے مشورہ دیا کہ رسول اللہ کے خلیفہ! حالات ٹھیک نہیں ہیں، عرب قبائل باغی ہو رہے ہیں، مدینہ منورہ کے دفاع کا نظام مضبوط نہیں ہے، اس لیے اس لشکر کی روانگی کو آپ ملتوی کر دیں، بعد میں دیکھیں گے جب حالات قابو میں آجائیں گے۔ لیکن یہ حضرت صدیق اکبرؓ کے ایمان کی بات تھی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسا ایمان نصیب فرما دے۔ اصل بات کمٹمنٹ کی ہے، جنگوں میں ظاہری فتح و شکست ہوتی رہتی ہے، پانی کبھی پیچھے جاتا ہے کبھی آگے آتا ہے، اصل بات ایمان کی ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال جیسا بڑا واقعہ بھی ایک مسلمان کے ایمان کو متزلزل نہ کر سکے۔ ظاہری صورتحال یہ تھی کہ مسیلمہ باغی ہے، طلیحہ باغی ہے، عرب قبائل مرتد ہوگئے ہیں، زکوٰۃ کے منکرین تلواریں لے کر سامنے کھڑے ہیں، اور چاروں طرف سے ایسی بغاوت ہے کہ مدینہ منورہ کی اپنی پوزیشن مشکوک ہو گئی ہے۔ اور پھر مشورہ دینے والے کون ہیں؟ حضرت عمر فاروقؓ کہ جناب! اسامہ کے لشکر کو ابھی روانہ مت کریں، ہمیں ابھی ضرورت ہے، لیکن حضرت صدیق اکبرؓ فرماتے ہیں، عمر! جس لشکر کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود رخصت کیا ہے اس لشکر کو روکنے کا مجھے کوئی اختیار نہیں ہے، کچھ بھی ہو جائے یہ لشکر ضرور جائے گا۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے لشکر تیار کیا اور مدینہ منورہ سے باہر رخصت کرنے کے لیے گئے، اسامہؓ سے فرمایا کہ میری ذمہ داری اب مختلف ہو گئی ہے ورنہ میرا جی چاہتا ہے کہ میں بھی تمہاری کمان میں جا کر لڑوں۔ اور عمرؓ بھی میری ضرورت ہے، اسے بھی میں روک رہا ہوں، ورنہ ہماری خواہش یہ تھی کہ جس طرح حضورؐ نے تمہیں امیر بنا کر ہمیں اس لشکر میں شامل کیا تھا، ہم بھی جاتے اور تمہاری کمان میں لڑتے لیکن اب حالات مختلف ہوگئے ہیں اور ہماری مجبوری ہے کہ ہم نے یہاں کا انتظام سنبھالنا ہے۔ چنانچہ حضرت صدیق اکبرؓ کے ایمان اور استقامت کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اسامہ کے لشکر کو فتح دی اور یہ علاقہ فتح کرتے کرتے دمشق کے قریب ایک مقام تک جا پہنچے۔ وہاں کچھ دن رہے اور واپس آکر رپورٹ پیش کی کہ راستہ صاف ہے ہم وہاں تک جا کر کچھ دن رہ کر آئے ہیں۔

یہ سارا واقعہ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لڑائی میں، جنگ میں فتح و شکست دونوں کا امکان ہوتا ہے، خود جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی ایسا ہوا۔

ایک بات تو یہ ذہن میں رکھیں کہ اصل بات ہے ایمان پر قائم رہنا، اپنے موقف پر ڈٹے رہنا اور اپنے مشن سے نہ ہٹنا۔ اگر کوئی اپنے موقف پر قائم ہے تو میدانِ جنگ میں شکست کے باوجود اس نے شکست نہیں کھائی، اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میدانِ جنگ میں اترنے کا پھر موقع مل جائے گا۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہ ظاہری فتح و شکست حق و باطل کی علامت نہیں ہوتی۔ حق و باطل کی علامت ایمان ہے، مشن ہے، اہداف کے لیے کمٹمنٹ ہے، اور سب سے بڑی بات اللہ تبارک و تعالیٰ کے ساتھ تعلق ہے۔ ورنہ حضورؐ کے زمانے میں غزوۂ احد کے موقع پر صحابہؓ کا خاصا نقصان ہوا، ستر افراد شہید ہوگئے تھے۔ جب لشکر مدینہ منورہ واپس پہنچا تو شہیدوں کی لاشیں اور زخمی اور غم میں ڈوبے سپاہی اور ایک دوسرے سے تعزیت کے مناظر۔ اس زمانے میں مدینہ منورہ ایک چھوٹی سی بستی تھی، کوئی بہت بڑا شہر تو نہیں تھا۔ چھوٹی سی بستی میں ستر شہیدوں کی لاشیں اور سو ڈیڑھ سو زخمی واپس آئیں اور خود جناب نبی کریمؐ زخمی حالت میں ہوں تو اس بستی کی کیا کیفیت ہوگی؟

اس موقع پر بستی کے منافقوں نے طعنہ دیا کہ ’’الذین قالوا لاخوانھم وقعدوا لو اطاعونا ما قتلوا‘‘ جو مدینے میں بیٹھے رہے اور جنگ کے لیے ساتھ نہیں گئے، انہوں نے جنگ سے واپس آنے والوں کو طعنہ دیا کہ تم زخمی ہو کر آئے ہو، لاشیں اٹھائے واپس آرہے ہو، اگر ہماری بات مان لیتے تو تمہارا یہ حشر نہ ہوتا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان منافقوں کو جواب دیا، فرمایا: ’’قل فادرؤوا عن انفسکم الموت ان کنتم صادقین‘‘ (اٰل عمران ۱۶۸) کہ اگر تمہارا پیچھے بیٹھ رہنا موت سے بچنے کی علامت ہے تو تم اپنی موت ٹال کر دیکھو اگر تم سچے ہو تو۔ موت تم پر بھی آنی ہے، خدا جانے کہ اس سے زیادہ خوفناک حالت میں آئے۔

اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایک اور بات فرمائی۔ فرمایا کہ مارے جانے والوں کو ضائع مت سمجھو ’’ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقون‘‘ (اٰل عمران ۱۶۹) جو اللہ کے راستے میں مارے گئے ہیں ان کو مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے ہاں رزق پاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا اعزاز ہے، اکرام ہے، ان کی موت کو رائیگاں نہ سمجھو۔ جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جانیں دیتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اکرام پاتے ہیں اور دنیا میں بھی انہی کی شہادت پر قوموں کو زندگی ملتی ہے۔

میں نے یہ ساری بات اسی پس منظر میں عرض کی ہے کہ آج ہمارے ہاں بھی غم کی کیفیت ہے، مایوسی کا عالم ہے، اور ہم بھی سوچ رہے ہیں کہ یہ مسلمانوں کے ساتھ کیا معاملہ ہوگیا ہے۔ میرے ساتھیو! یہ پریشانی اور غم کی بات ضرور ہے لیکن اگر آپ اپنے ایمان پر قائم ہیں، یہ سمجھتے ہیں کہ جنہوں نے جانیں دی ہیں، حق پر دی ہیں، تو ان شاء اللہ العزیز یہ جنگ آخری نہیں ہو گی۔ اللہ تعالیٰ راستے نکالیں گے اور پہلے بھی اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کے لیے راستے نکالتے رہے ہیں۔ پھر مشن کی جنگ تو ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ شہدائے بالاکوٹ کے شہید ہونے سے مشن کی جنگ ختم نہیں ہو گئی، سلطان ٹیپوؒ کے شہید ہونے سے اور سلطنتِ محصور کے ختم ہو جانے سے مشن کی جنگ ختم نہیں ہو گئی تھی۔

یہ جنگ جاری رہے گی اور ان شاء اللہ العزیز اس وقت تک رہے گی جب تک دنیا میں اسلام کا غلبہ نہیں ہو جاتا۔ جب تک کفر کو، ظلم کو، جبر کو، تشدد کو اور استعمار کی دہشت گردی کو شکست نہیں ہوتی، اور کلمۃ اللہ دوبارہ بلند نہیں ہوتا، ان شاء اللہ العزیز یہ جنگ جاری رہے گی۔ مختلف مراحل آئیں گے، کامیابی کے بھی ہوں گے، ناکامی کے بھی ہوں گے، پیچھے ہٹنے کے بھی ہوں گے، آگے بڑھنے کے بھی ہوں گے، لیکن اپنے عزم پر، حوصلے پر، ایمان پر قائم رہیں، اللہ تبارک و تعالیٰ راستے نکالیں گے، اللہ تعالیٰ کی مدد بھی آئے گی اور کامیابی بھی ہو گی، ان شاء اللہ العزیز۔

2016ء سے
Flag Counter